Showing posts with label آرٹیکل. Show all posts
Showing posts with label آرٹیکل. Show all posts

Thursday, 8 September 2016

آرٹیکل وقاص عامر آرائیں


وقاص عامر آرائیں 
رول نمر 2k14/MC/66
بی ایس پارٹ تھری
آرٹیکل

حیدرآباد میں بڑھتا ہوا سپر مارٹس کا رجحان

مختلف مارکٹس مختلف دکانیں گھر کا سودا لینے نکلے اور پورا بازار گھوم گھوم کر بدہال ہو گئے۔عموماً گھروں میں مہینے بھر کا راشن لایا جاتا ہے اور ظاہر ہے مہینے بھر کے مکمل راشن میں استعمال کی ہر چیز ہوتی ہے جیسے دالیں ،صابن ،مصالے ،کپڑے دھونے کا سرف اور گوشت وغیرہ شامل ہوتے ہیں اور جہاں تک بات ہے بازار وں کی تو سب چیزیں ایک دکان سے ملنا تو نا ممکن ہیں اور نہ ہے من مرضی کی کم کیمتیں ایک یا دو دکانوں سے با آسانی دستیاب ہو تی ہیں ۔اس سب کے لیے عوام کوبازار بازار اور دکان دکان رلنا پڑتا ہے پر ’ سپر مارکیٹ ‘ اس جگہ کانام ہے جو عوام کے لیے کسی نعمت اور سہولت سے کم نہیںیہ عوام کے لیے وہ سہولت ہے جس کی عوام کو اشد ضرورت تھی۔ سپر مارکیت کے قیام میں آنے سے ایک ہی چھت کے نیچے عوام کو گھریلووروزمراہ کی ضروریات کی تمام اشیائبا آسانی دستیاب ہیں جن چیزوں کے حصول کے لیے ایک دکان سے دوسری دکان پر جانے میں وقت کا ضیاء ہوتا تھا اب وہیں تمام چیزیں وقت رہتے مل جاتی ہیں ۔ سپر مارکیٹ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہاں چیزیں کم لی جایءں یا زیادہ پر دوسری دکانوں کی بنثبت یہاں سے چیزیں سستی مل جاتی ہیں ۔ان سب چیزوں کی وجہ سے عوام کابڑی تیزی سے سپر مارکیٹس کی طرف رجحان بڑھتا جا رہا ہے اور بڑھے بھی کیوں نہ جب عوام کو آسانی کے ساتھ ایک ہی چھت کے نیچے ان کے استعمال اور ضرورت زندگی کی تمام چیزیں دستیاب ہیں تو اس سے اچھا اور کیا ہو گا ۔ حیدرآباد جہاں تفریحی مقمات بھی انتہائی کم بلکہ اگر یہ بولا جائے کہ نہ ہونے کے برابر ہیں تو غلط نہ ہوگا ایسے میں حیدرآباد میں کھلنے والے یہ سپر مارٹس جہاں عوام کے لیے خریداری میں سہولت کا مرکز ہیں وہیں نہایت خوشگوار اور اچھے ماحول میں خریداری کے ساتھ ساتھ تفریح کی چاہ بھی پوری کرتے ہیں ان سپر مارٹس میں بچوں لیے پلے ایریا بھی موجود ہیں اور خریداری کرتے اگر بھوک لگ جائے تواس مسئلے کے حل کے لیے فورڈ کورٹس بھی بنائے گئے ہیں۔ حیدرآباد کی بات کی جائے تو یہاں اس وقت پانچ بڑے مارٹس موجود ہیں جن میں میکس بچت بازار جو ٹھنڈی سڑک پر واقع ہے، دوسرا داؤد سپر مارٹ جو فوجی داری روڈ پر واقع ہے ، تیسرا نیشنل سپر مارٹ جو کہ ہالہ ناکہ نیشنل ہایء وے پر موجود ہے، چوتھا بیگ مارٹ جو کہ لطیف آباد نمبر 2 میں واقع ہے اور پانچواں ڈیلٹن سپر مارٹ جو نسیم نگر روڈ پر موجود ہے ۔ یہ تو ان پانچ بڑے مارٹس کی بات ہو گئی پر ان کے علاوہ حیدرآباد میں اور بھی چھوٹے مارٹس موجود ہیں جن میں عمران مارٹ اور کیو مارٹ شامل ہیں ۔ سپر مارٹس میں جو اشیاء کم کیمتوں میں ملتی ہیں اور عوام کا ایک طبقہ یہ سوچتا ہے کہ یہ اشیاء نقل ہیں تو ایسا بلکل نہیں ہے بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ سپر مارکیٹس اتنی بٹی تعداد میں چیزیں کمپنیوں سے خریدتے ہیں کہ کمپنیاں خود انہیں ڈسکاؤنٹ اور مختلف ڈیلز فراہم کرتی ہیں جس کی بدولت آگے یہی چیزیں کم پیسوں میں باآسانی عوام کو میسر ہوتی ہیں۔ سپر مارٹس جہاں عوام کے لیے آسانی اور سہولت کا مرکز ہے ویہں تاجران اور سپر مارٹس مالکان کے لیے منافع بکش اور بہترین کاروبار بھی ہے یہاں چاول، دال، آٹا، بیکری، گوشت، چکن سے لے کر روز مراہ کے استعمال کی تمام اشیاء جن میں ٹوتھ برش، ٹوتھ پیسٹ، صابن، کول ڈرنکس، کپرے اور بچوں کے لیے ٹوفیاں ، چاکلیٹس اور دیگر تمام اشیاء ایک ہے چھت کے نیچے ایک خوشگوار اور سکون بخش ماحول میں عوام کے لیے موجود ہیں ۔ جہاں یہ سب عوام کے لیے سہولت اور مالکان کے لیے منافع بخش کاروبار ہے اہیں چھوٹے تاجر اور چھوتے دکاندار ان برے سپر مارٹس کے کھلنے کے بعد سے کاروبار کم ہونے سے پریشان ہیں کیونکہ جہاں انکی دکانوں پر روزمراہ کے استعمال کی تمام چیزیں موجود نہیں تو ظاہر ہے کہ عوام نے ان سپر مارٹس کا رخ ہی کرنا ہے جہاں ایک ہی چھت کے نیچے انہیں تمام ضروریات زندگی کی چیزیں باآسانی اور آرام سے میسر ہو جاتی ہیں جس وجہ سے ان چھوٹے دکانداروں اور تاجروں کو بہت نقصان پہنچا ہے ۔ پر یہ سپر مارٹس عوام کے لیے سہولت کے ساتھ ساتھ موڈرن سوسائیٹی کی طرف ایک کامیاب قدم بھی ہیں ۔

Thursday, 1 September 2016

آرٹیکل شہریار رشید


Model United Nations (MUN)

پارٹ ٹو سے مسلسل سمجھا رہے ہیں اور فیس بک گروپ پہ بھی ہدایات پوسٹ کی جاتی رہی ہیں کہ اپنی تحریروں میں پیراگراف کا خاص خیال رکھیں۔ لیکن تعجب ہے کہ آپ یہ سب کچھ سمجھنے اور کرنے قاصر ہیں۔ نہ پیرا گراف کا خیلا نہ فل اسٹاپ کا۔ 

 SS یہ یونائیٹڈ نیشن نہیں ، نیشنز ہے۔ 

آرٹیکل 


شہریار رشید رول نمبر۔147 BS-Part III
حیدرآباد میں (ایم یو این) ماڈل یونائیٹڈ نیشنز
حیدرآباد میں مختلف قسم کے پروگرام اور میوزیکل کانسرٹ کا دور خوب عروج پر ہے اور اب حیدرآباد میں (ایم یو این )ماڈل یونائیٹڈ نیشن جیسے پروگرام بھی آرگنائز ہونا شروع ہوگئے ہیں ایم یو این ایک تعلیمی پروگرام ہے اور اس کو کوئی بھی تعلیمی ادراہ آرگنائز کر سکتا ہے مگر اب یہ پروگرام بغیر کسی تعلیمی ادارے کے بھی آرگنائز کیا جار ہے ہے ایم یو این یونائیٹڈ نیشن آرگنائزیشن کا ہی ایک روپ ہے اسی لئے اس کا نام ایم یو این رکھا گیا ہے اس پروگرام میں مختلف شعبوں اور تعلمی اداروں سے تعلق رکھنے والے طلبہ بطور ڈیلیگٹس حصہ لیتے ہیں ڈیلیگیٹ بننے کیلئے طلبہ کو رجسٹریشن فیس ادا کرنی لازمی ہوتی ہے ہر ایم یو این کی مختلف ہوتی ہے اکثر یہ پروگرام دودن، تین دن اور کبھی کبھی چار دن پر بھی مشتمل ہوتا ہے ایم یو این سے طلبہ کو جمہوریت انٹرنیشنل ریلیشن اور یونائیٹڈ نیشن کے بارے میں معلومات حاصل ہوتی ہے اور طلبہ کو اپنے اندر موجود صلاحیتوں کو اُجاگر کرنے کا موقع ملتا ہے ایم یو این طلبہ کو تحقیق کرنا ، عوام کے سامنے آواز بلند کرنا اور لیڈر شپ کرنا سکھاتا ہے اس پروگرام میں مختلف کمیٹیاں بنائی جاتی ہیں اور ہر کمیٹی میں طلبہ بطور ڈیلیگیٹس مختلف ممالک کی طرف سے رول پلے کرتے ہیں اور اور کمیٹی میں ایک ایک ایجنڈا پر بات کی جاتی ہے طلبہ جو کہ بطور ڈیلیگیٹس اس پروگرام میں حصہ لیتے ہیں ان کی ٹریننگ بھی کروائی جاتی ہے اور بتایا جاتا ہے کہ ایم یو این کیا ہے اور اس میں کس طرح رول پلے کرنا ہے ایم یو این کوئی بھی اسکول کالج اور یونیورسٹی آگنائز کرسکتی ہے مگر حیدرآباد میں کچھ لوگوں نے بنا کسی تعلیمی ادارے کے بھی یہ پروگرام آرگنائز کرنا شروع کر دیا ہے جس میں (حیدرآباد ایم یو این) اور (نیرون کوٹ ایم یو این )شامل ہے یہ وہ ایم یو این ہے جو کہ بغیر کسی تعلیمی ادارے کے آرگنائز کیے گئے ہیں اس پروگرام کو کوئی ایک بندہ آرگنائز نہیں کرسکتا اسکے لئے ایک مکمل ٹیم تیار کی جاتی ہے ایم یو این اول تو طلبہ کی نالج کو بڑھانے کیلئے کئے جاتے ہیں مگر حیدرآباد میں کچھ آرگنائز نے اسے انٹرٹینمینٹ اور کمائی کا ذریعہ بنا لیا ہے عموماََ ایم یو این تین دن پر مشتمل ہوتا ہے پہلے دن اوپننگ سیئرمنی ،دوسرے دن کمیٹی سیشن تیسرے دن اوارڈ سیئرمنی اور کلوزنگ سیئرمنی کی جاتی ہے مگر حیدرآباد میں ایم یو این کے ساتھ ساتھ میوزیکل کانسرٹ اور ڈی جے پارٹی بھی آرگنائز کی جاتی ہے بہت کم طلبہ بطور ڈیلیگٹس اس پروگرام میں حصہ لیتے ہیں مگر میوزیکل کانسرٹ میں طلبہ کی بڑی تعداد آتی ہے جو کہ صرف اور صرف انٹرٹنمینٹ کیلئے اس پروگرام میں موجود ہوتی ہے اس پروگرام کا مقصد طلبہ کو نالج فراہم کرنا ہے ناکہ ڈی جے پارٹی کے تحت انٹرٹنمینٹ فراہم کرنا ہے حیدرآباد میں ایم یو این کو صرف کمائی کا ذریعہ بنا لیا گیا ہے جیسے ڈیلیگیٹس بننے کیلئے رجسٹریشن فیس ادا کرنی پڑتی ہے ٹھیک اسی طرح ایم یو این میں ہونے والے میوزیکل کانسرٹ کے ٹکٹ بھی الگ سے فروخت ہوتے ہیں اب تک حیدرآباد کا سب سے بہترین ایم یو این (حیدرآباد ایم یو این ) کے نام سے ہوا ہے جو کہ تین سال سے لگاتار بہترین ایم یو این آرگنائز کر رہا ہے مگر یہ لوگ اس پروگرام کو کمائی کیلئے آرگنائز کرتے ہیں نہ کہ معلومات فراہم کرنے کیلئے اسی ایم یو این کی نقل پر نہرون کوٹ ایم یو این آرگنائز ہوا مگر کامیاب نہ ہوسکا اور لوگوں کے ساتھ فراڈ کیا گیا صاف دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح ایک تعلیمی پروگرام کو انٹرٹینمنٹ کا روپ دیا جا رہا ہے اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے اب سندھ یونیورسٹی پہلی بار ایک ایم یو این آرگنائز کر رہی ہے جس کا نام (سندھ یونیورسٹی ایم یو این )ہے اس پروگرام میں پورے پاکستان سے طلبہ بطور ڈیلیگٹس حصہ لینے آرہے ہیں اور اس پروگرام کی تیاری کا ذمہ سندھ یونیورسٹی کے شعبہ (اسٹگیز)کو دیا گیا ہے اور تیاری زور و شور سے جاری ہے امید کرتے ہیں کہ یہ اب تک کا سب سے بہترین ایم یو این ہوگا حیدرآباد میں اس طرح کے پروگرامس طلبہ کو جمہوری تعلیم دینے میں کام آتے ہیں مگر یہاں اسے کمائی کا ذریعہ بنا لیا گیا ہے جو کہ غلط ہے اور ایم یو این کو اس کے اصل مقصد کیلئے ہی آرگنائز کرنا چاہیے جو کہ طلبہ کو جمہوری تعلیم سے آگاہ کرنا ہے نہ کہ میوزیکل کانسرٹ کر کہ ان کو انٹرٹین کرنا ہے ۔

Practical work was carried out under supervision of Sir Sohail Sangi, at Media & Communication Department, University of Sindh

Thursday, 25 August 2016

سجاد علی, آرٹیکل, corrected


سجاد علی
کلاس 5206B.S iii
رول نمبر: 5 2k14/MC/163
Piece: Article
کوٹری میں فلٹر پلانٹ نکارہ
پانی زندگی کی علامت ہے اور یہی وجہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں اس کی قدر کو تسلیم کیا جاتا ہے اور ان کا تو یہ بھی کہنا ہے کی آئندا جنگیں بھی پانی پر ہو نگی پانی انسانی جسم کے لئے بنیادی ضرورت ہے اسی وجہ سے انسانی جسم کا دو فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہے ایک ادمی کے جسم میں 50 سے 55 لیٹر تک پانی موجود ہوتا ہے 

اور اگر بات کی جائے حکومت سندھ کی تو جو کام ان سے نہیں ہو تا وہ اسے جھوٹے وعدوں کے رنگ میں ڈھال کر اپنی سُستی اور ناہلی کا مظاہرا ایک اور نئے وعدہ کی راہ دیکھا کرتی ہے ،گزشتہ 8 سال سے کوٹری کا فلٹر پلانٹ بھی اپنی لاچاری کی داستان کی مثال اپنے آپ خود ہے ۔اس فلٹر پلانٹ کی منظوری سابق وزیر اعلی سندھ سید قائم علی شاھ نے کوٹری کے شہریوں کو تحفہ میں دی تھی لکن اب فلٹر پلانٹ مشینری
کا استعمال نہ ہونے کی وجہ سے یہ فلٹر پلانٹ اپنی بربادی کا منظر اپنی انکھوں سے دیکھ رہا ہے جس پر اُس وقت کے ڈپٹی کمشنر سید نظیر شاھ نے 2009 میں سخت اکشن لے کر ورک اینڈ سروس کے ڈائریکٹرکو سخت اہقامات جاری کیے کہ فورن اس کی رپورٹ پیش کی جائے لکن اس کے چند دن بعد ہی ڈسی جامشورو کا تبادلہ ہو گیا اور یہ فلٹر پلانٹ غفلت کی بھیٹ چڑھ گیا، اور کوٹری کی عوم گندا پانی پی کر موت کو دعوت دینیپر مجبور ہو گئی جس سے کئی بیماریا پھیلنے لگی،مزید داکٹرز کاکہنا ہے کہ کو منہ کوٹری کی آبادی تقریبن تین لاکھ ہے جس میں ہر تبکے کی لوگ ریہائش پزیر ہیں تو جن لوگو کی امدانی اچھی ہے ان کا گزار بسر مینرل واٹر سے ہو جاتا ہے لکن جو میڈل کلاس کے لوگ اور لویر کلا س کے لوگ اس رحمت سے محروم ہیں جن کی واجہ سے اُنہیں زحمت کا سامنا ہے۔ اسی وجہ سے جگہ جگہ فلٹر پلانٹ کی مشینری لگائی گئی ہے تاکہ صاف پینے کے پانی کو یقینی بنایا جا سکے ۔گندے پانی ہونے کی کئی وجوہات ہیں جن میں بارش کا پانی ،ڈینیج سسٹم،ماحول کی الودگی،کوڑہ کرکٹ،واٹر لائنگ سسٹم،ان مسائل کی اصل وجوہات ہیں۔لکن حکومت ہمیشہ خاموشی کی طرح کا مظاہرا کر کے اپنے ہاتھ اُپر اُٹھا تی آئی ہے۔ گندا پانی پینے سے لاکھو بیماریاں جنم لیتی ہیں جن میں اندرونی بیماریاں اور بیرونی شامل ہے۔جن کے موضی مرض انسانی جسم میں اس طرح سے اپنے گھر بناتے ہیں جس کے بعد انسان کو اس دنیاں سے اپناگھر چھوڑنا پڑتا ہے ، اور نہلے پر دہلہ یہ ہے کہ سرکاری اسپتال میں سہولیات نہ ہونے کی واجہ سے لوگ پرئیویٹ اسپتال کا رخ کرنے پر مجبور ہے گندا پانی پینے سے ہزاروں بچوں کی زندگیاں داؤ پر لگی ہوئی ہیں مقامی ڈاکڑرز کے متابق کوٹری روزانہ 50 سے60 بچے گندے پانی پینے کی وجہ سے بیمار ہو رہے ہیں،بچوں میں ڈائریا پیٹ کے دیگر امر اض اور جلد ی بیماریاں پھیل رہی ہیں شہریوں کا کہنا ہے کہ ہم مجبور ہیں گندا پانی پینے پر کیونکہ کے منرل واٹٹر خریدنے کی ان کی سقت نہیں ہے ۔اس پر کئی بار شہریعں کی جانب سے احتجاج کیا جا چکا ہے لکن حکومت کے کانوں میں جوں تک نہیں رینگتی۔اور اس غفلت کا زمہ دار کسی حد تک حاضر ڈسی جامشوروں بھی ہے جو اس وقت تک اس فلٹر پلانٹ پر حکومت کی تواجہ لانے میں ناکام رہے ہیں ۔حکومت کو چایئے کہ اس پر فوری اکشن لے کر اس مشینری کو فوری استعمال کرنے کے احکامات جاری کرے تاکہ کوٹری کی عوام کو صاف پانی پینے سے فائدا اُٹھا سکے ۔

رکشہ ٹرانسپورٹ کے مسائل - سائرہ ناصر آرٹیکل

Proof and spelling mistakes. Where? in pakistan? Karachi, Hyd? etc  Number of rikshaw, ? being replaced by chung chee
Saira Nasir
رکشہ ٹرانسپورٹ کے مسائل


نام : سائرہ ناصر
رول نمبر : BS III 2K14/MC/84
کٹیگری : آرٹیکل


اکثر ہم اپنے اردگرد بہت سی ایسی چیزوں کو دیکھتے ہیں جو وiسے تو لا یعنی دکھائی دیتی ہیں ۔ لیکن اپنے اندر بہت سے حقیقتیں پہناں کیے ہوتی ہیں ۔ ہمارے معاشرے میں ہر طرح کے لوگ رہتے ہیں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کو اللہ کی ذات بہت نوازتی ہے دولت، شہرت اور عزت عطا کرتی ہے ۔ ذاتی املاک آنے جانے اور سفر کرنے کیلیے زاتی سواریاں بھی ان کے پاس ہوتی ہیں ایسے لوگوں کو صاحب ثروت یا صاحب حیثیت لوگ کہا جاتا ہے ۔ اس کے بعد اک اور طبقہ جو پبلک ٹرانسپورٹ اور دیگر ذرائع ستعمال کرتا ہے ۔ اس کی وجہ طاہر ہے ذاتی سواری کا نا ہونا ہے س لیے لوگ یہ ذرائع استعمال کرتے ہیں ۔ ملک کی بیشتر آبادی متوسط طبقے پر مشتمل ہے ۔ اسلیے ٹرانسپورٹ کا استعمال ذیادہ ہے ۔س ٹرانسپورٹ میں مختلف سواریاں جن میں بسیں، تنگے اور رکشہ ۔ رکشہ کا کردار بھی ہمارے معاشرے میں بہت اہم نظر آتاہے چونکہ یہ ایک نجی سوری ہے ۔ جس کو لوگ اپنی مرضی کی جگہوں پر لے جانے کیلیے استعمال کرتے ہیں رکشہ تقریباً ہر جگہ ہی دستیاب ہوتا ہے ۔ایسے لوگ جن کو کہیں جلدی پہنچنا ہوتا ہے ۔ اور ان کے پاس ذاتی سواری نہ ہو تو وہ اس سے استفادہ کرتے ہیں ۔

ہر گلی ، کوچے ، راستے پر باآسانی سے ملنے والی سواری رکشہ ، جو کہ آسانی سے چار سے پانچ افراد کے ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کیلیے باکفایت ہے ۔ ابتدائی زمانے میں رکشہ مشینی قوت سے نہیں بلکہ انسانی قوت سے چلنے والی سائیکل تھی جو کہ مغربی ممالک سے پزیرائی حاصل کرتے ہوئے مشرق میں آئی ۔ اور پاکستانی گورنمنٹ نے اسے قانونی اجازت 1960 میں دی ۔ مگر انسانی قوت سے چلنے والے اس رکشے میں ڈرائیور کے لیے پریشانی تھی بوڑھے ، کمزورڈرائیور کے لیے اس سواری کو کھینچنا مشکل ہوتا تھا ۔ اور پھر ہوا یوں کہ جلد ہی مشینی رکشے ہر جگہ غالب آگئے ۔ پاکستان میں چلنے والے رکشے جاپانی کمپنی ڈائی ہاٹسومیڈگیٹ کے تھے ۔ پھر بعد میں پاکستان میں بھی رکشے بننے لگے اور شہر لاہور سب سے بڑا پروڈیوسر بنا ۔

رکشہ جہاں ایک مفید سواری ہے وہیں اس کے چند مسائل بھی ہی وہ یہ ہیں کہ اپنی بلند اور کرخت آواز کے سبب ناپسند کیا جاتا ہے اور ماہرین ماحولیات کے مطابق ماحولیاتی آلودگی کا باعث بھی بنتا ہے ۔کیونکہ اس سے نکلنے والا دھواں بہت خطرناک ہے ۔ پھر 2015 میں پاکستان میں سی -این -جی CNG یعنی گیس سے چلنے والے رکشے متعارف کروائے گئے ۔جو نا صرف ماحول کیلیے اچھے تھے بلکہ جگہ کی مناسبت سے بھی اچھے تھے ۔ سائز میں بڑے تھے اور کم خرچ بھی کیونکہ گیس سستی ہے ۔ حیرت اور مزے کی بات تو یہ ہے کہ جس جگہ اس کے جانے سے لوگوں کو تکلیف ہو سکتی ہے وہیں اس کی موجودگی سب سے زیادہ ہوتی ہے اور وہ جگہ ہے ہسپتال ۔ ہسپتالوں کے باہر ان کی کثیر تعداد موجود ہوتی ہے ۔ 

ایسی سواری جس کا استعمال دن با دن ضرورت بنتی جا رہی ہو ۔ اسکی فراہمی میں آسانیاں پیدا کی جاتی ہیں ۔ لیکن پاکستان میں الٹی گنگا بہتی ہے ۔ یہاں سدھراؤ کی بجائے معاملات کو تشویشناک بنایا جاتا ہے ۔ غیراخلاقی زندگی جینا تو مانو یہاں کی بیشتر آبادی کا مشغلہ ہے ۔ اب بھتہ مافیا کی ہی بات کر لیجئے ۔ حلال کی کمائی پر ایک کالا دھبا ہے ۔ اب یہ کہنے میں بھی کیسا مضا ئقہ کہ جیسے حکمران ویسی ہی عوام ۔ جنگل راج زندہ باد ہے ۔ اندھیری نگری چوپٹ راج ہے ۔ ہر طاقتور اپنے سے نیچے والے کو دبا کے اپنا الّو سیدھا کرتا ہے ۔ ر کشہ ٹرانسپورٹ ہر ایک کی پہنچ کے مطابق قابل متحمل ہے ۔ اس کی سب سے بڑی خاصیت یہ بھی ہے کہہر جگہ باآسانی مل جاتا ہے ۔ رکشہ اسٹینڈز جگہ جگہ لوگوں کی آسانی کیلیے بنے ہوئے ہیں ۔ لیکن وہاں بھی رکشہ لگانے کا بھتا دینا پڑتا ہے رکشہ ڈرائیورز کو ۔ خاص کر حیدرآباد میں ریشم گلی اور صدر کے علاقے میں ۔

حیدرآباد شہر میں ٹریفک حادثات کی وجہ ڈرائیوروں کی لاپرواہی اور تیز رفتاری ہے ۔ جانے کب ہونگے کم ، اس دنیا کے غم انسانی جان پاکستان میں جتنی بے مول ہے اس کو بیان کرنا گویا سمندر کو کوزے میں بند کرنے کے مترادف ہے ۔ ایسی لا تعداد مثالیں روز حیدرآباد کی سڑکوں پر دیکھنے کو ملتی ہیں جب رکشہ ڈرائیورز دیگر گاڑیوں کو اوور ٹیک کرنے کے ساتھ غلط یو ٹرن اور قانون کی خلاف ورزی کرتے نظر آتے ہیں ۔ او ر نتیجہ میں قیمتی جانیں لقمہ اجل بن جاتی ہیں ۔ اسکی اہم وجہ بنا لائسنس کے گاڑے چلانا ہے ۔ نو فٹنس کے رکشہ ہیں ۔ اگر رکشہْ ڈرائیور کو پکڑ بھی لیا جائے تو وہ پولیس والے کو چائے پانی کی بخشش دے کرفرار ہو جاتا ہے ۔ بغیر رجسٹرڈ رکشے بھی چل رہے ہیں۔ مختصر یہ کہ پیٹ کی آگ بجھانے کیلیے ہر ایک اپنے قانون پرعمل درآمد کرتے ہوئے روزی کمانے پر مجبور ہے ۔ اب یہ حکومت کا فرض بنتا ہے کہ رکشے جیسے سواری کی پرسان حالت پر توجہ دے اور اور بہتر پالیسیز متعارف کروائے جو ہر ایک کے حق میں بہتر ثابت
ہو ۔

Practical work was carried out under supervision of Sir Sohail Sangi, at Media & Communication Department, University of Sindh

حور لائیبہ, آرٹیکل


Article: Chamber of Small Traders and Small Industry
By: Hoor-e-Laiba
Roll # : 2k14/mc/172
حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری ۔

حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری یہ 2016میں قائم ہوا ۔ یہ ادارہ صدر حیدرآباد میں واقع ہے۔ حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری کے صدر کا نام محمد اکرم انصاری ہے۔ سکندر علی راجپور یہاں کے نائب صدر ہیں۔ اس وقت اس ادارے میں تین سو ممبر ہیں ۔ اس ادارے میں تاجروں کے مسائل حل کئے جاتے ہیں۔ یہاں کے چیئرمین اپنے متعلقہ محکموں میں تاجروں کے مسائل حل کرتے ہیں۔ جیسے امن و امان سے متعلق ، واپڈا سے متعلق اور ٹیکسز سے متعلق۔ اس ادارے کی سب کمیٹی دس لوگوں پر مشتمل ہے۔
حیدرآباد چیمبر آف ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری کا قیام ٹریڈ آرگنائزیشن ایکٹ مجریہ 2013ء کے تحت عمل میں آیا تھا۔ ٹریڈ آرگنائزیشن ایکٹ 2013 ء سے قبل ٹریڈ آرگنائزیشن آرڈیننس 1964 نافز العمل تھا۔ جس کے تحت تمام صنعت کار اور تاجر حضرات اس کے ممبر تھے جس میں بڑے اور چھوٹے کاروباری حضرات سب شامل تھے۔ لیکن حکومت پاکستان نے ٹریڈ آرگنائیزیشن آرڈیننس 1964 کو منسوخ کر کے اس کی جگہ تریڈ آرگنائیز یشن ایکٹ 2013ء جاری کیا جس کے تحت بڑے اور چھوٹے صنعت کاروں کے لئے الگ الگ چیمبر بنانے کی صراحت کی گئی ہے۔ اس میں جن صنعت کاروں اور تاجروں کا کاروباری ٹرن اوور سالانہ 5کروڑ روپے سے زیادہ ہے وہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری جبکہ 5کروڑ تک کے کاروباری ٹرن اوور سالانہ رکھنے والے صنعت و تاجر حضرات چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری کی ممبر شپ حاصل کرسکتے ہیں۔
ٹریڈ آرگنائزیشن ایکٹ مجریہ 2013ء کے نفاد سے قبل تمام تاجر و صنعت کار ایوان صنعت و تجارت حیدرآباد ہی کے ممبر تھے۔ کیونکہ جھوٹے پیمانے پر کام کرنے والے تاجروں اور صنعت کاروں کے لئے کوئی قواعد و ضوابط مرتب کروانے تھے اس لئے وہ مجبوراً وہاں ممبر بنتے تھے تا کہ ان کے مسائل حکومتی اور لوکل سطح پر حل ہوسکین۔ شروع میں تو بغیر کسی فریق کے تمام تاجروں اور صنعت کاروں کے مسائل حل ہو جایا کرتے تھے۔ لیکن آہستہ آہستہ ایلیٹ کلاس طبقہ ایوان حیدرآباد پر چھانے لگا۔ ان کو اپنے معاملات سے غرض تھی وہ چھوٹے پیمانے پر کام کرنے والوں کی جانب کم ہی توجہ دیتے تھے جس سے ان لوگوں میں احساس محرومی پیدا ہوتا جارہا ہے۔ 

خوش قسمتی سے حکومتی سطح پر اس تفریق کو محسوس کیا گیا اور قانون سازی کے ذریعے ٹریڈ آرگنائزیشن ایکٹ 2013ء کا اجراء عمل میں آیا۔ جس کے تحت چھوٹے تاجر اور صنعت کار اپنے حقوق کی جدوجہد کرسکتے ہیں۔ لہذا سال ہا سال کے تلخ تجربات کی روشنی میں چھوٹے تاجروں اور صنعتکاروں نے مختلف اوقات میں سر جوڑ اور حیدرآباد جیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری کے قیام کے لئے محمدکھتری کی قیادت سربرائی میں جدوجہد کا آغاز کیا اور ایوان صنعت و تجارت حیدرآباد کے سابق صدور محمد امین کھتری ، حاجی محمد یعقوب اور مسعود پرویز صحبان اور شفیق قریشی ، سلیم عمر نے سرپرستی اور مالی و اخلاقی مدد کی اس طرح اس جدوجہد کے نتیجہ میں وفاقی وزارت صنعت، حکومت پاکستان سے 2016ء کی تبداء میں باقاعدہ لائسنس حاصل کرلیا گیا۔ 

حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز انڈ اسمال انڈسٹری کے فرائض میں وہ تمام فرائض ہیں جو ذمہ داریاں چیمبر آف کامرس کی ہیں جن میں صنعت کاروں اور تاجروں کو انتظامیہ سے متعلق در پیش تمام مسائل کا حل، ان کو انتظامیہ تک پہنچانا اور انہیں حل کرانا، مقامی صنعت و حرفت کو پروموٹ کرنا، مقامی انڈسٹری کی مصنوعات و ملکی اور غیر ملکی سطح پر متعارف کرانے کیلئے نمائیشوں میں شرکت کرنا، مالی اداروں اور بنکوں سے آسان شرائط پر قرض کے حصول کے لئے مدد فراہم کرنا وغیرہ شامل ہیں۔ چیمبر ممبر کی حیثیت سے تاجر حضرات کو غیر ملکی دوروں کے لئے چیمبر ممالک کے سفراء کو ویزاہ کے لئے سفارشی خطوط بھی ارسال کئے جاتے ہیں جن سے ویزاہ کے حصول میں آسانی ہوتی ہے۔ اس چیمبر کی ممبر شپ نہایت آسان ہے۔ نیشنل ٹیکس نمبر کا حاصل ہر تاجر اور صنعت کار بہت کم فیس بطور ممبر شپ جمع کرا کر اس کا ممبر بن سکتا ہے۔ یہ چیمبر صنعت کاروں اور تاجر برادری کا ایسا پلیٹ فارم ہے جس سے مشترکہ جدوجہد کے اپنے مسائل کو حل کرانا ممکن بن سکتا ہے۔

Practical work was carried out under supervision of Sir Sohail Sangi, at Media & Communication Department, University of Sindh

Monday, 22 August 2016

مصباح۔ار۔رودا,آرٹیکل


مصباح۔ار۔رودا
2k14/MC/52
آرٹیکل :مویشی منڈیاں
حیدرآباد کی مویشی منڈیاں
مویشی منڈیاں سال میں ایک دفعہ عیدلاضعی کے موقع پر لگائی جاتی ہیں جہاں ملک بھر سے ہر نسل کے مختلف جانور لائے جاتے ہیں اور ان کی خریدوفروخت کا عمل شروع ہوتا ہے۔ ویسے تو جمعرات کے دن ہر شہر میں مختلف بکرا منڈیاں لگائی جاتی ہیں لیکن وہ بکرا منڈی مویشی منڈی کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔لوگ سستے بکرے خرید کر پورے سال اسے پالتے ہیں اور عیدلاضعی کے موقع پر مویشی منڈیوں میں بھاری قیمت میں فروخت کر دیتے ہیں۔
سنت ابراہیمی کی ادائیگی کے لئے ملک بھر کی مویشی منڈیوں میں گہما گہمی بڑھتی جا رہی ہے اور یہ حقیقت ہے کہ خریدار اور بیوپاری دونوں ہی بڑھتی ہوئی مہنگائی سے نالاں نظرآرہے ہیں،تاہم سال بہ سال جانوروں کی قیمتوں میں اضافے نے قربانی کے فریضے میں تو کمی نہیں کی تاہم مہنگائی کے باعث اجتماعی قربانی کی روایت میں اضافہ ضرور کردیاہے ۔ چونکہ شوق کا کوئی مول نہیں ہوتااس لئے کہیں کوئی خریدار بکروں کے دانت پرکھتا دکھائی دے رہا ہے تو کہیں کسی کی تمام تر توجہ اس کے وزن اور خوبصورتی پر ہے،خریدار تگڑے جانور دیکھ کر خوشی کا اظہار تو کرتے ہیں لیکن جب ان کی قیمتیں سنتے ہیں تو ساری خوشی کافور ہوجاتی ہیں۔ مگر بیوپاریوں کو بھرپور توقع ہے جیسے جیسے عید قریب آئے گی خریداروں کی تعداد میں اور اضافہ ہوگااور ساتھ ہی وہ یہ دلاسہ بھی دیتے ہیں آخری چند روز میں قیمتوں میں کمی آسکتی ہے۔ساڑھے چھ سو ایکڑ سے زائد رقبے میں قائم کی گئی ایشیاء کی سب سے بڑی عارضی مویشی منڈی یعنی حیدرآباد میں ڈیڑھ لاکھ گائے اور چالیس ہزار بکرے لائے جا چکے ہیں مگر ہوشربا قیمتوں کے باعث اکثرلوگ انہیں دیکھ کر ہی گزارہ کر رہے ہیں۔منڈی میں زیریں پنجاب اور بالائی سندھ کے اضلاع سے خوبصورت اور صحت مند مویشی فروخت کے لئے لائے گئے ہیں۔حیدرآباد میں دومویشی منڈیاں بہت مشہور ہیں ایک جو بائے پاس پر بدھ کے روز لگتی ہے اور دوسری جو لطیف آباد نمبر ۷ میں لگائی جاتی ہے۔
بیوپاریوں کا کہنا ہے کہ مہنگے چارے اور مہنگے کرایوں کے باوجود سستا بیچنا ممکن ہی نہیں اور اگرنہیں بکا تو مال واپس لے جانے کو ترجیع دیں گے ،دوسری جانب شہریوں کا کہنا ہے کہ مہنگے جانوروں کے باعث اس سال سنت ابراہیمی کی پیروی مشکل ہورہی ہے ۔ مگر یہ بات ضرور ہے کہ بائے پاس پر موجود یہ مویشی منڈی رات بھر میلے کا منظر پیش کرتی ہے کیونکہ لوگوں کی بڑی تعداد وہاں کا رخ کرتی ہے ۔ صرف مرد نہیں خواتین اور بچے بھی وہاں لگتا ہے کہ پکنک منانے کے لئے آتے ہوں اور ننھے فرشتے اپنے والدین سے اپنی پسند کے جانوروں کی فرمائش کرتے نظرآتے ہیں۔ بات بائے پاس تک ہی محدود نہیں ہے حیدرآباد کی شاید ہی کوئی ایسی جگہ گلی یا محلہ ہوگا جہاں فروخت کے لئے گائیں249 بکریاں موجود نہ ہوں۔شاہراہوں اور سڑکوں پر فروخت کا کام انتظامیہ کی ناک کے نیچے سے ان کی مرضی سے ہو رہا ہے۔
کوئی ایک بکرے کی رسی تھامے گاہک کا منتظر ہے تو کسی نے تین249 چار بکرے فروخت کرنے ہیں۔خواتین بھی فروخت میں پیش پیش ہیں249 کسی نے سڑک کنارے باقاعدہ باڑہ قائم کردیا ہے جہاں اعلی قسم کے جانور برائے فروخت ہیں۔

خریداروں کا کہنا ہے کہ مرکزی منڈی اور سڑک کنارے منڈیوں میں قیمتیں ایک جیسی ہیں مگر وقت اور کرایہ مدنظر رکھیں تو گھر کے قریب منڈیوں سے سودا برا نہیں تاہم حیدرآباد کی بائے پاس منڈی نے عوام کو زیادہ متاثر کیا ہے۔ یہاں جانوروں کی خریداری کے لئے آئے لوگوں کا کہنا ہے کہ یہاں شہر کی دیگر منڈیوں کے مقابلے میں قربانی کے جانور سستے ہیں۔ حیدرآباد کی بائے پاس منڈی میں سیکیورٹی کیمناسب انتظامات بھی عوام کی توجہ اور اطمینان کا باعث ہیں۔عید قربان کی مناسبت سے قصائیوں کی بھی چاندی ہوگئی ہے نہ صرف منہ بولی رقم حاصل کر رہے ہیں بلکہ ان کے نکھرے بھی آسمانوں پرہیں۔سرکاری مویشی منڈیوں میں صوبے بھر سے جانور لائے جا رہے ہیں جو عوام کو کم قیمت میں فروخت کئے جا رہے ہیں۔
مویشی منڈیوں میں جانوروں کی ادائیں ہیں کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہیں خریدار کو لبھانے کے
لئے بیوپاریوں کے پاس اپنے اپنے جانوروں کی مختلف اور دلچسپ کہانیاں موجود ہیں۔ہر شہر کی مویشی منڈی میں کوئی نہ کوئی جانور اپنے نام اور شرارتوں سے مشہور ہے خاص طور پرموڈا بکرا نامی بکرا جو بڑے بڑے بیلوں سے نہیں ہچکچاتا اور شیر کی طرح چلتا ہے۔
اگر مہنگائی کا یہی حال رہا اور قیمتیں یوں ہی آسمان سے باتیں کرتیں رہیں تو ایک عام شہری اس فریضے کو ادا کرنے سے قاصر ہوجائے گا۔آج کل لوگ قربانی کے اصل مقصد کو بھول گئے ہیں اورمویشی منڈیوں کو پیسہ کمانے کا ذریعہ سمجھ لیا ہے جو کسی بھی طرح ٹھیک نہیں ہے۔یہ ایک اہم فریضہ ہے جسے ہر مسلمان خوشی سے ادا کرنا چاہتا ہے۔حکومت کو اس عمل کے لئے سخت قانون بنانا ہوگا تا کہ کوئی اس تہوار کا فائدہ اٹھا کر عوام کو بے جا پریشان نہ کرسکے اور عوام کو بھی احتیاط سے خریدوفروخت کرنے کی ضرورت ہے۔

Friday, 19 August 2016

دریا کے قریب کچی آبادیاں پکی آبادیوں میں تبدیل


سعود شیخ

آرٹیکل 
2k14/MC/63



لطیف آباد میں دریا کے قریب کچی آبادیاں پکی آبادیوں میں تبدیل



دنیاچاند سے واپس آکر مریخ پر جانے کے لئے کمر بستہ ہے مگر پاکستان جیسے غریب ممالک کے افراد گھر کی تلاش میں سر گرداں ہیں ۔دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ رہائش ایک وبالِ جان بنتی جارہی ہے شہر میں قدیم آبادیوں میں کیڑے مکوڑوں کی طرح غیر انسانی رہائش اختیار کر نے والے سات سات افرادایک کمرے کے گھر میں رہتے ہیں جیسے جُگّی کہا جاتا ہے ۔اس ہی کمر ے میں غسل خانہ اور کچن شامل ہے اس طرح رہنے سے نہ صرف بیماریوں بلکہ غیر اخلاقی اقدار کو بھی فروغ ملتا ہے۔ ہجرت یا نکل مکانی کر کے آنے والے لوگوں کے مسائل اس سے بھی بدتر ہیں یہ زیادہ تر شہر کی کچی آبادیوں میں رہائش پذیر ہیں۔ 



یہ کچی آبادیاں سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد میں بھی موجود ہیں اور زیادہ تر دریائے سندھ کے کنارے پر علاقوں کی شکل اختیار کر گئی ہیں ۔ان آبادیوں میں چار قدم چلنا محال ہے، ہر طرف کچرے کے ڈھیر نظر آتے ہیں جن کی بدبو سے دماغ پھٹنے لگتا ہے۔دیگر عوامل کے ساتھ ساتھ نکاسی آب کی خرابی کے باعث گلی گلی کیچڑ بہتی ہے،جس میں اینٹیں رکھ کر آگے بڑھا جاسکتاہے مقامی افراد اپنی مدد آپ کے تحت صفائی کرنا گوارا نہیں کرتے اور گندگی بڑھتی چلی جاتی ہے انہی گلیوں میں بے پناہ بچے دوڑتے بھاگتے اور کھیلتے رہتے ہیں۔جن کی مائیں کارخانوں اور گھروں میں ملازمت کر کے گھر کا پہیہ رواں دواں کرتی ہیں۔



شہر میں آبادی کے دباؤ کے باعث مکانات بے انتہا مہنگے ہیں ،اور جس طرح رہائشی سہولتوں نے صورتحال خراب کر دی ہے آگے جا کر مزید نقصان ہوگا۔سرکاری حکام سے اس سلسلے میں بات کی جائے تو وہ مختلف رکاوٹوں کارونہ روتے ہیں ۔ان آبادیوں میں رہنے والے کم آمدنی ،وسائل کی کمی اور بجلی ،پانی،گیس کے بحران میں مبتلاہیں. 1947 کی ہجرت کے بعد دوسرا دور مشرقی پاکستان الگ ہونے کی صورت میںآیاجب بڑی تعداد میں لوگوں نے نقل مکانی کی صوبائی حکومت کے اہلکار کے مطابق سن 1972میں سقوطِ ڈھاکہ کے بعد کراچی میں کچی آبادیوں کی تعداد تقریباً70تھی اور یہ تین ہزار ایکڑ تک پھلی ہوئی تھیں ۔یہ کچی آبادیاں مختلف حکومتوں میں مختلف اداروں کی زمین پر بھی آباد تھیں۔پھر یہ ملک کے دوسرے شہروں میں پھلنے لگیں۔



دریائے سندھ کے قریب موجود ان آبادیوں میں بھی بہت سے ایسے افراد موجود ہیں جو ہجرت کر کے آئے تھے اور اب یہاں قیام پذیر ہیں اس کے علاوہ یہاں بڑی تعداد میں افغانی بھی قیام پذیر ہیں ۔جو ہجرت کے بعد یہاں آکر رہے اور چھوٹا موٹا روز گار شروع کیاکسی نے مزدوری کی ،اور کوئی کچرا اٹھانے لگا۔اس ہی آبادی کے ایک رہائشی سرور بنگالی کا کہنا ہے کہ: ’ہم وہ بد نصب ہیں جنہیں دو ہجرتیں کرنے کے بعد بھی کچھ نہ ملا‘



لطیف آباد کے مغربی کنارے پر موجود دریا کے کنارے کے ساتھ یہ کچی آبادیاں کئی سالوں سے موجود ہیں اور نسل در نسل چل رہیں ہیں ان میں سے بہت سے ایسے گھر ہیں جو دریا کے بلکل ساتھ موجود ہیں اور انتہائی خطرناک ہیں پچھلے کچھ سالوں میں بعض اوقات دریا کا پانی بڑھنے کی وجہ سے غرق بھی ہو چکے ہیں لیکن لوگ ان زمینوں کو چھوڑنے پر آمادہ نہیں ۔اکرم جس کا گھر دو سال پہلے سیلابی ریلے کے باعث بہہ گیا تھا وہ اس پانی کے گزرنے کے بعد اب دوبارہ اِسی جگہ پر جُگّی ڈالے بیٹھاہے وہ کہتا ہے کہ: ’جائیں تو جائیں کہاں ! ہمارے پاس اتنے پیسے نہیں کہ شہر میں کرائے کا مکان لے سکیں اور اگر شہری علاقے میں بیٹھتے ہیں تو ہمیں وہاں سے بھگا دیا جاتا ہے ‘



بھٹّو پارک سے شروع ہونے والی یہ آبادی کوہسار تک موجود ہے۔ جس میں ہزاروں لوگ قیام پذیر ہیں جنہیں اینٹی انکچروچمنٹ والے متعدد دفع وارنگ دے چکیں ہیں اور کئی دفعہ ان میں سے کچھ گھروں کو توڑا بھی جا چکاہے لیکن یہ لوگ کچھ دن میں اپنی جگہ واپس آجاتے ہیں اور اس کے بعد یہ ادارہ کوئی ایکشن نہیں لیتا یہ آبادی اب اتنی بڑی تعداد میں اور اتنے بڑے رقبے پر پھیل چکی ہے کہ اس کے خلاف آپریشن کرنا کو ئی آسان کام نہیں ۔یہاں زیادہ تر آبادی غربت کا شکار ہے لیکن اکثر جگہوں پر تو باقاعدہ زمین کی خریدوفروخت چل رہی ہے ۔ قبضہ مافیاں ان زمینوں پر قبضہ کر کہ لوگوں کو فروخت کر رہی ہے ۔جس کی وجہ سے اکثر جگہوں پر تو باقاعدہ پکے مکان تعمیر کر لیے گئے ہیں جن میں سے اکثر تو دو اور تین منزلہ بہترین تعمیر شدہ عمارتیں بن چکی ہیں۔غربت تو اپنی جگہ لیکن ان ہزاروں لوگوں نے اپنی زندگیاں خطرے میں ڈال رکھی ہیں جو کسی بھی وقت بے رحم لہروں کا نشانہ ہو سکتے ہیں ان آبادیوں اور لوگوں کا کوئی پر سانِ حال نہیں انکروچمنٹ اس صورتحال پر بے بس دیکھائی دیتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ سیاسی پشت پناہی کے باعث وہ کوئی اقدام اٹھانے سے قاصر ہیں۔



شہر میں موجود یہ کچی آبادیاں ہماری ریاستی کمزوری کا منہ بولتاثبوت ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ ہماری ریاست ملک کی ایک بڑی آبادی کو بنیادی سہولیات دینے میں نا کام ہے اس وجہ سے پسماندہ اور دیہی علاقوں کے لوگ ہر سال بڑی تعداد میں شہری علاقوں کی طرف بنیادی
سہولیات اور روزگار کی غرض سے ہجرت کر ر ہے ہیں اور یہ کچی آبادیاں کم ہونے کے بجائے ہر سال بڑھتی جا رہی ہیں اس وقت حیدرآباد میں ان کچی آبادیوں کی تعداد 417ہوگئی ہے ۔جن میں 375 آبادیاں سرکاری زمین پر قائم ہیں اور42 نجی زمینوں پر قائم ہیں ۔



ان کچی آبادیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیشِ نظر اور ان کو ایک حقیقت جانتے ہوئے سن 1987ء میں سندھ اسمبلی میں ایک قانون پاس کیا گیاجس کا مقصد ان کچی آبادیوں کو مسمار کر نا نہیں تھا بلکہ ان آبادیوں اور یہاں کے رہائشیوں کو مستقل رہائش دینا مقصد تھا جس کے لئے سندھ کچی آبادی اتھارٹی کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا گیا جس کا مقصد ان کچی آبادیوں کی تعمیر تھااور ان کو باقاعدہ قانونی حق دلانا تھا۔ اس ادارے نے ابتداء میں تو اپنا کام نہایت پھرتی سے کیااور 97آبادیوں کو باضابطہ کیااور یہاں کے رہائشیوں سے لیس کی مد میں حاصل ہونے والے پیسوں کی مدد سے تعمیر و ترقی شروع کی اور بنیادی سہولیات مہیا کی لیکن اب یہ ادارہ اپنے فرائض صحیح طریقے سے انجام نہیں دے رہا۔ 




سندھ کچی آبادی اتھارٹی اور انکروچمنٹ اداروں کو چاہیئے کہ اس مسلئے کے حل کے لئے کوئی جامع حکمتِ عملی بنائے جس کے ذریعے ان نا جا ئز تجاوزات کو ختم کیا جاسکے۔کیونکہ اس کاحل صرف اب ان کے خلاف آپریشن یا کریک ڈاؤن کرنا نہیں ہے کیونکہ ایسا کرنے سے ایک افراتفری کی صورتحال برپا ہوجائے گی جو نقصان دہ ثابت ہوگی اس کے بجائے ان لوگوں کو اس زمین سے قبضہ چھوڑنے کے عوض انہیں شہر سے تھوڑا دور موجود خالی زمینوں پر سستے داموں میں زمین دے کر آباد کیا جائے جس کے ذریعے اس مسلئے کا حل بھی نکلے گا اور نئے شہر بھی آباد ہونگے۔

-----------------------------------------------------
More work is required. Number of katchi abadis in Hyd? why??
سعود شیخ

آرٹیکل 

2k14/MC/63



لطیف آباد میں دریا کے قریب کچی آبادیاں پکی آبادیوں میں تبدیل



دنیاچاند سے واپس آکر مریخ پر جانے کے لئے کمر بستہ ہے مگر پاکستان جیسے غریب ممالک کے افراد گھر کی تلاش میں سر گرداں ہیں ۔دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ رہائش ایک وبالِ جان بنتی جارہی ہے شہر میں قدیم آبادیوں میں کیڑے مکوڑوں کی طرح غیر انسانی رہائش اختیار کر نے والے سات سات افرادایک کمرے کے گھر میں رہتے ہیں جیسے جُگّی کہا جاتا ہے ۔اس ہی کمر ے میں غسل خانہ اور کچن شامل ہے اس طرح رہنے سے نہ صرف بیماریوں بلکہ غیر اخلاقی اقدار کو بھی فروغ ملتا ہے۔ ہجرت یا نکل مکانی کر کے آنے والے لوگوں کے مسائل اس سے بھی بدتر ہیں یہ زیادہ تر شہر کی کچی آبادیوں میں رہائش پذیر ہیں۔ 



یہ کچی آبادیاں سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد میں بھی موجود ہیں اور زیادہ تر دریائے سندھ کے کنارے پر علاقوں کی شکل اختیار کر گئی ہیں ۔ان آبادیوں میں چار قدم چلنا محال ہے، ہر طرف کچرے کے ڈھیر نظر آتے ہیں جن کی بدبو سے دماغ پھٹنے لگتا ہے۔دیگر عوامل کے ساتھ ساتھ نکاسی آب کی خرابی کے باعث گلی گلی کیچڑ بہتی ہے،جس میں اینٹیں رکھ کر آگے بڑھا جاسکتاہے مقامی افراد اپنی مدد آپ کے تحت صفائی کرنا گوارا نہیں کرتے اور گندگی بڑھتی چلی جاتی ہے انہی گلیوں میں بے پناہ بچے دوڑتے بھاگتے اور کھیلتے رہتے ہیں۔جن کی مائیں کارخانوں اور گھروں میں ملازمت کر کے گھر کا پہیہ رواں دواں کرتی ہیں۔



شہر میں آبادی کے دباؤ کے باعث مکانات بے انتہا مہنگے ہیں ،اور جس طرح رہائشی سہولتوں نے صورتحال خراب کر دی ہے آگے جا کر مزید نقصان ہوگا۔سرکاری حکام سے اس سلسلے میں بات کی جائے تو وہ مختلف رکاوٹوں کارونہ روتے ہیں ۔ان آبادیوں میں رہنے والے کم آمدنی ،وسائل کی کمی اور بجلی ،پانی،گیس کے بحران میں مبتلاہیں. 1947 کی ہجرت کے بعد دوسرا دور مشرقی پاکستان الگ ہونے کی صورت میں آیاجب بڑی تعداد میں لوگوں نے نقل مکانی کی صوبائی حکومت کے اہلکار کے مطابق سن 1972میں سقوطِ ڈھاکہ کے بعد کراچی میں کچی آبادیوں کی تعداد تقریباً70تھی اور یہ تین ہزار ایکڑ تک پھلی ہوئی تھیں ۔یہ کچی آبادیاں مختلف حکومتوں میں مختلف اداروں کی زمین پر بھی آباد تھیں۔پھر یہ ملک کے دوسرے شہروں میں پھلنے لگیں



دریائے سندھ کے قریب موجود ان آبادیوں میں بھی بہت سے ایسے افراد موجود ہیں جو ہجرت کر کے آئے تھے اور اب یہاں قیام پذیر ہیں اس کے علاوہ یہاں بڑی تعداد میں افغانی بھی قیام پذیر ہیں ۔جو ہجرت کے بعد یہاں آکر رہے اور چھوٹا موٹا روز گار شروع کیاکسی نے مزدوری کی ،اور کوئی کچرا اٹھانے لگا۔اس ہی آبادی کے ایک رہائشی سرور بنگالی کا کہنا ہے کہ:



’ہم وہ بد نصب ہیں جنہیں دو ہجرتیں کرنے کے بعد بھی کچھ نہ ملا‘



لطیف آباد کے مغربی کنارے پر موجود دریا کے کنارے کے ساتھ یہ کچی آبادیاں کئی سالوں سے موجود ہیں اور نسل در نسل چل رہیں ہیں ان میں سے بہت سے ایسے گھر ہیں جو دریا کے بلکل ساتھ موجود ہیں اور انتہائی خطرناک ہیں پچھلے کچھ سالوں میں بعض اوقات دریا کا پانی بڑھنے کی وجہ سے غرق بھی ہو چکے ہیں لیکن لوگ ان زمینوں کو چھوڑنے پر آمادہ نہیں ۔اکرم جس کا گھر دو سال پہلے سیلابی ریلے کے باعث بہہ گیا تھا وہ اس پانی کے گزرنے کے بعد اب دوبارہ اِسی جگہ پر جُگّی ڈالے بیٹھاہے وہ کہتا ہے کہ:



’جائیں تو جائیں کہاں ! ہمارے پاس اتنے پیسے نہیں کہ شہر میں کرائے کا مکان لے سکیں

اور اگر شہری علاقے میں بیٹھتے ہیں تو ہمیں وہاں سے بھگا دیا جاتا ہے ‘



بھٹّو پارک سے شروع ہونے والی یہ آبادی کوہسار تک موجود ہے۔ جس میں ہزاروں لوگ قیام پذیر ہیں جنہیں اینٹی انکچروچمنٹ والے متعدد دفع وارنگ دے چکیں ہیں اور کئی دفعہ ان میں سے کچھ گھروں کو توڑا بھی جا چکاہے لیکن یہ لوگ کچھ دن میں اپنی جگہ واپس آجاتے ہیں اور اس کے بعد یہ ادارہ کوئی ایکشن نہیں لیتا یہ آبادی اب اتنی بڑی تعداد میں اور اتنے بڑے رقبے پر پھیل چکی ہے کہ اس کے خلاف آپریشن کرنا کو ئی آسان کام نہیں ۔یہاں زیادہ تر آبادی غربت کا شکار ہے لیکن اکثر جگہوں پر تو باقاعدہ زمین کی خریدوفروخت چل رہی ہے ۔ قبضہ مافیاں ان زمینوں پر قبضہ کر کہ لوگوں کو فروخت کر رہی ہے ۔جس کی وجہ سے اکثر جگہوں پر تو باقاعدہ پکے مکان تعمیر کر لیے گئے ہیں جن میں سے اکثر تو دو اور تین منزلہ بہترین تعمیر شدہ عمارتیں بن چکی ہیں۔غربت تو اپنی جگہ لیکن ان ہزاروں لوگوں نے اپنی زندگیاں خطرے میں ڈال رکھی ہیں جو کسی بھی وقت بے رحم لہروں کا نشانہ ہو سکتے ہیں ان آبادیوں اور لوگوں کا کوئی پر سانِ حال نہیں انکروچمنٹ اس صورتحال پر بے بس دیکھائی دیتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ سیاسی پشت پناہی کے باعث وہ کوئی اقدام اٹھانے سے قاصر ہیں۔



حکومت اور انکروچمنٹ اداروں کو چاہیئے کہ اس مسلئے کے حل کے لئے کوئی جامع حکمتِ عملی بنائے جس کے ذریعے انا جا ئز تجاوزات کو ختم کیا جاسکے۔کیونکہ اس کاحل صرف اب ان کے خلاف آپریشن یا کریک ڈاؤن کرنا نہیں ہے کیونکہ ایسا کرنے سے ایک افراتفری کی صورتحال برپا ہوجائے گی جو نقصان دہ ثابت ہوگی اس کے بجائے ان کوگوں کو اس زمین سے قبضہ چھوڑنے کے عوض انہیں شہر سے تھوڑا دور موجود خالی زمینوں پر سستے داموں میں زمین دے کر آباد کیا جائے جس کے ذریعے اس مسلئے کا حل بھی نکلے گا اور نئے شہر بھی آباد ہونگے۔

Tuesday, 16 August 2016

عمدہ پکوان، گندی دکان


سمعئیہ کنول
رول نمبر 95
آرٹیکل

عمدہ پکوان، گندی دکان
حال ہی میں شہر حیدرآباد میں کئی چھوٹی بڑی دکانوں پر حکومت کی جانب سے وزٹ ہوئے، کہیں تالے لگے تو کہیں جرمانہ عائد کیا گیا۔ان دکانوں میں حیدرآباد کی مشہور نام بھی شامل ہیں جن میں شاہ لطیف ڈیری، منگل بریانی لطیف آباد پر جرمانہ عائد کیا گیا اور حیدرآباد کنٹونمنٹ کی جانب سے انرجی بیکری،سوغات شیریں،ایٹ این ٹیک ، بروسٹ ٹاؤن، آئس برگ، مرچی 360 اور ذوق فوڈ شاپ کو پیور فوڈ ایکٹ 1966 کے تحت سیل کیا گیا۔
آج سے کچھ عرصہ پہلے تک لوگ جینے کے لئے کھاتے تھے مگر اب اس نئے دور میں لوگ کھانے کے لئے جیتے ہیں،ویسے تو یہ مانا جاتا ہے کہ لاہور میں کھانے کے شوقین زیادہ پائے جاتے ہیں مگر اب حیدرآباد کی بھی ہر گلی کے ہر گھر میں کھانے کے شوقین افراد کا ملنا غیر معمولی بات ہے۔ فاسٹ فوڈ موجودہ نسل میں کھانے کی سب سے پسندیدہ چیزہے، رپورٹس سے پتا لگا کہ فاسٹ فوڈ میں استعمال ہونے والی فارمی مرغیاں مضر صحت ہیں، جنہیں ادویات کھلا کر موٹا تازہ کیا جاتا ہے اور کم داموں میں ذیادہ گوشت کی صورت میں فروخت کیا جاتا ہے، جسکی وجہ سے ہارمونز کا ڈسٹرب ہونا آج کل معمولی بات ہے، جب کہ ایک تحقیق سے یہ بھی پتا لگا کہ مسلسل فاسٹ فوڈ کا استعمال کرنے والے افراد میں سے 51 فی صد افراد ڈپریشن میں مبتلا ہو جاتے ہیں، جس سے نجات کے لئے انہیں اینٹی ڈپریشن کا استعمال کرنا پڑتا ہے۔یہ تحقیق پبلک ہیلتھ نیوٹریشن میں شائع کی گئی تھی۔ مگر یہاں بات صرف فاسٹ فوڈ پرختم نہیں ہوتی،ہمارے دیسی پکوان جن میں بریانی سر فہرست ہے، اس کو بنانے کے طریقے سے لے کر اس میں ڈالے جانے والے مصالحہ جات اور گوشت کے استعمال پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ کہیں ان مصالحوں میں لکڑی کا برادا یا پھر کپڑوں پر رنگ کئے جانے والے رنگ کا استعمال تو نہیں کیا جارہا اور کہیں مردار جانور یا پھر گائیں کے نام پر گدھا کھلا کر گدھا تو نہیں بنایا جا رہا۔
دکھنے میں لذیذ ، مذیدار اور عمدہ کھانے جہاں ہر شخص کو اپنا اسیر کئے ہوئے ہیں تو دوسری جانب صحت و صفائی کے اصولوں کو بھی فراموش کئے ہوئے ہیں۔حیدرآباد کے مشہور ریسٹورنٹس اور بیکریوں پر پڑنے والے چھاپے اس بات کے ضامن ہیں کہ ہماری صحت پر خطرہ منڈلا رہا ہے۔ کچھ دیر کو تصور کریں جب ان کھانے پینے کے مشہورجگہوں کے ناموں پر سوالیہ نشان کھڑا ہوا ہے تو ان چھوٹی دکانوں یا پھر ان ٹھیلوں کا کیا حال ہوگا جن سے آپکا ہفتے میں دو چار دن واستہ پڑ جاتا ہے! جہاں سے آپ اپنے ہی پیسوں میں اپنے لئے کتنی بیماریاں خرید رہے ہیں۔ڈاکٹرز کے مطابق ٹھیلوں پر بکنے والی ناقص غذائیں پیٹ درد، میدہ کی جلن سوجن، قبض اورپیجس جیسی بیماریوں کی جڑ ہوتے ہیں ، جن سے بچنے کا واحد حل ان کے استعمال سے پرہیز کرنا ہے۔
یہ تمام رپورٹس مجھے میرے دادا کے سنائے ہوئے قصوں کی جانب لے جاتی ہیں ، جن میں وہ بتاتے تھے کہ ان کی والدہ محترمہ گھر میں مصالحے کوٹا اور پیسا کرتی تھیں ، دودھ دھوتی تھیں، مکھن ،گھی ،تمام مٹھائیاں اورہر قسم کے پکوان گھر میں ہی بنایا کرتی تھیں، پچپن میں شاید یہ باتیں اتنی معنٰی خیز نہ ہوں جتنی آج ہیں ، کیونکہ وہ آج بھی نوجوانوں سے زیادہ چست ہیں ان کے وہ گھر کے سادہ مگر حفظان صحت کے مطابق بنے پکوان ان کی صحت کے ضامن ہیں،ان میں پھُرتی اور تیزی سے کام کرنے اور جلدی نہ تھکنے کا عنصر آج بھی موجود ہے۔ جبکہ دوسری جانب رپورٹ کے مطابق آج کی نسل میں زیادہ ترمیں سسُتی پائی جاتی ہے اور وہ ہر وقت تھکان محسوس کرتے ہیں جسکی وجہ ڈاکٹرز کے مطابق صحیح خوراک کا نا ملنا ہے، جس کے حصول کے لئے جوانی سے ہی وٹامنز اور پروٹینز دوائیوں کی صورت میں لینے پڑتے ہیں۔ 
آج جبکہ اس جدید دور میں ہر چیز پر رسائی ممکن ہے تو عوام الناس سے التجا ہی کی جا سکتی ہے کہ اپنی جانب سے ہر خریدی جانے والی شہ یا پکوانوں پر تحقیق کریں اس کے بعد ہی اپنی خوراک میں شامل کریں تا کہ بیماریوں سے محفوظ رہ کر لمبی اور تندرست ذندگی ممکنہ طور پر گزار سکیں۔ورنہ گندی دکانوں میں بنے عمدہ پکوان ہی آپکا مقدر ہیں۔

آبادی کا بم

اس میں کوئی اینگل ڈالنے کی ضرورت ہے 
Plz confirm is it written as per approved outline? I do not think so. Discussed and approved  outline was different how i approved this topic. 

وارث بن اعظم
2k14/MC/102
آرٹیکل: آبادی کا بم

آبادی کو ملک کے لئے اثاثہ سمجھا جاتا ہے لیکن آبادی میں بے تحاشہ اضافہ ہونے سے یہ ملک کے لئے بوجھ بن جاتی ہے، آبادی میں تیز رفتار اضافہ عالمی مسئلہ بنا ہوا ہے اور اس حولے سے پاکستان مین بھی کوئی رعایت نہیں ہے اس وقت پاکستان دنیا کا چھٹا سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے۔
اگر چہ پاکستان سے بھی زیادہ آبادی کے حامل ملک اس دنیا میں موجود ہیں لیکن پاکستان میں افراط آبادی ایک بہت بڑا چیلنج بن کر سامنے آرہا ہے۔ بیروزگاروں کی لمبی قطاریں،معاشرتی جرائم کا کینسر، مہنگائی کا مسئلہ، قلیل فی کس آمدنی،پست معیار زندگی، انتشار،رہائشی انتظامات کی قلت،خوراک اور تفریح کے کم ہوتے ہوئے مواقع ایسی باتیں ہیں جو افراط آبادی کی وجہ سے وجود میں آتی ہیں۔آبادی میں اضا فہ جہاں کئی ممالک کے لئے باعث رحمت ہوتا ہے وہیں غریب ممالک کی فی کس آمدنی کو مزید تخصیص کرنے کا باعث بنتا ہے، وزارت منصوبہ بندی و ترقیکے مطابق جولائی2016 تک پاکستان کی آبادی 19کروڑ 39لاکھ19 ہزار928 ہو چکی ہے، جس میں خواتین کی تعداد9کروڑ30لاکھ7ہزار573ہے اور مردوں کی تعداد 10کروڑ 9لاکھ12ہزار 356ہے،
پاکستان میں اس و قت پیدائش کی شرح1.49 %ہے جس میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، اسی طرح بیروزگاری کی شرح5.6%ہے، اتنی آبادی میں جس میں زیادہ تر تعداد نوجوانوں کی ہے پڑھ تو لیتے ہیں مگر جب ان کو نوکری نہیں ملتی امیر طبقہ تو بیرون ممالک نکل جاتا ہے باقی ناجائز ذرائع سے باہر جانے کی کوشش کرتے ہیں اور جو رہ جاتے ہیں وہ چوری، ہیرا پھیری، ڈکیتی سے اپنا اور اپنے خاندان کا پیٹ پالنا شروع کر دیتے ہیں۔
اگر پاکستان میں بے ہنگم طریقے سے بڑھتی ہوئی آبادی پر نظر ڈالی جائے تو اسکی بڑی وجہ مذہب رجحانات بھی ہیں ،پاکستان جیسے ملک میں شعور اورعلم کی کمی کی وجہ سے تمام تر بحث کو مذہبی شکل میں ڈھالنے کی کوشش کی جاتی ہے یہاں ایک خاص قسم کی سوچ ہے کہ اللہ رزق دینے والا ہے اورامت محمدی کو جبراََ روکنا گناہ ہے۔
امت محمدی تو برھ گئی میاں پر کفارہ نہ ہوا
کفالت کی جنگ میں مرتے دم تک گزارہ نہ ہوا
اسی طرح جلد شادیوں کا رواج ہے پاکستان میں عام طور پر 16سے22سال کی عمر میں شادی کردی جاتی ہے جس کے باعث تولیدی عمل کی مدت بڑھ جاتی ہے،ایک حیرت انگیز امر کہ پاکستان میں مرنے کی شرح1951میں2.8%تھی وہ 2014-15میں کم ہو کر 0.73% رہ گئی ہے۔جوائنٹ فیملی سسٹم، بڑی فیملی کا تصورلوگ زیادہ بچے ہو نے کی وجہ سے فخر محسوس کرتے ہیںیہ سب بھی آبادی میں اضافے کی وجوہات میں شامل ہیں۔
پاکستان میں ایک طر ف جہاں دیہی و شہری آبادی کا فرق ہے وہیں دوسری طرف سوچ کا تضاد بھی کافی حد تک پایا جاتا ہے، آبادی میں بے تحاشہ اضافہ بڑی حد تک معاشی مسائل کو دعوت دیتا ہے ، پاکستان کی آبادی میں تقریباََ50%کے قریب خواتین ہیں اور خواتین بھی وہ جو گاؤں میں اپنے اپنے کھیتوں پر کام تو کرتی ہیں پر ان کو ماہانہ آمدنی کی شکل میں کچھ نہیں ملتا کیونکہ وہ اپنے گھر کے لئے کام کرتی ہیں، کام کرنے کا ایک بہت بڑا حصہ بنا آمدنی کے رہ جاتا ہے جس کی وجہ سے غر بت بڑھتی ہے اور ملک کے مسائل میں اضافہ ہوتا ہے۔ 
آبادی میں اضافہ معاشی مشکلات، بھوک اور افلاس کو بھی آواز بڑھاتا ہے جس کا اثر معاشی گراوٹ اور اخلاقی تباہی کی صورت میں نظر آتا ہے، بڑھتی ترقی نے جہاں طرح طرح کی سائنسی ایجادات کو معرض وجود میں آنے کا موقع دیا جس سے بچوں کی مرنے کی شرح کم ہوئی وہیں دوسری طرف لوگوں کی قیمت خرید پرمعاشی پالیسیوں نے بُری طرح چمٹنا شروع کیا، افراط زر کی شرح نے لوگوں کو بھوکا مرنے پر مجبور کردیا ہے پہلے لوگ جنگوں کا شکار ہو تے تھے آج وہ دور نہیں ہے تو لوگ آبادی میں بے ہنگم اضافے اور ضروریات زندگی نہ ہونے کے باعث مر رہے ہیں۔

Wednesday, 10 August 2016

معاشر ے کا بگاڑ : مزنہ رئیس الدین (corrected and old piece)

Corrected
مزنہ رئیس الدین 
2K14/MC/156
کیٹیگری۔ آرٹیکل
معا شرے کا بگاڑ
افرا د کی اصلا ح سے ہی معا شرے کی اصلا ح ہوتی ہے اور تب ہی ایک معاشرہ پروا ن چڑھتا ہے ۔ آجِ سے تقر یباً 20 سا ل سے پہلے کی بات ہے بیٹا با پ کے سا منے بات کر نا تو دور کی بات بیٹھ بھی نہیں سکتا تھا مگر آج ہمارے معاشرے میں والدین کی قدر ، استاد کی قدر ،بڑوں کی عزت واحترا م اور چھوٹو ں کا لحاظ جیسی کسی چڑیا کا نا م بھی با قی نہیں۔ ہمارے معاشرے مین دن بد ن ختم ہوتی انسانی اقدار کے کئی اسباب ہیں مثلاً لوگون کی بڑھتی ہوئی خواہشات ، فرینڈ سرکل کا بڑھتے جا نا ،ماں با پ کا بچوں کی تربیت بھر پور طریقے سے نہ کرنا ،ہر مہنگے اور برے کام کو کرکے فخر سمجھنا ،بے روزگاری،ہر جرم کو باآسانی کرلینا ،موبائل اور سوشل نیٹ ورک کا حدسے زیادہ اور غلط استعما ل وغیر ہ جیسے کئی اسباب شامل ہیں۔ 90 دہائی سے 2016 ؁ء تک کا سفر دیکھا جائے تو ایک صا ف اور واضح قسم کا فرق نظر آتا ہے جو بیٹا باپ کے سامنے بولنے کی جرات نہیں کرتا تھا آج و ہی بیٹا باپ سے نشہ مانگ کر استعما ل کر نے میں کوئی عار محسو س نہیں کرتا،بننے سنور نے کی لیئے آج باپ اپنے بیٹے سے اور ماں اپنی بیٹی سے سبقت لیتی ہے ، ایک محفل میں بیٹھ کر فحش فلمیں آرام سے دیکھی جارہی ہوتی ہیں ،دن کو سوکر اور رات کو جا گ کر گزار ا جا تا ہے مہنگے اور جدید موبائل وقت سے پہلے بچوں کو فراہم کردیئے جاتے ہیں ۔
تعلیمی نظام میں بھی کا فی بدلاؤ آگیا ہے بچوں کو اس جدید دور میں کمپیوٹر اور لیپ ٹاپ کے ذریعے تعلیم دی جاتی ہے جس کے باعث وہ کتا بوں کی قدر بھولتے جار ہے ہیں پہلے کے زمانے میں معا شرہ رشتوں پر پکا یقین رکھتا تھا ،مگر آج یہ ہی رشتے ایک کے ذریعہ کے سوا کچھ نہیں بے شک تبدیلی کائنا ت کا اصول ہے مگر ان تبدیلیوں کا غلط استعمال معاشرمیں کئی برائیوں کو جنم دے رہا ہے۔ آج تقریباً 20 سال سے اپنے پیاروں سے با ت کرنے کے لئے ان کے گھر جا کر ملا قات کی جاتی تھی اور ملک سے باہررہنے والے رشتہ داروں کو خط یا تار(ٹیلی گرام) بھیجے جاتے تھے جو خاص جذبات اور محبت کا پیکر ہوتے تھے مگر 90 کی دہائی سے ان کی جگہ انٹر نیٹ اور موبائل نے لے لی ۔ 
ان چیزوں نے اگرچہ انسا ن کی زندگیوں میں آسانیاں تو پیدا کردی ہیں مگر دوسری جانب دیکھا جائے تو یہ ہی چیزیں انسا ن اور وقت کی قدرومحبت کی قاتل بھی ہیں ۔ بے روزگاری معاشرے کی بربادی میں اہم کردار ادا کررہی ہے اس کی وجہ سے لوگ برے دھندوں میں پڑجاتے ہیں اور جرم کو کو فروغ دیتے ہیں یا پھر یہاں وہاں بیٹھ کر اپنا وقت ضائع کرتے ہیں اور آہستہ آہستہ نشے کے عادی یا جوئے اور شراب کی لت میں پڑجاتے ہیں مہنگائی کے اس دور میں امیر توامیر تراور غریب بے چارہ غریب تر ہوتا جا رہاہے ۔ 
ان تمام وجوہات کی وجہ سے معاشرہ ترقی کرنے کے بجائے پستی کی طرف جاتا جارہاہے کراچی یونیورسٹی کی صحافی پروفیسر ڈاکٹر ذکر یا ساجد کی رائے کے مطابق سادگی ہی ایک واجد ذریعہ جو آج کے دور میں غریبوں کا پیٹ بھرنے کے سا تھ سا تھ انسا ن کی بڑھتی ہوئی خواہشا ت روک سکتی ہے جس کے باعث معاشرہ مختلف قسم کی برائیوں سے بچ سکتا ہے ۔ 
بے شک معاشرے کی ترقی میں حکومت کا اہم کردار ہوتا ہے ۔ مگر اس سارے نظام کی خرابی کا سبب حکومت کو ہی نہیں ٹھہر ایا جا سکتا ۔ اس میں کچھ نہیں بلکہ بہت حقدر تو ہمارا اپنا ہے کیونکہ ہم سب کچھ جانتے ہوئے بھی بے حس بنے ہوئے ہیں ۔ کوئی معاشرے کی اصلا ح باکم از کم اپنی اولاد کی تعلیم و تر بیت کو ہی صحیح وقت نہیں دینا چاہتا اور یہ نہیں سوچتا کہ کیوں اتنی جد ت اور ترقی کے باوجود معاشرے میں ا تنی برائیاں جنم لے رہی ہیں اور نئی نسل اپنے بزرگوں کو ان کی زندگی میں ہی دفن کر بھول جاتی ہے ۔ 

------------------------------------
It seems to be a lecture or essay. Some specific ref, reports, experts opinion. Figures facts 

آرٹیکل 

معاشر ے کا بگاڑ
مزنہ رئیس الدین 
2K14/MC/156
افراد کی اصلا ح سے ہی معاشرے کی تعمیر ہو تی ہے اور تب ہی ایک معاشرہ پروان چڑھتا ہے مگر آج ہمارے معاشرے کے اندر نظر دوڑائی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ والدین کی قدرنہیں ، استاد کی قدر نہیں ، بڑوں کا احترام اور چھوٹوں کے لحاظ جیسی کسی چڑیا کا نام باقی نہیں ۔
کچھ دہائیوں پہلے کی بات ہے کہ بیٹاباپ کے سامنے بات کرنا تو دور کی بات بیٹھ بھی نہیں سکتا تھا ۔ مگر آج کے زمانے میں بیٹا باپ سے نشہ مانگ کر استعمال کرتاہے ایک محفل میں بیٹھ کر فلمیں دیکھی جاتی ہیں ۔ یہاں تک کے بننے سنورنے کے لئے باپ بیٹے سے اور ماں اپنی بیٹی سے سبقت لینا چاہتی ہے۔
ہمارے معاشرے میں دن بدن ختم ہوتی انسانی اقدار کے کئی اسباب ہیں مثلاً ماں باپ کا اپنے بچوں پر ٹھیک طرح توجہ نہ دینا ، اپنی لاڈلی اولاد کے آرام کی خاطر انہیں مسجد بھیجنے کے بجائے قاری صاحب (جو کہ حافظ قرآن اور دین کا عالم ہوتا ہے ) کو گھر بلایا جاتا ہے ، بچوں کو کمپیوٹر ، لیپ ٹوپ وغیرہ تولے کر دئیے جاتے ہیں مگر بیٹھ کر ان کی اقدار اور صحی استعمال نہیں سکھایا جاتا، بچوں کو اسکول تو بھیجا جاتاہے مگر صرف نمبروں کا گیم کھیلنے کے لیے آج ہمارے معاشرے میں وقت کے ساتھ ساتھ کئی برائیاں جنم لیتی جارہی ہیں جن کی اصل وجہ تو ”لوگوں کی بڑھتی ہوئی خواہشات“ ہیں فرینڈ سرکل کا بڑھتا جانا، ہربرے اور مہنگے کو کر کے فخر سجھنا،اپنے ساتھ اصلاح لے کر گھونا، اور بالخصوص ہر طرح کے جرم کو کرنا آسان سجھنا، آجکل کے اس مہنگائی کے دور میں امیر تو اور امیر اور غریب بے چارہ غریب سے غریب تر ہوتا چلا جا رہا ہے۔
بے روزگاری بھی معاشرے کی بربادی میں شامل ہے ۔ اس کی وجہ سے لوگ یہاں وہاں بیٹھ کر اپنا ٹائم گزارنے لگتے ہیں اور آہستہ آہستہ مختلف قسم کی خراب عادتوں یا نشہ یا جوئے کی لت میں پڑجاتے ہیں ۔
ان وجوہات کی وجہ سے معاشرہ ترقی کرنے کے بجائے پستی کی طرف جاتا جا رہا ہے کوئی یہ سوچنا نہیں چاہتا کہ کیوں ہمارا معاشرہ پستی کی طرف جاتا جا رہا ہے ؟
کیوں معاشرے میں ادب ختم ہو جارہا ہے ؟ کیوں غریب ، غریب تر ہوتا جا رہا ہے ؟کیوں ہمارے معاشرے کا مستقبل دن کو سو کر اور رات کو سوشل نیٹ ورک جا گ پر گزارتا ہے ؟ کیوں آج کل کی نسل کو اپنے بڑوں کے پاس بیٹھنے تک کا وقت نہیں ہوتا ۔ کیوں ہماری آنے والی نسلیں ہمیں دفنا کر بھول جاتی ہےں ۔ کوئی یہ سوچنا نہیں چاہتا کہ وہ اپنے لئے اور اپنی آنے والی نسلوں کے لئے کون سی راہ منتخب کر رہے ہیں ۔
بے شک معاشرے کی ترقی میں حکومت کا اہم کردار ہوتا ہے مگر اس سارے نظام کی خرابی کا سبب حکومت کو ہی نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ بلکہ اس میں کچھ نہیں بہت زیادہ قصور تو ہمار اپنا ہے کیونکہ ہم سب کچھ جانتے پہچانتے بھی بے حس بنے ہوئے ہیں ۔ کوئی آواز اٹھانے والا موجود نہیں اور کوئی اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ وہ اپنا ٹائم معاشرے کی اصلا ح کرنے کو دے یا کم از کم اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت پر ہی بھر پور توجہ دیں ۔
اس سارے بگاڑ کے حل کیلئے اگر کچھ سد باب حکومت و عوا م مل کر کریں تو شاید کے ہمارے معاشرے کی اصلا ح ممکن ہو سکے ۔

Practical work carried out under supervision of Sir Sohail Sangi

غریب کا بچہ معیاری تعلیم سے محروم

مہنگی تعلیم کی وجہ سے غریب کا بچہ معیاری تعلیم سے محروم 
There are some more  strong reasons. Some figures, facts, experts opinion, Govt is spending huge amount, what other sections of society play their  role. Narrow down topic . 


ّّّّآرٹیکل
محمد بلال حسین صدیقی
 رول نمبر:57
 Bs Part 3

کہنے کو تو اسلامی جمہوریہ پاکستان میں امیر ہو یا غریب حکمران ہمیشہ یکساں کی بات کرتے ہیں لیکن حقیقت اِس کے برعکس ہے ۷۴۹۱ میں جب پاکستان وجود میں آیا تب سے اب تک غریبوں کو ہر شعبے کے معیار سے دور رکھا گیا ہے اب آ تعلیم کو ہی دیکھ لیجئے معنی سرکاری اسکولوں ، کالجوں میں تعلیم کے ساتھ ساتھ کتابیں ،کاپیاں یہاں تک کہ یونیفارم تک مفت ہے مگر وہاں نظامِ تعلیم کی دھجیاں اُڑائیں جا رہی ہیں اور طلبہءو طالبات کے مستقبل کے ساتھ کھیلا جا رہا ہے جہاں ملکِ پاکستان میں غریبوں سے ہر ایک چیز دور کر دی گئی ہے وہی تعلیم کو کاروبار کی شکل دے کر غریبوں سے دور کر دیا گیا ہے جگہ جگہ قائم نجی اسکولوں ، کالجوں نے جہاں ایک طرف معیارِ تعلیم بڑھایا ہے وہی تعلیم کو مہنگا کر کہ غریبوں کی پہنچ سے دور کر ی دیا ہے سرکاری اسکولوں ، کالجوں کے اساتذہ اپنے فرائض انجام دینے سے قاصر ہیں اور اپنے فرائض انجام دینے کے بجائے بھاری رقم کی وصولی کے لئے نجی اسکولوں ، کالجوں کو فوقیت دیتے ہیں جس کا نقصان صرف سرکاری اسکولوں ، کالجوں کے بچوں کو اٹھانا پڑتا ہے اور یاد رہے کہ یہ وہ ہی بچے ہوتے ہیں جو نجی اسکولوں ، کالجوں کی بھاری فیس دینے سے قاصر ہوتے ہیں ہر سال سرکاری اسکولوں ، کالجوں کو ملنے والا لاکھوں ، کڑوڑوں روپے کا فنڈ یوں ہی ضائع جاتا ہے اور لاکھ شکایتوں کے باوجود کوئی خاص اقدامات اٹھائے نہیں جاتے ابھی کچھ دنوں پہلے کی ہی بات ہے کہ الیکٹرونک میڈیا کے نجی چینل نے گھوسٹ اسکولوں ، کالجوں اور پروفیسروں کی خبر نشر کی تھی مگر اب تک اس کی روک تھام کے حلاف کوئی کروائی نہیں کی گئی

سندھ کے تعلیمی بورڈ کا اندازہ تو بس اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہم آج بھی وہی کورس آوٹ لائین پڑھ رہیں ہیں جو آج سے ۰۳ سال قبل ہمارے بڑوں نے پڑھی تھی جبکہ نجی اسکولوں میں کلاس ۸ تک اکسفرڈ بورڈ پڑھایا جا رہا ہے جس سے سرکاری اور نجی اسکولوں کے طلبہءوطالبات کے درمیان تفریق پیدا ہو رہی ہے نجی اسکولوں، کالجوں میں تعلیم کا معیار معنی بہتر ہے مگر دوسری طرف وہی بھاری بھرکم فیس جس کی ادائیگی ہر کسی کے بس کی بات نہیں اور اگر فیس کی ادائیگی ممکن ہو بھی جائے تو کبھی کلر ڈے کے نا م پر نیا جوڑا تو کبھی کلاس ایکٹیویٹی کے نام پر ہزاروں ورپے کا سامان لوٹا جا تا ہے اور اگر کبھی کسی وجہ کی بناءپر ماہانہ فیس دینے میں ایک دو دن دیری ہو جائے تو بھاری مقدار میں جرمانہ بھی عائد کر دیا جاتا ہے تعلیم کی شکل میں نجی اسکولوں اور کالجوں کے نام پر ایک کاروبار چلایا جا رہا ہے جس کی بناءپر ایک کم کمانے والا شخص اپنے بچوںکو ان اسکولوں اور کالجوں میں داخلا نہیں دلا سکتے ۔

اب تو یہ بات صاف واضح ہوتی جا رہی ہے کہ تعلیم حاصل کرنا ہر ایک انسان کے بس کی بات نہیں کیونکہ تعلیم کے معمار اب تعلیم کے سوداگر بن چکے ہیں جہاں نجی اسکولوں میں تعلیم کو بہتر سے بہترین کی طرف لایا جارہا ہے وہی سرکاری اسکولوں پر کوئی خاص توجہ دی نہیں جا رہی اور سرکاری اسکولوں کالجوں کا حال بد سے بدتر ہوتا نظر آرہا ہے یہی وجہ ہے کہ غریبوں سے معیاری تعلیم دور ہوتی جا رہی ہے تعلیم وہ واحد چیز ہے جس سے انسان میں شعور بیدار ہوتا ہے اگر تعلیم کا یہ ہی حال رہا تو نہ تو شعور ہوگا اور نہ کوئی بیدار۔۔۔

اگر حکومت نے اس بات کو اب بھی اُسی طرح نظر انداز کیا جس طرح پچھلی کئی دھایوں سے ہوتا آرہا ہے تو وہ وقت دور نہیں کہ غریبوں کے لئے تعلیم حاصل کرنا مشکل سے ناممکن ہو جائے حکومت گھوسٹ اسکولوں ، کالجوں ، پروفیسرز اور نااہل اساتذہ کے خلاف سخت کروائی کرنی چایئے تا کہ سرکاری اسکولوں اور کالجوں میں تعلیم کے معیار کوبہتر بنایا جاسکے ورنہ تعلیمی شرح مذید گرتا چلا جائے گاجس کا نقصان ہمارے ملک پاکستان کی معشیت کو اٹھانا پڑے گاحکومت کو ان اقدامات کے علاوہ ’ تعلیم سب کے لئے ‘ کا نعرہ لگانے کے بجائے تعلیم واقعی سب کی لئے یکساں کرنی ہوگی تاکہ امیر ہو یا غریب سب ایک جگہ بیٹھ کر یکساںتعلیم حاصل کر سکیں ۔جس کی وجہ سے امیر و غریب کے درمیان فرق ختم ہونے کے ساتھ ساتھ ایک پڑھے لکھے پاکستان کا خواب نہ صرف سچا ہوگابلکہ ملک میں ترقی و خوشحالی بھی آئی گئی۔

تاریخ گواہ ہے کہ تعلیم سے ہی قومیں ترقی کرتی ہیںمگرجب تعلیم کا یہ حال ہو جو اس ملک میں ہے تو ہم ترقی کا وہ سفر طے کرتے رہیں گئے جو کبھی ختم ہونے والانہیں۔۔۔










Ur name and roll number is not with text in the file.  it is must.Proof reading..
 باہر کے کھانے کے لوگوں پر اثرات:
         
فرحانہ ناغر     آرٹیکل
       باہر کا کھاناموجودہ معاشرے میں ہر فرد کی ضرورت بن گیا ہے۔لوگ زےادہ تر باہر کے کھانے کو فوقیت دیتے ہیںاور بطور روایت اس چیز کا اثر معاشرے میں پھیل رہاہے۔پاکستان میں تو یہ روایت تیزی سے پھیل رہی ہے۔جگہ جگہ مختلف کھانوں کی خشبو پھیلی ہوئی ہوتی ہے۔اور مختلف قسم کے لذیذکھانے دستیےاب ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ لوگ گھر کاکھانانظراندازکر کے باہر کے کھانے کی طرف متوجہ ہوگئے ہیں۔
        پاکستان میں ہوٹلوں کا سسٹم ۷۴۹۱ سے ہی چلا آرہا ہے۔مگر پہلے کے لوگ اتنی زیادہ تعداد میں باہر کے کھانے کو پسند نہیں کرتے تھے جتنا اب لوگوں کی پسندیدگی ان کھانوں کے لئے دیکھنے کو مل رہی ہے۔پاکستان میں سن ۰۹ اور ۰۸میں ہوٹلوں کا رواج بڑھتا ہوا نظر آےا ہے۔۱۹۹۱میں پاکستان میں ایسے ہوٹلوں کی تعداد جہاں کھانا دستیاب ہوتا ہے تقریبا۵۴۸ تھی جبکہ ۶۹۹۱میں ان ہوٹلوں کی تعداد ۰۵۱۱ ہوگئی تھی اور وقت کے ساتھ ساتھ اس روایت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔اور اس بڑھتی ہوئی تعداد سے ےہ بات دیکھنے کو ملتی ہے کہ کس طرح لوگ باہر کے کھانے کی طرف مائل ہورہے ہیں۔پرانے وقتوں مین زیادہ سے زیادہ روٹی بازار سے لا کر کھائی جاتی تھی ےا کبھی کبھار خاص موقعوں پر سالن مگر موجودہ دور میں لوگ پوری پوری دعوتیں بازار کے کھانوں پر منحصر رکھتے ہیں۔
       پاکستان کا شمار فاسٹ فوڈ بنانے والی انڈسٹری اور ان کھانوں کو استعمال کرنے واے دوسرے نمبر کے ملک میں ہوتا ہے۔جو تقریبا ۹۶۱ میلین ہے اور مستقبل میں بڑھنے کے امکانات ہیں ریسرچ ریپورٹ کے مطابق نوجوان طبقہ ہفتے میں ایک دن لازمی باہر کا کھاناکھاتا ہے سب سے زیادہ پاکستان کے جن شہروں میں باہر کا کھانا استعمال کیا جاتا ہے ان میں لاہور ،پنڈی اور اسلام آباد جیسے شہر ہیں۔سندھ میں سب سے زیادہ کراچی کے لوگوں کا اس طرف رجحان ہے۔اور ہر علاقے میں روزانہ ۰۲فیصد اس روایت میں اضافہ آرہا ہے۔
      عام طور پر خاص کر پاکستانیوں میں جو بیماری نظر آتی ہے وہ ان کا بڑھتا ہوا وزن ہے۔جس کے سبب وہ دس اور بیماریوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں جسم میں سستی رہنے لگتی ہے زیادہ کام کرنے میں دشواری ہوتی ہے جلدی مسائل ہوتے ہیں ،معدے کی خرابی ،شوگر کا برھا ہوا آج کل ہر عام انسان کی پریشانی ہے،دل اور جگر کی بیماریاں ،کینسر جیسا خطرناک مرض،گلہ خراب رہنا ،جلد ہی تھک جانا،سر درد اور کئی پریشان کن اور جان لیوا بیماریاں ان کھانوں کی وجہ سے پھیل رہی ہیں۔فاسٹ فود کا نام ایک ریسرچر مائیکل جیکبسن نے ۲۷۹۱ میں تجویز کیا تھا اور ساتھ ساتھ ان کھانوں کے نقصانات اور معاشرے میں اس کی بڑھتی ہوئی رجحانیت کو بھی واضح کیا تھا ۔ان کھانوں مین موجود نمک ،تیل،کھانون میں استعمال کیے جانے والا رنگ ،آرٹیفیشل کیمیکلز وغیرہ صحت کو نقصان پہنچاتے ہیں اور جسم کو اندر ہی اندر کمزور بنا دیتے ہیں۔
     پاکستان میں اگر باہر کے کھانوں کے مطابق تحقیق دیکھی جائے تو اس میں مختلف لوگوں کی مختلف رائے ہوتی ہے جس سے باہر کے کھانوں کا معاشرے پر کتنا اثر ہے یہ بات سامنے آتی ہے۔معاشرے میں پھیلتی ہوئی اس روایت کو لوگوں کی رائے کے مطابق دیکھا جائے تو وہ کچھ اس طرح ہے:
۱۔۹۸فیصد لوگ باہر کے کھانے کو فوقیت دیتے ہیں گھر کے کھانے کے اوپر
۲۔۰۷فیصد لوگوں کا کہنا ہے کہ وزن بڑھنے اور موٹاپے کی وجہ باہر کا کھانا بنتا ہے۔
۳۔۰۷ فیصد لوگ باہر کا کھانا سفر کی حالت مین کھاتے ہیں کیونکہ ان کو حالت سفر میں گھر کا کھانادستیےاب رہنا مشکل ہوتا ہے۔
     پاکستان میں فاسٹ فوڈ کی قیمتیں ایک اہم مسئلہ ہے۔۰۶ فیصد لوگ کہتے ہیں کہ وہ باہر کے کھانوں کی قیمتوں سے مطمئن نہیں ہیںکیونکہ بڑے بڑے ریسٹورینٹنس میںعام آدمی کے لئے کھانا کھانا مشکل ہوتا ہے۔ملک میں غریب طبقے کے لوگ موجود ہیں جو باہر کے کھانے کی قیمتوں سے ان کھانوں سے لطف اندوز نہیں ہوسکتے اور ایسے طبقے کے لوگ دیکھنے میں بھی کمزور ہوتے ہیں کیونکہ اس طرح کے کھانے ان کی روز مرہ کی زندگی میں شامل نہیں ہوتے ہیں۔
    اس روایت کے بڑھنے کی دوسری وجوہات ےہ بھی ہیں کہ:
نوجوان اپنی خوائش کے تحت باہر کا کھانا کھاتے ہیں اور اپنے پیسوں کو باہر کے کھانے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔
گھر کے کھانے سے بور ہونے کے سبب تفریح اور پرائیوسی کے حصول کے تحت اور زیادہ وقت باہر گزارنے کی سبب دوستوںکے ساتھ بیٹھنے کے لئے ہوٹلوں کا رخ کرتے ہیں۔
بازار کا کھانا شوقیہ اور اپنی تفریح کے حصول کے تحت زیادہ پسند کیا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ان کھانوں کا رواج بڑھتا جا رہا ہے۔
گھر کے کھانوں کی با نسبت بازار کا کھانا زیادہ ذائقے دار اور جلد دستیےاب ہونے والا ہوتا ہے اسی لئے لوگ ان کھانوں کو گھر کے کھانے پر فوقیت دیتے ہیں۔
کام کرنے کی جگہیں دفتر وغیرہ میں لوگ بازار کا کھانا کھاتے ہیں کیونکہ یہ کھانا آسانی سے دستیاب ہوجاتا ہے۔
تنخواہ کے بڑھ جانے سے بھی لوگ زیادہ تر بازار کے کھانوں کی طرف مائل ہوجاتے ہیں۔
   باہر کے کھانوں کی بڑھتی تعداد ان تمام باتوں سے نظر آتی ہے کہ لوگ اپنے شوق،ضرورت،ایڈوینچر اور بھی بہت سی وجوہات کی بنا پر باہر کے کھانوں کی طرف تیزی سے مائل نظر آرہے ہیں جو ان کے لئے اپنے شوق اور ذائقے کی تسکین کے ساتھ ہی کئی بیمارےاں بھی ساتھ لاتے ہیں۔