Showing posts with label علی اصغر. Show all posts
Showing posts with label علی اصغر. Show all posts

Friday, 19 August 2016

دیالداس کلب حیدرآباد: علی اصغر




دیالداس کلب

( Dialdas Club Hyderabad Feature by Ali Asghar) 
نام: علی اصغر 
رول نمبر:2K14/MC/127 
کلاس: BS-Part-III 
سندھ کے تاریخی شہر حیدرآباد کے چند نامور شخصیات نے اس شہر میں ایک ایسی کلب کی بنیاد ڈالنے کی ضرورت کو محسوس کیاجہاں پر وہ صاف ستھرے ماحول میں مل کر بیٹھ سکیں، اور اپنے اہل خانہ کیلئے تحفظ کے ساتھ مختلف کھیلوں کے علاوہ تفریح کے لوازمات مہیا کرسکیں۔ 



اس کلب کو تعمیر کرنے کیلئے ایک ایسوسی ایشن بنائی گئی جس کا نام حیدرآباد ایسوسی ایشن رکھا گیا، اس کو بقاعدہ طور پر اغراض ومقاصد کے ساتھ 1820 کے ایکٹ نمبر21 کے تحت رجسٹرڈ کرایا گیا اس ادارے نے اپنی پوری کوششوں سے 1920 میں ایک قطعنہ اراضی حاصل کرکے اس پر کلب کی بنیاد رکھی اس کلب کے پہلے صدر جناب دیوان لیلا رام جیٹھ مل اور پہلے سیکریٹری جناب لیکھ راج حکومت رائے مقرر ہوئے۔ ایک ایگزیکٹیو کمیٹی بھی تشکیل دی گئی۔ جس میں صدر اور سیکریٹری کے ساتھ کل گیارہ افراد شامل تھے، اُن افراد نے مل کر اس کلب کی تعمیر وترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ ابتداء میں وسائل کم اور مسائل زیادہ تھے اس لئے اسی شہر کے ایک تاجر سیٹھ دیالداس مولچند صاحب سے مل کر ایک رابطہ قائم کیا اور اس میں ایک معاہدہ ہوا اور معاہدے کے ذریعے 1920 کے آخر میں مبلغ20,000/- ہزار روپے کے چندے سے اس کلب کی عمارت کی تعمیر شروع ہوئی جو اپنی شکل میں آج بھی قائم ہے۔ 

اس معاہد ے کی راہ سے حیدرآباد کلب کا نام سیٹھ دیالداس مولچند کلب کے نام سے موجود ہے اس کلب میں مرکزی عمارت کے علاوہ ٹینس کورٹس بھی بنائے گئے اور مرکزی عمارت کے سامنے ایک عدد پانی کا فوارہ بھی تعمیر کیا گیا وہ آج بھی موجود ہے اس کلب میں برصغیر کی تقسیم سے قبل مختلف سرگرمیاں جاری تھیں، جن میں ٹینس کورٹس، بلنرڈز ٹیبل ٹینس، کرکٹ کے علاوہ کارڈ رومز بھی تھے جہاں برج کھیلی مقابلے سندھ لیول پر ہوتے ہیں۔ ایک چھوٹی لیکن جامع لائبریری بھی تھی۔ 



کلب کے ممبران میں شہر حیدرآباد، کراچی، ممبی کے کئی نامور تاجرو، وکلاء اور شعبہ تعلیم کے افراد شامل ہیں اور بڑی تعداد میں خواتین بھی اس کلب کی ممبر ہیں، خواتین کیلئے ایک علیحدہ ٹینس کورٹس بھی موجود ہے جو صرف خواتین کیلئے مخصوص ہے۔ ایک کینٹن بھی ہے جس کو انتظامیہ کے تحت چلایا جاتا ہے۔ انتظامیہ باقاعدگی سے کلب کے تمام معاملات کی دیکھ بھال کرتی ہے اور اس کے لئے منظور شدہ بجٹ کے مطابق اخراجات کرتی ہیں۔ 


برصغیر کی تقسیم کے بعد اس کلب کے پہلے صدر جناب باز محمد شاہ صاحب اور پہلے سیکریٹری جناب اللہ بچایو آخوند مقرر ہوئے تقسیم بندی کی بناء پر یہ کلب بھی افرانفرادی کا شکار ہوا، لیکن پھر مختلف اوقات میں آہستہ آہستہ ترقیاتی کام ممبران کے ڈونیشن سے ہوتے رہے۔ کسی بھی ادارے کی ترقی اور تعمیر میں جب کسی مخص اور اچھے کام کرنے والے لوگ شامل ہوں تو کوئی وجہ نہیں کہ ادارہ مضبوط نہ ہو جس ممبران نے اس کلب کی تعمیر وترقی میں دل وجان سے حصہ لیا انہیں انکی خدمات کے اعتراف کے طور پر لائف ٹائم ممبرشپ پیش کی گئی۔ 


کلب کے مرکزی ہال تزئیس وآزائش کے علاوہ ایک نیا بلڈنگ بلاک بھی بنایا گیا جس مین فیملی ڈائننگ ہال، بلیئر ڈز روم، اٹیبل ٹینس روم کے علاوہ بیڈمینٹن کورٹ کے ساتھ جدید کچن بھی بنایا گیا۔ عبدالغفور سومر سابق کمشنر حیدرآباد نے اسکوئٹس کورٹ کی سنگ بنیاد رکھی مختلف قسم کے کھیلوں ، تفریحی اور سرگرمیوں کے علاوہ کلب کی لائبریری بھی قابل دید ہے۔ نماز کیلئے مسجد بھی موجود ہے جس کی تعمیر کے مصارف کلب کے ایک ممبر جناب سید شمشاد علی شاہ نے ادا کی ہے۔ 


کلب کے ایک حصہ میں شادی ہال تعمیر کیا گیا ہے ، جہاں حیدرآباد کے لوگ شادی کے اجتماعات کے علاوہ سماجی، ثقافتی، ادبی دیگر تقریبات کے انعقاد کرتے ہیں جس میں بہترین سہولت موجود ہے۔ 


اس کی تعمیر میں اُس وقت انتظامیہ اور سیکریٹری ناصر محمود پیرزادہ کی خدمات قابل تعریفہے اور یہ ساری سرگرمیاں اُس کلب کے معزز اور قابل قدر ممبران کے تعاون سے جاری وساری ہیں۔ 


دیالداس کلب کے ممبران کی تعداد اس وقت تقریباً پانچ ہزار کے قریب ہے جس میں وکلاء، ڈاکٹرز، تاجر، اساتذہ، سرکاری وغیر سرکاری افسران اور مختلف شعبہ بائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل ہیں۔ 


اس کلب میں پورے ماہِ رمضان میں کرکٹ ٹورنامنٹ بھی کرایا جاتا ہے کلب کی موجودہ انتظامیہ بھی 11 افراد پر مشتمل ہے جس میں صدر حسن علی میمن ، جنرل سیکریٹری آفتاب احمد شیروانی، جوائنٹ سیکریٹری جناب اعجاز علی خواجہ، کررہے ہیں، اور یہ انتظامیہ کلب کی تعمیر اور ترقی میں اپنا کردار اد اخوش اسلوبی سے ادا کررہی ہے۔ 


کلب کے ممبران عبدالقیوم نصرت کا کہنا ہے کہ دیالداس کلب ایک بہترین جگہ ہے جہاں بہترین تفریحی پروگراموں کی تمام تر سہولت موجود ہے اس کلب میں کھانے کی قیمت بھی مناسب ہے ، اس کلب میں فنکارانہ ڈیزائن کے ساتھ ایک منفرد عمارت ہے جس کے درمیان خوبصورت ماحول اور اچھی طرح سے منظم ہریالی بہترین سروس دوستانہ تعلق کے ساتھ ایک منفرد کلب ہے۔ 
یہ کلب اپنی منفرد سرگرمیوں میں مثلاً مذہبی علمی ، ادبی، سماجی اور معاشرتی تقریبات میں اپنا حصہ ادا کررہی ہے، پاکستان کے گولڈن جوبلی کی تقریبات کے سلسلے میں کل پاکستان گولڈن جوبلی مشاعرہ کا انعقاد بھی اسی کلب میں ہوا اسی طرح قومی یکجہتی اور بھائی چارگی کے سلسلے میں فعال ہونے کی وجہ سے ایک منفرد مقامد رکھتا ہے جو انشاء اللہ آئندہ بھی جاری وساری رہے گا۔ 

Practical work carried under supervision of Sir Sohail Sangi, at Department of Media & Communication Studies University of Sindh

Monday, 15 August 2016

پروفیسر حنید - پروفائل corrected

Corrected

نام: علی اصغر 

کلاس: BS Part-III پروفیسر حنید
رول نمبر:2K14/MC/127 (پروفائل)
کیٹیگری رائننگ: اُردو 
تعجب ہر شخص تعلیم میدان میں سنگ میل ہے اور تعارف کی ضرورت نہیں ہے۔ اُن کی کامیابیوں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ لوگ اکثر اُن کی زندگی میں محبت یا ترقی کرنے کیلئے پیش رفت حاصل کرتے ہیں۔ 
حیدرآباد کے نامزد پروفیسر حنید جنہوں نے میٹرک St. Bonaventure حیدرآباد اور HSC کا امتحان حمزہ خان میموریل کالج سے پاس کیا، 16 سال کی عمر سے ہی ٹیوشن ٹیچر کے سفر کا آغاز کیا اور1988 میں سندھ یونیورسٹی سے ریاضی کے سیکشن میں بیچلر اور ماسٹر کیا1996 میں لوگوں کے گھر گھر جاکر تعلیم کے فروغ دی، پرائمری اور میٹرک کے طالبعلم کو ریاضی کا مضمون سکھایا اور اُن کے اس تجربہ کی قیادت میں 1994 میں فدوی کوچنگ سینٹر کے طور پر ایک سینٹر پولیس لائن کے قریب نامزد کیا۔ 
انہوں نے 1998سے لیکر 2013 تک حیات گرلز کالج میں اُستاد کے طور پر کام کیا اور 15 دسمبر1998 میں پرسٹن کالج کے افتتاح کو بہت اہم کردار ادا کیا، اور اس کالج میں بھی پروفیسر کے طور پر کام کیا۔ 
2005 میں انہوں نے فاؤنڈیشن پبلک اسکول میں اسکول میں پروفیسر کے طورپر کام کیا اُسی سال کالج میں 4 انٹر میڈیٹ کی پوزیشن اپنے نام کی انہوں نے اسٹار کالج، سپرئیر کالج میں بھی طالبعلم اور تعلیم کی اور ابھی دے رہے ہیں اور دیتے رہیں گے۔ انہوں نے ہمیشہ اُستاد اور شاگرد کے درمیان باپ بیٹے جیسا رشتہ رکھا ہے کیونکہ باپ صرف ایک انسان کو جنم دینے کا سبب بنتا ہے لیکن اس استاد نے انسان کو ہمیشہ حقیقی انسان بنایا اور اُسے انسان ہونے کا احساس اور اچھے بُرے کی تمیز سکھائی اور اسے اس دنیا میں آنے کا مقصد بتایا، یہ ہی وجہ ہے کہ استاد کو ہم باپ کا درجہ دیتے ہیں اور اُسے معاشرے میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ 
پروفیسر حنید کا لہجہ پڑھاتے وقت بہت سخت ہوتا ہے تاکہ بچوں کا اُس سبجیکٹ پر زیادہ توجہ رہے وہ ریاضی مضمون کے سوالوں کی بہت زیادہ پریکٹس کرواتے ہیں تاکہ بچوں کو کسی قسم کی پریشانی نہ ہو اگر زاتی زندگی کے لحاظ سے دیکھا جائے تو وہ ایک وقت کے پابند ارادے کے پکے اور اپنے کام سے کام رکھنے والے شخص ہیں فضول گفتگو میں اپنا وقت ضائع نہیں کرتے ان کا زیادہ تر وقت کلاس رو م میں گذرتا ہے ان کا پڑھانے کا طریقہ دوسرے استادوں سے قدرے مختلف ہے یہ کلاس روم کو ایک خاص ماحول فراہم کرتے ہیں ان کے شاگردوں کا کہنا ہے کہ ان کی کلاس شروع ہونے کے بعد ایک ایسا خاص ماحول بن جاتا ہے کہ جس میں بچہ صرف ان کی باتوں پر دیہان دیتا ہے جو کلاس میں ہورہی ہوتی ہے ۔
کچھ بڑے نام جنہوں نے ان سے ٹیوشن پڑھا ان میں سے جام خان شورو ، چیف جسٹس انور جمالی کے دونوں بیٹے اور مہران یونیورسٹی کی ہیڈ آف انگلش ڈپارٹمنٹ کی قرۃ العین مرزا نے بھی اس پروفیسر سے ٹیوشن لی ہے ۔
ریٹائرڈ چیف منسٹر سید قائم علی صاحب نے اور فارمر ایجوکیشن نے انہیں خصوصی طور پر دعوت دیتے ہوئے بلایا اور کہا کہ آپ فرسٹ ائیر اور انٹر کی ریاضی مضمون کی کتابیں لکھیں۔ 
وہ صرف نجی شعوبے کے استاد تھے جسے سندھ حکومت کی جانب سے اعزازی اور پروفیسر کے لقب سے نوازا گیا اُن کا تعلق بوہرہ کمیونٹی سے ہے، پروفیسر سادہ اور بہت کوآپرئیٹیو اور تمام طالبعلم کی ایک مثال ہے وہ بہت بڑے تجربہ اور اِن کے ساتھ ایک متحرک شخصیت ہیں ۔ 
وہ اب بھی نوجوانوں کی بہبود کے لئے کام کرنے اور اپنے مقصد اور زندگی کا مقصد تعلیم ہے اور اس کے فروغ دے رہے ہیں، اور متوازن تعلیمی نظم مضبوط ہو اس کیلئے وہ کہتے ہیں کہ جب تک ملک میں کرپشن ختم نہیں ہوگی جب تک تعلیم کا نظام بہتر نہیں ہوگا۔ جیسے کے آج کے بچے ہمارا آنے والا مستقبل ہی اور ہر انسان اپنا مستقبل روشن یکھنا چاہتا ہے اس لئے ضرورت ہے کہ ہے کہ اعلیٰ تعلیم ماحول کی جس میں بچے پڑھ لکھ کر ایک کامیاب انسان اور اچھے شہری کے روپ میں سامنے آئیں اور اپنے ملک کی ترقی میں اضافے کا باعث بنایں۔