Showing posts with label فيچر. Show all posts
Showing posts with label فيچر. Show all posts

Thursday, 25 August 2016

ریڈیو پاکستان سمعئیہ کنول,فيچر,

plz discuss

سمعئیہ کنول
رول نمبر 95
اردو فیچر

ریڈیو پاکستان
موسیقی روح کی غذا ہے، یہ جملہ با اثر ہونے کے ساتھ ہر خاص و عام میں اہمیت کا حامل ہے۔موسیقی تمام افراد کی زندگیوں کا ایسا اہم حصہ ہے جو ان کی زندگی میں ہونے والے اتُار چڑھاؤ کی عکاسی کرتا ہے۔دنیائے موسیقی میں پاکستان اپنی مثال آپ بنائے ہوئے ہے۔کوئی غزل ہو یا قوالی ،گیت ہو یا صوفیانہ کلام، کلاسیکل ہو یا سیمی کلاسیکل پاکستان کے گلوکار اپنی صلاحیتوں سے بین لاقوامی سطح پرپزیرائی حاصل کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔


14اگست 1947کو ریڈیو پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد سے ہی ریڈیو پاکستان نے موسیقی کو اہم مقام دیا، اس کی اہمیت کی وجہ لوگوں کی پسندیدگی اورموسیقی سے لگاؤکو کہا جا سکتا ہے۔ اسی طرح ریڈیو پاکستان حیدرآباد نے دنیائے موسیقی میں ایسے ناموں کو متعارف کروایا جن کا کوئی مد مقابل نہیں ۔ ان ناموں میں کلاسیکل میں استاد فتح علی خان، صوفیانہ کلام میں عابدہ پروین اور غزل گائیکی میں شفیع وارثی کا نام کسی تعرف کا محتاج نہیں۔ان تمام بڑے ناموں کے بعد سلسلہ ختم نہیں ہوا، بلکہ ان ہی لوگوں کے احباب اور شاگردوں نے بھی ریڈیو پاکستان حیدرآباد سے اپنا نام اور الگ مقام حاصل کیا ۔ گلوکاری ہو یاموسیقی کے آلے بجانے کا ہنرہو ریڈیو پاکستان حیدرآبادنے ہمیشہ سچے اور نئے ٹیلنٹ کومتعارف کروایا ہے۔ ایسے میں محمد جمن ، استاد سلطان لودھی، ذولفقار قریشی، استاد نظیر خان ، بلاول بیلجیم بینجو اور مبارک خان صاحب اور ان جیسے مزید نامی گرامی لوگ ریڈیو پاکستان حیدرآباد کا حصہ رہے ہیں اور ابھی بھی ہیں ۔یہ کہنا کسی طور غلط نہیں ہوگا

 کہ ریڈیو پاکستان حیدرآباد ایک ثقافتی ادارے کے طور اپنا کام سر انجام دے رہا ہے۔
ریڈیو پاکستان حیدرآباد کو یہ رتبہ حاصل ہے کہ بیسویں صدی ہو یا اکیسویں صدی ریڈیو پاکستان حیدرآباد نے ہر دور میں نئے ٹیلنٹ کوتلاش کیا، پروموٹ بھی کیا اور ایک معیاری پلیٹ فارم ہونے کا بھر پور حق ادا کیا ۔موسیقی کی مختلف اقسام کے ساتھ ساتھ مختلف زبانوں میں تفریق کئے بغیر موسیقی کو نشر کیا۔ ان زبانوں میں سندھی ، اردو، تھری، بلوچی اور سرائیکی زبان میں موسیقی سر فہرست ہیں۔ آج کے اس جدید دور میں مختلف پلیٹ فارم ہونے کے باوجود ریڈیو پاکستان حیدرآباد کی ساخت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ اگر دیکھا جائے تو بیسویں صدی میں ریڈیو پاکستان اورPTVکے علاوہ موسیقی یا کسی بھی طرح کے ٹیلنٹ کو متعارف کروانے کا کوئی زریعہ موجود نہ تھا تو لوگ زیادہ تر ریڈیو پاکستان کو ترجیح دیا کرتے تھے، مگر آج کے دور میں مختلف پلیٹ فارمز ہونے کے علاوہ بہت سے TVچینلزبھی موجود ہیں مگر پھر بھی ریڈیو پاکستان حیدرآباد نے حمیرا چنا، مائی ڈھائی اور صنم ماروی جیسے آج کل مشہور ہوتے ناموں کو متعارف کروایا جو آج اپنی آواز کا جادو مختلف چینلز اورپروگرامز میں بکھیرتی نظر آرہی ہیں۔


غزل گائیکی ہو یا کلاسیکل یا پھر سیمی کلاسیکل ، گیت لکھنا ہو یا گیت گانا ہو ریڈیو پاکستان حیدرآبادکے متعارف کروائے جانے والے ٹیلنٹ کا کوئی ثانی نہیں ۔ چند ماہ پہلے ہی ریڈیو پاکستان حیدرآباد نے ریڈیو پاکستان پر ہونے والے موسیقی کے مقابلے آواز پاکستان میں نئے موسیقاروں کوآگے بڑھنے کا موقع فراہم کیا، جس میں حیدرآباد لیول پر جیتنے والی گلوکارہ کو اسلام آباد سیمی فائینل کے لئے بھیجا گیا۔ اسی طرح ریڈیو پاکستان حیدرآباد نئے لوگوں کے لکھے ہوئے گیت بھی متعارف کروانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔


ریڈیو پاکستان حیدرآباد ہر دور میں ہر دل عزیز اورحیدرآباد کے لوگوں کی اول ترجیح رہا ہے، اور اگر آگے بھی ایسے ہی کام کرتا رہا توپاکستان کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سطح پر مزید نئے نام اور نئے باب رقم کرتا چلا جائے گا۔

Practical work was carried out under supervision of Sir Sohail Sangi, at Media & Communication Department, University of Sindh

Friday, 19 August 2016

دیالداس کلب حیدرآباد: علی اصغر




دیالداس کلب

( Dialdas Club Hyderabad Feature by Ali Asghar) 
نام: علی اصغر 
رول نمبر:2K14/MC/127 
کلاس: BS-Part-III 
سندھ کے تاریخی شہر حیدرآباد کے چند نامور شخصیات نے اس شہر میں ایک ایسی کلب کی بنیاد ڈالنے کی ضرورت کو محسوس کیاجہاں پر وہ صاف ستھرے ماحول میں مل کر بیٹھ سکیں، اور اپنے اہل خانہ کیلئے تحفظ کے ساتھ مختلف کھیلوں کے علاوہ تفریح کے لوازمات مہیا کرسکیں۔ 



اس کلب کو تعمیر کرنے کیلئے ایک ایسوسی ایشن بنائی گئی جس کا نام حیدرآباد ایسوسی ایشن رکھا گیا، اس کو بقاعدہ طور پر اغراض ومقاصد کے ساتھ 1820 کے ایکٹ نمبر21 کے تحت رجسٹرڈ کرایا گیا اس ادارے نے اپنی پوری کوششوں سے 1920 میں ایک قطعنہ اراضی حاصل کرکے اس پر کلب کی بنیاد رکھی اس کلب کے پہلے صدر جناب دیوان لیلا رام جیٹھ مل اور پہلے سیکریٹری جناب لیکھ راج حکومت رائے مقرر ہوئے۔ ایک ایگزیکٹیو کمیٹی بھی تشکیل دی گئی۔ جس میں صدر اور سیکریٹری کے ساتھ کل گیارہ افراد شامل تھے، اُن افراد نے مل کر اس کلب کی تعمیر وترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ ابتداء میں وسائل کم اور مسائل زیادہ تھے اس لئے اسی شہر کے ایک تاجر سیٹھ دیالداس مولچند صاحب سے مل کر ایک رابطہ قائم کیا اور اس میں ایک معاہدہ ہوا اور معاہدے کے ذریعے 1920 کے آخر میں مبلغ20,000/- ہزار روپے کے چندے سے اس کلب کی عمارت کی تعمیر شروع ہوئی جو اپنی شکل میں آج بھی قائم ہے۔ 

اس معاہد ے کی راہ سے حیدرآباد کلب کا نام سیٹھ دیالداس مولچند کلب کے نام سے موجود ہے اس کلب میں مرکزی عمارت کے علاوہ ٹینس کورٹس بھی بنائے گئے اور مرکزی عمارت کے سامنے ایک عدد پانی کا فوارہ بھی تعمیر کیا گیا وہ آج بھی موجود ہے اس کلب میں برصغیر کی تقسیم سے قبل مختلف سرگرمیاں جاری تھیں، جن میں ٹینس کورٹس، بلنرڈز ٹیبل ٹینس، کرکٹ کے علاوہ کارڈ رومز بھی تھے جہاں برج کھیلی مقابلے سندھ لیول پر ہوتے ہیں۔ ایک چھوٹی لیکن جامع لائبریری بھی تھی۔ 



کلب کے ممبران میں شہر حیدرآباد، کراچی، ممبی کے کئی نامور تاجرو، وکلاء اور شعبہ تعلیم کے افراد شامل ہیں اور بڑی تعداد میں خواتین بھی اس کلب کی ممبر ہیں، خواتین کیلئے ایک علیحدہ ٹینس کورٹس بھی موجود ہے جو صرف خواتین کیلئے مخصوص ہے۔ ایک کینٹن بھی ہے جس کو انتظامیہ کے تحت چلایا جاتا ہے۔ انتظامیہ باقاعدگی سے کلب کے تمام معاملات کی دیکھ بھال کرتی ہے اور اس کے لئے منظور شدہ بجٹ کے مطابق اخراجات کرتی ہیں۔ 


برصغیر کی تقسیم کے بعد اس کلب کے پہلے صدر جناب باز محمد شاہ صاحب اور پہلے سیکریٹری جناب اللہ بچایو آخوند مقرر ہوئے تقسیم بندی کی بناء پر یہ کلب بھی افرانفرادی کا شکار ہوا، لیکن پھر مختلف اوقات میں آہستہ آہستہ ترقیاتی کام ممبران کے ڈونیشن سے ہوتے رہے۔ کسی بھی ادارے کی ترقی اور تعمیر میں جب کسی مخص اور اچھے کام کرنے والے لوگ شامل ہوں تو کوئی وجہ نہیں کہ ادارہ مضبوط نہ ہو جس ممبران نے اس کلب کی تعمیر وترقی میں دل وجان سے حصہ لیا انہیں انکی خدمات کے اعتراف کے طور پر لائف ٹائم ممبرشپ پیش کی گئی۔ 


کلب کے مرکزی ہال تزئیس وآزائش کے علاوہ ایک نیا بلڈنگ بلاک بھی بنایا گیا جس مین فیملی ڈائننگ ہال، بلیئر ڈز روم، اٹیبل ٹینس روم کے علاوہ بیڈمینٹن کورٹ کے ساتھ جدید کچن بھی بنایا گیا۔ عبدالغفور سومر سابق کمشنر حیدرآباد نے اسکوئٹس کورٹ کی سنگ بنیاد رکھی مختلف قسم کے کھیلوں ، تفریحی اور سرگرمیوں کے علاوہ کلب کی لائبریری بھی قابل دید ہے۔ نماز کیلئے مسجد بھی موجود ہے جس کی تعمیر کے مصارف کلب کے ایک ممبر جناب سید شمشاد علی شاہ نے ادا کی ہے۔ 


کلب کے ایک حصہ میں شادی ہال تعمیر کیا گیا ہے ، جہاں حیدرآباد کے لوگ شادی کے اجتماعات کے علاوہ سماجی، ثقافتی، ادبی دیگر تقریبات کے انعقاد کرتے ہیں جس میں بہترین سہولت موجود ہے۔ 


اس کی تعمیر میں اُس وقت انتظامیہ اور سیکریٹری ناصر محمود پیرزادہ کی خدمات قابل تعریفہے اور یہ ساری سرگرمیاں اُس کلب کے معزز اور قابل قدر ممبران کے تعاون سے جاری وساری ہیں۔ 


دیالداس کلب کے ممبران کی تعداد اس وقت تقریباً پانچ ہزار کے قریب ہے جس میں وکلاء، ڈاکٹرز، تاجر، اساتذہ، سرکاری وغیر سرکاری افسران اور مختلف شعبہ بائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل ہیں۔ 


اس کلب میں پورے ماہِ رمضان میں کرکٹ ٹورنامنٹ بھی کرایا جاتا ہے کلب کی موجودہ انتظامیہ بھی 11 افراد پر مشتمل ہے جس میں صدر حسن علی میمن ، جنرل سیکریٹری آفتاب احمد شیروانی، جوائنٹ سیکریٹری جناب اعجاز علی خواجہ، کررہے ہیں، اور یہ انتظامیہ کلب کی تعمیر اور ترقی میں اپنا کردار اد اخوش اسلوبی سے ادا کررہی ہے۔ 


کلب کے ممبران عبدالقیوم نصرت کا کہنا ہے کہ دیالداس کلب ایک بہترین جگہ ہے جہاں بہترین تفریحی پروگراموں کی تمام تر سہولت موجود ہے اس کلب میں کھانے کی قیمت بھی مناسب ہے ، اس کلب میں فنکارانہ ڈیزائن کے ساتھ ایک منفرد عمارت ہے جس کے درمیان خوبصورت ماحول اور اچھی طرح سے منظم ہریالی بہترین سروس دوستانہ تعلق کے ساتھ ایک منفرد کلب ہے۔ 
یہ کلب اپنی منفرد سرگرمیوں میں مثلاً مذہبی علمی ، ادبی، سماجی اور معاشرتی تقریبات میں اپنا حصہ ادا کررہی ہے، پاکستان کے گولڈن جوبلی کی تقریبات کے سلسلے میں کل پاکستان گولڈن جوبلی مشاعرہ کا انعقاد بھی اسی کلب میں ہوا اسی طرح قومی یکجہتی اور بھائی چارگی کے سلسلے میں فعال ہونے کی وجہ سے ایک منفرد مقامد رکھتا ہے جو انشاء اللہ آئندہ بھی جاری وساری رہے گا۔ 

Practical work carried under supervision of Sir Sohail Sangi, at Department of Media & Communication Studies University of Sindh

Sunday, 14 August 2016

خالد حسين شيخ فيچر


                   ڏوڏي مان تيار ٿيندڙ ڇوهارو
سنڌ اندر اونھاري جي موسم شروع ٿيندي ئي پوري سنڌ ۾ ڏوڏي جو فصل  گهڻي مقدار ۾ مارڪيٽ ڏانهن اچڻ شروع ٿي ويندو آهي.کجي جي پوکائي وارو عمل ائين ته سڄي سنڌ ۾ عام جام ٿيندو آهي پر خاص ڪري خيرپور،سکر،شڪارپور،نوشهرو ۾ گهڻو ٿيندو آهي.سنڌ جي باقي ضلعن ۾ به کجي عام طرح سان پوکي ويندي آهي جنهن ۾ ننڍا ۽ وڏا ذميدار پڻ دلچسپي سان حصو وٺندا آهن.پر خاص ڪري سنڌ جا بيان ڪيل مٿيان ضلع کجي ۽ ڇوهاري پيدا ڪرڻ ۾ اڳڀرا آهن.
ڇوهارو تيار ڪرڻ لاءَ سڀ کان پهريون مزدورن جي هڪ گروپ بندي ڪئي ويندي آهي جنهن ۾ هر گروپ کي الڳ الڳ نموني جو ڪم ڏنو ويندو آهي.جئين ڪجھ مزدورن جا گروپ کجين جي وڻن مان ڏوڏا پٽيندا آهن ته ڪجھ وري ڪٽيل ڏوڏن کي ڇوهارو تيار ڪرڻ واري جاءَ تي آڻي رکندا آهن. ڏوڏو جڏهن مڪمل رسجي تيار ٿئي ويندو آهي ته ان ۾ واڍي واري عمل جو آغاز ڪيو ويندو آهي واڍي وارو ڪم مزدورن جي عملي جي حساب سان ڪيو ويندو آهي. جيترو وڌيڪ عملو واڍي اوتري ئي تيزي سان ڪئي ويندي آهي پر پوءَ به نارمل ۾ نارمل هر روز پنجاھ کان اَسي کجين جي واڍي ڪئي ويندي آهي. ان کانپوءَ  انهن ڪٽيل ڏوڏن کي هڪ جڳھ تي گڏ ڪيو ويندو آهي جئين انهن کي ڇينگي کان الڳ ڪري  باھ تي چڙهيل پاڻي سان ڀريل تئي ۾ وڌو وڃي. ڏوڏن کي پاڻي ۾ وجهڻ کانپوءَ انهن کي اڌ يا مني ڪلاڪ تائين پاڻي ۾ ئي رجهڻ لاءَ ڇڏيو ويندو آهي ته جئين اُهي مڪمل تيار ٿئي وڃن  ڏوڏا تئي ۾ وجهڻ کان اڳ ڇوهارا تيار ڪندڙ ڪاريگر کي اهو ذهن ۾ رکڻو هوندو آهي ته سندس کي ڪهڙي قسم جو ڇوهارو تيار ڪرڻو آهي ڇو جو ڇوهاري جا به الڳ الڳ قسم ٿيندا آهن جنهن ۾ ڳاڙو شوهارو،ڦڪو ڇوهارو ۽ ڪارو ڇوهارو اچي وڃن ٿا.
ڳاڙو ڇوهارو تيار ڪرڻ لاءَ ڏوڏو پاڻي ۾ وجهڻ  کان پهريون  ڪاريگر پاڻي ۾ ميندي جا پن ملائيندو آهي ته جئين ڇوهارو پچڻ سان گڏ ڳاڙو به ٿئي ۽ ڦڪو ڇوهارو تيار ڪرڻ لاءَ پاڻي ۾ رنگ گاٽ نالي هڪ رنگ ملايو ويندو آهي جئين ان ڏوڏي جو رنگ ڇوهاري ٿيڻ کانپوءَ به ڦڪو ئي رهي ۽ ڪارو ڇوهارو تيار ڪرڻ لاءَ ڏوڏي کي ڪجھ وقت وڌيڪ باھ تي رجهڻ لاءَ رکيو ويندو آهي دير تائين پچڻ جي ڪري  ڇوهاري جو رنگ ڪارو بڻجي ويندو آهي. ڇوهاري کي ٽنهي الڳ الڳ صورتن ۾ پچائڻ کانپوءَ ان کي تئي مان ڪجھ ھٿرادو اوزان جي مدد سان  ٻاهر  ڪڍي خالي ٽوڪرين ۾ وڌو ويندو آهي جنهن کي پوءَ اتي بيٺل مزدور ٽوڪري کي کڻي ميدان تي وڇايل وڏين تالپترين تي رکندا آهن. انهن تالپترين جو رخ اولھ کان اوڀر طرف موڙيل هوندو آهي انهن تازن تيار ٿيل ڇوهارن کي تالپترين تي وڇائڻ کانپوءَ هر اڌ ڪلاڪ کانپوءَ مزدور انهن کي هٿن سان گڏائيندا رهندا آهن ته جئين اُهي ٺيڪ نموني سان اُس تي سڪي سگهن. اُس تي سڪائڻ جو سلسلو  ٽي ڪان چار ڏينهن تائين هلندو آهي. جنهن کانپوءَ انهن ڇوهارن کي ڳوٿرين ۾ بند ڪري مارڪيٽ ڏانهن نيو ويندوآهي. سنڌ ۾ ڇوهاري جي مارڪيٽ جي حوالي سان  سکر،خيرپور ۽ حيدرآباد ڏاڍا مشهور مارڪيٽ آهن. انهن مارڪيٽن ۾  سڄي سنڌ جي هر عام علائقي مان به ڇوهارو آندو ويندو آهي سنڌ مان
ڇوهارو پاڪستان ۾ وڪامڻ کان علاوه ٻاهرين ملڪن ۾ پڻ وڪاميون ويندو آهي  جنهن ۾ انڊيا، دبئي، ۽ ٻين عربن ملڪن ڏانهن موڪليو ويندو آهي مارڪيٽ ۾ موجود ڇوهارو پنج کان ست هزار في مڻ جي حساب سان وڪامجي پيو.
ڇوهارو ڪيترين ئي شين لاءَ استعمال ڪيو ويندو آهي. اڪثر ڪري جڏهن پراڻي وقت ۾ ماڻهو ڏوران سفر يان جنگ جي لاءَ نڪرندا هيا ته پاڻ سان گڏ ڇوهارا خشڪ فروث  جي حساب  سان گڏ کڻندا هيا ته جيئن انهن کي غذا جي طور تي استعمال ڪري سگھجي.ڇوهاري کي حڪيم طب يعني دوائن ٺاهڻ لاءَ به استعمال ڪندا آهن ۽ اڃان تائين ڳوٺن ۾ حڪمت طور استعمال ڪيو ويندو آهي. ڇوهاري کي شورڳ ٺاهڻ لاءَ پڻ استعمال ڪيو ويندو آهي ان کان علاوه ٻين ڪيترين ئي اهم شين ۾ ڇوهاري جو استعمال ڪيو ويندو آهي.

خالد حسين شيخ

Friday, 12 August 2016

باگڙي برادري جا مسئل

 باگڙي برادري ۽ ان جا مسئلا.
هندو برادري سان تعلق رکندڙ باگڙي برادري پاڪستان سميت سنڌ جي هر ننڍي وڏي ضلعي ۾ صدين سان آباد آهي. باگڙي برادري جا ماڻهو پاڪستان ٺهڻ کان وڏي اڄ ڏينهن سنڌ ۾ رهندا پيا اچن. باگڙي برادري کي سنڌ جا اصل وارث به چوندا آهن، باگڙي برادري جي رهڻي ڪهڻي ، ثقافت  ۽ کائڻ پيئڻ سنڌ ۾ وسندڙ ٻين قبيلن ۽ برادرين کان مختلف آهي. هن بي حس سماج ۾ باگڙي برادري کي گهٽ سمجهيو وڃي ٿو ، جڏهن ته دنيا جي ٻين ملڪن ۾ اهڙن قومن کي معزز ۽ معتبر قوم سمجهيو وڃي ٿو ، جهڙي ريت باگڙي برادري  کي عام شين جيان  مختلف تصور ڪيو وڃي ٿو تهڙي ئي ريت باگڙي برادري ماڻهن جو لهجو ۽ ڳالهائڻ جو انداز به ڪجه ائين ئي مختلف آهي. عام طور تي زيادتي ڪنهن تشدد ۽ ظلم  ،وغيره کي چيو ويندو آهي  ، پر هتي وڏي زيادتي اها هي آهي ته ان کي گهٽ ذات تصور ڪيو ويندو آهي، سروي موجب باگڙي برادري اها برادري آهي جيڪا  هڪ ئي وقت انيڪ مسئلن کي منهن ڏنو آهي.
باگڙي برادري ۽ ان جي رهڻي ڪهڻي.
صدين کان سنڌ ۾ آباد باگڙي برادري جي رهڻ جو انداز ئي پنهنجو آهي، باگڙي برادري جا ماڻهو هڪ سادي طريقي سان پنهنجي زندگي گذارن ٿا، خاص ڪري باگڙي برادري جا ماڻهو پنهنجا گهر ڪچا ۽ گهرن ۾ جهوپڙيوڻ ٺاهڻ پسند ڪن ٿا . سندن گهرن ۾ جهوپڙي نه هجي ته انهن جي گهر جي خوبصورتي ئي نامڪمل آهي. باگڙي برادري جا ماڻهو اڪثر ڪري هڪ شهر کان ٻئي شر ڏانهن لاڙو ڪندا رهندا آهن ته جيئن هو پنهنجي ٻچن جو پيٽ گذر ڪري سگهن ، باگڙي برادري جي ماڻهن کي اڪثر ڪري خانو بدوش به چيو ۽ سمجيوويندو آهي،باگڙي اڪثر ڪري محنت ۽ مشڪلاتون ڏسي پنهنجي ٻچن جو گذر سفر ڪن ٿا، زماني سان گڏ ماڻهن جي رهڻي ڪهڻي ۾ به فرق نظر اچي ٿو پر هي قوم اڄ به ساڳئي ئي نموني سان زندگي گذاري رهي آهي.
باگڙي برادري سنڌ جي  هر ننڍي وڏي شهر ۾ آباد آهي. 
سنڌو ڌرياءِ آباد باگڙي برادري صدين کان حسين آباد ۾ آباد آهن پر اڄ به جديد زماني ۾ انيڪ مسئلن کي منهن ڏئي رهيا آهن. سروي موجب سنڌو ڪناري تي 150 کان وڌيڪ  خاندان آباد آهن جيڪي پاڪستان ٺهڻ کا اڳ جا آهن .باگڙي اڪثر ڪري سنڌ جي ننڍن شهرن ۾ رهڻ پسند ڪن ٿا. حسين ۾ آباد ڪجه باگڙي برادري جا ماڻهو لڏپلاڻ به ڪري ويا. باگڙي اڪثر ڪري گهير واري شلوار ۽ ننڍڙي قميص پائڻ پسند ڪن. سندن پاڙن ۾ اڪثر گهر هڪٻئي سان جڙيل آهن سندن هڪٻئي جي تڪليفن کان واقف رهن ٿا، جڏهن ته اڪثر باگڙي شام جي وقت پاڻ ۾ گڏجي ڪچهري ۾ مصروف نظر ايندا آهن.
هن برادري تي باگڙي نالو ڪيئن پيو.
باگڙي برادري موجب باگڙي برادري جا ماڻهو پاڪستان ٺهڻ کان اڳ هتي آبا آهن جن جا وڏا اڪثر ڪري باغن ۽ ٻني ٻاري جو ڪم ڪار ڪندا هئا. ان ڪري هن قوم تي باگڙي نالو پيو.۽ اهو ئي نالو هن قوم جي شناخت جو سبب بڻيو. جڏهن ته حقيقت اها آهي ته هندوستان ۾ هڪ علائقي جا نالو باگڙ آهي ، پاڪستان ٺهڻ کان اڳ جيڪي ماڻهولڏپلاڻ ڪري هتي آيا انهن کي هتي پاڪستان ۾ باگڙي چيو وڃي ٿو. باگڙي برادري جا ماڻهو پان کي باگڙي سڏرائڻ ۾ خوشي محسسوس ڪن ٿا.باگري برادري جا ماڻهو سرڪاري نوڪرين ۾ نه هئڻ برابر آهن جنهن جو مثال اٽي ۾ لوڻ برابر آهي. هڪ سروي موجب باگڙي برادري ۾ مالي پريشاني ۽ بيروزگاري سبب تعليم جي شرح 10 سيڪڙو کان به گهٽ آهن
باگڙي اڪثر علائقن مان لڏپلاڻ ڪندا رهندا آهن. 
باگڙي برادري اڪثر ڪري پنهنجي ٻچن جي پيٽ گذر جي ڳولا ۾ هڪ شهر کان ٻئي شهر ڏانهن لڏپلاڻ ڪرڻ ۾ مصروف رهندي آهي، عام ماڻهو اڪثر ڪري هن قوم کي خانه بدوش ۽  پينو فقير طور به سڏينداآهن.هن برادري جو تعلق هندو مذهب سان آهي.باگڙي پاڻ کي غير محفوظ سمجهن ٿا ، سندن برادري ليول تي فورم به ٺهيل آهن پر فورم عملي طرح ڪجه نٿا ڪن. حڪومت کي هنن اهم مسئلن سان گڏ باگڙي برادري کي تعيلم ، صحت، روزگار، ۽ ٻيون سهولتون فراهم ڪرڻ سان گڏ مستقل بنياد تي منصوبابندي ڪرڻ گهرجي ڇو جو باگڙي تاريخ ۽ ثقافت جا حامل آهن.
سروي دوران باگڙي برادري جي هڪ  بزرگ لڇمڻ داس ٻڌايو ته  دنيا ۾ ڪيتريون ئي ننڍيون ذاتيون آهن پر اسان پاڻ کي معاشري مطابق ننڍو سمجهونٿا. هن جديد دور ۾ باگڙي برادري جا ماڻهو ڪيترن ئي مسئلن کي منهن ڏئي رهيا آهن. باگڙي برادري لاءِ ڪو به آواز اٿارڻ وارو ڪونهي اسان سنڌ کي پنهنجي ڌرتي ۽ پاڪستان کي پنهنجو گهر سمجهون ٿا. پر حڪومت ۽ اختيارين جي عدم توجه سبب نتيجا ڀوگڻ تي مجبور آهيون. باگڙي برادري جا ڪيترائي ئي خاندان مشڪلاتن باوجود اڃا سنڌ ۾ موجود آهن .

Practical work was carried out under supervision of Sir Sohail Sangi, at Media & Communication Department, University of Sindh 

Thursday, 11 August 2016

فيچر زوهيب ڪمال پٺاڻ


Late
What was deadline for filing FIRST piece? are u filing this in due time? 
In feature, profile and interview foto is must
U had already wrote on this topic in last semester. U can not repeat it. This is wrong practice
جي ڇهون نمبر خوبصورت ڀنگ مسجد ( فيچر )
                                                زوهيب ڪمال پٺاڻ
     2k14/MC/122 (III)

پاڪستان ۾ خوبصورت تفريحي ماڳ ٻيا به آهن جتي ماڻهو قدرت جي خوبصورتي مان لطف انداز ٿيڻ لاءِ ڪهي ويندا آهن انهن ۾ جتي بادشاهي مسجد، شاهجهان مسجد، بحريا مسجد ۽ فيصل مسجد شاهوڪار ۽ دلڪش آهن اتي ڀنگ مسجد به انهن مان هڪ آهي صادق آباد اهو مشهور شهر آهي جيڪو تاريخي حوالي سان تمام گهڻو لکڻ جي لائق آهي بهاولپور جي نواب سر صادق خان عباسي 1939ع ۾ بهاولپور کي هڪ تحصيل جو درجو ڏنو هو ان وقت شهر جي حالت نها يت سٺي هئي صادق آباد جا ننڍا ننڍا ڳوٺ ڪنهن دور ۾ تجارتي ۽ سياسي لحاظ سان اهم شهرن ۾ شمار ٿيندا هئا ان جي ڀرسان تاريخي شهر احمد پور لمه آهي اهو احمد پور لمه جنهن کي حويلين قلعن ۽ کنڊرن جو شهر چيو ويندو آهي عباسي خاندان جي هڪ سردار 1775ع ۾ ڀته واهڻ جو نالو پنهنجي نالو احمد پور تي رکي هڪ نئون اصطلاح ٺاهيو. شهر جي چوڌاري 30فٽ ڊهي ديوار تعمير ڪرائي جيڪا هاڻي زمين سٺي ٿي پئي آهي احمد پور لمه 1939 تائين تحصيل جو درجو حاصل رهيو احمد پور لمه جي هڪ بستي رحيم آباد جي ڊيرا غازي خان جي لغارين آباد ڪيو هو ان ڳوٺ کان ڪراس ٿي ڀنگ ڳوٺ اچي ٿو جتي تاريخي مسجد واقعي آهي هيءِ مسجد اسلامي طريقي سان ٺهيل آهي بهاو لپور جي عباسي خاندان سان واسطو رکندڙ مرحوم سردار رئيس غازي خان 1932ع ۾ پنهنجي شاندار محل جي حويلي جي اڳيان هڪ خوبصورت مسجد تعمير ڪرائي مسجد جي تعمير جو سڄو خرچ انهن پاڻ برداشت ڪيو هو مسجد کي هڪ شاهوڪار ٺاهڻ پيو چاهي ان مسجد جي ڊزائين جي لاءِ هنڌوستان جي ماهرين جي مدد حاصل ڪئي.مسجد ڀنگ جو دروازو ٽقافت جي فن جو دلڪش نمونو آهي هي دروازو عام طور تي بند رهندو آهي پر ڪنهن وڏي شصيت جي اچڻ سان ان کي کوليو ويندو آهي مرڪزي دروازي تي حضور اڪرم ﷺ جو نالو تمام خوبصورت انداز ۾ لکيل آهي مسجد جو اندروني ۽ ٻاهريون منظر به بيمثال آهي مرڪزي هال واري ڇت تي شيشي ۽ سون جو ڪم ڪيو ويو آهي مسجد اندر ديوارن تي قل شريف سون سان چٽريل آهن جنهن جي چمڪ اڄ تائين برقرار آهي مسجد جي هڪ طرف وضو خانو ٺهيل آهي ۽ مدرسو به ڀرسان ئي آهي جنهن ۾ هر روز هزارين ٻار دين جي تعليم حاصل ڪندا آهن مسجد جي اڱڻ ۾ مغلن جي انداز جو خوبصورت باغ ۽ من موهيندڙ دلڪش ڦوهارا لڳل آهن اندرين ۽ ٻاهرين ديوارن تي تمام سهڻي نموني سان قرآني آيتون لکيل آهن مسجد جو معراب سوني جو تخت لڳندو آهي ۽ ماڻهو تمام پري پري کان مسجد جي خوبصورتي ڏسڻ ايندا آهن اسلامي فن تعمير جي ان مسجد کي20صدي جو شاهڪار قرار ڏنو ويو آهي بين القوامي تعمير جا ماهر ان مسجد کي دنيا جي ڇهين خوبصورت ترين مسجد قرار ڏنو آهي اهائي وجه آهي جو هي مسجد آغا خان ايوارڊ حاصل ڪري چڪي آهي مسجد جي تعمير ۾ ايندڙ خرچ جي باري ۾ علامه اجمل مرزا پنهنجي مضمون ۾ لکيو آهي ته مسجد جي تڪميل کان 6سال بعد ۾ مسجد جي چيف معمار المعروف استاد ملتاني سان ملاقات ٿي ته ان مسجد تي ٿيڻ واري خرچ جي باري ۾ معلوم ڪيو ته ان چيف معمار ( وڏي مستري )جواب ڏنو ته هيءِ دنيا جي واحد مسجد آهي جنهن جي تعمير تي ايندڙ خرچي جي ڪنهن کي به خبر ناهي هن ٻڌايو ته پهريون ڏينهن جڏهن آئون مسجد جي تعمير جي جارج سنڀالي ته مسجد جي باني مرحوم رئيس غازي خان نوٽن سان ڀريل هڪ ٿيلهو مونکي ڏنو ۽ مان سامان خريد ڪرڻ شروع ڪيو ۽ ان سان گڏ بل به ٺهرائندو ويس ٽرڪن تي سامان لوڊ ڪيو ويو ۽ رئيس صاحب بلن وارا ڪاغذ ڏسي ڪري چيو هيءِ ڇا آهي مون چيو سائين هي مسجد جي سامان جو بل آهي رئيس صاحب انهن بلن کي ٽڪرا ٽڪرا ڪري ڇڏيو ۽ چوڻ لڳو استاد صاحب مان پنهنجو نه بلڪي الله پاڪ جو گهر ٺهرائي رهيو آهيان مونکي شرم اچي ٿوته مان ان جو حساب ڪتاب وٺان ۽ مونکي قيامت جي ڏينهن ان جو حساب ڏيڻو پوي الله پاڪ مونکان سوال ڪري چئي ته مون توکي ڪروڙين روپيه ڏنا ڪنهن به حساب ڪتاب جي بغير ۽ تون منهنجي هڪ گهر ٺهرائڻ لاءِ ان جو حساب ڪتاب ورتو.ڪيئي سال گذرڻ جي باوجود اڄ به ڀنگ مسجد جي خوبصورتي ۾ ڪمي نه آئي آهي مسجد جي انتظاميه جي طرفان ان جو گهڻو خيال رکيو ويندو آهي مسجد جو ڪو حصو ٽٽي پوڻ تي ان جو فورن مسجد انتظاميه مرمت ڪرائيندي آهي عام ڏينهن جي مقابلي ۾ خاص ڏينهن تي وڏي رش هوندي آهي ۽ پري پري کان ماڻهو ان جي سونهن ڏسڻ لاءِ اچن ٿا ۽ ماڻهو ان جي وڏي تعريف ڪندا رهندا آهن

Wednesday, 10 August 2016

ٹرک آرٹ - پاکستان کی پہچان

Requirement is 600 plus words.  its 540. Feature is reporting based.  But this piece is not. some attributions (quotes). Some part of it seems copy paste


فیچر
ٹرک آرٹ - پاکستان کی پہچان
سدرہ خالد
بی-ایس-ااا-120
 
ہر ملک کی ایک پہچان ہوتی ہے جو اسے دیگر ممالک سے منفرد بناتی ہے۔ وینس اپنے میٹاڈور "ناو ¿" اور پانی پر مبنی ایک شہر کی وجہ سے مقبول ہے، ترکی مساجد اور مینار اور اسپین اپنے میٹاڈور سے دنیا بھر میں پہچانا جاتا ہے۔
۔  
پاکستان جس شاہکار سے دنیا بھر میں مقبول ہے وہ اسکا اپنا ٹرک آرٹ ہے۔ 
پارٹیشن کے بعد تاجران برادری "لوگو" کا استعمال کرتے تاکہ اس سے انکے ٹرکوں یا بسوں کو توجہ مل سکے۔ اور ان کا بزنس آگے بڑھ سکے۔ آہستہ آہستہ ٹرک مالکان نے رنگوں کی مدد سے اپنی گاڑی کو سجانا شروع کیا۔ ٹرک کے بمپر پہ گھنٹیاں لگائیں کہ جب ٹرک چلے تو فضا میں اسکی آواز بلند ہو۔ ٹرک مالکان چاہتے ہیں کہ ان کا ٹرک اوروں کے ٹرکوں سے منفرد نظر آ? اور اس کے لیے وہ زیادہ پیسہ خرچ کرنے میں کنجوسی نہیں دکھاتے۔ 
ٹرک سجوانا ان کا شوق ہے۔ ہزاروں روپے خرچ کر کے یہ شوق وہ پورا کرتے ہیں۔ اور اسی شوق کی بدولت پاکستان کے عام آرٹسٹوں نے دنیا کے نامور آرٹسٹوں میں خود کی الگ ایک پہچان بنائ۔
ٹرک مالکان کے لیے ان کا ٹرک ان کی دلہن ہے۔ جس طرح دلہن کو سجانے کے لیے محنت لگتی ہے بلکل اسی طرح ایک ٹرک کو سجایا جاتا ہے۔ 
پاکستان کے ٹرک آرٹسٹ دو طریقوں سے ٹرک کو سجاتے ہیں۔ یا تو وہ پینٹنگ کرتے ہیں جس میں پھولوں کا کولاج ، مچھلی ، پہاڑ درخت ، کسی شخصیت کی تصاویر نمایاں کرتے یا پھر چرند پرند کینوس سے نکلتے ہیں۔
  
اور دوسرا ڈیکوریشن پیس ہے۔ اس میں مختلف میٹل شیٹز کا استعمال ہوتا ہے جسے ہتھوڑے کی مدد سے شکل دی جاتی ویلڈینگ کر کے ٹرک پہ لگایا جاتا ہے۔ چین ، پینڈنٹ، اسٹڈز، شیشہ،چمک پٹی، جھالریں، لکڑی، وڈن بلاکس اور وڈن کٹس ٹرک کی خوبصورتی ابھار دیتے ہیں۔ 

  
ٹرک آرٹ کو دنیا بھر میں اتنی مقبولیت ملی کہ دوسرے ممالک میں پاکستانی ٹرک نمائش کے لیے میوزئیم میں رکھا گیا ہے جسے لوگ اور سیاح پیسے دے کر دیکھنے آتے ہیں
۔




 ہم خوشنصیب ہیں جو اس آرٹ کو اپنے شہر کی سڑکوں اور گلیوں میں دیکھ سکتے ہیں۔
ٹرک ڈرائیور کا ٹرک ادھورا ہے اس آرٹ کے بنا۔ 
دبئی کے روڈ کی شان اگر پولیس کی گاڑی لیمبورگھنی ہے 
تو پاکستان کے روڈ کی شان اسکا فخر اپنا ٹرک ہے۔ 

ٹرکوں پہ نمایاں ہونے والے ڈیزائن یا تو علاقائی ہوتے ہیں یا مذہبی۔ ہر صوبے کا الگ ڈیزائن ہے اور الگ مرکز۔ سندھ کا کراچی ہے تو بلوچستان کا کوئٹہ، پنجاب کا لاہور ہے تو پختونخواہ کا پشاور۔ 
اسلام آباد اور راولپنڈی میں پلاسٹک کے کام کی اہمیت ہے۔
جسے انتاہی نفاست اور سلیقے سے دستکار شیٹز کو کاٹتتے ہیں۔سٹینلیس سٹیل مور ڈیزائن پنجاب میں مقبول ہیں

کراچی اونٹ کی ہڈی سے بنے زیورات میں مہارت رکھتا ہے۔ جبکہ پشاور اور کوئٹہ میں سادہ ٹرک کو ترجیح دی جاتی ہے۔
پاکستان کا ٹرک آرٹ اپنے اس منفرد خوبی کی وجہ سے ایشیائ کا مقبول ترین اور زیادہ پذیرایءپانے والا آرٹ بن چکا ہے۔ جو پاکستان کے لیے فخر کا سبب ہے۔

These fotos are used only for academic purpose

بے جوڑ شادیاں آفت کو دعوت

Composing mistakes


edited by rehma talpur
مصباح۔ار۔رودا
2k14/MC/52 (BS=3)
 فیچر
شادی یا آفت کی جڑ!
بے جوڑ شادیاں یا آفت کو دعوت
جوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں شادی شدہ جوڑوں کی اکثریت حقیقی خوشی سے محروم جھگڑوں کابرا اثر بچوں کے دماغ پر پڑتا ہے۔ 
شادی ایک ایسا سماجی بندھن ہ ©ے جس میں ساری دنیا ک ©ے لوگ دلچسپی لیت ©ے ہیں۔شادی ک ©ے اس اہم بندھن کو زندگی کی رونق سمجھا جاتا ہ ©ے اس کی بنیاد پر خاندان پھلت ©ے پھولت ©ے ہیں ےہ بندھن ب ©ے حد خوبصورت،پرکشش اور نازک ہوتا ہ ©ے ہر شخص شادی کی تمنا رکھتا ہ ©ے۔سوائ ©ے چند لوگوں ک ©ے جو شادی کو اہمیت نہیں دیت ©ے۔یہ جانت ©ے ہوئ ©ے بھی کہ یہ وہ لڈو ہیں جو کھات ©ے ہیں وہ بھی پچھتات ©ے ہیں اور جو نہیں کھات ©ے وہ بھی پچھتات ©ے ہیں۔شادی ایک ایسا فریضہ ہ ©ے جس کی ادائیگی ہر ایک شخص کو بھلی لگتی ہ ©ے کہ میاں بیوی ایک دوسروں ک ©ے دکھ درد میں شامل ہوت ©ے ہیں۔ ہر قوم ومذہب میں شادی کرن ©ے ک © ©ے مختلف طریق ©ے ہیں۔ ©اس موقع پر ہر ملک کے خاندان اپن ©ے اپن ©ے رواج ک ©ے مطابق مختلف رسومات ادا کرت ©ے ہیں وقت ک ©ے ساتھ ساتھ ان رسموں ک ©ے انداز بھی بدلت ©ے ہیں مگر اہمیت کسی بھی دور میں کم نہیںہوتی لیکن کچھ شادیاں ایسی بھی ہوتی ہیںجن کا کوئی جوڑ نہیں ہوتا اور زبردستی ایک دوسر ©ے پر مسلط کردی جاتی ہیں۔
شادی شدہ جوڑوں ک ©ے بار ©ے میں بہت س ©ے لطائف اورقہاوتیں مشہور ہیںان میں س ©ے ایک ایسے ہے کہ ایک بادشا ہ ن ©ے اعلان کروایا کہ جو مرد حضرات اپنی اپنی بیویوںسے ڈرت ©ے ہیں وہ ایک لائن میں کھڑے ہو جائیں اور جو نہیں ڈرت ©ے وہ دوسری لائن میں کھڑ ©ے ہوجاہیں تھوڑی دیر بعد بیویوں س ©ے ڈرن ©ے والوں کی ایک لمبی لائن بن گئی اور نا ڈرن ©ے والوں کی لائن میں صرف ایک آدمی کھڑا تھابادشاہ ن ©ے اس ©ے قریب بلاکر پوچھا کہ تم واقعی اپنی بیوی س ©ے نہیں ڈرت ©ے ؟ تو آدمی ب ©ےچارہ بولا کہ بادشاہ سلامت پتہ نہیں، مجھ ©ے تو میری بیوی کہہ گئی ہ ©ے کہ اسی لائن میں کھڑ ©ے رہنا ورنہ ٹانگیں توڑدونگی۔
آج کے اس دور میں جب دنیا اتنی آگے نکل چکی ہے وہیںکچھ لوگ اب بھی پرانی سوچ میںاپنی زندگیاں بسر کر رہے ہیں۔ اسی طرح سندھ کے بیشتر علاقوں میں یہ پاےا جاتا ہے جیسے کہ حیدرآباد اور ٹنڈوجام کے درمیان میں موجود ہ کچھ گاﺅں جیسے مٹیاری اور اللہ ڈنو سانڈ میں آج بھی ایسی روایات چلی آ رہی ہیںجو سوچ کر بھی انسان گھبراجائے وہاں موجود جوان لڑکیوں کی شادی کم عمری بچوں سے کردی جاتی ہیں لڑکیاں 25 سال کی ہوجانے کے بعد اپنے شوہر کے بڑے ہوجانے کا انتظار کرتی ہیںجو ابھی صرف 10 سے15سال تک کے ہوتے ہیں۔ان کم عمر بچوں کے بڑے ہوجانے پر وہ لڑکیاں ادھیڑ عمر کی ہو جاتی ہیں اور وہ لڑکے بڑے ہوکر دوسری شادی کر لیتے ہیںاس طرح وہ لڑکیاں جو اپنے شوہر کابرسوں سے انتظار کرتی رہی ہیںان کی زندگی خراب اور ختم ہی ہوجاتی ہے وہاں کی عورتیں گھر سے باہر نہیں نکلتیں کوئی بھی کام ہو چاہے بازار ہی کیوں نہ جانا پڑے ہر چھوٹے سے بڑا کا م آدمی ہی سر انجام دیتے ہیں۔ان لڑکیوں سے بات کرنے پر لڑکیوں کا کہنا تھا کہ کوئی ہماری مدد کرکے ان ر وایتوں کو ختم کرے تا کہ ہم بھی خشحالی والی زندگی بسر کر سکیں ۔
 یہ سوچنے اور فکر کرنے کی بات ہے کہ اس روایت کے پیش نظر ان معصوم لڑکیوں کی زندگیاں کیوں خراب کی جارہی ہیں یہ ہمارے معاشرے کا ایک ایسا کڑوا سچ ہے جس پر کوئی آواز اٹھانے کو تیار نہیں جہاں دیکھو اندھیرا ہی اندھیرا نظر آتا ہے۔یہ وہ بے جوڑ شادیاں ہیں جن کو کبھی کامیابی حاصل نا ہوسکیں۔
 بے جو ڑ شادیوں کے بہت سے نقصانات بھی ہیں جو ہمارے سامنے معاشرے میں موجود ہیں بس آنکھ کھول کر انہیں دیکھنے کی ضرورت ہے تاکہ معاشرے سے غیرت کے نام پر اپنی مرضی چلانے والوں کا کالا چہرہ سب کے سامنے آسکے اور وہ ان روایات کو ختم کر کے خود بھی شرافت کی زندگی گزاریں اور دوسروں کو بھی سکون کی زندگی بسر کرنے دیں۔کسی بھی کامیاب رشتے میں جوڑ ہونا ضروری ہے تاکہ وہ اپنی زندگی خوشحالی اور آسانی سے بسر کر سکیں۔

مصباح۔ار۔رودا
2k14/MC/52 (BS=3)
فیچر
الفاظ=۸۶۵
بے جوڑ شادیاں یا آفت کو دعوت
جوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں شادی شدہ جوڑوں کی اکثریت حقیقی خوشی سے محروم جھگڑوں کابرا اثر بچوں کے دماغ پر پڑتا ہے۔
انأنیر دولہا اور ڈاکٹر دولہن ہو تو ان کے شب وروز کیسے گزریں گے ۔ میاں کہے گا کہ بۂی میرا ہیلمٹ کہاں ہے، سیفٹی شوز کہاں ہے۔ ڈاکٹر بیوی اپنی اشیاء اس طرح ڈھونڈ رہی ہوگی کہ میرا تھرمامیڑ، ٹارچ نہیں مل رہی ۔ناشتے میں ڈاکٹر بیگم ٹوسٹ کا ٹیمپریچر 100ڈگری ہونا چاہیے، اور پرانٹا گھی کے بجائے ایک چمچ آئل میں پکا ہو،انڈا بغیر زردی ہو،دودھ ملائی اترا ہوا اور ملائی پھیکی ہو، ڈبل روٹی او ر بسکٹ شوگرفری ہو،کھانے میں چاول دال کے ساتھ اور بس۔انجئنیر صاحب اپنا مسئلہ پیش کریں گے۔میری روٹی کی پیمائش برابر ہونی چاہیے اور ناپ لیا جائے تھوڑی زیادہ ہوتو کاٹ دی جائے،بوٹیوں کا وزن برابر ہونا چاہیے۔روٹی پرکار کی طرح تکون نہیں بلکہ سی۔ڈی کی طرح گول ہونی چاہیے،پلیٹ میں سالن اور کپ میں چائے کا لیول برابر ہونا چاہیے ۔روٹی ، چاول اور چائے استعمال ہونے والے لیب ٹیسٹ کروائے جائیں وغیرہ وغیرہ۔
شادی ایک ایسا سماجی بندھن ہے جس میں ساری دنیا کے لوگ دلچسپی لیتے ہیں۔شادی کے اس بندھن کو زندگی میں رونق سمجھا جاتا ہے اس کی بنیاد پر خاندان پھلتے پھولتے ہیں۔شادی کا بندھن بے حد خوبصورت،پرکشش اور نازک ہوتا ہے۔ہر شخص شادی کی تمنا رکھتا ہے۔سوائے چند لوگوں کے جو شادی کو اہمیت نہیں دیتے۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ وہ لڈو ہیں جو کھاتے ہیں وہ بھی پچھتاتے ہیں اور جو نہیں کھاتے وہ بھی پچھتاتے ہیں۔شادی ایک ایسا فریضہ ہے جس کی ادائیگی ہر ایک شخص کو بھلی لگتی ہے کہ میاں بیوی ایک دوسروں کے دکھ درد میں شامل ہوتے ہیں۔ ہر قوم ومذہب میں شادی کرنے کے مختلف طریقے ہیں۔شادی کے موقع پر ہر ملک میں خاندان اپنے اپنے رواج کے مطابق مختلف رسومات ادا کرتے ہیں وقت کے ساتھ ساتھ ان رسموں کے انداز بھی بدلتے ہیں مگر اہمیت کسی بھی دور میں کم نہیں ہوتی لیکن کچھ شادیاں ایسی بھی ہوتی ہیں جن کا کوئی جوڑ نہیں ہوتا اور زبردستی ایک دوسرے پر مسلط کردی جاتی ہیں۔
شادی شدہ جوڑوں کے بارے میں بہت سے لطیفے اور باتیں مشہور ہیں ان میں سے کچھ یون ہیں کہ ایک بادشاھ نے اعلان کروایا کہ جو مرد حضرات اپنی اپنی بیویوں سے ڈرتے ہیں وہ ایک لائن میں کھڑے ہو جائیں اور جو نہیں ڈرتے وہ دوسری لائن میں کھڑے ہوجاہیں تھوڑی دیر بعد بیویوں سے ڈرنے والوں کی ایک لمبی لائن بن گئی اور نا ڈرنے والوں کی لائن میں صرف ایک آدمی کھڑا تھابادشاہ نے اسے قریب بلاکر پوچھا کہ تم واقعی اپنی بیوی سے نہیں ڈرتے ؟ تو آدمی بیچارہ بولا کہ بادشاہ سلامت پتہ نہیں، مجھے تو میری بیوی کہہ گئی ہے کہ اسی لائن میں کھڑے رہنا ورنہ ٹانگیں توڑدونگی۔
آج کے اس دور میں جب دنیا اتنی آگے نکل چکی ہے وہیں کچھ لوگ اب بھی پرانی سوچ میں زندگی گزار رہے ہیں۔حیدرآباد اور ٹنڈوجام کے درمیان میں موجود کچھ گاؤں جیسے مٹیاری اور اللہ ڈنو سانڈ ۔مٹیاری اور اللہ ڈنوسانڈ میں آج بھی ایسی روایات چل رہی ہیں جو سوچ کر بھی انسان گھبراجائے وہاں موجود جوان لڑکیوں کی شادی کم عمر بچوں سے کردی جاتی ہے لڑکیاں 25 سال کی ہوجانے کے بعد اپنے شوہر کے بڑے ہوجانے کا انتظار کرتی ہیں جو ابھی صرف 10 سے15سال تک کے ہوتے ہیں۔ان کم عمر بچوں کے بڑے ہوجانے پر وہ لڑکیاں ادھیڑ عمر کی ہو جاتی ہیں اور وہ لڑکے بڑے ہوکر دوسری شادی کر لیتے ہیں اس طرح وہ لڑکیاں جو اپنے شوہر کابرسوں سے انتظار کرتی رہی ہیں ان کی زندگی خراب اور ختم ہی ہوجاتی ہے وہاں کی عورتیں گھر سے باہر نہیں نکلتیں کوئی بھی کام ہو چاہے بازار ہی کیوں نا جانا پڑے ہر چھوٹے سے بڑا کا م آدمی ہی کرتے ہیں۔ان لڑکیوں سے بات کرنے پر لڑکیوں کا کہنا تھا کہ کوئی ہماری مدد کرے اور اس روایت کو ختم کرے۔
یہ سوچنے اور غور کرنے کی بات ہے کہ اس روایت کے پیش نظر ان معصوم لڑکیوں کی زندگیاں کیوں خراب کی جارہی ہیں یہ ہمارے معاشرے کا ایک ایسا کڑوا سچ ہے جس پر کوئی آواز اٹھانے کو تیار نہیں جہاں دیکھو اندھیرا ہی اندھیرا نظر آتا ہے۔یہ وہ بے جوڑ شادیاں ہیں جن کو کبھی کامیابی حاصل نا ہوسکیں۔ اس کے علاوہ بھی بہت سی ایسی جوڑیاں ہیں جنہیں معاشرے میں بے جوڑ تصور کیا جاتا ہے جیسے لمبے کی جوڑی چھوٹی سے، بہت کالے کی کسی گوری سے، کسی موٹے کی کمزور سے، کم عمر کی بڑی عمر سے،پڑھے لکھے کی جاہل سے وغیرہ۔
بے جو ڑ شادیوں کے بہت سے نقصانات ہیں جو ہمارے سامنے معاشرے میں موجود ہیں بس آنکھ کھول کر انہیں دیکھنے کی ضرورت ہے تاکہ معاشرے سے غیرت کے نام پر اپنی مرضی چلانے والوں کا کالا چہرہ سب کے سامنے آسکے اور وہ ان روایات کو ختم کر کے خود بھی شرافت کی زندگی گزاریں اور دوسروں کو بھی سکون کی زندگی گزارنے دیں۔کسی بھی کامیاب رشتے میں جوڑ ہونا ضروری ہے تاکہ وہ دونوں اپنی زندگی خوشی اور آسانی سے بسر کر سکیں۔

--------------------------------

مصباح۔ار۔رودا
2k14/MC/52 (BS=3)
  فیچر
الفاظ=۵۶۸
بے جوڑ شادیاں یا آفت کو دعوت
جوڑ ©ے آسمانوں پر بنت ©ے ہیںشادی شدہ جوڑوں کی اکثریت حقیقی خوشی س ©ے محروم جھگڑوں کابرا اثر بچوں ک ©ے دماغ پر پڑتا ہ ©ے۔
انج ¿نیر دولہا اور ڈاکٹر دولہن ہو تو ان ک ©ے شب وروز کیسے گزریں گے ۔ میاں کہے گا کہ بھ ¿ی میرا ہیلمٹ کہاں ہے، سیفٹی شوز کہاں ہے۔ ڈاکٹر بیوی اپنی اشیاءاس © © © © طرح ڈھونڈ رہی ہوگی کہ میرا تھرمامیڑ، © ٹارچ نہیں مل رہی ۔ناشتے میں ڈاکٹر بیگم ٹوسٹ کا ٹیمپریچر 100ڈگری ہونا چاہیے © © © ©، اور پرانٹا گھی کے بجا ©ئے ایک چمچ آئل میں پکا ہو،انڈا بغیر زردی ہو،دودھ ملائی اترا ہوا اور ملائی پھیکی ہو ©، ڈبل روٹی او ر بسکٹ شوگرفری ہو،کھان ©ے میں چاول دال ک ©ے ساتھ اور بس۔انجئنیر صا © © ©حب اپنا مسئلہ پیش کریں گ ©ے۔میری روٹی کی پیمائش برابر ہونی چاہی ©ے اور ناپ لیا جائ ©ے تھوڑی زیادہ ہوتو کاٹ دی جائ ©ے،بوٹیوں کا وزن برابر ہونا چاہی ©ے۔روٹی پرکار کی طرح تکون نہیں بلکہ سی۔ڈی کی طرح گول ہونی چاہی ©ے،پلیٹ میں سالن اور کپ میں چائ ©ے کا لیول برابر ہونا چاہی ©ے ۔روٹی ، چاول اور چائ ©ے استعمال ہون ©ے وال ©ے لیب ٹیسٹ کروائ ©ے جائیں وغیرہ وغیرہ۔
شادی ایک ایسا سماجی بندھن ہ ©ے جس میں ساری دنیا ک ©ے لوگ دلچسپی لیت ©ے ہیں۔شادی ک ©ے اس بندھن کو زندگی میں رونق سمجھا جاتا ہ ©ے اس کی بنیاد پر خاندان پھلت ©ے پھولت ©ے ہیں۔شادی کا بندھن ب ©ے حد خوبصورت،پرکشش اور نازک ہوتا ہ ©ے۔ہر شخص شادی کی تمنا رکھتا ہ ©ے۔سوائ ©ے چند لوگوں ک ©ے جو شادی کو اہمیت نہیں دیت ©ے۔یہ جانت ©ے ہوئ ©ے بھی کہ یہ وہ لڈو ہیں جو کھات ©ے ہیں وہ بھی پچھتات ©ے ہیں اور جو نہیں کھات ©ے وہ بھی پچھتات ©ے ہیں۔شادی ایک ایسا فریضہ ہ ©ے جس کی ادائیگی ہر ایک شخص کو بھلی لگتی ہ ©ے کہ میاں بیوی ایک دوسروں ک ©ے دکھ درد میں شامل ہوت ©ے ہیں۔ ہر قوم ومذہب میں شادی کرن ©ے ک © ©ے مختلف طریق ©ے ہیں۔شادی ک ©ے موقع پر ہر ملک میں خاندان اپن ©ے اپن ©ے رواج ک ©ے مطابق مختلف رسومات ادا کرت ©ے ہیں وقت ک ©ے ساتھ ساتھ ان رسموں ک ©ے انداز بھی بدلت ©ے ہیں مگر اہمیت کسی بھی دور میں کم نہیںہوتی لیکن کچھ شادیاں ایسی بھی ہوتی ہیںجن کا کوئی جوڑ نہیں ہوتا اور زبردستی ایک دوسر ©ے پر مسلط کردی جاتی ہیں۔
شادی شدہ جوڑوں ک ©ے بار ©ے میں بہت س ©ے لطیف ©ے اور باتیں مشہور ہیںان میں س ©ے کچھ یون ہیں کہ ایک بادشاھ ن ©ے اعلان کروایا کہ جو مرد حضرات اپنی اپنی بیویوںسے ڈرت ©ے ہیں وہ ایک لائن میں کھڑے ہو جائیں اور جو نہیں ڈرت ©ے وہ دوسری لائن میں کھڑ ©ے ہوجاہیں تھوڑی دیر بعد بیویوں س ©ے ڈرن ©ے والوں کی ایک لمبی لائن بن گئی اور نا ڈرن ©ے والوں کی لائن میں صرف ایک آدمی کھڑا تھابادشاہ ن ©ے اس ©ے قریب بلاکر پوچھا کہ تم واقعی اپنی بیوی س ©ے نہیں ڈرت ©ے ؟ تو آدمی ب ©ےچارہ بولا کہ بادشاہ سلامت پتہ نہیں، مجھ ©ے تو میری بیوی کہہ گئی ہ ©ے کہ اسی لائن میں کھڑ ©ے رہنا ورنہ ٹانگیں توڑدونگی۔
آج کے اس دور میں جب دنیا اتنی آگے نکل چکی ہے وہیںکچھ لوگ اب بھی پرانی سوچ میں زندگی گزار رہے ہیں۔حیدرآباد اور ٹنڈوجام کے درمیان میں موجود کچھ گاﺅں جیسے مٹیاری اور اللہ ڈنو سانڈ ۔مٹیاری اور اللہ ڈنوسانڈ میں آج بھی ایسی روایات چل رہی ہیںجو سوچ کر بھی انسان گھبراجائے وہاں موجود جوان لڑکیوں کی شادی کم عمر بچوں سے کردی جاتی ہے لڑکیاں 25 سال کی ہوجانے کے بعد اپنے شوہر کے بڑے ہوجانے کا انتظار کرتی ہیںجو ابھی صرف 10 سے15سال تک کے ہوتے ہیں۔ان کم عمر بچوں کے بڑے ہوجانے پر وہ لڑکیاں ادھیڑ عمر کی ہو جاتی ہیں اور وہ لڑکے بڑے ہوکر دوسری شادی کر لیتے ہیںاس طرح وہ لڑکیاں جو اپنے شوہر کابرسوں سے انتظار کرتی رہی ہیںان کی زندگی خراب اور ختم ہی ہوجاتی ہے وہاں کی عورتیں گھر سے باہر نہیں نکلتیں کوئی بھی کام ہو چاہے بازار ہی کیوں نا جانا پڑے ہر چھوٹے سے بڑا کا م آدمی ہی کرتے ہیں۔ان لڑکیوں سے بات کرنے پر لڑکیوں کا کہنا تھا کہ کوئی ہماری مدد کرے اور اس روایت کو ختم کرے۔
 یہ سوچنے اور غور کرنے کی بات ہے کہ اس روایت کے پیش نظر ان معصوم لڑکیوں کی زندگیاں کیوں خراب کی جارہی ہیں یہ ہمارے معاشرے کا ایک ایسا کڑوا سچ ہے جس پر کوئی آواز اٹھانے کو تیار نہیں جہاں دیکھو اندھیرا ہی اندھیرا نظر آتا ہے۔یہ وہ بے جوڑ شادیاں ہیں جن کو کبھی کامیابی حاصل نا ہوسکیں۔ اس کے علاوہ بھی بہت سی ایسی جوڑیاں ہیں جنہیں معاشرے میں بے جوڑ تصور کیا جاتا ہے جیسے لمبے کی جوڑی چھوٹی سے، بہت کالے کی کسی گوری سے، کسی موٹے کی کمزور سے، کم عمر کی بڑی عمر سے،پڑھے لکھے کی جاہل سے وغیرہ۔
 بے جو ڑ شادیوں کے بہت سے نقصانات ہیں جو ہمارے سامنے معاشرے میں موجود ہیں بس آنکھ کھول کر انہیں دیکھنے کی ضرورت ہے تاکہ معاشرے سے غیرت کے نام پر اپنی مرضی چلانے والوں کا کالا چہرہ سب کے سامنے آسکے اور وہ ان روایات کو ختم کر کے خود بھی شرافت کی زندگی گزاریں اور دوسروں کو بھی سکون کی زندگی گزارنے دیں۔کسی بھی کامیاب رشتے میں جوڑ ہونا ضروری ہے تاکہ وہ دونوں اپنی زندگی خوشی اور آسانی سے بسر کر سکیں۔

خواتین میں حجاب کا بڑھتا ہوا رجحان

Too much spelling and composing mistakes.  background, any interesting incident etc. Hijab is not only in Muslim society. 
 
فیچر
خواتین میں حجاب کا بڑھتا ہوا رجحان

محمد رافع خان
کلاس: بی ایس پارٹ ۳
رول نمبر:2k14/Mc/ 140

گزشتہ چند عرصے سے خواتین میں حجاب کا رجحان عام دکھائی دے رہا ہے۔بڑھتی ہوئی تعداد میں لڑکیاں اسے ضرورت اور فیشن سمجھہ رہی ہیں ۔ پہلے جہاں خواتین برقعے میں اپنے آپ کو محفوض سمھجتی تہیں اب وہاں آج کل برقعے سے زےادہ حجاب کو ترجیح دی جارہی ہے اور اس کا رجحان تیزی سے پروان چھتا دکھائی دے رہا ہے۔ حجاب اور عبائیہ کو اب صرف شادی شداہ یا گھریلو خواتین ہی نہیں بلکہ نوجوان لڑکیاں بھی بطور اور فیشن پہن رہی ھہیں۔ حجاب کو عورت کا
فطری حسن بہی کہا جا سکتا ہے۔
مارکیٹ میں ہر روز نت نئے انداز کے حجاب متعارف کرائے جا رہے ہیں جو کہ جدید دیزائن کے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے عورتوں اور لڑکیوں کی توجہ کا مرکز بنے ہوے ہوتے ہیں۔آج کل بہت سے اسکول،کالج اور یونیورسٹی کی لڑکیوں نے حجاب کو اپنایا ہوا ہے۔ اکثر اسکول کالج اور یونیورسٹی کی لڑکیاں حجاب اسکارف میں نظر آتی ہیں۔حجاب کا بڑا فائدا یہ ہے کہ وہ دوپٹے کی ضرورت پوری کر دیتا ہے۔
حجاب اور عبائیہ کا ایک دوسرے سے تعلق یے ہے کہ پہلے عبائیہ کا فیشن ہر خواتین لڑکیوں میں مقبول ہوا پہر حجاب کی اہمیت بڑی مگر اب حجاب کو پردے کے ساتھ ساتھ فیشن کا بھی حصہ بنا لیا ہے۔جہاں زماے کے دوسرے شعبہ ہاے زندگی میں تبدیلی ظاہر ہو رہی ہے ایسے ہی حجاب اوڑھنے کے ڈھنگ میں بھی تبدیلی دکھائی دے رہی ہے، پہلے خواتین فینسی گوٹے کناری والی چیزوں سے اپنے آپ کو ڈھک لیا کرتیں تہیں مگر آج کل خواتین نے حجاب کو اپنایا
ہوا ہے۔
ہر خطے اور علاقے کے لحاض سے حجاب اوڑھنے کا طریقہ الگ الگ ہے مگر ان کا مقصد صرف ایک ہی ہے اور وہ ہے پردہ۔جامعہ سندہ کی طلبہ کا یہ کہنا ہے کہ حجاب کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ روز روز طرح طرح کے کپڑوں کی جھنجٹ سے چہٹکارا مل گیا، اور یے حجاب،عبائیہ یا اسکارف کو بطور فیشن استعمال کر رہی ہیں
روبی نامی خاتون کا یے کہنا ہے کہ بازار جانا وہ ےا کہیں وہ ڈیزائنر ڈریسز سے زیادہ حجاب کو ترجیح دیتی ہیں۔ان کا یے بہی کہنا ہے کہ حجاب کو اپنایے سے ان کا خاصہ وقت بچ جاتا ہے جس کی بڑی وجہ یے ہے کے یے کپڑے استری کیے بغیر اپنا وقت بچاسکتی ہیں اور حجاب سے اپنے آپ کو ڈھک کر باآسانی کہیں بہی جا سکتی ہیں۔
خواتین نے فیشن کے طور پر اور اپنی آسانی کے لیے بھی حجاب کو اپناےا ہو ہے۔خواتیں کی کثیر تعداد بازاروں میں حجاب پہنے دکھائی دیتی ہیں جس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ حجاب کے ہوتے ہوے کسی لڑکی ےا خاتون کو مہنگے یا عمدہ جوڑے کی ضرورت نہیں ہوتی اسی لیے حجاب کا بڑھتا ہوا رجحان دکھائی دیتا ہے۔
ناہد نامی خاتون کے مطابق بجلی کی غیر حاضری میں حجاب ان کا باخوبی ساتھ دیتا ہے اکثر کسی ایمنجرسی صرتحال میں جب بجلی موجود نہیں ہوتی اور ان کے عمدہ اور خاص جوڑے استری نہیں ہوئے ہوتے تو یے عبایئہ اور اسکارف کو اپنا
لباس بنا لیتی ہیں۔
جامعہ سندھ کے شعبہ میڈےا اینڈ کمیونیکیشن کی طلبہ سائرہ ناصر کے مطابق اس کے دو پہلو ہیں ایک یے کہ شرعی پردہ جو اسلام میں ہے اور دوسرا حُسن کو بچانے کے لیے پردہ، زیادہ تر آج کل حُسن کو بچانے کے لیے پردہ عروج پر ہے جس کے لیے نت نئے انداز والے برقعے بازار میں متعارف کرائے جا رہے ہیں۔
اسلام میں بھی عبایئہ اور حجاب کو عورت کا فطری حُسن قرار دیا ہے۔اسلام کے نقطہ نظر سے پردہ اور حجاب عورت کو تقدس ہی نہیں تحفط بھی فراہم کرتا ہے اور دوسروں کی نظر سے بچانے کا بہترین ذریعہ بھی ہے۔ پردہ اور حجاب ایک ایسا عمل ہے جو بےحیائی کی جڑیں کاٹ دیتا ہے لیکن آج کل اتنے چست برقعے پہنے جاتے ہیں کہ اندازہ لگانا مشکل ہو جاتا ہے کہ یے خود کو بری نگاہوں سے بشانے کے لیے پہنے ہیں یا لوگوں سے مزے مزے کی تعریف سنے کرنے کے لیے۔
حیدرآباد کے مختلف مقامات پر حجاب ، برقعے، اسکارف اور عبایئہ کی خریدوفروغت کی جاتی ہے۔لطیف آباد نمبر آٹھ میں کڑہائی والے برقعے اور نئے نئے ڈیزائن کے برقعوں کے درمےان ریس چل رہی ہے جن کی قیمت تقریبا دو ہزار تک ہے ۔ حیدرآباد کا مشہور بازار ریشم بازار کی بتاشا گلی میں خاص طور پر فرمایئشی برقعے طیار کیے جاتے ہیں۔چاندنی بازار میں جویریہ عبایئہ اس بازار کی ایک ایسی واحد دکان ہے جس میں صرف اور صرف عبایئہ،برقعے اور اسکارف ہی فروغت کیے جاتے ہیں۔ اس دکان کے مینئجر کے مطابق ان کی دکان میں مختلف قصموں اور مختلف ڈیزائن کے برقعے اور عبایئہ حجاب کے لیے دستےاب ہیں جن کی قیمت آٹھ سو سے لے کر آٹھ ہزار تک ہے۔
بعض خواتین حجاب سے اپنے رنگ کو دھوپ اور آلودگی سے بچانے کے لیے بھی استعمال کر رہی ہیں۔
Photographs are used for purely academic puspose



عامل ، حکیم اور سیاسی وال چاکنگ

Improved 
محمد سعود شیخ 
2K14/MC/63
فیچر
"حیدرآباد شہر میں عامل ، حکیم اور سیاسی وال چاکنگ"
من پسند شادی 
کیا آپ بے اولاد ہیں؟
محبوب آپ کے قدموں میں 
کچرا پھینکنے والا۔۔۔۔

ہم اپنے ارد گرد گلی، محلوں، بس اسٹاپ، پارکوں ، عمارتوں ، شاہراہوں اور فلائے اوورز کے قریب موجود د یواروں پر اس طرح کے سوالات اور خیالات کا اظہار دیکھتے ہیں اور ان میں سے کچھ تو ہمارے احساسات اور خیالات پر بہت گہرا اثر ڈالتے ہیں اورکبھی ہم اسے اشتہارات کی ایک قسم سمجھ کر نظر انداز کردیتے ہیں ۔لیکن حقیقت میں یہ بدنما داغ کی مانند ہے۔

کسی بھی ملک ، شہر یا علاقے کی دیواریں وہاں کے لوگوں کے خیالات ، احساسات اور انکی ذہنیت کی بھرپور عکاسی کرتی ہیں اور اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ یہ ایک شہر کا چہرہ ہوتی ہیں اور اگر چہرہ ہی گندہ ہو تو باقی جسم کی اہمیت ماند پڑ جاتی ہے ۔ اسی طرح کے کچھ حالات پاکستان کے آٹھویں اور سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد میں ہیں ۔ یہاں جگہ جگہ دیواریں مختلف قسم کے نعروں اور اشتہارات سے پر ہیں ۔ یہ دیواریں کبھی کسی کریم کی اہمیت بتا رہی ہوتی ہیں تو کبھی کسی عامل کا پتہ اور کہیں پرہر بیماری کا علاج ہے اور کہیں اپنے جذبات کا اظہار اور کسی کسی جگہ تو گالیاں بھی آویزاں ہوتی ہیں جسے ہر راہ گیر بچہ بڑا ایک بار ضرور اپنی زبان سے گزارتا ہے ۔ اس طرح کے اشتہارات کے ساتھ ساتھ آج کل سیاسی نعروں کو دیواروں کی زینت بنانے کا رجحان بڑھتا جارہا ہے ۔ ایسے میں ایک جماعت اپنا نعرہ یا خیال لکھ کر جاتی ہے تو دوسری جماعت اسے کاٹ کر برا بھلا لکھنے کو اپنا اولین فرض سمجھتی ہے اور اس لڑائی میں دیوار کا حشر نشر کردیا جاتا ہے ۔ 

کچھ لوگوں کے مطابق وال چاکنگ کی ابتداء قدیم مصری لوگوں نے کی ۔ جو غاروں میں دیواروں پر اپنے خیالات کا اظہار کیا کرتے تھے اور اب یہ مختلف شکلیں تبدیل کرتے ہوئے وال چاکنگ کی شکل اختیار کرگئی اور اسے لوگوں نے اپنے خیالات کے اظہار کا ذریعہ بنا لیا ۔ کچھ لوگ یہ کام اپنی شناخت چھپاتے ہوئے معاشرے میں کسی نئے خیال کو اجاگر کرنے کیلئے بھی استعمال کرتے ہیں اور یہ ایک سستی اشتہاری مہم بھی ہے ۔

ان اشتہاروں میں بیشتر اشتہارات دھوکے سے بڑھ کر کچھ نہیں ہوتے اور معصوم اور کم علم لوگوں کو اپنا شکار بناتے ہیں ۔روڈ پر بیٹھنے والے ایک فقیر کا کہنا ہے کہ :

"جو بھی لگاؤ گے فوراً بک جائے گا کوئی کچھ نہیں پوچھتا" 

اگر حیدرآباد میں موجود مشہور شاہراہوں کی دیواروں پر ایک مجموعی نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوگا کہ یہاں سیاسی نعروں کی بھرمار ہے لیکن سب سے زیادہ پیروں ، عاملوں اورحکیموں کے اشتہارات کی وال چاکنگ ہے۔ یہ جعلی پیر معصوم لوگوں کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں ۔پینٹر عاصم کے مطابق موجودہ دور میں زیادہ تر اشتہارات پینا فلیکس پر چھپوائے جاتے ہیں ۔لیکن ان کا کاروبار ان عاملوں اور باباؤں کی وجہ سے ابھی بھی کافی اچھا چل رہا ہے۔

حیدرآباد کے ایک شہری فاضل صاحب جو خود ایک ٹیچر ہیں ان کے مطابق وہ ایک پیر کے پاس اپنے دماغی مریض بیٹے کے علاج کیلئے گئے تو انہیں کہا گیا کہ اس مرض کے علاج کیلئے تین تولا سونا جمعرات کی رات کو دریا کے کنارے ڈال آؤ ۔


اس طرح کے بہت سے دوسرے واقعات روزانہ کی بنیاد پر ہو رہے ہیں جو سڑک کنارے موجود دیوار پر لکھے اشتہارات کی وجہ سے رونما ہورہے ہیں اکثر جگہوں جیسے پبلک اسکول کی سڑک کے ساتھ موجود لمبی دیوار جسے متعدد دفعہ صاف کیا جاچکا ہے واپس چند دنوں میں انتہائی بدنما شکل میں تبدیل کردی جاتی ہے ۔

میرے خیال میں اس وال چاکنگ کے بڑھتے ہوئے رجحان کو کم کرنے کیلئے حکومت کو کوئی خاص اقدام اٹھانے کی ضرورت ہے کیونکہ پہلے کچھ قانون بنائے جاچکے ہیں لیکن ان پر عمل درآمد نہیں کیا جاسکا ۔اس کے علاوہ بلدیاتی ادارے کو چاہیے کہ وہ وال چاکنگ کے خاتمے کے لئے عملی اقدامات اٹھائیں اور ان عاملوں،بابا ؤں اور اشتہار لکھوانے والی کمپنیوں جو اس وال چاکنگ کے اصل ذمہ دار ہیں ان کے خلاف ایکشن لیں۔ وال چاکنگ کی روک تھام کیلئے ایک قانون موجود ہے جس کے مطابق وال چاکنگ کرنے والے کیلئے 6 ماہ قید اور پانچ ہزار روپے جرمانہ رکھا گیا ہے ۔لیکن اس قانون پر عمل درآمد نہیں کیا جا تا۔ 

اس کے علاوہ اس رجحان کو ختم کرنے اور دیواروں کو خوبصورت شکل دینے کیلئے مختلف یونیورسٹیوں کے طلبا ء نے میرا حیدرآباد کے نام سے مہم کا بھی آغاز کیا جس کے بعد حیدرآباد میں موجود سینٹ میریز اسکول کی دیواروں کو مختلف پینٹنگز کر کے خوبصورت اور دلکش بنایا گیا اس لیئے پر پورے طریقے سے قابو پانے کیلئے حکومت کو اس کی روک دھام کے ساتھ ساتھ ان دیواروں کو خوبصورت بنانے کیلئے بھی کچھ اقدام اٹھانے چاہیے جو خراب ہو چکی ہیں 

اس کے علاوہ عوام میں بھی شعور اجاگر کرنے کی نہایت ضرورت ہے ۔حکومت کو چاہیے کہ مختلف نجی اداروں اور این۔جی۔اوز کی مدد سے ایسے پروگرامز کا انعقاد کروائے جو عوام کے ذہنوں سے اس غلط رجحان کو ختم کر سکیں۔ جس طرح لاہور اور اسلام آباد میں وال چاکنگ کا رجحان ختم کرنے کیلئے اسٹریٹ آرٹس مقابلوں کا انعقاد کیا گیا ہے جس سے دونوں شہروں کی دیواروں کی خوبصورتی میں اضافہ ہوا اور وال چاکنگ کا خاتمہ بھی ہوا۔ اس طرح کے پروگرامز کی مدد سے باقی شہر وں کو بھی خوبصورت بنایا جائے ۔ 



Practical work carried out under supervision of Sir Sohail Sangi
---------------------------------------------------------------------------------------------------------------
NGO are only to create awareness, or set soem examples or models. Who others are stakeholders in wall chalking? People, general public, advertisers, municipalty,  govt departments (which one)
محمد سعود شیخ
2K14/MC/63
فیچر
"حیدرآباد شہر میں عامل ، حکیم اور سیاسی وال چاکنگ"
من پسند شادی
کیا آپ بے اولاد ہیں؟
محبوب آپ کے قدموں میں
کچرا پھینکنے والا۔۔۔۔

میں آپ اور دوسرے تمام لوگ اپنے ارد گرد گلی، محلوں، بس اسٹاپ، پارکوں ، عمارتوں ، شاہراہوں اور فلائے اوورز کے قریب موجود د یواروں پر اس طرح کے سوالات اور خیالات کا اظہار دیکھتے ہیں اور ان میں سے کچھ تو ہمارے احساسات اور خیالات پر بہت گہرا اثر ڈالتے ہیں اورکبھی ہم اسے اشتہارات کی ایک ستی قسم سمجھ کر نظر انداز کردیتے ہیں ۔لیکن حقیقت میں یہ بدنما داغ کی مانند ہے۔

کسی بھی ملک ، شہر یا علاقے کی دیواریں وہاں کے لوگوں کے خیالات ، احساسات اور انکی ذہنیت کی بھرپور عکاسی کرتی ہیں اور اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ یہ ایک شہر کا چہرہ ہوتی ہیں اور اگر چہرہ ہی گندہ ہو تو باقی جسم کی اہمیت ماند پڑ جاتی ہے ۔ اسی طرح کے کچھ حالات پاکستان کے آٹھویں اور سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد میں ہیں ۔ یہاں جگہ جگہ دیواریں مختلف قسم کے نعروں اور اشتہارات سے پر ہیں ۔ یہ دیواریں کبھی کسی کریم کی اہمیت بتا رہی ہوتی ہیں تو کبھی کسی عامل کا پتہ اور کہیں پرہر بیماری کا علاج ہے اور کہیں اپنے جذبات کا اظہار اور کسی کسی جگہ تو گالیاں بھی آویزاں ہوتی ہیں جسے ہر راہ گیر بچہ بڑا ایک بار ضرور اپنی زبان سے گزارتا ہے ۔ اس طرح کے اشتہارات کے ساتھ ساتھ آج کل سیاسی نعروں کو دیواروں کی زینت بنانے کا رجحان بڑھتا جارہا ہے ۔ ایسے میں ایک جماعت اپنا نعرہ یا خیال لکھ کر جاتی ہے تو دوسری جماعت اسے کاٹ کر برا بھلا لکھنے کو اپنا اولین فرض سمجھتی ہے اور اس لڑائی میں دیوار کا حشر نشر کردیا جاتا ہے ۔

کچھ لوگوں کے مطابق وال چاکنگ کی ابتداءقدیم مصری لوگوں نے کی ۔ جو غاروں میں دیواروں پر اپنے خیالات کا اظہار کیا کرتے تھے اور اب یہ مختلف شکلیں تبدیل کرتے ہوئے وال چاکنگ کی شکل اختیار کرگئی اور اسے لوگوں نے اپنے خیالات کے اظہار کا ذریعہ بنا لیا ۔ کچھ لوگ یہ کام اپنی شناخت چھپاتے ہوئے معاشرے میں کسی نئے خیال کو اجاگر کرنے کیلئے بھی استعمال کرتے ہیں اور یہ ایک سستی اشتہاری مہم بھی ہے ۔

ان اشتہاروں میں بیشتر اشتہارات دھوکے سے بڑھ کر کچھ نہیں ہوتے اور معصوم اور کم علم لوگوں کو اپنا شکار بناتے ہیں ۔روڈ پر بیٹھنے والے ایک فقیر کا کہنا ہے کہ :

"جو بھی لگاﺅ گے فوراً بک جائے گا کوئی کچھ نہیں پوچھتا"

اگر حیدرآباد میں موجود مشہور شاہراہوں کی دیواروں پر ایک مجموعی نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوگا کہ یہاں سیاسی نعروں کی بھرمار ہے لیکن سب سے زیادہ پیروں ، عاملوںاورحکیموںکے اشتہارات کی وال چاکنگ ہے۔ یہ جعلی پیر معصوم لوگوں کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں ۔پینٹر عاصم کے مطابق موجودہ دور میں زیادہ تر اشتہارات پینا فلیکس پر چھپوائے جاتے ہیں ۔لیکن ان کا کاروبار ان عاملوں اور باباﺅں کی وجہ سے ابھی بھی کافی اچھا چل رہا ہے۔

حیدرآباد کے ایک شہری فاضل صاحب جو خود ایک ٹیچر ہیں ان کے مطابق وہ ایک پیر کے پاس اپنے دماغی مریض بیٹے کے علاج کیلئے گئے تو انہیں کہا گیا کہ اس مرض کے علاج کیلئے تین تولا سونا جمعرات کی رات کو دریا کے کنارے ڈال آﺅ ۔


اس طرح کے بہت سے دوسرے واقعات روزانہ کی بنیاد پر ہو رہے ہیں جو سڑک کنارے موجود دیوار پر لکھے اشتہارات کی وجہ سے رونما ہورہے ہیں اکثر جگہوں جیسے پبلک اسکول کی سڑک کے ساتھ موجود لمبی دیوار جسے متعدد دفعہ صاف کیا جاچکا ہے واپس چند دنوں میں انتہائی بدنما شکل میں تبدیل کردی جاتی ہے ۔

میرے خیال میں اس وال چاکنگ کے بڑھتے ہوئے رجحان کو کم کرنے کیلئے حکومت کو کوئی خاص اقدام اٹھانے کی ضرورت ہے کیونکہ پہلے کچھ قانون بنائے جاچکے ہیں لیکن ان پر عمل درآمد نہیں کیا جاسکا ۔وال چاکنگ کی روک دھام کیلئے ایک قانون موجود ہے جس کے مطابق وال چاکنگ کرنے والے کیلئے 6 ماہ قید اور پانچ ہزار روپے جرمانہ رکھا گیا ہے ۔لیکن اس قانون پر عمل درآمد نہیں کیا جا سکا۔

اس کے علاوہ اس رجحان کو ختم کرنے اور دیواروں کو خوبصورت شکل دینے کیلئے مختلف یونیورسٹیوں کے طلبا ءنے میرا حیدرآباد کے نام سے مہم کا بھی آغاز کیا جس کے بعد حیدرآباد میں موجود سینٹ میریز اسکول کی دیواروں کو مختلف    پینٹنگز کر کے خوبصورت اور دلکش بنایا گیا اس لیئے پر پورے طریقے سے قابو پانے کیلئے حکومت کو اس کی روک دھام کے ساتھ ساتھ ان دیواروں کو خوبصورت بنانے کیلئے بھی کچھ اقدام اٹھانے چاہیے جو خراب ہو چکی ہیں

اس کے علاوہ عوام میں بھی شعور اجاگر کرنے کی نہایت ضرورت ہے ۔حکومت کو چاہیے کہ مختلف نجی اداروں اور این۔جی۔اوز کی مدد سے ایسے پروگرامز کا انعقاد کروائے جو عوام کے ذہنوں سے اس غلط رجحان کو ختم کر سکیں۔ جس طرح لاہور اور اسلام آباد میں وال چاکنگ کا رجحان ختم کرنے کیلئے اسٹریٹ آرٹس مقابلوں کا انعقاد کیا گیا ہے جس سے دونوں شہروں کی دیواروں کی خوبصورتی میں اضافہ ہوا اور وال چاکنگ کا خاتمہ بھی ہوا۔ اس طرح کے پروگرامز کی مدد سے باقی شہر وں کو بھی خوبصورت بنایا جائے ۔
Practical work carried out under supervision of Sir Sohail Sangi

Thursday, 4 August 2016

رلي: سنڌي ثقافت جي سونهن - مشتاق جمالي

Unedited
فيچر: 

مشتاق علي جمالي
2k14/mc/142

رلي: سنڌي ثقافت جي سونهن

سنڌ شروع کان ڪپڙي جي واپار ۽ صنعت جو مرڪز رهي آهي، نه رڳو هتي جا مرد هنر مند ۽ ڪاريگر آهن، پر زالون به سگهڙ ۽ سڄاڻ آهن، هوءَ گھر جي ڪم ڪار  سان گڏ ڀرت به ڀرينديون آهن ۽ هر قسم جي ٽوپي جو ڪم ڪنديون آهن، جن مان نور نچوئي ٺاهيل رليءَن کي سنڌ جي ثقافت طور مڃتا حاصل آهي. سنڌ جي ٻهراڙي جون عورتون رنگ برنگي ڪپڙي جي ٽُڪرين کي وڏي مهارت سان ڳنڍي هڪ وڏي چادر جنهن کي مقامي ٻولي ۾ "رليءَ" ڪري سڏيو ويندو آهي تيار ڪنديون آهن. رليءَ اُتي جي  مقامي لفظ "رلانا" مان نڪتو آهي جنهن جي معنيٰ آهي "ڳنڍڻ"۔ رليءَ خاص سنڌ جي سوکڙي آهي، رليءَون ٻهراڙيءَ جي گهرن جو سينگار آهن، سگهڙ عورتن جي هٿ جو هنر ۽ سندن ڪاريگريءَ جو شاهڪار آهن.
 رليءَون پاڪستان جي ڏکڻ وارن علائقن جهڙوڪ سنڌ، بلوچستان ۽ چولستان سحرا سان گڏ انڊيا جي راجستان ۽ گُجرات وارن علائقن ۾ پڻ تيار ڪيون وينديون آهي. مختلف ذاتين، قبيلن، ڳوٺائي مايون توڙي خانه بدوش عورتون گھرن ۾ ويهي رليءَءَ جو ڪم ڪنديون آهن. رليءَءَ جو استعمال هنڌ يا بستري طور ٿيندو آهي، ٻهراڙي ۾ اڪثر ماڻهو مهمانن کي کٽ تي رليءَ وڇائي خاطر توازا ڪندا آهن. ان کان علاوه نياڻي جي ڏاج رليءَ بنا اڌوري سمجهي وڃي ٿي. رليءَ ڏيهه توڙي پرڏيهه ۾ هڪ خاص ثقافت طور سڃاتي وڃي ٿي. 
سنڌ جي سگھڙ عورتن جي هن خوبصورت شاهڪار کي دنيا جي مختلف ملڪن ۾ نمائش طور پيش ڪيو ويو. آمريڪا جي ڪيترن ئي عجائب گھرن ۾ پڻ نمائش طور پيش ڪيو ويو، اوهان کي ٻڌائيندا هلون ته سڀ کان پهرين رليءَ جي نمائش سن 2003 ۾ آمريڪا جي شهر هوسٽن ۾ هڪ ميلي ۾ لڳائي وئي، آمريڪا جي "نيبراسڪا لنڪن" نالي يونيورسٽي ۾ رليءَ جا تقريبن 150 مختلف قسم موجود آهن. رليءَ جو هنر سڄي سنڌ ۾ آهي، مٽياري ضلعي جي ٽنهي تعلقن نيوسعيدآباد ، هالا، مٽياري جي ٻهراڙين اڏيرو لعل اسٽيشن، سيکاٽ، ڀٽ شاه موري، هالا ، نيو سعيدآباد ، بکر جمالي، ۽ جان محمد جمالي سميت ڪيترن علائقن ۽ ڳوٺن ۾  به سگھڙ عورتون هٿ سان خوبصورت رليون ٺاهن ٿيون. انهن جي بيهڪ، ڊزائن ۽ ٽوپو ڏسي، حيرت وٺي ويندي آهي.
رليءَ جا قسم  
سنڌ ۾ انيڪ قسمن جون رليون ٺهن ٿيون، جنهن ۾ ٽڪ واري رليءَ تمام گھڻي مشهور آهي، جنهن کي تيار ڪرڻ ۾ نه صرف وڌيڪ محنت گھربل آهي پر ان سان گڏ وڌيڪ خرچ ۽ وقت گھربل آهي. رليءَ جي ٻين قسمن ۾ ڇهن دٻلن واري، سورهن چنڊن واري، سٺ دٻلن واري، کوهه ڦيري واري، اڌ ٽڪ واري، پکي واري، نانگ ڦڻ، نور پڇي، ڦڻيءَ ڪور، فرشي، پتاشي، ٽڪ واري وغيره  شامل آهن،پر مختلف قومون پهنجي ريتن رسمن پٽاندڙ مختلف قسمن واريون رليون ٺاهينديون آهن، ان بنياد تي انهن جا نالا به مختلف هجن ٿا.
رليءَ ٺاهڻ جو طريقو.
سنڌي عورتون پراڻن ڪپڙن مان ڏاڍا ٽڪر ڪڍي، گڏ ڪنديون وينديون آهن. جڏهن ڪافي اڳڙيون گڏ ٿي وڃن، تڏهن انهن کي جدا جدا رنگ ڏيئي رڱينديون آهن. انهن مختلف رنگين ٽڪرين مان چورس، ٽڪنڊن، مستطيل شڪلين ۾ اڳڙيون ڪتري، ٽڪريون ٺاهينديون آهن. اهي ٽڪريون پاڻ ۾ ڳنڍي، جدا جدا ڊزائينون تيار ڪنديون آهن. هر هڪ ڊزائين کي ”چنڊ“ چئبو آهي. هن نموني سان تيار ٿيل رليءَ کي ”ٽڪرين واري رليءَ“ چئبو آهي. ڪي زالون وري اٽڪل هڪ گرانٽ هم چورس اڳڙيءَ جي ٽڪرن کي ڪئنچيءَ سان ٽڪينديون آهن. ان ٽڪيل ڪپڙي کي ٻي ڪپڙي جي مٿان سئيءَ سان جڙي، چنڊ تيار ڪنديون آهن. ٽڪ وارا چنڊ تيار ڪرڻ لاءِ گهڻي محنت ۽ ڄاڻ جي ضرورت هوندي آهي، اهڙيءَ رليءَ کي ”ٽڪ واري رليءَ“ چئبو آهي.
ٽڪ يا ٽڪرين مان تيار ڪيل چنڊن کي ڳنڍي، ڏيڍ ميٽر ويڪرو ۽ سوا ٻه ميٽر کن ڊگهو تہـ تيار ڪيو ويندو آهي، ان تهه جي چو طرف مختلف رنگن جون پٽيون ۽ ڪنگريون يا گڏيون لڳايون وينديون آهن، اهڙيءَ طرح هڪ تهہ تيار ڪرڻ بعد هڪ ٻيو لسو تهه به تيار ڪيو ويندو آهي.
تهن ٺاهڻ کان پوءِ لسو تهه وڇائي، ان جي مٿان پراڻي ڪپڙي مان صاف ڪيل اڳڙين جا ٻه ٽي تهه ترتيب سان سٿيا ويندا آهن. ان بعد ٽڪرين يا ٽڪ وارو تيار ٿيل تهه ان جي مٿان رکي، پاسن کان ٽوپو ڏنو ويندوآهي. تهن کي پاسن کان ٽوپي ڏيڻ بعد، ٿوريءَ ٿوريءَ وڇوٽيءَ تي ٽوپا ڏنا وينداآهن. انهن ڇڊن ٽوپن کي ”دوڳڻ“ چئبو آهي. رليءَ جي دوڳڻ جو اهو مقصد هوندو آهي ته تهن جي وچ ۾ سٿيل اڳڙيون اڳتي پوئتي ٿي ڳنڍا ڳوڙها نه ٿي پون. دوڳڻ کان پوءِ هر هڪ دوڳ جي وچ ۾ گهاٽا ٽوپا ڏنا ويندا آهن. اهڙيءَ طرح سڄي رليءَ تيار ڪئي ويندي آهي. ٽوپا ڏاڍي خبرداريءَ سان ڏنا ويندا آهن، ۽ انهن جا کڻ گهڻو ڪري هڪجيڏا ۽ هڪجهڙا هوندا آهن. انهي ڪم دوران عورتون پنهنجي پيارن جي لاءِ دعائيا سحرا به ڳائينديون آهن.
اڄڪلهه رليءَ جي ٺهڻ ۽ استعمال ۾ به نواڻ ۽ جدت آئي آهي. مثال طور اڄوڪي زماني ۾ اڪثر ماڻهو ڪپڙي جي هڪ وڏي تهه کي مشينري سان مختلف رنگين ٽڪرين جي شڪلن ۾ ڇاپي يا وري گلن ۽ ٻين قسمن جا ڇاپا هڻي ان تهه کي بنا ڪنهن دوڳڻ ۽ ٽوپو ٽاڙي جي کٽن تي وڇائيندا آهن. ان سان گڏوگڏ شهري ماڻهو به گهرن ۾ ان قسم جي رليءَ کي ڊرائينگ روم جي سجاوٽ ۾ ڪتب آڻين ٿا. انهي جدت کي ٻهراڙي ۾ به قبوليو ويو. اتان جي سگھڙ عورتن جو چوڻ آهي ته اسان اهي تهه خريد ڪري انهي کي رليءَ جي ساڳي مرحلي مان گذاريندا آهيون، ان سان  ٽڪريون ڳنڍڻ وارو وقت بچي پوي ٿو. 
رلي سنڌي ثقافت جي مهندار آهي سنڌ جي تاريخي قصن، لوڪ ڪهاڻين ۽ ڪلاسيڪل شاعري ۾ به رلي جو ذڪر ملي ٿو. سنڌ جو ڀلوڙ شاعر حسن درس به پنهنجي محبوب جي لاءِ زندگي جي رلي وڇائي ٿو.
زندگي ڀلي اهڙي، ٽڪ تي رلي جهڙي
آئون وڇايان تون نه ويهين، ان کان ويڙهيان کڻي
نور نچوئي رليون ٺاهيندڙ سگھڙ عورتن جو چوڻ آهي ته هڪ رلي ٺاهڻ ۾ گھٽ ۾ گھٽ مهيني جو وقت لڳي ويندو آهي، ان حساب سان ڏسجي ته اجورو گھٽ ملي ٿو، هڪ رلي مارڪيٽ ۾ ٻن هزارن کان پنج هزارن ۾ وڪامجي ٿي. هن مهانگائي جي دور ۾ پنج هزارن مان ٻن ويلن جي ماني جو انتظام به ناهي ٿيندو. ڪڏهن ڪڏهن دل چوندي آهي ته هن هنر کي ڇڏي ڏيون گذر سفر لاءِ ڪو ٻيو هنر ڪيون. “رلي سنڌي ثقافت جي سونهن آهي”  انهي جملي يا خوش فهمي سان ڀلا پيٽ ته نه ڀرجي سگھندو، جيئڻ جي لاءِ ٻن ويلن جي ماني ته ضروري آهي نه.
 جيڪڏهن سگھڙ عورتن هن هنر کي ڇڏي ڏنو ته پوءِ شايد رلي جو ذڪر مستقبل ۾ ڪتابن ۾ ئي ملندو، سنڌ سرڪار توڙي ثقافت کاتي کي گھرجي ته ثقافت جي هن اهم حصي کي بچائڻ جي لاءِ خاطرخواه قدم کڻي، رڳو رلي کي ٻاهرين ملڪن جي مارڪيٽن ۾ پهچائڻ جي لاءِ ڪوششون ورتيون وڃن ته ان سان رليون وڏي تعداد ۾ ايڪسپورٽ ٿينديون، جنهن سان قيمتن ۾ به مناسب اضافو ٿيندو ۽ ٻاهرين ملڪن ۾ به سنڌي ثقافت اجاگر ٿيندي.