Showing posts with label سمعئیہ. Show all posts
Showing posts with label سمعئیہ. Show all posts

Tuesday, 16 August 2016

عمدہ پکوان، گندی دکان


سمعئیہ کنول
رول نمبر 95
آرٹیکل

عمدہ پکوان، گندی دکان
حال ہی میں شہر حیدرآباد میں کئی چھوٹی بڑی دکانوں پر حکومت کی جانب سے وزٹ ہوئے، کہیں تالے لگے تو کہیں جرمانہ عائد کیا گیا۔ان دکانوں میں حیدرآباد کی مشہور نام بھی شامل ہیں جن میں شاہ لطیف ڈیری، منگل بریانی لطیف آباد پر جرمانہ عائد کیا گیا اور حیدرآباد کنٹونمنٹ کی جانب سے انرجی بیکری،سوغات شیریں،ایٹ این ٹیک ، بروسٹ ٹاؤن، آئس برگ، مرچی 360 اور ذوق فوڈ شاپ کو پیور فوڈ ایکٹ 1966 کے تحت سیل کیا گیا۔
آج سے کچھ عرصہ پہلے تک لوگ جینے کے لئے کھاتے تھے مگر اب اس نئے دور میں لوگ کھانے کے لئے جیتے ہیں،ویسے تو یہ مانا جاتا ہے کہ لاہور میں کھانے کے شوقین زیادہ پائے جاتے ہیں مگر اب حیدرآباد کی بھی ہر گلی کے ہر گھر میں کھانے کے شوقین افراد کا ملنا غیر معمولی بات ہے۔ فاسٹ فوڈ موجودہ نسل میں کھانے کی سب سے پسندیدہ چیزہے، رپورٹس سے پتا لگا کہ فاسٹ فوڈ میں استعمال ہونے والی فارمی مرغیاں مضر صحت ہیں، جنہیں ادویات کھلا کر موٹا تازہ کیا جاتا ہے اور کم داموں میں ذیادہ گوشت کی صورت میں فروخت کیا جاتا ہے، جسکی وجہ سے ہارمونز کا ڈسٹرب ہونا آج کل معمولی بات ہے، جب کہ ایک تحقیق سے یہ بھی پتا لگا کہ مسلسل فاسٹ فوڈ کا استعمال کرنے والے افراد میں سے 51 فی صد افراد ڈپریشن میں مبتلا ہو جاتے ہیں، جس سے نجات کے لئے انہیں اینٹی ڈپریشن کا استعمال کرنا پڑتا ہے۔یہ تحقیق پبلک ہیلتھ نیوٹریشن میں شائع کی گئی تھی۔ مگر یہاں بات صرف فاسٹ فوڈ پرختم نہیں ہوتی،ہمارے دیسی پکوان جن میں بریانی سر فہرست ہے، اس کو بنانے کے طریقے سے لے کر اس میں ڈالے جانے والے مصالحہ جات اور گوشت کے استعمال پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ کہیں ان مصالحوں میں لکڑی کا برادا یا پھر کپڑوں پر رنگ کئے جانے والے رنگ کا استعمال تو نہیں کیا جارہا اور کہیں مردار جانور یا پھر گائیں کے نام پر گدھا کھلا کر گدھا تو نہیں بنایا جا رہا۔
دکھنے میں لذیذ ، مذیدار اور عمدہ کھانے جہاں ہر شخص کو اپنا اسیر کئے ہوئے ہیں تو دوسری جانب صحت و صفائی کے اصولوں کو بھی فراموش کئے ہوئے ہیں۔حیدرآباد کے مشہور ریسٹورنٹس اور بیکریوں پر پڑنے والے چھاپے اس بات کے ضامن ہیں کہ ہماری صحت پر خطرہ منڈلا رہا ہے۔ کچھ دیر کو تصور کریں جب ان کھانے پینے کے مشہورجگہوں کے ناموں پر سوالیہ نشان کھڑا ہوا ہے تو ان چھوٹی دکانوں یا پھر ان ٹھیلوں کا کیا حال ہوگا جن سے آپکا ہفتے میں دو چار دن واستہ پڑ جاتا ہے! جہاں سے آپ اپنے ہی پیسوں میں اپنے لئے کتنی بیماریاں خرید رہے ہیں۔ڈاکٹرز کے مطابق ٹھیلوں پر بکنے والی ناقص غذائیں پیٹ درد، میدہ کی جلن سوجن، قبض اورپیجس جیسی بیماریوں کی جڑ ہوتے ہیں ، جن سے بچنے کا واحد حل ان کے استعمال سے پرہیز کرنا ہے۔
یہ تمام رپورٹس مجھے میرے دادا کے سنائے ہوئے قصوں کی جانب لے جاتی ہیں ، جن میں وہ بتاتے تھے کہ ان کی والدہ محترمہ گھر میں مصالحے کوٹا اور پیسا کرتی تھیں ، دودھ دھوتی تھیں، مکھن ،گھی ،تمام مٹھائیاں اورہر قسم کے پکوان گھر میں ہی بنایا کرتی تھیں، پچپن میں شاید یہ باتیں اتنی معنٰی خیز نہ ہوں جتنی آج ہیں ، کیونکہ وہ آج بھی نوجوانوں سے زیادہ چست ہیں ان کے وہ گھر کے سادہ مگر حفظان صحت کے مطابق بنے پکوان ان کی صحت کے ضامن ہیں،ان میں پھُرتی اور تیزی سے کام کرنے اور جلدی نہ تھکنے کا عنصر آج بھی موجود ہے۔ جبکہ دوسری جانب رپورٹ کے مطابق آج کی نسل میں زیادہ ترمیں سسُتی پائی جاتی ہے اور وہ ہر وقت تھکان محسوس کرتے ہیں جسکی وجہ ڈاکٹرز کے مطابق صحیح خوراک کا نا ملنا ہے، جس کے حصول کے لئے جوانی سے ہی وٹامنز اور پروٹینز دوائیوں کی صورت میں لینے پڑتے ہیں۔ 
آج جبکہ اس جدید دور میں ہر چیز پر رسائی ممکن ہے تو عوام الناس سے التجا ہی کی جا سکتی ہے کہ اپنی جانب سے ہر خریدی جانے والی شہ یا پکوانوں پر تحقیق کریں اس کے بعد ہی اپنی خوراک میں شامل کریں تا کہ بیماریوں سے محفوظ رہ کر لمبی اور تندرست ذندگی ممکنہ طور پر گزار سکیں۔ورنہ گندی دکانوں میں بنے عمدہ پکوان ہی آپکا مقدر ہیں۔

Wednesday, 10 August 2016

استاد سلطان احمد خان



پروفائل 
سمعئیہ کنول
رول نمبر 95

استاد سلطان احمد خان
استاد سلطان احمد خان ہواﺅں کے شہر حیدرآباد کے وہ سلطان ہیں جو موسیقی کے سمندر کے نہ صرف نایاب موتی بنے بلکہ آپ وہ جوہری بھی بنے جس نے حیدرآباد
میں کئی ہیرے تراشے ، جو آج پوری دنیا میں پاکستان کا نام روشن کر رہے ہیں۔ استاد سلطان احمد خان کی شخصیت آپ کی موسیقی میں صاف جھلکتی ہے، آپ کے لہجے کی مٹھاس آپ کے سروں میں واضح طور پر محسوس کی جاسکتی ہے۔ 
9اگست1964 کو حیدرآباد میں پیدا ہونے والے استاد سلطان احمد خان کی سات پشتوں میں کسی بھی شخص کا تعلق نہ موسیقی سے تھا اور نہ کسی کو گماں تھا کہ انکی آنے والی نسل میں سے ایک بچہ پورے خاندان کی مخالفت کے باوجود اپنے شوق اور محنت کے بل پردنیائے موسیقی میں ایسا مقام حاصل کرے گاکہ خود کو استاد کہلوائے گا۔ 
استاد سلطان احمد خان نے موسیقی کا آغاز اپنے اسکول کے ایک پروگرام سے کیا جہاں آپ کو بہت داد اور پزیرائی ملی جس نے آپ کے شوق کو مزید رمق بخشی، 12 سال کی عمر میں جو موسیقی سیکھنے کا آغاز کیا تو وقت ایسے گزرا کہ پولیٹیکنیکل کالج سے ایلیکٹرک میں ڈپلومہ مکمل ہوگیا مگر موسیقی سیکھنے کا عمل جاری رہا۔استاد سلطان احمد خان کو موسیقی کی سا رے گا ما پاسکھانے والے پہلے استاد سید شوکت علی شاہ صاحب تھے جن کی انگلی پکڑ ے آپ نے ایک لمبہ عرصہ گزارا، ساتھ ہی زندگی کے17 سالوںمیں تقریباً پورے پاکستان میں اپنی گلوکاری کے ایسے جوہر دکھائے کہ چاہنے والوں میں ہزاروں لوگوں کا شمار ہوتا گےا ، کچھ عرصے بعد استاد سلطان احمد خان نے کلاسیکل موسیقی سیکھنے کے لئے بھارت کا رخ کیا،جہاں آپ نے خورشید خاں صاحب سے باقاعدہ تربیت حاصل کی۔ ہندوستان میں استاد سلطان احمد خان کے حصے میں انُ لوگوں کی دعائیں بھی آئیں جو نہ تو آپ کے استاد تھے اور نہ جن سے آپ کا کوئی تعلق تھا، بس آپ کی محنت اور آپ کی عاجزانہ شخصیت تمام دعاﺅں کا سبب بنی۔ 
استاد سلطان احمد خان 22سال سے استاد ہونے کے فرائض انجام دے رہے ہیں،ان سالوں میں استاد سلطان احمد خان نے 2000 سے زائدشاگردوں کو موسیقی سکھائی،آپ کے شاگردوں میں جنید شیخ جو ہندوستانی پروگرام سا رے گا ما پا کے سیمی فائنل تک پہنچے ، اسرار شاہ جو آج ایک انٹرنیشنل آرٹسٹ ہیں ، ان کے علاوہ شانی علی،وکی مغل،سمیع خان، منور فراز جیسے جانے مانے نام ہیں،جو آج استاد سلطان احمد خان کی دعاﺅں اور محنت سے ترقی کے مراحل عبور کرتے چلے جا رہے ہیں۔ استاد سلطان احمد خان کے شاگرد آپ کو اپنی زندگی کا اہم جز مانتے ہیں، آپ انہیں موسیقی کے ساتھ زندگی گزارنے کے طریقے، مشکلات سے جوجھنے کی ہمت، آگے بڑھنے کا حوصلہ اور سابت قدم رہنے کا بھی سبق دیتے ہیں۔ا ستاد سلطان احمد خان کو یہ رتبہ حاصل ہے کہ حیدرآباد میں موسیقی سیکھنے والے طلباءمیں سے 95 فیصد طلباءآپ ہی کی شاگردی میں رہے ہیں۔ 
 استاد سلطان احمد خان "Sultan Art Production"کے نام سے ایک پروڈکشن بھی بنائی ،جس کو بنانے کا مقصداپنے شاگردوں اور نئے ٹیلنٹ کو فروغ دینا ہے۔اس کے علاوہ استاد سلطان احمد خان اپنی پروڈکشن کے زریعے حیدرآباد میں بڑے فیملی کنسرٹ کرواتے ہیںجس میں وہ پاکستان کے نامور گلوکار عاطف اسلم،علی ظفر اور اسرار شاہ وغیرہ کو مدعو کرتے ہیں، جنہں لوگ سننا اور دیکھنا پسند کرتے ہیں۔ حیدرآباد ہمیشہ سے نامور فنکاروں کی محفلوں سے محروم رہا ہے چناچہ اس محرومی کو مٹانے کا ذمہ بھی آپ نے اپنے سر لےا۔استاد سلطان احمد خان کے دوست ، عزیز،آپ کے پرستار اور آپ کے شاگرد آپکی محنتوں اور کاوشوں کو خوب سراہتے ہیں۔
مستقبل میں استاد سلطان احمد خان حیدرآباد میں پہلا آڈیو اسٹوڈیو بنا نے کا ارادہ رکھتے ہیں،جس کے بننے کے بعد حیدرآباد کے گلوکاروں کو اپنا گانا ریکارڈ کروانے کے لئے لاہور اور کراچی کا سفر نہیں کرنا پڑے گا اور اس طرح آپ حیدرآباد کی ایک اور محرومی ختم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ 
 استاد سلطان احمد خان ہمیشہ اپنے شاگردوں کوکہتے ہیں کہ آپ کے پاس جو بھی جتنا بھی علم ہے سب اللہ کی امانت ہے جسے آپ ایمانداری اور سچائی سے آگے منتقل کرنا چاہتے ہیں۔ استاد سلطان احمد خان کی موسیقی ،پرُ وقار شخصیت،عاجزانہ طبیعت ، نرم دلی اور میٹھے الفاظ چند لمحوں میں ہی ہر شخص کواپنا بنا لیتے ہیں۔