Showing posts with label پروفائل. Show all posts
Showing posts with label پروفائل. Show all posts

Monday, 3 October 2016

سعود,پروفائل


محمد سعود شیخ
2k14/MC/63
پروفائل: ٹائپرائیٹر اسپیشلسٹ /نورمیاں بنگالی


ٹائپرائیٹر اسپیشلسٹ /نورمیاں بنگالی

زندگی ایک ایسی سڑک ہے جس پر بے انتہا نشیب و فراز آتے رہتے ہیں اور ہر انسان کو ان نشیب و فراز کا سامنا کر نا پڑتا ہے۔ ان نشیب و فراز اور مشکلات کا سامنا کر تے ہوئے اکثر لوگ اپنے آپ کو بے بس سمجھنے لگتے ہیں اور ہار مان جاتے ہیں لیکن ان میں سے کچھ لوگ اپنے حالات کا رونا روئے بغیر جفا کشی کر تے ہیں اور اپنے مقصد کے حصول کے لئے اپنی پوری طاقت لگا دیتے ہیں۔ایسی ہی ایک زندہ مثال ہمارے سامنے ٹائپرائیٹر اسپیشلسٹ نورمیاں بنگالی ہیں ۔ جن کی زندگی ہمت وحوصلہ اور اعلی ظرفی کی ایک بہترین مثال ہے اور سبق آموز بھی ہے

نور میاں بنگالی جو ٹائپرائیٹر اسپیشلسٹ کے نام سے اپنی شناخت رکھتے ہیں اورٹائپرائیٹر کی مرمت میں مہارت رکھتے ہیں ۔بنگلادیش کے ایک چھوٹے سے قصبے بوڑ میں 1960ء میں پیدا ہوئے ان کا تعلق ایک نہا یت غریب خاندان سے تھا ۔ ابتدائی تعلیم قصبے سے پانچ کلو میٹر دورایک پرائمری اسکول میں حاصل کی یہ ابتدائی تعلیم حاصل کرنا ان کے لئے ایک مشقت سے کم نہ تھی جس کی وجہ یہ پانچ کلو میڑ طویل راستہ نہیں بلکہ اس راستے میں آنے والی مشکلا ت تھیں جسے وہ روز برداشت کر کے اسکول پہنچا کرتے تھے اس راستے میں دو نہریں اور ایک طویل جھاڑیوں والا راستہ روزانہ ان کامنتظر ہوتا تھا جسے عبور کر کے یہ اسکول جایا اور آیا کر تے تھے ۔والد کسان تھے اور گھر کے قریب ایک چھوٹی سی زمین پر کھیتی باڑی کرکے گھر کا گزر بسر کیا کرتے تھے۔ نور میاں کی ابتدائی زندگی کی تصویر انتہائی درد ناک ہے ۔ان کے مطابق اکثر دفعہ اتنی بارشیں ہوتی تھیں کہ ان کو گھر کی چھت پر راتیں گزارنا پڑتی تھیں کیونکہ بنگلادیش جیسے ملک میں خطر ناک بارشیں عام معمول ہے اور اکثر اوقات ان بار شوں کے باعث تمام فصلیں تباہ ہو جاتی ہیں اور سیلاب کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے اور اکثر علاقوں میں قہط بھی پڑ جاتا ہے ۔نور میاں کا کہنا ہے ایسے حالات میں ہم تھوڑے سے چاول بہت سارے پانی میں اُبال کر اس پانی کوپیا کرتے تھے تاکہ سب کو کچھ نہ کچھ سہارا ہو جائے ان کی زندگی مشکلات اور تلخیوں سے بھرپور ہے لیکن انھوں نے حالات کے سامنے کبھی گھٹنے نہیں ٹیکے۔وہ اکثر کہتے ہیں کہ
اُمید آدھی زندگی ہے
اور مایوسی آدھی موت

اکثر اوقات ان بارشوں کے سبب چچا کے گھر جا کر سویا کرتے تھے جہاں ان کی آنکھ ایک خاص آواز سے صبح صادق کے وقت کھل جاتی جو آواز ٹک ۔ٹک۔ٹک۔۔۔ٹک تھی اور یہ وہی آواز تھی جو بعد میں ان کی زندگی کا حصہ بن گئی ان کے چچا اس زمانے میں ٹائپرائیٹر کی مرمت کیا کرتے تھے اور اس سے اپنی گزبسرکیا کرتے تھے ۔نور میاں کے مطابق وہ ان کے اس کام میں بہت دلچسپی لیا کرتے تھے اور اکثر اوقات ان کے ساتھ بیٹھ جایا کر تے تھے چچا نے دلچسپی دیکھ کر انھیں تھوڑا بہت کام سیکھانا شروع کر دیا ۔ اپنی پانچ کلاسوں کی تعلیم مکمل کر کے یہ اپنا پورا وقت اسی کام کو دینے لگے اور اب ان کی تھوڑی بہت آمدنی بھی شروع ہو گئی تھی اپنے شوق اور لگن کے باعث میں 22سال کی عمر میں اس کا م میں مہارت حاصل کر لی تھی اس کے بعد اچھی اجرت کی غرض سے کراچی ہوئے اور یہاں محنت اور دل لگا کر کام کیا اور مختلف آفسسز سے رابطے قائم کئے اور ٹائپرائیٹر کے اس دور میں اس ہنر سے بہت فائدہ حاصل کیایہاں 8سال کام کیا جس کے بعد ایک دوست کی صلح پر حیدرآباد آگئے اس وقت شہر حیدرآباد میں ٹائپرائیٹر کی اچھی مرمت کرنے والے کم تھے اتنی رقم موجود نہیں تھی کہ دکان کھول سکتے البتہ ایک دکان پر کام کیا جہاں ان کے کام کو بہت پسندکیا گیااور مختلف لوگوں اور مختلف اداروں سے رابطے بنے اور شہر بھر میں ٹائپرائیٹر اسپیشلسٹ کے نام سے مشہور ہو گئے ۔ نور میاں کا کہنا ہے کہ 80اور90کی دھائی ٹائپرائیٹر کے بے انتہا استعمال کا دور تھا اور ٹائپرائیٹر مرمت کرنے والے کی بٹری عزت کی جاتی تھی کیونکہ اس سے پہلے تمام اداروں میں کام ہاتھوں سے لکھ کر کیا جاتا تھا لیکن اس کے آنے سے مختلف اداروں کاکام آسان ہوگیا تھا ۔کورٹ ہو یا آفس یا کوئی گورنمٹ ادارہ ہر جگہ ٹائپرائیٹر کا استعمال کیا جا رہا تھا اس کام کی مہارت حاصل رکھنے کی سبب ان کی آ مدنی بھی بہت اچھی ہو گئی تھی ان کے مطابق 90کی دھائی میں ان کی آمدنی ایک 19گریڈکے افسر کے برابر تھی اسی وقت کاایک واقع سناتے ہوئے کہتے ہیں کہ’ 99کے مارشلاء میں میں گھر پر سو رہا تھا اچانک میرا دروازہ بجا باہر دیکھا تو بہت سے فوجی اور ان کی گاڑیاں کھڑی تھی ہمت تو نہیں ہو رہی تھی لیکن پھر بھی دروازہ کھولنے کے لئے آگے بڑھا کچھ محلے والے بھی یہ صورتحال اپنی کھڑکی سے دیکھ رہے تھے اور شاید انھیں بھی وہی اُمید تھی جو میرا خیال تھا!دروازہ کھولا تو ایک سپاہی بولا آپ نور میاں ہیں !آپ کو ابھی ہیڈ کواٹر بلایا گیا ہے ٹائپرائیٹر کی مرمت کے لئے تو میری جان میں جان آئی اور پھر میں ٹھاٹ باٹ سے فوجیوں کی گاڑی میں بیٹھ کر روانہ ہوگیا اس کے بعد محلے والے بھی بہت عزت دینے لگے‘۔نورمیاں طبیعت کے سادہ اور بہت خوش مزاج آدمی ہیں۔بچوں سے بے انتہا محبت کرتے ہیں اور اکثر ان کے ساتھ بچے بھی بن جاتے ہیں بنگلادیش کو ابھی بھی’ ایسٹ پاکستان ‘سمجھتے ہیں اور اس کو’ ایشٹ پاکستان‘ کہہ کر پکارتے ہیں نور میاں کا کہنا ہے کہ اکیسویں صدی کی ابتداء ہی سے ٹائپرائیٹر کا استعمال کم ہونا شروع ہو گیا تھااور اس کی جگہ کمپیوٹر لے رہا تھا اورجس کے باعث ان کے کام پر خاصا اثرپڑ رہا تھا اور تقریباً 2008میں ایک ایسا وقت آیا جب یہ بے روزگار ہو گئے لیکن انھوں نے ہار نہیں مانی اور اس کی جگہ کپڑے کا کاروبار شروع کر دیا جو ابھی تک جاری ہے جس میں ان کی بیوی ان کی مدد کرتی ہیں ان کا ایک بیٹا ہے جو ابھی تعلیم حاصل کر رہا ہے

والدین کے بارے میں پوچھنے پر وہ تھوڑے غم زدہ ہو گئے اور کہنے لگے کہ ایسٹ پاکستان سے ہجرت کے بعد محنت و مشقت کی وجہ سے موقع نہیں ملا اور اب ایسے وسائل نہیں کہ وہا ں جا سکوں البتہ خط اور ٹیلیفون کے ذریعے بات ہوتی رہتی ہے

نور میاں بنگالی ہمت ،حوصلہ ،لگن اور جوش و جذبے کی ایک اعلی مثال ہیں اور انھیں صفات نے انھیں بنگلادیش کے چھوٹے سے قصبے سے اُٹھا کر ٹائپرائیٹر اسپیشلسٹ بنادیاان کی پوری زندگی محنت اور جفا کشی کی تصویر ہے جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ
محنت کر ے انسان تو۔۔۔۔۔

Practical work carried under supervision of Sir Sohail Sangi, at Department of Media & Communication Studies University of Sindh

Thursday, 8 September 2016

پروفائل, محمد وقاص عامر,


محمد وقاص عامر
رول نمبر: 66
بی ۔ایس پارٹ3(تھری)
پروفائل محمد زبیر احمد

محمد زبیر احمد

محنت کیے بغیر زندگی میں کچھ حاصل نہیں ہوتا چاہے جتنی مجبوریاں و مشکلات انسان کا گھیرا تنگ کرلیں۔اسی کی منہ بولتی مثال محمد زبیر احمد نامی ایک آدمی جو حیدرآباد کے علاقے لطیف آباد نمبر8 میں رہائیش پزیر ہیں۔35 سالہ زبیر احمد ایک ایسا ہیرا جس کی پہچان کرنا نا ممکن ہے جوچلنے پھرنے کی طاقت سے تو محروم ہیں پر اسکے باوجود انکی عزم و ہمت انکی شخصیت کی عقاصی کرتی ہے۔معزوری کے باوجود اپنی زندگی کا بوجھ خود سنبھالنے کو ترجیح دی۔کبھی کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کوبہتر نا سمجھا۔پڑھنے لکھنے کا بچپن ہی سے شوق تھا پر معزوری اور غربت کے باعث یہ خواب پورا نہ ہوسکا اور ساتھ ساتھ گھر کے حالات نے بھی ساتھ نہ دیا۔ 8 سال کی کمسن عمر میں والد صاحب کے انتقال کے بعد گھر کی کفالت کرنا اپنا اولین فریضہ سمجھا، لحاظہ اس فریضے کے حصول کے لیے پہلے چوکیداری کی پھر سبزی بیچی اور پھر دکانداری بھی کی اور اب آخر کار ڈولتے ڈولتے اور خود کو اس دنیا کی بھٹی میں جھونکتے ہوئے اب گلاب اور چمبیلی کے پھولوں سے گجرے بنا بنا کر بیچتے ہیں ۔حالات و واقعات نے زندگی کے کسی پوڑ پر ساتھ نہ دیابلکہ ہمیشہ پیچھے دھکیلا پر زبیر احمد نے ہمت نہ ہاری اور ثابت قدمی سے تمام مشکلات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔

پڑھائی کا بہت شوق تھاپر قسمت نے موقع نہ دیا۔پر شوق کے آگے مجبور یہ انسان اپنے پڑھنے کے اس شوق کو نہ دبا سکے اور جیسے ہی وقت ملتا تو محلے کے کچھ بچوں کے ساتھ بیٹھ کر روز کا تھوڑا تھوڑا سبق سیکھ لیتے ہیں ۔خود پیروں سے معزور زبیراحمد نے پوری دنیا کے لوگوں کی مدد کرنے کو اپنا فلسفائے زندگی بنا رکھا ہے۔حالات مستحکم نہیں پر پھر بھی کسی ضرورت مند کو دیکھتے ہیں توخود سے اسکی مدد کرنے کی اور ایک دیے سے دوسرا دیا جلانے کی پوری اور ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔کہتے ہیں جس ہال میں خود ہوں اس ہال میں کسی اور کو نہیں دیکھ سکتا ۔اس غربت و مفلسی کے عالم میں روز کے 250 سے 300 کما لیتے ہیں کہتے ہیں یہ ہانڈی پکانے کے لیے کافی ہیں باقی شکر ہے خدا کا زندگی تو گزر ہی رہی ہے۔جب ایک ماہ کی عمر کو پہنچے تو ٹائیفائیڈ کے بخار نے زبیر احمد کو بری طرح جکڑ لیاجس کے باعث نہ اسکول جا سکے اور نہ کتابیں کھول سکے پر پھر بھی بات کرنا بخوبی جانتے ہیں اور کوئی انسان اس بات کا اندازہ تک نہیں لگا سکتا کہ اس سے مخاتب یہ معزور شخص غیر تعلیم یافتہ یا انپڑھ ہے۔ کہتے ہیں ڈھونڈنے سے تو خدا بھی مل جاتا ہے زبیر احمد نے اپنی صحتیابی کے لیے بہت سی درگاہوں پر حاضری دی پر جو اللہ کو منظور آکر کار اللہ کی رضا میں ہی اپنی خوشی جان لی اور اسی حال میں زندگی گزارنے کی ٹھانلی پر محنت سے کبھی منہ نہ موڑااور معزوری کی حالت میں بھی محنت کر کے دوسروں کے لیے مثال پیش کی جس سے سب کو سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔ 

پیروں سے معزوری اور غربت کے باوجود اپنے اخلاق کو دوسوں کے لیے متعاصر کن بنایااور محنت ومزدوری کرنے میں کبھی شرمندگی محسوس نہ کی ۔ میں اپنے آپ کو کمزور نہیں سمجھتا بقول زبیر احمد کیوں کہ میری ہڈیوں میں اتنی طاقت اب بھی باقی ہے کہ میں اپنا اور اپنے گھر والوں کا پیٹ اچھی طرح سے پال سکوں اسی لیے شروع دن سے محنت کو اپنایا اور غلامی کو لعنت سمجھتا ہوں ۔8 سال کی کمسن عمر میں والد صاحب کے انتقال کے بعد ایک ماں اور دو بہنوں کی کفالت کی ذمہ داری پوری لگن اورثابت قدمی سے نبھائی اور کبھی دلبرداشتہ نہ ہوئے۔دو بہنوں میں سے چھوٹی بہن ثانیہ زیادہ عزیز جان ہے اور بھائی کے دل کے بہت قریب ہے۔ بہنوں سے محبت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ روز دونوں بہنوں اور ماں کے لیے الگ سے دودو گجرے صبح اٹھتے ہی بنا کر رکھ دیتے ہیں۔پودوں سے بہت لگاؤ ہے اور خود اپنے پودوں کی دیکھ بھال بھی کرتے ہیں ،کہتے ہیں پودے بہت خاموش ہوتے ہیں چاہے انہے توڑ لو یہ کچھ نہیں کہتے بس خاموش رہتے ہیں اور اپنے اوپر ظلم ہونے دیتے ہیں پودوں کے ساتھ یہ سلوک مجھ سے دیکھا نہیں جاتا۔حالات وواقعات نے زبیر احمد کو بہت حساس طبیعت کا مالک بنادیاہے پر شاعری پسند کرتے ہیں ۔قدآور شخصیت رنگ بھورا پر جسم غربت کی وجہ سے ڈھانچے کی مانند ہے مگر حوصلے بلندوباری ہیں ۔ زندگی میں اتنی محنت کے باوجود بھی اپنی غربت نہ مٹاسکے اور کسماپرثی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں پر یقین قامل اتنا ہیں کہ کوئی نہ امیدی نہیں ۔زبیر احمد کی یہ زندگی ہر شخص کے لیے مکمل نمونہ اور بہترین مشعل راہ ہے۔انکی زندگی سے ہمیں یہ سیکھنے کو ملتا ہے کہ چاہے معزوری انسان کا مقدر بن جائے پر اگر ثابت قدم رہ کر محنت کی جائے اور زندگی تمام مشکلات کا ڈٹ کر مقابلہ کیاجائے تو بعزت اور خوشحال زندگی گزارنا آسان ہو جاتا ہے۔۔

Tuesday, 30 August 2016

مصباح۔ار۔رودا, پروفائل,


مصباح۔ار۔رودا
2k14/Mc/52 (BS=3)
ٖپروفائل ڈاکٹر لیاقت راجپوت
ڈاکٹر لیاقت راجپوت (محنت کے دم پر اپنا لوہا منوایا)
ویسے تو سب ہی لوگ تعلیم حاصل کرتے ہیں لیکن کچھ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جوتعلیم حاصل کرنے کو اپنا شوق بنا لیتے ہیں ڈاکٹر لیاقت راجپوت بھی ان ہی میں سے ایک ہیں۔ڈاکٹر لیاقت راجپوت ۳ جنوری ۱۹۵۳ کو ٹنڈوالہیارمیں پیدا ہوئے۔والد کا نام عبدالرزاق تھا .بچپن سے ہی تعلیم کے شوقین تھے ابتدائی تعلیم دارالعلوم پرائمری اسکول ٹنڈوالہیار سے حاصل کی۔اعلی تعلیم کے لئے میونسپل ہائی اسکول میں داخلہ لیا اور پورے شہر میں پہلی پوزیشن حاصل کی ۔ پہلی پوزیشن حاصل کرنے پر حکومت کی طرف سے ایک سال کی اسکالرشپ دی گئی۔

گھر والے آپ کی زندگی کا ایک واقعہ بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ والدہ نے کسی ضروری کام کی وجہ سے اسکول جانے سے منع کیا تو رونے لگے اور اسکول جانے کی ضد کرنے لگے اور اپنی ضد منوا کر رہے ۔تعلیم حاصل کرنے کے شوق اور ڈاکٹر بننے کی لگن نے آپ کو گھر بیٹھنے نہیں دیا اور اپنا شہر چھوڑ کر حیدرآباد کا رخ کیا ۔حیدرآباد میں آتے ہی لیاقت میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کی ڈگری مکمل کی اور جرنل پریکٹس کے ڈاکٹر بنے۔مزید تعلیم حاصل کرنے کے لئے ملک سے باہر جانا چائتے تھے لیکن گھریلوں مصروفیات کی وجہ سے نہ جا سکے ۔ڈاکٹر لیاقت راجپوت کے گھر والوں کے مطابق آپ اخلاق کے اعلی درجے پرہیں .والدین کی ہمیشہ خدمات کی ساتھ ہی ساتھ اپنے بہن249 بھائیوں سے بھی ہمیشہ نرمی سے پیش آئے۔ بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے ہونے کے باوجود بھی سب کی عزت کی اور ہمیشہ ان کا خیال رکھا۔آپ ایک خدار انسان ہیں ہمیشہ اپنی مدد آپ کے تحت کام کیا. خاندانی زبان اردوہے. لیکن آپ کوانگلش249سندھی249 249مارواڑی غرض مقامی تمام زبانوں پر عبور حاصل ہے. ۱۹۶۸ ؁ میں شادی ہوئی . آپ نے اپنی شادی شدہ زندگی اور پڑھائی کی زمیداریوں کو ساتھ ساتھ پورا کیا۔ آپ کی ۳ بیٹیاں اور ۱یک بیٹا ہے۔ٖآپ نے بیوی کے انتقال کے بعد بچوں کی اکیلے ہی دیکھ بھال کی بیٹیوں کو اچھی تعلیم دی اور بیٹے کو ڈاکٹر بنایا۔ آپ صبروہمت کے پیکر ہیں۔ آپ نے ڈاکٹر کی پڑھائی مکمل کرنے کے بعد لیاقت میڈیکل کالج میں طلبہ کو پڑھانا شروع کیا اس کے بعد ۱۷ گریڈ کی گورنمنٹ نوکری ملی اور آہستہ آہستہ مختلف مراحلات سے گزرتے ہوئے ترقی کی اور آخر کار اپنی محنت سے ۲۰ گریڈ تک پہنچے اور پولیس سرجن حیدرآباد میں اپنی خدمات انجام دے کر گورنمنٹ نوکری سے ریٹائرمینٹ لے لی ۔ 

۱۹۸۰ میں اپنے والد عبدالرزاق کے نام سے اپنی ایک کلینک کھولی جس میںآج بھی اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔روز تقریبا ۰۵ سے ۰۰۱ تک مریضوں کو دیکھتے ہیں. مریضوں کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر لیاقت راجپوت کے علاج میں شفاء ہے ،آپ میں مریضوں کو حوصلہ دینے کی صلاحیت موجود ہے آپ کے اخلاق سے اور آپ کے علاج سے مریضوں کو جلد فائدہ ہوتا ہے۔ ڈاکٹر لیاقت راجپوت نماز کے پابند ہیں نماز کے اوقات میں کلینک کھولنے سے گریز کرتے ہیں ۔. ڈاکٹر لیاقت راجپوت کو ۴۱ فروری ۲۰۱۰ کو حیدرآباد میں مینجمینٹ آف ٹیوبرکلوسزکے سارٹیفیکیٹ سے بھی نوازا گیا۔

ڈاکٹر لیاقت راجپوت حیدرآباد کی ایک بہت مشہور اور باوقار شخصیت ہیں.لوگ دور دور سے آپ کے پاس علاج کے لئے آتے ہیں. آپ کا علاج بہت فائدہ مند ہے. ڈاکٹر لیاقت راجپوت کو ان کی اعلی کارکردگی پر مختلف قسم کے اعزازات بھی ملے ہیں . آپ کو حج کی سعادت بھی نصیب ہوئی آپ ایک محنت کش انسان ہیں جو لوگوں کے کام آنے کے لیے اپنی ہر ممکن کوششوں میں مصروف رہتے ہیں . لوگ ڈاکٹر لیاقت راجپوت میں موجودصلاحیتوں سے واقف ہیں اور آپ پر پورا یقین بھی کرتے ہیں. آپ کیپاس مسائل لے کر آتے ہیں تا کہ آپ ان کا کوئی حل نکال سکیں . آپ حیدرآباد کے علاوہ بھی دوسرے شہروں میں بھی اپنی خدمات انجام دیتے ہیں اور اس سے قبل بھی بہت بار دے چکے ہیں . آپ نے اپنی پوری زندگی فلاح وبہبود کے کاموں کے لیے وقف کر رکھی ہے. 

. ڈاکٹر لیاقت راجپوت میں بہت سی خداداد صلاحیتیں موجود ہیں . آپ دائرے میں رہ کر سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے مالامال ہیں . آپ کو ایک سلجھا ہوا شخص کہنا غلط نہ ہوگا.

Practical work was carried out under supervision of Sir Sohail Sangi, at Media & Communication Department, University of Sindh

Monday, 22 August 2016

M.Raheel profile

Spelling mistakes. No proper prargraphing. There must be some interesting  incidents of his life.  It neds reporting.. 
نا م : محمد راحیل
رول نمبر:68
بی ۔ایس پارٹ:3 (تھری)
میڈیم :اردد
پروفائل:سر عابد علی زئی

زند گی نا م ہی پریشانیوں کا ہے اور جو انسان ان پریشانیوں کا ڈٹ کر سامنا کرتا ہے اور ان پریشانیوں کو مسکرا کر جھیلتا ہے تو میرا یقین ہے کہ کامیابی اس انسان کے مقدر کا زیور ضرور بنتی ہے اور ایسی ہی ایک جیتی جاگتی مثال اور ہمارے لئے مشعل راہ عابد علی زئی ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کی کشتی میں کئی طوفانوں کا ڈٹ کر سامنا کیا اور اپنی زندگی کی کشتی کو کامیابی کی راہ پر گامزن کر نے کی جستجو میں لگے رہے عابد علی زئی نے نہ صرف حیدرآبا د کے کئی طلبا ء کو تعلیم کی روشنی سے ہمکنا ر کیا بلکہ خود بھی دن رات محنت کر کے کامیابی کی وہ منزلیں طے کی ہیں کہ آپ جیسی مثال ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی ہے عابد علی زئی نے حیدرآبا د کے علاقے لطیف آباد نمبر۵ کے ایک انتہائی غریب گھرانے میں آنکھیں کھولیں والد پیشے کے اعتبا ر سے پینٹر تھے آپکو پڑھنے کا بے حد شوق تھا مگر والد کی کم آمدنی آپ کی راہ میں رکاوٹ بن رہی بھی مگر عابد علی زئی ان رکا وٹوں سے پریشان نہیں ہوئے کیوں کہ انکا کہنا ہے زندگی میں آنے والی پریشانیاں کچھ نہ کچھ درس ضرور دے کر جا تی ہیں جن سے انسان بہت کچھ سیکھ سکتا ہے اور اپنی مستقبل کی زندگی میں ان پریشانیوں کو جھیلنے کی ہمت پہلے سے ہی پیدا کر لیتا ہے عابد علی زئی نے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ کمپرینسیو ہا ئی اسکو ل سے حاصل کی اور انٹر میڈیئٹ گورنمنٹ بوائز کالج لطیف آبا د سے حاصل کی آگے تعلیم حاصل کر نی تھی مگر آپ کے پاس وسائل کی بہت کمی تھی عابد علی زئی نے دوران تعلیم ہی دن میں ٹیچنگ کی اور رات میں ایک فیکٹری میں ملازمت اختیا ر کی تا کہ کچھ پیسے جمع کر سکیں اور اپنے تعلیمی اخراجات خود برداشت کر سکیں ۔۔۔
عابد علی زئی نے کچھ عرصے بعد سندھ یونیورسٹی کے انٹری ٹیسٹ میں کامیا بی حاصل کی اور آپ کا داخلہ شعبہ ریاضی میں ہوا آپ اپنی تعلیم تو حاصل کر ہی رہے تھے مگر حیدرآبا د و سندھ کے دیگر علاقوں کے طلبہ کو دوران تعلیم ہی تعلیم کی روشنی سے نواز رہے تھے اسکے ساتھ ساتھ اپنے گھر کے اخراجا ت میں بھی اپنے والد کے بازو بنے دوران یونیورسٹی آپ ایک واردات کا شکا ر ہوئے ور س واردات میں آپ کے پا ؤں پر گولی لگی جس نے آپ کی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کئے اور آپ کئی مہینے ہسپتال میں ایڈمٹ رہے مگر اپنی تعلیم کو اس حادثہ کی وجہ سے متاثر نہیں ہونے دیا امتحانات کی تیا ری ہسپتال میں ہی کی امتحانا ت دیئے اور اعلی طریقے سے امتحانا ت پا س کئے ۶۰۰۲ میں تعکیم مکمل کر نے کے بعد آپ نے اپنے پیشہ کا با ضابطہ آغا ز کیا اور الفلاح کالج میں بطور لیکچرار ملاز مت اختیا ر کی ابھی کچھ دن ہی گزرے تھے کہ آپ کے والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا اور آپ کے کند ھوں پر کھر کی تما م تر ذمہ داریاں آگئیں مگر نہ تو آپ ان پریشانیوں سے ما یوس ہوئے اور نہ ہی آپ نے ہمت ہا ری انیک محنت و ایما ندا ری کے ساتھ نہ دن دہکھا نہ رات گھر کی ذمہ دا ریوں اور اپنے فرائض کی انجام دہی میں جتے رہیاسہی دوران آپ کو حیدرآبا د کے مشہور کالج (ایکسیلینس)میں بطور لیکچرار ملازمت ملی آپکی محنت و ایمانداری رنگ لے آئی اور کچھ ہی عرصے میں آپکو کا لج کا ہیڈ پرنسپل مقرر کر دیا گیا ساتھ ہی ساتھ حیدرآباد کے کئی سینٹرز میں تعلیم کی روشنی پھیلا تے رہے کئی طلبہ کی فیسیں آپ اپنی تنحواہ سے کٹواتے تھے اور گھر پر بھی کئی طلبہ کوفی سبیل ا للہ تعلیم دیتے رہے حیدرآبا د میں تعلیم کے معیا ر کو مد نظر رکھتے ہوئے آپ نے اپنا سینٹر کھولنے کا فیصلہ کیا ۴۱۰۲ میں اپنے سینٹر کی بنیا د ڈالی اور دل میں عہد کیا کہ تعلیم کے معیا ر کو بہتر سے بہتر بنا نے کے لئے اپنا ایک نما یاں کردار اد ا کروں گا اس عزم کو پا ئے تکمیل تک پینچانے کی جدو جہد کا آغاز کیا ۔۔۔
اور کچھ عرصے قبل عابد علی زئی نے حیدرآبا د میں ایک کا لج کی بنیاد ڈالی اور اس کالج کو (ٹیبز اکیڈمی ) کے نا م سے منسو ب کیا آج آپ اس کالج سے طلبہ کو تعلیم کے نور سے روشنا ز کر رہے ہیں عابد علی زئی نے یہ ثا بت کر کے دکھا یا کہ اگر انسان محنت کرے تو وہ اپنے عزم کی منزل کا سفر با آسانی طے کر سکتا ہے سر عابد علی زئی حیدرآباد کے مقبول ترین ٹیچر ہیں عابد علی زئی نے بہت ہی کم عرصے میں میں بہت کچھ کر کے دکھا یا کیو ں کہ آپ کی نیت صاف تھی اور جب نیت ساف ہوتی ہے تو منزل خود آسان ہو جاتی ہے اور آج عابد علی زئی کامیابی کی ایک خاص مثال اور ہمارے لئے مشعل راہ ہیں ۔۔

کرے جو لگن سے جستجو منزل کی
تو منزل مل ہی جا تی ہے
اگر نیت صاف ہو تو
منزل خود چل کر آگے آتی ہے

Friday, 19 August 2016

جہانریب خان گرافکس ڈیزائینر

رافع خان
FOto?

پروفائل

جہانریب خان گرافکس ڈیزائینر 
جہاں غریب غربت سے تنگ آکر اپنا حوصلہ پست کر کے مزدور کا پیشہ اپنا لیتا ہے،وہیں جہانزیب خان کا حوصلہ بلند دکھائی دیا اور ان کے اسی حوصلے کی بدولت کافی محنت اور لگن کے بعد انہیں بہترین گرافکس ڈیزائینگ سے نوازہ گیا، یہ صرف ایک اچھے گرافکس ڈیزائینر ہی نہیں بلکہ بہرین انسان،استاد اور دوست بہی ہیں۔
جہانزیب خان کا تعلق شہر حیدرآباد سے ہے۔ انھوں نے اپنی ابتدائی تعلیم کامران ہائی اسکول سے حاصل کی اور انٹر سیفی کالج سے ۲۰۱۴ میں کیا ۔یہ بچپن سے ہی پڑھائی لکھائی کے چور تھے۔تعلیم سے کوئی خاص لگاؤ نا تھا یہ اپنے والد کے خوابوں کی تعمیل کے لیے جبرََ تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ان کے گھریلو حالات کچھ خاص نہ تھے۔ان کے والد پوسٹ آفس میں بطور پیون اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
جہانزیب خان کے مطابق ان کا بچپن عام بچوں سے مختلف رہا ہے ، نا کبھی ان کی شامیں آوارہ گردی میں کزری ، نا ہی کسی بُری عادت کا شکار ہوے۔چھوٹی عمر سے ہی ماحول اور ارد گرد سے بے نیاز بے تعلق رہنا ان کی ذات کا حصہ بن گیا۔نا انہیں پتنگ بازی سے دلچسپی تھی نا گلی ڈنڈے سے محبت تھی اور نا ہی انھیں کرکٹ بھاتی ،نا کنچے کھیلا کرتے تھے ہاں مگر کمپیوٹر سے خاص لگاؤ تھا،مگر غریب اور نازخ حالات کی مجبوری کے تہت ان کے والد انھیں کمپیوٹر نہ دلا سکے۔
جہانزیب خان گھر کے حالات سمجھتے ہوے آٹھویں کلاس سے ہی طیّب مارکٹ میں کسی کمپیوٹر کی دکان پر ۴۰۰ روپے ہفتہ وار کام کرنے لگے اور کمپیوٹر کے متعلق معلومات بھی حاصل کرتے رہے۔ان کے والد کی آنکوں میں اپنے بیٹے کی کامیابی کے خواب سمائے ہوے تھے۔غریب ہونے کے باوجود ان کے والد نے ان کی پڑھائی کے اخراجات پارٹ ٹائم ملارمت کر کے پورے کیے۔ان کے والد جیسے تیسے کر کے ان کی انٹر کک ترعلیم مکمل کروائی ۔جہانزیب خان کا کہنا ہے کہ انٹر کے بعد میں نے اپنے والد کو آگے تعلیم جاری رکھنے سے صاف انکار کر دیا تھا،ان کے والد کچھ لمحے مایوس ہوے اور جہانزیب خان کے مطابق شعبے میں آگے بڑھنے کا موقع دیا ،جہانزیب خان کو گرافکس ڈیزائینر کا شعبہ اپنے مطابق بہتر لگا اور یہ ارینہ ملٹی میڈیا سے گرافکس ڈیزائینگ میں مہارت حاصل کرنا چاہتے تھے،مگر ارینہ ملٹی میڈیا کی فیس ان کی پہنچ سے باہر تھی ۔ان کے والد نے اپنے بیٹے کی دلچسپی دیکھتے ہوے کسی سے اُدھار لے کر ان کی فیس جمع کروائی۔
جہانزیب خان نے صرف دو مہینے میں ہی اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھنا شروع کر دیے تھے۔انھوں نے شیپ گلوب سافٹ ویئر ہاوس میں گرافکس ڈیزائینگ کی انٹرنشپ کر کے اپنی خوبیوں کو مذمضید نکھارا۔جہانزیب خان نے اپنے والد کی مالی مدد کرنے کے لیے آن لائن شروع کیا ۔انھوں نے آن لائن کام فری لانسر پر شروع کیا ،اور اپنے والد اور اپنے خاندان کی مدد کی۔
جہانزیب خان کا فری لانسر پر پھلا کونٹیسٹ دس ڈالر کا لگا،پھر آہستہ آہستہ کم سے کماتے رہے۔ ڈیزائینگ کی دنیا میں ان کا ایک اچھا نام ہے۔ان کی اعلی کارکردگی کی وجہ سے انھیں پرائم منسٹر یوتھ اسکیم کے تحت انھیں گرافکس پڑھانے کا موقع ملا۔انھوں نے بطور استاد اپنے فرائض ایمانداری کے ساتھ باخوبی سے انجام دیے ، اور میں بھی ان کے شاگردوں میں سے ایک شاگرد ہوں۔یہ مجار کے بہت ہی اچھے دکھائی دیے۔ان کی باتوں میں اکشر مزاح موجود ہوتا ہے۔ان کا لباس نہایت ہی سادہ ہوتا ہے۔ ان کی چال ڈھال اور بات کرنے کا انداز بہت ہی سادہ ہے۔
گرافکس ڈیزائینگ کی دنیا میں انھیں مہارت حاصل ہے،ان کے ڈیزائن لوگوں کی توجہ کا مرکز بن جاتے ہیں۔یہ گرافکس ڈیزائینگ کی دنیا میں JK Designing کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ان کے ڈیزائن نہایت ہی سادہ اور پُر کشش ہوتے ہیں۔بہت ہی کم عمر میں انھوں نے اپنا نام اپنے کام کی بدولت بنایا ہے ،صرف ان کی عمر ۲۰ سال ہے۔
Name: Muhammad rafay khan
Roll:2k14/Mc/140
Class: Bs Part 3

Wednesday, 17 August 2016

NOMAN MEER JAMALI profile



سنڌ جو اربيلو راڳي منظور سخيراڻي
NOMAN MEER JAMALI
2K14/MC/75
سنڌ ڌرتي ۾ڪيترا ئي اهڙا فنڪار پيدا ٿيا آهن جن موسيقي واري شعبي ۾ تمام گهڻي مقبوليت حاصل ڪئي ۽ راڳ کي عبادت سمجهي ڳايو اهڙن ئي لاجواب فنڪارن مان سنڌ جو سهڻو ۽ سريلو فنڪار منظور سخيراڻي به آهي. منظور علي ولد بهادر علي سخيراڻي تاريخ 4 اپريل 1959ع دادو ۾ پيدا ٿيو. هن جو والد صاحب روينيو کاتي ۾ ملازم هو. منظور سخيراڻي پرائمري کان وٺي ڪاليج تائين تعليم دادو ۾ حاصل ڪئي ۽ وري قدرت هن کي آواز جي اهڙي ڏات سان نوازيو جو هن جي سڃاڻپ ئي هڪ فنڪار طور تي ٿي. هن جي والد صاحب جي به اها خواهش هئي ته منهنجو پٽ (منظور سخيراڻي) پڙهي لکي سٺو انجنيئر ٿيندو ليڪن هن کي ننڍپڻ کان ئي ڳائڻ جو شوق هيو. ۽ اسڪول واري زماني ۾ استادن ۽ شاگردن کي ڪلام ڳائي ٻڌائيندو هيو ۽ پوءِ اسڪول ۽ ڪاليج جي ننڍن وڏن پروگرامن ۾ هن کي گهرايو ويندو هو هن فن جي باقائده سکيا استاد قدرت الله خان کان ورتي، جنهن هن کي راڳ جا مڪمل گر سيکاريا ۽ هي هڪ سٺو راڳي بڻجي ويو. ان کان علاوه استاد بخاري به هن جي گهڻي رهنمائي ڪئي. جڏهن هي 13 سالن جو هو ته پائليٽ هاءِ اسڪول ۾ ”لطيف  ڊي“  فنڪشن ۾ پهريون نورجهان ۽ رونا ليلا جا ڪلام”صدقي صدقي لعل قلندر “ ۽ ٻيو تيري لئي جاني جان لاکهه ستم اٺائين گين“ ڪلام ڳايا ته ڀرپور داد مليس ۽ پوءِ جڏهن هو 17 سالن جو ٿيو ته ريڊيو تي پهريون ڪلام ”مون ڏي نيڻ نه کڻ دنيا ڏاڍي ساڙولي ٿئي ڏيندئي ڪا نه ڏسڻ“ ۽ ٿوري ئي وقت کان پوءِ هن ٽيليوزن تي پهريون ڪلام ”دوست ڪياسين دلداري لئي ڪن ٿا دل آزاري“ ڳايو ته هن سڄي سنڌ ۾ مقبوليت ماڻي ورتي منظور سخيراڻي قوميت جا به ڪلام ڳايا جن ۾ رستي روڪ نه ڪر ۽ ٻيو ڪلام ايڏو نه ٿي جذباتي ۽ ٻيا قومي ۽ انقلابي ڪلام ڳايا جنهن کان پوءِ جنرل ضياءَ الحق منظور سخيراڻي جي ڳائڻ تي پابندي لڳائي ڇڏي پر جڏهن حيدرآباد ۾ جنرل ضياءَ الحق جي موجودگي ۾ هڪ پروگرام ڪري رهيو هو ته عوام هن کي ڀرپور موٽ ڏني ۽ ونس مور ونس مور جا نعرا هنيا ته ضياءَ الحق مجبور ٿي پابندي ختم ڪئي ان وقت غوث علي شاهه سنڌ جو وڏو وزير هو جنهن ضياءَ الحق کي معاملي کان آگاهه ڪيو ته هي عوام جنهن کي چاهي ٿو اهو اهوئي منظور سخيراڻي آهي جنهن جي ڳائڻ تي پابندي لڳل آهي پوءِ ضياءِ الحق انهي وقت اعلان ڪيو هن هن تي جيڪا مان پابندي هنئي هئي اها اڄ مان ختم ٿو ڪريان. منظور سخيراڻي جا ٻيا ڪلام به تمام گهڻو مشهور ۽ مقبول ويا جن مان (1) ها مان تنهنجي بنا ڪجهه به نه آهيان (2) مان ڇو به رنو آهيان پر يار رنو آهيان (3) هلي آ پير ڀري هلي آ (4) زندگيءَ تي ناهي ڪو ئي ڀروسو حسن کي پوڄي وٺو (5) چانڊوڪي رات ۾ سو سينگار ڪري ۽ ٻيا ڪيترا ئي ڪلام سندس شامل آهن. استاد بخاري هن جو محسن ۽ همدرد استاد هو هن ڪاليج ۾ پڙهڻ واري دور کان وٺي استاد بخاري جي شاعري ڳائڻ شروع ڪئي ۽ هن کي اهو اعزاز حاصل آهي ته استاد بخاري جي شاعري هن گهڻي کان گهڻي ڳائي آهي استاد بخاري جي شاعري ڳائڻ منظور سخيراڻي جي بين الاقوامي شهرت جو سبب بڻي ۽ استاد بخاري سان ويجهڙائپ ائين هوندي هيس جيئن ڇپر ڇانو. استاد بخاري کان علاوه هن عبدالغفار تبسم، علي گل سانگي، انور قمبراڻي، شيخ اياز، احمد خان مدهوش، اياز گل ۽ ٻين جي شاعري  پڻ ڳائي اٿس. قدرت طرفان آواز جي صورت ۾ ڏنل هي هڪ اهڙو تحفو آهي جنهن جي وسيلي روح کي راحت ملي ٿي. منظور سخيراڻي انڊين طرز تي به تمام گهڻا گانا ڳايا فنڪارن کي طرزن تي ڳائڻ جو شوق ته نه هوندو آهي پر ڪمپنين وارا اهي ڪلام ڏيندا آهن ته عوام کي ڇا پسند آهي ۽ ڇا نه پسند آهي منظور سخيراڻي کي سنڌ جا ماڻهو گهڻن لقب سان سڏيندا آهن هن کي سنڌ جو ڪمار سانو، ڪشور ڪمار ۽ ٻين به ڪيترن لقبن سان نوازيو اٿن. اها سنڌ واسين طرفان هن لاءِ محبت جي موٽ آهي جيڪي مشهور فنڪار جي نالن سان هن کي مشاهبت ڏيندا آهن. منظور سخيراڻي به گهڻن قسمن جي موسيقي ڳائي چڪو آهي جنهن ۾ ڪلاسيڪل، نيم ڪلاسيڪل، ڦوڪ سميت هر قسم جي موسيقي کي ڳايو اٿس. هن سنڌي فلم برسات جي رات، بيوس ۽ ٻين فلمن لاءِ به گانا ڳايا. منظور سخيراڻي اٽڪل 25 هزارن تائين ڪلام ڳائي چڪو آهي. هي تما گهڻا ايوارڊ به ماڻي چڪو آهي جنهن ۾ شهباز ايوارڊ، لطيف ايوارڊ ۽ ٻيا ڪيترائي ايوارڊ شامل آهن. هن پنهنجي فن جو مظاهرو پاڪستان جي چئن صوبن کان علاوه ٻاهرين ملڪن ۾ به ڪري چڪو آهي هن جا پسنديده فنڪار لتا، رونا ليلا، خان صاحب مهدي حسن خان ۽ عابده پروين آهن.
Name: Noman Meer Jamali
Class: B.S Part 3
Batch: 2k14/MC/75


Monday, 15 August 2016

پروفیسر حنید - پروفائل corrected

Corrected

نام: علی اصغر 

کلاس: BS Part-III پروفیسر حنید
رول نمبر:2K14/MC/127 (پروفائل)
کیٹیگری رائننگ: اُردو 
تعجب ہر شخص تعلیم میدان میں سنگ میل ہے اور تعارف کی ضرورت نہیں ہے۔ اُن کی کامیابیوں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ لوگ اکثر اُن کی زندگی میں محبت یا ترقی کرنے کیلئے پیش رفت حاصل کرتے ہیں۔ 
حیدرآباد کے نامزد پروفیسر حنید جنہوں نے میٹرک St. Bonaventure حیدرآباد اور HSC کا امتحان حمزہ خان میموریل کالج سے پاس کیا، 16 سال کی عمر سے ہی ٹیوشن ٹیچر کے سفر کا آغاز کیا اور1988 میں سندھ یونیورسٹی سے ریاضی کے سیکشن میں بیچلر اور ماسٹر کیا1996 میں لوگوں کے گھر گھر جاکر تعلیم کے فروغ دی، پرائمری اور میٹرک کے طالبعلم کو ریاضی کا مضمون سکھایا اور اُن کے اس تجربہ کی قیادت میں 1994 میں فدوی کوچنگ سینٹر کے طور پر ایک سینٹر پولیس لائن کے قریب نامزد کیا۔ 
انہوں نے 1998سے لیکر 2013 تک حیات گرلز کالج میں اُستاد کے طور پر کام کیا اور 15 دسمبر1998 میں پرسٹن کالج کے افتتاح کو بہت اہم کردار ادا کیا، اور اس کالج میں بھی پروفیسر کے طور پر کام کیا۔ 
2005 میں انہوں نے فاؤنڈیشن پبلک اسکول میں اسکول میں پروفیسر کے طورپر کام کیا اُسی سال کالج میں 4 انٹر میڈیٹ کی پوزیشن اپنے نام کی انہوں نے اسٹار کالج، سپرئیر کالج میں بھی طالبعلم اور تعلیم کی اور ابھی دے رہے ہیں اور دیتے رہیں گے۔ انہوں نے ہمیشہ اُستاد اور شاگرد کے درمیان باپ بیٹے جیسا رشتہ رکھا ہے کیونکہ باپ صرف ایک انسان کو جنم دینے کا سبب بنتا ہے لیکن اس استاد نے انسان کو ہمیشہ حقیقی انسان بنایا اور اُسے انسان ہونے کا احساس اور اچھے بُرے کی تمیز سکھائی اور اسے اس دنیا میں آنے کا مقصد بتایا، یہ ہی وجہ ہے کہ استاد کو ہم باپ کا درجہ دیتے ہیں اور اُسے معاشرے میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ 
پروفیسر حنید کا لہجہ پڑھاتے وقت بہت سخت ہوتا ہے تاکہ بچوں کا اُس سبجیکٹ پر زیادہ توجہ رہے وہ ریاضی مضمون کے سوالوں کی بہت زیادہ پریکٹس کرواتے ہیں تاکہ بچوں کو کسی قسم کی پریشانی نہ ہو اگر زاتی زندگی کے لحاظ سے دیکھا جائے تو وہ ایک وقت کے پابند ارادے کے پکے اور اپنے کام سے کام رکھنے والے شخص ہیں فضول گفتگو میں اپنا وقت ضائع نہیں کرتے ان کا زیادہ تر وقت کلاس رو م میں گذرتا ہے ان کا پڑھانے کا طریقہ دوسرے استادوں سے قدرے مختلف ہے یہ کلاس روم کو ایک خاص ماحول فراہم کرتے ہیں ان کے شاگردوں کا کہنا ہے کہ ان کی کلاس شروع ہونے کے بعد ایک ایسا خاص ماحول بن جاتا ہے کہ جس میں بچہ صرف ان کی باتوں پر دیہان دیتا ہے جو کلاس میں ہورہی ہوتی ہے ۔
کچھ بڑے نام جنہوں نے ان سے ٹیوشن پڑھا ان میں سے جام خان شورو ، چیف جسٹس انور جمالی کے دونوں بیٹے اور مہران یونیورسٹی کی ہیڈ آف انگلش ڈپارٹمنٹ کی قرۃ العین مرزا نے بھی اس پروفیسر سے ٹیوشن لی ہے ۔
ریٹائرڈ چیف منسٹر سید قائم علی صاحب نے اور فارمر ایجوکیشن نے انہیں خصوصی طور پر دعوت دیتے ہوئے بلایا اور کہا کہ آپ فرسٹ ائیر اور انٹر کی ریاضی مضمون کی کتابیں لکھیں۔ 
وہ صرف نجی شعوبے کے استاد تھے جسے سندھ حکومت کی جانب سے اعزازی اور پروفیسر کے لقب سے نوازا گیا اُن کا تعلق بوہرہ کمیونٹی سے ہے، پروفیسر سادہ اور بہت کوآپرئیٹیو اور تمام طالبعلم کی ایک مثال ہے وہ بہت بڑے تجربہ اور اِن کے ساتھ ایک متحرک شخصیت ہیں ۔ 
وہ اب بھی نوجوانوں کی بہبود کے لئے کام کرنے اور اپنے مقصد اور زندگی کا مقصد تعلیم ہے اور اس کے فروغ دے رہے ہیں، اور متوازن تعلیمی نظم مضبوط ہو اس کیلئے وہ کہتے ہیں کہ جب تک ملک میں کرپشن ختم نہیں ہوگی جب تک تعلیم کا نظام بہتر نہیں ہوگا۔ جیسے کے آج کے بچے ہمارا آنے والا مستقبل ہی اور ہر انسان اپنا مستقبل روشن یکھنا چاہتا ہے اس لئے ضرورت ہے کہ ہے کہ اعلیٰ تعلیم ماحول کی جس میں بچے پڑھ لکھ کر ایک کامیاب انسان اور اچھے شہری کے روپ میں سامنے آئیں اور اپنے ملک کی ترقی میں اضافے کا باعث بنایں۔ 

Wednesday, 10 August 2016

امتیاز احمد شاہ (corrected and old piece)

CORRECTED
پروفائل (محمد زبیر67-)
امتیاز احمد شاہ
جناب امتیاز احمد شاہ صاحب معاشرے کے ایک عزت دار اور با وقار شخص کی حثیت سے جانے جاتے ہیں۔اپنے پورے علاقے میں انکا اچھا نام اور ایک پر وقار مقام ہے۔ علاقے میں انکی شہرت اور عزت کی ایک وجہ انکا سماجی کاموں میں پیش پیش ہونا بھی ہے، غریبوں کی مدد کرنا، لوگوں کے مسائل حل کروانا انکا ایک معمول کا کام ہے جس کے باعث انہوں نے اپنی زندگی میں اچھی عزت کمائی ہے۔ موجودہ وقت میں وہ ایک سرکاری ملازم ہیں اور ایک پر سکون زندگی بسر کر رہے ہیں۔ مگر شاہ صاحب کی زندگی ہمیشہ سے اتنی پرسکون اور آسان نہ تھی۔ وہ ایک غیر تعلیم یافتہ اور غریب خاندان میں پیدا ہوئے۔بچپن سے ہی خاندان کے معاشی حالات کے باعث فیلمی کو سپورٹ کرنے کے لیے کچھ نہ کچھ کام کرتے رہے۔ اس وجہ سے انکے لیے تعلیم حاصل کرنا مشکل تر ہو گیا۔ مگر شاہ صاحب نے تمام مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے خود کو آج اس قابل بنا لیا ہے کہ معاشرہ انکی مثال دیتا ہے۔
انکی مشکلات یہاں ہی ختم نہ ہوئی۔وقت کے ساتھ ساتھ معاشی ضروریات بڑھنے کے باعث شاہ صاحب کوایک طویل وقت شہر سے باہر رہ کر بھی طرح طرح کے محنت و مشقت والے کام کرنے پڑے۔ ان تمام حالات میں بھی انہوں نے کبھی تعلیم کا حصول نہ روکا۔ البتہ گریجویشن کرنے کے بعدوالد کی طبیعت زیادہ خراب ہوجانے اور اسپتال کے اخراجات کے باعث اعلی تعلیم حاصل کرنے کا اپنا خواب مکمل نہ کر سکے۔ گریجویشن مکمل ہوئی تو ایک سرکاری ادارے میں ملازمت حاصل کرلی اور کراچی روانہ ہوگئے۔ مگر تنخواہ ایک بڑے کنبعے کی کیفالت کے لیے کافی نہ تھی۔ اس وجہ سے کراچی میں بارہ گھنٹے کی ملازمت کے ساتھ چند گھنٹے مزدوری بھی کرتے رہے۔ ان تمام مسائل کا سامنا کر کے شاہ صاحب نے کئی سال ایک بے حد مشکل زندگی بسر کی۔
جنا ب امتیاز احمد شاہ 1967 میں حیدرآباد میں پیداہوئے۔ انکا تعلق ایک غیر تعلیم یافتہ اور غریب خاندان سے تھا۔ انکے والد ایک اسٹور چلاتے تھے جو انکے بچپن میں ہی بند ہوگیا تھا۔ انکے والد کے انکے علاوہ ساتھ بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں۔ شاہ صاحب نے میٹرک زینت السلام ہائی اسکول سے کیا۔ انٹر اور گریجویشن سچل کالج سے مکمل کیا۔ انیس سال کی عمر میں کراچی روانہ ہوگئے۔ 1986 میں سرکاری ملازمت حاصل کی۔ 2005 میں ترقی کر کے افسر کے عہدے پر فائز ہوئے۔ 2006 میں اپنا ایک چھوٹا سا کاروبار بھی شروع کیا۔ شاہ صاحب نے اپنی زندگی میں مسلسل محنت و مشقت کر کے اپنے معاشی حالات بہتر کیے۔ اپنے چاروں بچوں کو اعلی تعلیم حاصل کروانے کے لیے تمام سہولیات مہیا کی۔ انکے تمام بچے تعلیم کے حصول میں مشغول ہیں۔ آج شاہ صاحب اور انکی فیملی ایک اچھی زندگی کزار رہے ہیں۔
شاہ صاحب کے علاقے کے ایک بزرگ نے انکی شخصیت کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ’’ امتیاز نہ صرف ایک محنتی شخص ہے بلکہ اچھا اخلاق بھی رکھتا ہے۔ ہر ایک کی مدد کرنا اور مشکل میں کام آنا اسکی ایک صفت ہے۔‘‘ شاہ صاحب کی زندگی کا ایک اور پہلو انکی سماجی سرگرمیاں اور ضرورتمند لوگوں کی مدد کرنا ہیں ۔ اس بات سے بہت کم لوگ آگاہ ہیں کہ شاہ صاحب ہر ماہ اپنی کمائی کا ایک مخصوص حصہ غریب اور بے سہارا لوگوں کی کیفالت میں صرف کرتے ہیں۔ شاہ صاحب کا اس متعلق کہنا تھاکہ ’ہماری کی زندگی کا اصل مقصد انسانیت کی خدمت کرنا ہے اس لیے جب کبھی بھی اللہ انسان کو یہ استطاعت دے کے وہ دوسروں کے کام آسکے تو اسے پہیچے نہیں رہنا چاہیے‘۔ اپنے ان الفاظ پر انہوں نے عمل بھی کر کے دکھایا۔ 
---------------------------                ------------------------   -----------------------------   ----------------
600 plus words are required, u have 511 words. Poor. profile is describing a personality. also show soem aspect his life which are not known by  people who know him. 

پروفائل محمد زبیر
67-)
امتیاز احمد شاہ
 امتیاز احمد شاہ  معاشرے کے ایک عزت دار اور با وقار شخص کی حثیت سے جانے جاتے ہیں۔اپنے پورے علاقے میں انکا اچھا نام اور ایک پر وقار مقام ہے۔ علاقے میں انکی شہرت اور عزت کی ایک وجہ انکا سماجی کاموں میں پیش پیش ہونا بھی ہے، غریبوں کی مدد کرنا، لوگوں کے مسائل حل کروانا انکا ایک معمول کا کام ہے جس کے باعث انہوں نے اپنی زندگی میں اچھی عزت کمائی ہے۔ موجودہ وقت میں وہ ایک سرکاری ملازم ہیں اور ایک پر سکون زندگی بسر کر رہے ہیں۔ مگر شاہ صاحب کی زندگی ہمیشہ سے اتنی پرسکون اور آسان نہ تھی۔ وہ ایک غیر تعلیم یافتہ اور غریب خاندان میں پیدا ہوئے۔بچپن سے ہی خاندان کے معاشی حالات کے باعث فیلمی کو سپورٹ کرنے کے لیے کچھ نہ کچھ کام کرتے رہے۔ اس وجہ سے انکے لیے تعلیم حاصل کرنا مشکل تر ہو گیا۔ مگر شاہ صاحب نے تمام مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے خود کو آج اس قابل بنا لیا ہے کہ معاشرہ انکی مثال دیتا ہے۔
انکی مشکلات یہاں ہی ختم نہ ہوئی۔وقت کے ساتھ ساتھ معاشی ضروریات بڑھنے کے باعث شاہ صاحب کوایک طویل وقت شہر سے باہر رہ کر بھی طرح طرح کے محنت و مشقت والے کام کرنے پڑے۔ ان تمام حالات میں بھی انہوں نے کبھی تعلیم کا حصول نہ روکا۔ البتہ گریجویشن کرنے کے بعدوالد کی طبیعت زیادہ خراب ہوجانے اور اسپتال کے اخراجات کے باعث اعلی تعلیم حاصل کرنے کا اپنا خواب مکمل نہ کر سکے۔ گریجویشن مکمل ہوئی تو ایک سرکاری ادارے میں ملازمت حاصل کرلی اور کراچی روانہ ہوگئے۔ مگر تنخواہ ایک بڑے کنبعے کی کیفالت کے لیے کافی نہ تھی۔ اس وجہ سے کراچی میں بارہ گھنٹے کی ملازمت کے ساتھ چند گھنٹے مزدوری بھی کرتے رہے۔ ان تمام مسائل کا سامنا کر کے شاہ صاحب نے کئی سال ایک بے حد مشکل زندگی بسر کی۔
 امتیاز احمد شاہ 1967 میں حیدرآباد میں پیداہوئے۔ انکا تعلق ایک غیر تعلیم یافتہ اور غریب خاندان سے تھا۔ انکے والد ایک اسٹور چلاتے تھے جو انکے بچپن میں ہی بند ہوگیا تھا۔ انکے والد کے انکے علاوہ ساتھ بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں۔ شاہ صاحب نے میٹرک زینت السلام ہائی اسکول سے کیا۔ انٹر اور گریجویشن سچل کالج سے مکمل کیا۔ انیس سال کی عمر میں کراچی روانہ ہوگئے۔ 1986 میں سرکاری ملازمت حاصل کی۔ 2005 میں ترقی کر کے افسر کے عہدے پر فائز ہوئے۔ 2006 میں اپنا ایک چھوٹا سا کاروبار بھی شروع کیا۔ شاہ صاحب کے علاقے کے ایک بزرگ نے انکی شخصیت کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ’ ©’ امتیاز نہ صرف ایک محنتی شخص ہے بلکہ اچھا اخلاق بھی رکھتا ہے۔ ہر ایک کی مدد کرنا اور مشکل میں کام آنا اسکی ایک صفت ہے۔“
شاہ صاحب نے اپنی زندگی میں مسلسل محنت و مشقت کر کے اپنے معاشی حالات بہتر کیے۔ اپنے چاروں بچوں کو اعلی تعلیم حاصل کروانے کے لیے تمام سہولیات مہیا کی۔ انکے تمام بچے تعلیم کے حصول میں مشغول ہیں۔ آج شاہ صاحب اور انکی فیملی ایک اچھی زندگی کزار رہے ہیں۔



استاد سلطان احمد خان



پروفائل 
سمعئیہ کنول
رول نمبر 95

استاد سلطان احمد خان
استاد سلطان احمد خان ہواﺅں کے شہر حیدرآباد کے وہ سلطان ہیں جو موسیقی کے سمندر کے نہ صرف نایاب موتی بنے بلکہ آپ وہ جوہری بھی بنے جس نے حیدرآباد
میں کئی ہیرے تراشے ، جو آج پوری دنیا میں پاکستان کا نام روشن کر رہے ہیں۔ استاد سلطان احمد خان کی شخصیت آپ کی موسیقی میں صاف جھلکتی ہے، آپ کے لہجے کی مٹھاس آپ کے سروں میں واضح طور پر محسوس کی جاسکتی ہے۔ 
9اگست1964 کو حیدرآباد میں پیدا ہونے والے استاد سلطان احمد خان کی سات پشتوں میں کسی بھی شخص کا تعلق نہ موسیقی سے تھا اور نہ کسی کو گماں تھا کہ انکی آنے والی نسل میں سے ایک بچہ پورے خاندان کی مخالفت کے باوجود اپنے شوق اور محنت کے بل پردنیائے موسیقی میں ایسا مقام حاصل کرے گاکہ خود کو استاد کہلوائے گا۔ 
استاد سلطان احمد خان نے موسیقی کا آغاز اپنے اسکول کے ایک پروگرام سے کیا جہاں آپ کو بہت داد اور پزیرائی ملی جس نے آپ کے شوق کو مزید رمق بخشی، 12 سال کی عمر میں جو موسیقی سیکھنے کا آغاز کیا تو وقت ایسے گزرا کہ پولیٹیکنیکل کالج سے ایلیکٹرک میں ڈپلومہ مکمل ہوگیا مگر موسیقی سیکھنے کا عمل جاری رہا۔استاد سلطان احمد خان کو موسیقی کی سا رے گا ما پاسکھانے والے پہلے استاد سید شوکت علی شاہ صاحب تھے جن کی انگلی پکڑ ے آپ نے ایک لمبہ عرصہ گزارا، ساتھ ہی زندگی کے17 سالوںمیں تقریباً پورے پاکستان میں اپنی گلوکاری کے ایسے جوہر دکھائے کہ چاہنے والوں میں ہزاروں لوگوں کا شمار ہوتا گےا ، کچھ عرصے بعد استاد سلطان احمد خان نے کلاسیکل موسیقی سیکھنے کے لئے بھارت کا رخ کیا،جہاں آپ نے خورشید خاں صاحب سے باقاعدہ تربیت حاصل کی۔ ہندوستان میں استاد سلطان احمد خان کے حصے میں انُ لوگوں کی دعائیں بھی آئیں جو نہ تو آپ کے استاد تھے اور نہ جن سے آپ کا کوئی تعلق تھا، بس آپ کی محنت اور آپ کی عاجزانہ شخصیت تمام دعاﺅں کا سبب بنی۔ 
استاد سلطان احمد خان 22سال سے استاد ہونے کے فرائض انجام دے رہے ہیں،ان سالوں میں استاد سلطان احمد خان نے 2000 سے زائدشاگردوں کو موسیقی سکھائی،آپ کے شاگردوں میں جنید شیخ جو ہندوستانی پروگرام سا رے گا ما پا کے سیمی فائنل تک پہنچے ، اسرار شاہ جو آج ایک انٹرنیشنل آرٹسٹ ہیں ، ان کے علاوہ شانی علی،وکی مغل،سمیع خان، منور فراز جیسے جانے مانے نام ہیں،جو آج استاد سلطان احمد خان کی دعاﺅں اور محنت سے ترقی کے مراحل عبور کرتے چلے جا رہے ہیں۔ استاد سلطان احمد خان کے شاگرد آپ کو اپنی زندگی کا اہم جز مانتے ہیں، آپ انہیں موسیقی کے ساتھ زندگی گزارنے کے طریقے، مشکلات سے جوجھنے کی ہمت، آگے بڑھنے کا حوصلہ اور سابت قدم رہنے کا بھی سبق دیتے ہیں۔ا ستاد سلطان احمد خان کو یہ رتبہ حاصل ہے کہ حیدرآباد میں موسیقی سیکھنے والے طلباءمیں سے 95 فیصد طلباءآپ ہی کی شاگردی میں رہے ہیں۔ 
 استاد سلطان احمد خان "Sultan Art Production"کے نام سے ایک پروڈکشن بھی بنائی ،جس کو بنانے کا مقصداپنے شاگردوں اور نئے ٹیلنٹ کو فروغ دینا ہے۔اس کے علاوہ استاد سلطان احمد خان اپنی پروڈکشن کے زریعے حیدرآباد میں بڑے فیملی کنسرٹ کرواتے ہیںجس میں وہ پاکستان کے نامور گلوکار عاطف اسلم،علی ظفر اور اسرار شاہ وغیرہ کو مدعو کرتے ہیں، جنہں لوگ سننا اور دیکھنا پسند کرتے ہیں۔ حیدرآباد ہمیشہ سے نامور فنکاروں کی محفلوں سے محروم رہا ہے چناچہ اس محرومی کو مٹانے کا ذمہ بھی آپ نے اپنے سر لےا۔استاد سلطان احمد خان کے دوست ، عزیز،آپ کے پرستار اور آپ کے شاگرد آپکی محنتوں اور کاوشوں کو خوب سراہتے ہیں۔
مستقبل میں استاد سلطان احمد خان حیدرآباد میں پہلا آڈیو اسٹوڈیو بنا نے کا ارادہ رکھتے ہیں،جس کے بننے کے بعد حیدرآباد کے گلوکاروں کو اپنا گانا ریکارڈ کروانے کے لئے لاہور اور کراچی کا سفر نہیں کرنا پڑے گا اور اس طرح آپ حیدرآباد کی ایک اور محرومی ختم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ 
 استاد سلطان احمد خان ہمیشہ اپنے شاگردوں کوکہتے ہیں کہ آپ کے پاس جو بھی جتنا بھی علم ہے سب اللہ کی امانت ہے جسے آپ ایمانداری اور سچائی سے آگے منتقل کرنا چاہتے ہیں۔ استاد سلطان احمد خان کی موسیقی ،پرُ وقار شخصیت،عاجزانہ طبیعت ، نرم دلی اور میٹھے الفاظ چند لمحوں میں ہی ہر شخص کواپنا بنا لیتے ہیں۔

شیرزمان گورکن کا پروفائل - Saira Nasir

Corrected
شیرزمان گورکن) 
Saira nasir
نام: سائرہ ناصر
کلاس: بی ایس پارٹ ۳
رول نمبر: 2k14/MC/84
کیٹگری: پروفائل 

زندگی کی چکا چوند اور افراتفری میں مگن انسان کس طرح اپنی زندگی کی اصل حقیقت سے منہ پھیر لیتا ہے اور یہ بھول جاتا ہے کہ یہ دنیا اس کا عارضی ٹھکانہ ہے ۔ موت ایک ایسا معمہ ہے جسے نہ کوئی آج تک سمجھ سکا ہے نہ سمجھا سکا ہے ۔ روزانہ ناجانے کتنی جانیں اس دنیا سے رخصت ہو جاتی ہیں ۔ ان کو آخری آرامگاہ تک پہنچانے والے شیرزمان(گورکن) سے سننے کو ملا کہ شہرِخاموشاں میں دن رات کیسے گزرتے ہیں اوروہ اپنی زندگی عام لوگوں سے ہٹ کر کیسے بسر کرتے ہیں ۔

لوگ دنیا سے رخصت ہو کر قبرستان آتے ہیں مگر ۵۸ سالہ شیرزمان کا بچپن ہی یہیں گزرا ہے جو کافی حیرت کی بات ہے۔ شیرزمان کو پیار سے گردونواح کے لوگ شیرو بلاتے ہیں۔ شیرو کے والد صاحب کا نام خان بہادر تھا اور وہ بھی مقامی قبرستان میں بحیثیت گورکن کام کرتے تھے اور پودوں کو پانی لگاتے تھے۔ بقول شیرو کے : میں نے اپنی آنکھ یہیں کھولی بچپن سے یہیں قبرستان میں والد صاحب کے ساتھ رہا ہوں اور انکی وفات کے بعدوراثت میں یہ پیشہ مجھے منہ دکھائی میں ملا۔خاصا پڑھا لکھا نہیں ہوں میں پر اس دور کے چالا ک اور مطلبی خلق(پشتو میں لوگوں) کو پرکھنے کا سبق پڑھ چکا ہوں اس لئے خود کو پڑھا لکھا کہتا ہوں۔

شیرو کئی سالوں سے یہیں قبرستان کے پاس دو کمروں کے گھر میں انتہائی سادگی سے زندگی گزر بسر کر رہے ہیں۔ گھر کا جائزہ لیا جائے تو وہ خانہ بدوشوں کا منظر پیش کرتا ہے ۔ گھر میں کوئی آسائشات موجود نہیں ہیں۔ٹھاٹ باٹ رہن سہن سے تو کیا حلیے سے بھی دکھائی نہیں دیتے۔ دو پٹی کی انتہائی ادنی سی قیمت والی ہوائی چپل جو موچی کی منتظر تھی پہنے ہوئے جن میں سے میل جمی ایڑھیاں اپنی کہانی بیان کر رہی تھیں، حقیر سی شلوار قمیض زیب تن کئے ہوئے جس کی کالر میں نہ شان تھی نہ ہی کپڑے میں اکڑ ۔ پیلے دانت، بڑھی ہوئی داڑھی انکی حالت زار کی عکاسی کر رہی تھی۔ 

جہاں عالی شان محلات اور بڑے بڑے ٹاورز زندگی کا واحد مقصد ہوں، زندگی کی چکا چوند اور اسکی رعنائیوں کو جوانسان غفلت کی چادر اوڑھے حقیقت سمجھنے لگیں انکی قبرستانوں اور گورکنوں کے مسائل کی طرف نظر کہاں جاتی ہے۔
ایسے دستور کو صبح بے نور کو 
میں نہیں مانتا، میں نہیں جانتا
سیاسی جاہ و جلال عظیم الشان محلات، شاہی دسترخوان لیکن مرنے کے بعد قبر پر مکمل سکوت، ویرانی اور خاموشی ۔اپنے پیاروں کی قبروں کی دیکھ بھال کا واحد آسرا صرف گورکن لیکن ، بقول شیرو کے زندگی کا بھی عجیب ہی فنڈا ہے۔ ہمیں ساری زندگی معاشرے میں عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا۔ محلے میں اگر پڑوسیوں کے گھر شادی ہو تو ہمیں بلانا تک مناسب نہیں سمجھا جاتا البتہ اگر میت ہو جائے تو ہر سمت ہمیں ڈھونڈا جاتا ہے۔ پل پل ساتھ گزارنے والے لواحقین اپنے پیاروں کو ہمارے رحم و کرم پر چھوڑ جاتے ہیں۔ خود غرضی کا عالم تو اتنا عروج پر ہے کہ دو گھڑی اپنے پیاروں کی قبر پر پانی تک ڈالنے کے لئے آنے کی زحمت نہیں کرتے۔

قبروں کو کھودنااور مردوں کو دفنانا شیرو کا روز کا معمول ہے۔ جب پوچھا گیا کہ اس سے موت کا خوف بڑھ گیا یا کم ہو گیا؟ تو بتایا کہ موت کا خوف بہت بڑھ گیا ہے۔ مردوں کے کبھی کبھی خالی ڈھانچے دیکھ کر دل دہل جاتا ہے پر اب عادی ہوگیا ہوں اور دل پختہ ہو گیا ہے۔

صحیح ہے یا غلط پر مشہور ہے کہ مردے رات کے وقت آپس میں ملتے جلتے ہیں باتیں کرتے ہیں کیا آپ نے کبھی دیکھا؟ ہاہاہا!! زوردار قہقہ لگا کر شیرو نے بتایا کہ ہم خود رات کو نشے کی لپیٹ میں ہوتے ہیں زندہ انسان بھی روحیں لگنے لگتی ہیں۔

رات کو لوگوں کو قبرستان جانے سے ڈر لگتا ہے، کہا جاتا ہے کہ جن چڑیل ہوتی ہیں لیکن شیرو کو کبھی ڈر نہیں لگا سوائے ایک دفعہ کے، جس نے زندگی پر گہرا اثر ڈالا ۔ شیرو بتاتے ہیں کہ ایک دفعہ قبرستان میں اپنے خیالات میں گم بیٹھا سگریٹ سلگا رہا تھا کہ اچانک مجھے کسی چیز نے جھنجھوڑا اور میں انتہائی خوف ذدہ ہو گیا۔ ناجانے وہ ناگہانی آفت تھی یا غیبی چیز تھی جو اچانک مجھ پر حاوی ہوئی تھی لیکن اس دن جان بال بال بچی تھی۔

شیر زمان نمکین میں بریانی بہت شوق سے کھاتے ہیں اور میٹھے میں پان۔ موسیقی سننے کا بھی شوق ہے اور پسندیدہ گلوکارعطاء اللہ اور رمحمد رفیع ہیں جبکہ پسندیدہ اداکارہ شمیم آرا ہیں۔انتہائی ٹھنڈے مزاج کے مالک ہیں کبھی گر م جوشی سے کام نہیں لیتے ۔ ان کے ساتھی گورکن مشائم کا کہنا ہے کہ : بعض اوقات کفن دفن کے وقت لواحقین تلخ زبان کا استعمال کر جاتے ہیں مگر شیرو موقع کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے کبھی جواب نہیں دیتا بلکہ صبر کا مظاہرہ کرتا ہے ۔ 

قبرستانوں کو برائیو ں کی آماجگاہ کہا جاتا ہے۔ ہر برائی یہاں کی تاریکی میں پل رہی ہوتی ہے۔ جب شیرو سے انکی مصروفیات کے بارے میں پوچھا گیا تو بتایا کہ لوگوں کی رنگینیوں سے دور رات کی تنہائی میں دل کا سکون شراب پی کر حاصل کرتا ہوں۔ جانتا ہوں کہ غلط ہے مگر سینے میں بھڑکتی آگ کوسگریٹ کے دھوئیں میں اڑا کر بہت سکون ملتا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ زبیدہ آپا کی طرح مجھے بھی ٹوٹکا آفر کر ڈالا۔
شیرو کے ایک گراہک جو ہر ماہ اپنے والد کی قبرکی دیکھ بھال کے لئے پیسے دیتا ہے اس کا کہنا تھا کہ : شیرو میں کئی برائیاں سہی مگراپنے پیشے سے مخلصیت اور احساس زمہ داری ہے جو ایک حلال کمانے والے کی نشانی ہے ۔ 

شیرو کا پیغام ہے کہ ہم سب مشت خاکی سے بنے ہیں او ر ایک دن سپرد خاک ہو جائیں گے۔ پتا نہیں کب زندگی کا بلبلا پھٹ جائے اور تہہ خاک ہوجائیں ، ہم خلق (پشتو میں لوگ) ساری زندگی اس تگ و دو میں لگے رہتے ہیں کہ زندگی کو خوبصورت بنائیں کاش ہم پر بھی کوئی نگاہ کرم ڈالے کہ ہم زندہ لاشوں کی طرح زندگی گزارتے ہیں۔ شاید اس سے ہماری زندگیوں میں بھی روشنی کی کرن آئے اور ہمیں زندگی کا احساس ہو۔ 

------------------------------------------
Practical work carried out under supervision of Sir Sohail Sangi 
...........................................................................................
 شیرزمان گورکن 

نام: سائرہ ناصر
کلاس: بی ایس پارٹ ۳
رول نمبر: 2k14/MC/84
کیٹگری: پروفائل 
make this para bit interesting. 
  دنیا نے ترقی تو بہت کر لی مگرموت ایک ایسا معمہ ہے جسے نہ کوئی آج تک سمجھ سکا ہے نہ سمجھا سکا ہے ۔ موت کا راز جاننے میں تو شاید کئی صدیاں لگ جائیں لیکن جستِ خاکی کو آخری آرامگاہ تک پہنچانے والے شیرزمان(گورکن) سے سننے کو ملا کہ شہرِخاموشاں میں دن رات کیسے گزرتے ہیں اوروہ اپنی زندگی عام لوگوں سے ہٹ کر کیسے بسر کرتے ہیں ۔

 لوگ دنیا سے رخصت ہو کر قبرستان آتے ہیں مگر ۸۵ سالہ شیرزمان کا بچپن ہی یہیں گزرا ہے جو کافی حیرت کی بات ہے۔ شیرزمان کو پیار سے گردونواح کے لوگ شیرو بلاتے ہیں۔ شیرو کے والد صاحب کا نام خان بہادر تھا اور وہ بھی مقامی قبرستان میں بحیثیت گورکن کام کرتے تھے اور پودوں کو پانی لگاتے تھے۔ بقول شیرو کے : میں نے اپنی آنکھ یہیں کھولی بچپن سے یہیں قبرستان میں والد صاحب کے ساتھ رہا ہوں اور انکی وفات کے بعدوراثت میں یہ پیشہ مجھے منہ دکھائی میں ملا۔خاصا پڑھا لکھا نہیں ہوں میں پر اس دور کے چالا ک اور مطلبی خلق(پشتو میں لوگوں) کو پرکھنے کا سبق پڑھ چکا ہوں اس لئے خود کو پڑھا لکھا کہتا ہوں۔

  شیرو کئی سالوں سے یہیں قبرستان کے پاس دو کمروں کے گھر میں انتہائی سادگی سے زندگی گزر بسر کر رہے ہیں۔ گھر کا جائزہ لیا جائے تو وہ خانہ بدوشوں کا منظر پیش کرتا ہے ۔ گھر میں کوئی آسائشات موجود نہیں ہیں۔ٹھاٹ باٹ رہن سہن سے تو کیا حلیے سے بھی دکھائی نہیں دیتے۔ دو پٹی کی انتہائی ادنی سی قیمت والی ہوائی چپل جو موچی کی منتظر تھی پہنے ہوئے جن میں سے میل جمی ایڑھیاں اپنی کہانی بیان کر رہی تھیں، حقیر سی شلوار قمیض زیب تن کئے ہوئے جس کی کالر میں نہ شان تھی نہ ہی کپڑے میں اکڑ ۔ پیلے دانت، بڑھی ہوئی داڑھی انکی حالت زار کی عکاسی کر رہی تھی۔ 

 جہاں عالی شان محلات اور بڑے بڑے ٹاورز زندگی کا واحد مقصد ہوں، زندگی کی چکا چوند اور اسکی رعنائیوں کو جوانسان غفلت کی چادر اوڑھے حقیقت سمجھنے لگیں انکی قبرستانوں اور گورکنوں کے مسائل کی طرف نظر کہاں جاتی ہے۔
ایسے دستور کو صبح بے نور کو 
میں نہیں مانتا، میں نہیں جانتا
 سیاسی جاہ و جلال عظیم الشان محلات، شاہی دسترخوان لیکن مرنے کے بعد قبر پر مکمل سکوت، ویرانی اور خاموشی ۔اپنے پیاروں کی قبروں کی دیکھ بھال کا واحد آسرا صرف گورکن لیکن ، بقول شیرو کے زندگی کا بھی عجیب ہی فنڈا ہے۔ ہمیں ساری زندگی معاشرے میں عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا۔ محلے میں اگر پڑوسیوں کے گھر شادی ہو تو ہمیں بلانا تک مناسب نہیں سمجھا جاتا البتہ اگر میت ہو جائے تو ہر سمت ہمیں ڈھونڈا جاتا ہے۔ پل پل ساتھ گزارنے والے لواحقین اپنے پیاروں کو ہمارے رحم و کرم پر چھوڑ جاتے ہیں۔ خود غرضی کا عالم تو اتنا عروج پر ہے کہ دو گھڑی اپنے پیاروں کی قبر پر پانی تک ڈالنے کے لئے آنے کی زحمت نہیں کرتے۔

 قبروں کو کھودنااور مردوں کو دفنانا شیرو کا روز کا معمول ہے۔ جب پوچھا گیا کہ اس سے موت کا خوف بڑھ گیا یا کم ہو گیا؟ تو بتایا کہ موت کا خوف بہت بڑھ گیا ہے۔ مردوں کے کبھی کبھی خالی ڈھانچے دیکھ کر دل دہل جاتا ہے پر اب عادی ہوگیا ہوں اور دل پختہ ہو گیا ہے۔

 صحیح ہے یا غلط پر مشہور ہے کہ مردے رات کے وقت آپس میں ملتے جلتے ہیں باتیں کرتے ہیں کیا آپ نے کبھی دیکھا؟ ہاہاہا!! زوردار قہقہ لگا کر شیرو نے بتایا کہ ہم خود رات کو نشے کی لپیٹ میں ہوتے ہیں زندہ انسان بھی روحیں لگنے لگتی ہیں۔

 رات کو لوگوں کو قبرستان جانے سے ڈر لگتا ہے، کہا جاتا ہے کہ جن چڑیل ہوتی ہیں لیکن شیرو کو کبھی ڈر نہیں لگا سوائے ایک دفعہ کے، جس نے زندگی پر گہرا اثر ڈالا ۔ شیرو بتاتے ہیں کہ ایک دفعہ قبرستان میں اپنے خیالات میں گم بیٹھا سگریٹ سلگا رہا تھا کہ اچانک مجھے کسی چیز نے جھنجھوڑا اور میں انتہائی خوف ذدہ ہو گیا۔ ناجانے وہ ناگہانی آفت تھی یا غیبی چیز تھی جو اچانک مجھ پر حاوی ہوئی تھی لیکن اس دن جان بال بال بچی تھی۔

 شیر زمان نمکین میں بریانی بہت شوق سے کھاتے ہیں اور میٹھے میں پان۔ موسیقی سننے کا بھی شوق ہے اور پسندیدہ گلوکارعطاءاللہ اور رمحمد رفیع ہیں جبکہ پسندیدہ اداکارہ شمیم آرا ہیں۔انتہائی ٹھنڈے مزاج کے مالک ہیں کبھی گر م جوشی سے کام نہیں لیتے ۔ ان کے ساتھی گورکن مشائم کا کہنا ہے کہ : بعض اوقات کفن دفن کے وقت لواحقین تلخ زبان کا استعمال کر جاتے ہیں مگر شیرو موقع کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے کبھی جواب نہیں دیتا بلکہ صبر کا مظاہرہ کرتا ہے ©۔ 

  قبرستانوں کو برائیو ں کی آماجگاہ کہا جاتا ہے۔ ہر برائی یہاں کی تاریکی میں پل رہی ہوتی ہے۔ جب شیرو سے انکی مصروفیات کے بارے میں پوچھا گیا تو بتایا کہ لوگوں کی رنگینیوں سے دور رات کی تنہائی میں دل کا سکون شراب پی کر حاصل کرتا ہوں۔ جانتا ہوں کہ غلط ہے مگر سینے میں بھڑکتی آگ کوسگریٹ کے دھوئیں میں اڑا کر بہت سکون ملتا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ زبیدہ آپا کی طرح مجھے بھی ٹوٹکا آفر کر ڈالا۔
شیرو کے ایک گراہک جو ہر ماہ اپنے والد کی قبرکی دیکھ بھال کے لئے پیسے دیتا ہے اس کا کہنا تھا کہ : شیرو میں کئی برائیاں سہی مگراپنے پیشے سے مخلصیت اور احساس زمہ داری ہے جو ایک حلال کمانے والے کی نشانی ہے ۔ 

  شیرو کا پیغام ہے کہ ہم سب مشت خاکی سے بنے ہیں او ر ایک دن سپرد خاک ہو جائیں گے۔ پتا نہیں کب زندگی کا بلبلا پھٹ جائے اور تہہ خاک ہوجائیں ، ہم خلق (پشتو میں لوگ) ساری زندگی اس تگ و دو میں لگے رہتے ہیں کہ زندگی کو خوبصورت بنائیں کاش ہم پر بھی کوئی نگاہ کرم ڈالے کہ ہم زندہ لاشوں کی طرح زندگی گزارتے ہیں۔ شاید اس سے ہماری زندگیوں میں بھی روشنی کی کرن آئے اور ہمیں زندگی کا احساس ہو۔  

عابد علی زئی کا پروفائل : محمد راحیل

Un edited 
 No proper paragraphing.
It is reporting based, some interesting and informative comments  from people who know him, and from himself also.
 Photo is too dull

 محمد راحیل 
رول نمبر:68
بی ۔ایس پارٹ:3 (تھری)
پروفائل:سر عابد علی زئی

زند گی نا م ہی پریشانیوں کا ہے اور جو انسان ان پریشانیوں کا ڈٹ کر سامنا کرتا ہے اور ان پریشانیوں کو مسکرا کر جھیلتا ہے تو میرا یقین ہے کہ کامیابی اس انسان کے مقدر کا زیور ضرور بنتی ہے اور ایسی ہی ایک جیتی جاگتی مثال اور ہمارے لئے مشعل راہ عابد علی زئی ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کی کشتی میں کئی طوفانوں کا ڈٹ کر سامنا کیا اور اپنی زندگی کی کشتی کو کامیابی کی راہ پر گامزن کر نے کی جستجو میں لگے رہے عابد علی زئی نے نہ صرف حیدرآبا د کے کئی طلبا ءکو تعلیم کی روشنی سے ہمکنا ر کیا بلکہ خود بھی دن رات محنت کر کے کامیابی کی وہ منزلیں طے کی ہیں کہ آپ جیسی مثال ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی ہے 

عابد علی زئی نے حیدرآبا د کے علاقے لطیف آباد نمبر۵ کے ایک انتہائی غریب گھرانے میں آنکھیں کھولیں والد پیشے کے اعتبا ر سے پینٹر تھے آپکو پڑھنے کا بے حد شوق تھا مگر والد کی کم آمدنی آپ کی راہ میں رکاوٹ بن رہی بھی مگر عابد علی زئی ان رکا وٹوں سے پریشان نہیں ہوئے کیوں کہ انکا کہنا ہے زندگی میں آنے والی پریشانیاں کچھ نہ کچھ درس ضرور دے کر جا تی ہیں جن سے انسان بہت کچھ سیکھ سکتا ہے اور اپنی مستقبل کی زندگی میں ان پریشانیوں کو جھیلنے کی ہمت پہلے سے ہی پیدا کر لیتا ہے عابد علی زئی نے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ کمپرینسیو ہا ئی اسکو ل سے حاصل کی اور انٹر میڈیئٹ گورنمنٹ بوائز کالج لطیف آبا د سے حاصل کی آگے تعلیم حاصل کر نی تھی مگر آپ کے پاس وسائل کی بہت کمی تھی عابد علی زئی نے دوران تعلیم ہی دن میں ٹیچنگ کی اور رات میں ایک فیکٹری میں ملازمت اختیا ر کی تا کہ کچھ پیسے جمع کر سکیں اور اپنے تعلیمی اخراجات خود برداشت کر سکیں ۔۔۔
                عابد علی زئی نے کچھ عرصے بعد سندھ یونیورسٹی کے انٹری ٹیسٹ میں کامیا بی حاصل کی اور آپ کا داخلہ شعبہ ریاضی میں ہوا آپ اپنی تعلیم تو حاصل کر ہی رہے تھے مگر حیدرآبا د و سندھ کے دیگر علاقوں کے طلبہ کو دوران تعلیم ہی تعلیم کی روشنی سے نواز رہے تھے اسکے ساتھ ساتھ اپنے گھر کے اخراجا ت میںبھی اپنے والد کے بازو بنے دوران یونیورسٹی آپ ایک واردات کا شکا ر ہوئے ور س واردات میں آپ کے پا ﺅں پر گولی لگی جس نے آپ کی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کئے اور آپ کئی مہینے ہسپتال میں ایڈمٹ رہے مگر اپنی تعلیم کو اس حادثہ کی وجہ سے متاثر نہیں ہونے دیا امتحانات کی تیا ری ہسپتال میں ہی کی امتحانا ت دیئے اور اعلی طریقے سے امتحانا ت پا س کئے ۲۰۰۶ میں تعکیم مکمل کر نے کے بعد آپ نے اپنے پیشہ کا با ضابطہ آغا ز کیا اور الفلاح کالج میں بطور لیکچرار ملاز مت اختیا ر کی ابھی کچھ دن ہی گزرے تھے کہ آپ کے والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا اور آپ کے کند ھوں پر کھر کی تما م تر ذمہ داریاں آگئیں مگر نہ تو آپ ان پریشانیوں سے ما یوس ہوئے اور نہ ہی آپ نے ہمت ہا ری انےک محنت و ایما ندا ری کے ساتھ نہ دن دہکھا نہ رات گھر کی ذمہ دا ریوں اور اپنے فرائض کی انجام دہی میں جتے رہےاسہی دوران آپ کو حیدرآبا د کے مشہور کالج (ایکسیلینس)میں بطور لیکچرار ملازمت ملی آپکی محنت و ایمانداری رنگ لے آئی اور کچھ ہی عرصے میں آپکو کا لج کا ہیڈ پرنسپل مقرر کر دیا گیا ساتھ ہی ساتھ حیدرآباد کے کئی سینٹرز میں تعلیم کی روشنی پھیلا تے رہے کئی طلبہ کی فیسیں آپ اپنی تنحواہ سے کٹواتے تھے اور گھر پر بھی کئی طلبہ کوفی سبیل ا للہ تعلیم دیتے رہے حیدرآبا د میں تعلیم کے معیا ر کو مد نظر رکھتے ہوئے آپ نے اپنا سینٹر کھولنے کا فیصلہ کیا ۲۰۱۴ میں اپنے سینٹر کی بنیا د ڈالی اور دل میں عہد کیا کہ تعلیم کے معیا ر کو بہتر سے بہتر بنا نے کے لئے اپنا ایک نما یاں کردار اد ا کروں گا اس عزم کو پا ئے تکمیل تک پینچانے کی جدو جہد کا آغاز کیا ۔۔۔
              اور کچھ عرصے قبل عابد علی زئی نے حیدرآبا د میں ایک کا لج کی بنیاد ڈالی اور اس کالج کو (ٹیبز اکیڈمی ) کے نا م سے منسو ب کیا آج آپ اس کالج سے طلبہ کو تعلیم کے نور سے روشنا ز کر رہے ہیں عابد علی زئی نے یہ ثا بت کر کے دکھا یا کہ اگر انسان محنت کرے تو وہ اپنے عزم کی منزل کا سفر با آسانی طے کر سکتا ہے سر عابد علی زئی حیدرآباد کے مقبول ترین ٹیچر ہیں عابد علی زئی نے بہت ہی کم عرصے میں میں بہت کچھ کر کے دکھا یا کیو ں کہ آپ کی نیت صاف تھی اور جب نیت ساف ہوتی ہے تو منزل خود آسان ہو جاتی ہے اور آج عابد علی زئی کامیابی کی ایک خاص مثال اور ہمارے لئے مشعل راہ ہیں ۔۔
        
                کرے جو لگن سے جستجو منزل کی                  
 تو منزل مل ہی جا تی ہے
 اگر نیت صاف ہو تو
منزل خود چل کر آگے آتی ہے

ایڈوکیٹ علیم آرائیں


پروفائل کے لئے فوٹو ضروری ہے۔ کمپوزنگ میں پھول پتیاں اور بارڈر بنانے کی ضرورت نہیں اور نہ ہی اسائنمنٹ کی طرح الگ سے ایک اورصفحہ شامل کرنے کی ضرورت ہے

  ایڈوکیٹ علیم آرائیں   
پروفائیل فاطمہ جاوید بی ایس پارٹ تھری 
حیدرآباد کی علمی ، ادبی و سماجی شخصیات کا تذکرہ ہو اور علیم آ رائیں ایڈوکیٹ کا ذکر نہ کیا جائے ، یہ نا ممکن ہے کیونکہ ان کی حیدرآباد کے لیئے بہت گرا نقدر خدمات ہیں ۔ ان سماجی سر گر میوں کا ذکر کرنے سے پہلےت ان کی سواغ حیات چند پہلوﺅ ںکو اجاگر کرنا ضروری ہے 
ایڈوکیٹ علیم آرائیں کی پیدائش سکھر میں ہو ئی ۔ ان کے والد ایک ٹرانسپورٹر تھے ۔ 
انہوں نے اپنی بنیادی تعلیم گورنمنٹ پرائمری اسکول حیدرآباد سے حاصل کی اور اسی دوران ابھی پانچویں جماعت میں تھے کہ ان کے والد کا انتقال ہو گیا ان کو پڑھنے کا بے حد شوق تھا ۔ اور ایک اچھے ایڈوکیٹ بننے کا جس کے باعث انہوں نے اپنے بھائی کے ساتھ مل کر ایک چائے کی ہوٹل پر کام کیا ۔
جہاں آپ چا ئے فروخت کرنے کے لیئے سڑکوں پر مارے مارے پھرا کرتے تھے ۔ جس میں ان کو پورے دن دیہاڑی ایک روپے ملتا تھا ۔ جس سے یہ اپنے گھر کا خرچ بھی چلاتے تھے اور اپنے تعلیمی اخراجات بھی پورے کیا کرتے تھے پھر میٹرک بوائز ہائی اسکول حیدرآباد سے 1968میں پاس کیا ۔ انٹر میڈیٹ اور بی ایس سی حیدرآباد میں گورنمنٹ کالج سے کیا ۔ ایم ایس سی یونیورسٹی آف سندھ جامشورو سے کی اور سندھ گورنمںٹ لاءکالج حیدرآباد سے 1981میں LLBکی ڈگری حاصل کی ۔
انہوں نے 1983میں پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز وکالت سے کیا کم عمری مین ہی اپنی صلاحیتیں بروئے کار لاتے ہو ئے اپنے شعبے میں قابلیت کا لوہا منوایا اور آپ کا شمار جلد ہی اپنے علاقے کے معروف وکلاءمیں ہونے لگا دوران وکالت کئی بات حیدرآباد ایسوسی ایشن کے صدر ، نائب صدر اور جنرل سیکریٹری منتخب ہو ئے ۔ اس کے علاوہ پیپلز لائزر فورم ضلع سانگھڑھ کے 10سال تک صدر رہے 
علیم آرائیں نے سیاسی میدان میں بھی اپنی صلاحیتوں کے رنگ جمائے اور کئی بار قومی اور صوبائی اور بلدیاتی انتخاب میں حصہ لیا ۔ اپنے حلقہ انتخاب کے عوام کی بلا تفریق خدمت کرتے رہے اور اپنے فرائض نہا یت تنذہی سے انجام دیئے اور اسی دوران سندھ یونیورسٹی سے LLMکا امتحان بھی پاس کیا ۔  اپنے فرائض نہایت ایمانداری سے انجام دے رہے ہیں ۔
ہتر کا بچہ ہو یا ہٹرا سب ان کو جانتے ہیں کہیں ٹورنامنٹ ہو یا کوئی اور تقریب ،لوگ آپ کو مہمان خصوصی کے طور پر مدعو کرتے ہیں 2014میں کریانہ مرچنٹ ایسوسی ایشن حیدرآباد کے سر پرست اعلیٰ بھی مقرر ہو ئے اس کے علاوہ سماجی اور شہری حلقے میں ان کو ایک اہم مقام حاصل ہے اور شہری معاملات میں ان کو مقصدر کی حیثیت حاصل ہے ۔ علیم آرائیں ایڈوکیٹ درویشانہ طبیعت کے باعث بے آسرا لوگوں کا سہا را بنے ۔ آپ آگے بڑھنے کے لیے جدو جہد کرتے رہے ۔ آپ کا تعلق متوسط گھرانے سے تھا ۔ تعلیم کے حصول کے ساتھ ساتھ محبت بھی کی ۔ انسان کو ہمت نہیں ہارنی چاہیے ۔ اعترال سے کام لینا چاہیے ۔ محنت اور سچی لگن سے سب کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے ۔ آج وہ اپنی زندگی ایک کامیاب طریقے سے گزار رہے ہیں ۔ انہوں نے ہر بات ثابت کر دی کہ اگر انسان میں ہمت ، طاقت اور حوصلہ ہو تو وہ کسی بھی مشکل کا سامنا بہادری سے کرسکتا ہے ۔ خواہ وہ مرد ہو یا عورت علیم آرائیں کی زندگی ان تمام لوگوں کے لیئے ایک نمونہ ہے جو پریشانیوں کے سامنے جھک کر اور ان سے ہار کر کوششیں کرنا چھوڑ دیتے ہیں ۔ جو ان کے آگے کی زندگی کے لیئے مفید نہیں ہو ۔
ایسی کئی مثالیں واضع ہیں جو کہ آج بھی وکالت کے پیشے میں یاد رکھی جاتی ہیں جوکہ وکالت کے پیشے کو آج بھی سر فخر سے بلند کرنے پر مجبور کردیتا ہے ۔ وکالت کے پیشے میں ایک اہم کردار ادا کیا ان کی بہت سی کاوشیں ان کے ساتھ ہیں جیسے آج بھی سبزی حرفوں سے لکھا جا سکتا ہء
آج ان کا شمار پاکستان کے ناموروں وکیلوں میں ہوتا ہے ان کی انکراہٹ محنت رنگ لے آئی ۔ یہ ان کی ان گنت محنتوں کا ہی نتیجہ تھا کہ جو آج ایک اچھے عہدے پر فائز ہے ۔ ایڈوکیت کلیم آرائیں سے انجام دیئے کئی گھروں کو ٹوٹنے سے بچایا ۔ اس شعبے سے وابستہ کافی یادیں ہیں جنہیں آج بھی بھولا یا نہیں جا سکتا ۔

ڈاکٹر سلار راجپوت پروفائل

بڑوں کی باتیں ماننے کی تلقین کرنے والے ڈاکٹر سالار

 بڑوں کی بات مانیں کیوں کہ ہمارے بڑے کبھی کوئی غلط فیصلہ نہیں کرتے (ڈاکٹر سلار راجپوت)۔
پروفائل 
 سمرہ شیخ

حیدرآباد کے ایک نامور ڈاکٹر مختیار راجپوت کے بیٹے ڈاکٹر سالارراجپوت ہیں جو ای ۔این۔ ٹی کے اسپیشلیسٹ ہیں۔ 22ستمبر1981 میں حیدرآباد میں پیدا ہوئے۔ پرائمری سے لے کر تیسری جماعت تک پبلک اسکول میں پڑھا اور پھر بونا وینچر میں چلے گئے وہاں سے آٹھویں جماعت مکمل کرکے واپس پبلک اسکول آئے اور وہی سے اپنی بارہویں جماعت پری میڈیکل میں مکمل کی سندھ یونیورسٹی میںداخلا لیاجہاں اس ٹائم آئی ٹی کانیاءنیاءشعبہ کھلا تھا لیکن چھ ماہ بعد وہاں سے میڈیکل سے تعلق رکھنے والے طالبات کو کمپیوٹر سائنس کے شعبہ میں منتقل کیا گیا ۔ان میںڈاکٹر سالار بھی شامل تھے وہاں سے چھ ماہ گزارنے کے بعد آپ نے لیاقت یونیورسٹی جامشورو میں سیلف فائننس کی سیٹ لی اور اپنا M.B.B.Sمکمل کیا۔
 آپ بہت ہنس مکھ اور بہت گڑ بڑ کرنے والے لڑکے تھے مطلب شرارتوں سے بھرپور۔۔یونیورسٹی کا سفر ڈاکٹر سالار کے لیے کہیں نہ کہیں سنجیدہ بھی ہوگیا جس کی وجہ سے اب وہ ایک ای۔این۔ٹی اسپیشلسٹ کی فہرست میں شامل ہوتے ہیں۔

کہتے ہیں جوانی دیوانی ہوتی ہے اسی جوانی میں ہم ان چیزوں سے گزر جاتے ہیں جو ہمیں وقت اچھی لگ رہی ہوتی ہیں اور بعد میں وہی ہمیں جینے میں مدد دیتی ہیں ۔ ڈاکٹر سالار کو بھی اسی دیوانی نے دیوانہ رکھا اور فائنل مکمل ہوتے ہی وہ اپنی زندگی کے ساتھ اپنے کام میں سنجیدہ ہوگئے ۔
ڈاکٹر سالار کو ای۔این۔ٹی کے شعبے میں کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی انہوں نے ڈاکٹری کے ہر شعبے میں ہاﺅس جاب کی لیکن ای۔این۔ٹی میں نہیں کی کیوں کہ اس پیشے میں ڈاکٹر سالار کے والد صاحب بھی ہیں اور دو بھائی بھی ۔لیکن وہی بات جو آپ چاہے ضروری نہیں کہ وہ سب ہوجائے ۔جو ہمارے نصیب میں ہو اور جو ہمارے بڑے فیصلہ کریں وہی فیصلہ سب سے لاجواب ہوتا ہے جب ہی ڈاکٹر سالار کا کہنا ہے کہ میں نے اپنے والد کی بات مانی اورای۔این۔ٹی میں ہی اسپیشلائزیشن کیا تو آج ہر چیز میرے قدموں میں ہے۔ ڈاکٹر سالار کا مزید یہ کہنا ہے کہ آج کل کے نوجوان لڑکوں کو چاہیئے کہ وہ اپنے والد کی عزت کریں ان سے آنکھوں میں آنکھ ملا کر بات نہ کریں اور ان کی بات کو رد نہ کریں جب ہی آپ ایک کامیاب شخص اور ایک اچھے انسان بن سکتے ہیں۔
ڈاکٹر سالار بہت ہی باتونی اور ہنس مکھ شخص ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سب اسی طرح ہنسی خوشی رہیں ۔ان کے پاس معلومات کا کافی ذخیرہ ہے ۔ ہر چیز پر نظر گہری نظررکھتے ہیں۔سینیئراینکر کامران خان ان کے فیوریٹ ہیں۔ اس کے علاوہ گاڑیوں کی بہت معلومات رکھتے ہیں۔ بلیو،اورنج ، لیمن انکے مزاج کی عکاسی کرتے ہیں۔کھانے کی بات کریں تو اس میں انہیں پائے اور سبزی میں کریلا پسند ہے۔ سیاسی معلومات بھی رکھنے کا شوق ہے لیکن پارٹیز میں شامل ہونے کانہیں۔ 
آپ سیول ہسپتال میں بھی ایک سال رہے پھر اسرٰی یونیورسٹی میں 2009میں آئے ۔آپ کو پانچ سال کا ٹیچنگ ایکسپیرینس بھی ہے اور آپ اسرٰی یونیورسٹی میں ابھی بھی لوگوں کی خدمت کے لیے موجود ہیں۔
ڈاکٹر سالار ایک زندہ دل شخص ہیں انہوں نے کہا کہ میری ایک نصیحت ہے اُن طلباءکو جو M.B.B.S کررہے ہیں وہ روز جوس پیا کریں اور باقی سب کے لیے ایک اور بات کہ اپنے ماں باپ اور اپنی بہنوں کا خوب خیال رکھیں کبھی والدین سے اونچی آواز میں بات نہ کریں ان کا ادب کریں تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے آپ بہترین رول ماڈل ثابت ہوں۔

Haji SIddique successful trader

foto is must. Personality is too weak, and so also its description. U have to find out some interesting aspects of personality. what is his contribution to society?


حاجی محمد صدیق کامیاب تاجر
پروفائل 
حور لائیبہ 
Roll: 2k14/MC/172
حاجی محمد صدیق کاروباری لوگوں کے لیے ایک مثالی انسان ہے۔ حاجی محمد صدیق کی پیدائش ۹۲۹۱ءمیں ہندوستان کے مشہور اور بڑے صوبے راجستھان کے ضلع گنگانگر میں ہوئی۔ بندوستان میں حاجی محمد صدیق کا خاندانی پیشہ زمینداری اور تجارت تھا۔ حاجی محمد صدیق نے دوشادیاں کی۔ ۴۴۹اءمیں جب ان کی عمر ۵۱سال تھی تب ان کا پہلا نکاح ہوا۔ حاجی محمد صدیق نے۵۶۹اءمیں انڈیا سے ہجرت کی اور پاکستان آگئے۔ پاکستان آنے کے بعد حیدر آباد میں انہوں نے سندھ نیشنل اسٹور میں ملازمت کی۔۰۲ سال تک سندھ نیشنل اسٹور میں ملازمت کی ۰۷۹اءمیں حاجی محمد صدیق نے اپنا ذاتی کاروبار صدیق بیڈنگ کے نام سے شروع کیاجوتاحال جاری ہے ۔ اﷲ پاک نے ان کے کاروبار مےں اتنی برکت دی کہ اب ان کے بچوں کے بچے اسے سنبھال رہے ہےں۔ حاجی محمد صدیق کی پہلی بیوی کا انتقال گردے فیل ہوجانے کی وجہ سے ہو ا۔ حاجی محمد صدیق نے پہلی بیوی کے انتقال کے بعد ۲۸۹۱ءمیں دوسرا نکاح کیا۔حاجی محمد صدیق نے۲۰۰۲ءمیں سائیٹ حیدر آباد میں ماڈرن نامی ٹیکسٹائل مل جو بیس ایکڑ پر خریدی تھی وہ شہر حیدر آباد اور سائٹ کے علاقوں میں جائیداد کی خریدو فروخت تاحال جاری ہے۔
۵۰۰۲ءمیں سائٹ کوٹری میں آئل فیکٹری یاسین انٹرپرائزز کے نام سے خریدی یہ فیکٹری دس ایکڑ رقبے پر ہے۔ حاجی محمد صدیق بچپن میں شوخ اور شریر تھے۔ ان کے کھیل شرارتیں اور توڑ پھوڑ کرنا تھا ۔حاجی محمد صدیق نے اپنی جوانی میں کبھی وقت ضائع اور برباد نہیں کیا بلکہ اپنی جوانی اور نوجوانی دونوں میں کروبار پر بھر پور توجہ دی اور محنت کی۔مجھے سب کی طرح خوبصورتی اور خوبصورت لوگ اچھے لگتے ہیں ۔ لیکن میں کبھی حسن کے پیچھے نہیں بھا گا۔ کیونکہ حسن بھی ہے فانی ۔اﷲ پاک کا کرم رہا ہے میں نے کبھی بھی اپنی زندگی میں نہ شراب پی اور نہ آوارگی کی ، بس ایک ہی دھن تھی کہ تجارت میں نام پیدا کروں چنانچہ میرے کامیاب تاجر اور صنعت کار اہل ثروت بننے میں مولا کریم نے فضل و کرم کے علاوہ میری دونوں بیویوں کا بڑا حصہ ہے۔ میں نے اپنے بچوں کو سونے کا نوالہ کھلایا ہے مگر ہمیشہ شیر کی آنکھ سے دیکھا ہے۔میں اپنے بچوں خصوصاً لڑکوں کے لیے بڑا سخت گیر رہا ہوں۔میں نے اپنی تجارتی زندگی میں دوستانہ تعلقات رکھنے میں بھی بہت احتیاط رکھی کیونکہ انسان کی کامیابی اور ناکامی میں سب سے زیادہ اثرات دوستوں ہی کے پڑتے ہیں ۔اچھے دوستوں سے ہمیشہ اچھائی ملتی ہے۔اور برے دوستوں سے ہمیشہ برائی ملتی ہے ۔ایک باردوستی کرنے کے بعد ان سے مستقل دوستی رکھنے کی کوشش کریں۔ بار بار دوستی توڑنا ایک کمزور اور غیر مہذب دل کا مظہر ہوتا ہے۔ اچھا دوست زندگی کی سب سے بڑی نعمت ہوتا ہے۔کم دوست بنائیں بلکہ بہت کم، آپ کے سبھی دوست ایسے ہوں جنہیں آپ جگری دوست کہہ سکیں۔ حاجی محمد صدیق کو سفید اور آف وائٹ کلر کا لباس بہت پسند ہے۔لباس میں انہیں کرتہ، پاجامہ، شلوار، پینٹ شرٹ اور جناح کیپ شروانی ہمیشہ سے پسند رہی ہے۔حاجی محمد صدیق نے تجارت کے میدان میں مسلسل محنت اور جہد و جہد کو اپنایا ہے۔ میں کبھی سخت محنت سے نہیں گھرایا میں صبح پانچ بجے اٹھتا تھا وہ سادہ سا اصول جس نے میری ذاتی زندگی بدل دی اور مجھے خدا اور محنت پر یقین تھا۔یہ قانون ہمیں یہ بتاتا ہے کہ ہر کام واقعہ حادثہ، خوشی، غمی ، ناکامی، کامیابی وغیرہ کی کوئی نہ کوئی وجہ ضرور ہوتی ہے۔ کامیابی یا ناکامی کسی حادثہ کے نتیجے میں نہیں آتی۔ بلکہ کامیابی کی تو پیشن گوئی بھی کی جاسکتی ہے۔کیونکہ کامیابی راستے سے نشان چھوڑ جاتی ہے اور ان راستوں پر چل کر کوئی بھی شخص کامیابی حاصل کرسکتا ہے۔ حاجی محمد صدیق ایک محب وطن تاجر ہے انہوں نے سیاست میں عملاً کبھی حصہ نہیں لیا۔ کامیاب بزنس مین بننے میں اچھی صحت اور تندرستی کا ہونا لازمی ہے کیونکہ صحت ایک بہت بڑی نعمت ہے۔
حاجی محمدصدیق کا کا روباری شرافت اور نیک نامی میں بڑا نام ہے حاجی محمد صدیق پابندی وقت کو بڑی اہمیت دیتے ہیں خدمت خلق بڑے ذوق و شوق اور راز داری سے کرتے ہیں۔ضرورت مندوں کی مدد حسب موقع دل کھول کرکرتے ہے۔ ۵۰۰۲ءمیںصدر حیدر آباد مین فینسی کپڑے کی رنگولی کے نام سے کاروبار شروع کیا۔ اور اس کے بعد ۷۰۰۲ءکراچی میں صدیق فیبرکس کے نام سے کاروبار شروع کیا ۔ اور ۰۱۰۲ءمیں ڈاکٹر لائن صدر میں چیمبر کے نام سے کمرشل پلازہ بنایا۔حاجی محمد صدیق نے کبھی شعیر و شاعری نہیں کی۔مگر انہیں اتنا ذوق ہے کہ اچھے اور نا مقصد اشعار چاہے حمد کے ہو ، نعت کے یا غزل کے یا اردو یا پنجابی ہو ان کو خوب پسند ہے۔ حاجی محمد صدیق کے پسندیدہ شعر
یہاں کام کرو ایسا جو آئے وہاں کام
آجائے خدا جانے کب موت کا پیغام
حاجی محمد صدیق صاحب بڑے خاموش طبع اور متین انسان ہیں۔تکبر اور بڑائی کی انہیں ہوا تک نہیں لگتی حاجی صاحب طبعاً سنجیدہ رہتے ہوئے بھی خوش مزاج ہیں۔ نظم و ضبط کے معاملے میں سخت گیر ہیں۔ ان کے بڑے بیٹے جناب حاجی محمد اسحاق کا اپنے والد کے بارے میں کہنا ہے کہ میرے والد صاحب میرے محترم استاد بھی ہیں۔میرے والد ایک انسان دوست اور اہل خدمت کی حیثیت سے سندھ بلکہ پاکستان میں مشہور ہیں۔اﷲ پاک سے دعا ہے کہ اﷲ حاجی محمد صدیق صاحب کو صحت تندرستی ، عافیت، استقامت، اور درازی عمر عطا فرمائے(آمین)۔
Profile: Haji Muhammad Siddique
By: Hoor-e-Laiba