Showing posts with label محمد وقاص عامر. Show all posts
Showing posts with label محمد وقاص عامر. Show all posts

Thursday, 8 September 2016

آرٹیکل وقاص عامر آرائیں


وقاص عامر آرائیں 
رول نمر 2k14/MC/66
بی ایس پارٹ تھری
آرٹیکل

حیدرآباد میں بڑھتا ہوا سپر مارٹس کا رجحان

مختلف مارکٹس مختلف دکانیں گھر کا سودا لینے نکلے اور پورا بازار گھوم گھوم کر بدہال ہو گئے۔عموماً گھروں میں مہینے بھر کا راشن لایا جاتا ہے اور ظاہر ہے مہینے بھر کے مکمل راشن میں استعمال کی ہر چیز ہوتی ہے جیسے دالیں ،صابن ،مصالے ،کپڑے دھونے کا سرف اور گوشت وغیرہ شامل ہوتے ہیں اور جہاں تک بات ہے بازار وں کی تو سب چیزیں ایک دکان سے ملنا تو نا ممکن ہیں اور نہ ہے من مرضی کی کم کیمتیں ایک یا دو دکانوں سے با آسانی دستیاب ہو تی ہیں ۔اس سب کے لیے عوام کوبازار بازار اور دکان دکان رلنا پڑتا ہے پر ’ سپر مارکیٹ ‘ اس جگہ کانام ہے جو عوام کے لیے کسی نعمت اور سہولت سے کم نہیںیہ عوام کے لیے وہ سہولت ہے جس کی عوام کو اشد ضرورت تھی۔ سپر مارکیت کے قیام میں آنے سے ایک ہی چھت کے نیچے عوام کو گھریلووروزمراہ کی ضروریات کی تمام اشیائبا آسانی دستیاب ہیں جن چیزوں کے حصول کے لیے ایک دکان سے دوسری دکان پر جانے میں وقت کا ضیاء ہوتا تھا اب وہیں تمام چیزیں وقت رہتے مل جاتی ہیں ۔ سپر مارکیٹ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہاں چیزیں کم لی جایءں یا زیادہ پر دوسری دکانوں کی بنثبت یہاں سے چیزیں سستی مل جاتی ہیں ۔ان سب چیزوں کی وجہ سے عوام کابڑی تیزی سے سپر مارکیٹس کی طرف رجحان بڑھتا جا رہا ہے اور بڑھے بھی کیوں نہ جب عوام کو آسانی کے ساتھ ایک ہی چھت کے نیچے ان کے استعمال اور ضرورت زندگی کی تمام چیزیں دستیاب ہیں تو اس سے اچھا اور کیا ہو گا ۔ حیدرآباد جہاں تفریحی مقمات بھی انتہائی کم بلکہ اگر یہ بولا جائے کہ نہ ہونے کے برابر ہیں تو غلط نہ ہوگا ایسے میں حیدرآباد میں کھلنے والے یہ سپر مارٹس جہاں عوام کے لیے خریداری میں سہولت کا مرکز ہیں وہیں نہایت خوشگوار اور اچھے ماحول میں خریداری کے ساتھ ساتھ تفریح کی چاہ بھی پوری کرتے ہیں ان سپر مارٹس میں بچوں لیے پلے ایریا بھی موجود ہیں اور خریداری کرتے اگر بھوک لگ جائے تواس مسئلے کے حل کے لیے فورڈ کورٹس بھی بنائے گئے ہیں۔ حیدرآباد کی بات کی جائے تو یہاں اس وقت پانچ بڑے مارٹس موجود ہیں جن میں میکس بچت بازار جو ٹھنڈی سڑک پر واقع ہے، دوسرا داؤد سپر مارٹ جو فوجی داری روڈ پر واقع ہے ، تیسرا نیشنل سپر مارٹ جو کہ ہالہ ناکہ نیشنل ہایء وے پر موجود ہے، چوتھا بیگ مارٹ جو کہ لطیف آباد نمبر 2 میں واقع ہے اور پانچواں ڈیلٹن سپر مارٹ جو نسیم نگر روڈ پر موجود ہے ۔ یہ تو ان پانچ بڑے مارٹس کی بات ہو گئی پر ان کے علاوہ حیدرآباد میں اور بھی چھوٹے مارٹس موجود ہیں جن میں عمران مارٹ اور کیو مارٹ شامل ہیں ۔ سپر مارٹس میں جو اشیاء کم کیمتوں میں ملتی ہیں اور عوام کا ایک طبقہ یہ سوچتا ہے کہ یہ اشیاء نقل ہیں تو ایسا بلکل نہیں ہے بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ سپر مارکیٹس اتنی بٹی تعداد میں چیزیں کمپنیوں سے خریدتے ہیں کہ کمپنیاں خود انہیں ڈسکاؤنٹ اور مختلف ڈیلز فراہم کرتی ہیں جس کی بدولت آگے یہی چیزیں کم پیسوں میں باآسانی عوام کو میسر ہوتی ہیں۔ سپر مارٹس جہاں عوام کے لیے آسانی اور سہولت کا مرکز ہے ویہں تاجران اور سپر مارٹس مالکان کے لیے منافع بکش اور بہترین کاروبار بھی ہے یہاں چاول، دال، آٹا، بیکری، گوشت، چکن سے لے کر روز مراہ کے استعمال کی تمام اشیاء جن میں ٹوتھ برش، ٹوتھ پیسٹ، صابن، کول ڈرنکس، کپرے اور بچوں کے لیے ٹوفیاں ، چاکلیٹس اور دیگر تمام اشیاء ایک ہے چھت کے نیچے ایک خوشگوار اور سکون بخش ماحول میں عوام کے لیے موجود ہیں ۔ جہاں یہ سب عوام کے لیے سہولت اور مالکان کے لیے منافع بخش کاروبار ہے اہیں چھوٹے تاجر اور چھوتے دکاندار ان برے سپر مارٹس کے کھلنے کے بعد سے کاروبار کم ہونے سے پریشان ہیں کیونکہ جہاں انکی دکانوں پر روزمراہ کے استعمال کی تمام چیزیں موجود نہیں تو ظاہر ہے کہ عوام نے ان سپر مارٹس کا رخ ہی کرنا ہے جہاں ایک ہی چھت کے نیچے انہیں تمام ضروریات زندگی کی چیزیں باآسانی اور آرام سے میسر ہو جاتی ہیں جس وجہ سے ان چھوٹے دکانداروں اور تاجروں کو بہت نقصان پہنچا ہے ۔ پر یہ سپر مارٹس عوام کے لیے سہولت کے ساتھ ساتھ موڈرن سوسائیٹی کی طرف ایک کامیاب قدم بھی ہیں ۔

پروفائل, محمد وقاص عامر,


محمد وقاص عامر
رول نمبر: 66
بی ۔ایس پارٹ3(تھری)
پروفائل محمد زبیر احمد

محمد زبیر احمد

محنت کیے بغیر زندگی میں کچھ حاصل نہیں ہوتا چاہے جتنی مجبوریاں و مشکلات انسان کا گھیرا تنگ کرلیں۔اسی کی منہ بولتی مثال محمد زبیر احمد نامی ایک آدمی جو حیدرآباد کے علاقے لطیف آباد نمبر8 میں رہائیش پزیر ہیں۔35 سالہ زبیر احمد ایک ایسا ہیرا جس کی پہچان کرنا نا ممکن ہے جوچلنے پھرنے کی طاقت سے تو محروم ہیں پر اسکے باوجود انکی عزم و ہمت انکی شخصیت کی عقاصی کرتی ہے۔معزوری کے باوجود اپنی زندگی کا بوجھ خود سنبھالنے کو ترجیح دی۔کبھی کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کوبہتر نا سمجھا۔پڑھنے لکھنے کا بچپن ہی سے شوق تھا پر معزوری اور غربت کے باعث یہ خواب پورا نہ ہوسکا اور ساتھ ساتھ گھر کے حالات نے بھی ساتھ نہ دیا۔ 8 سال کی کمسن عمر میں والد صاحب کے انتقال کے بعد گھر کی کفالت کرنا اپنا اولین فریضہ سمجھا، لحاظہ اس فریضے کے حصول کے لیے پہلے چوکیداری کی پھر سبزی بیچی اور پھر دکانداری بھی کی اور اب آخر کار ڈولتے ڈولتے اور خود کو اس دنیا کی بھٹی میں جھونکتے ہوئے اب گلاب اور چمبیلی کے پھولوں سے گجرے بنا بنا کر بیچتے ہیں ۔حالات و واقعات نے زندگی کے کسی پوڑ پر ساتھ نہ دیابلکہ ہمیشہ پیچھے دھکیلا پر زبیر احمد نے ہمت نہ ہاری اور ثابت قدمی سے تمام مشکلات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔

پڑھائی کا بہت شوق تھاپر قسمت نے موقع نہ دیا۔پر شوق کے آگے مجبور یہ انسان اپنے پڑھنے کے اس شوق کو نہ دبا سکے اور جیسے ہی وقت ملتا تو محلے کے کچھ بچوں کے ساتھ بیٹھ کر روز کا تھوڑا تھوڑا سبق سیکھ لیتے ہیں ۔خود پیروں سے معزور زبیراحمد نے پوری دنیا کے لوگوں کی مدد کرنے کو اپنا فلسفائے زندگی بنا رکھا ہے۔حالات مستحکم نہیں پر پھر بھی کسی ضرورت مند کو دیکھتے ہیں توخود سے اسکی مدد کرنے کی اور ایک دیے سے دوسرا دیا جلانے کی پوری اور ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔کہتے ہیں جس ہال میں خود ہوں اس ہال میں کسی اور کو نہیں دیکھ سکتا ۔اس غربت و مفلسی کے عالم میں روز کے 250 سے 300 کما لیتے ہیں کہتے ہیں یہ ہانڈی پکانے کے لیے کافی ہیں باقی شکر ہے خدا کا زندگی تو گزر ہی رہی ہے۔جب ایک ماہ کی عمر کو پہنچے تو ٹائیفائیڈ کے بخار نے زبیر احمد کو بری طرح جکڑ لیاجس کے باعث نہ اسکول جا سکے اور نہ کتابیں کھول سکے پر پھر بھی بات کرنا بخوبی جانتے ہیں اور کوئی انسان اس بات کا اندازہ تک نہیں لگا سکتا کہ اس سے مخاتب یہ معزور شخص غیر تعلیم یافتہ یا انپڑھ ہے۔ کہتے ہیں ڈھونڈنے سے تو خدا بھی مل جاتا ہے زبیر احمد نے اپنی صحتیابی کے لیے بہت سی درگاہوں پر حاضری دی پر جو اللہ کو منظور آکر کار اللہ کی رضا میں ہی اپنی خوشی جان لی اور اسی حال میں زندگی گزارنے کی ٹھانلی پر محنت سے کبھی منہ نہ موڑااور معزوری کی حالت میں بھی محنت کر کے دوسروں کے لیے مثال پیش کی جس سے سب کو سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔ 

پیروں سے معزوری اور غربت کے باوجود اپنے اخلاق کو دوسوں کے لیے متعاصر کن بنایااور محنت ومزدوری کرنے میں کبھی شرمندگی محسوس نہ کی ۔ میں اپنے آپ کو کمزور نہیں سمجھتا بقول زبیر احمد کیوں کہ میری ہڈیوں میں اتنی طاقت اب بھی باقی ہے کہ میں اپنا اور اپنے گھر والوں کا پیٹ اچھی طرح سے پال سکوں اسی لیے شروع دن سے محنت کو اپنایا اور غلامی کو لعنت سمجھتا ہوں ۔8 سال کی کمسن عمر میں والد صاحب کے انتقال کے بعد ایک ماں اور دو بہنوں کی کفالت کی ذمہ داری پوری لگن اورثابت قدمی سے نبھائی اور کبھی دلبرداشتہ نہ ہوئے۔دو بہنوں میں سے چھوٹی بہن ثانیہ زیادہ عزیز جان ہے اور بھائی کے دل کے بہت قریب ہے۔ بہنوں سے محبت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ روز دونوں بہنوں اور ماں کے لیے الگ سے دودو گجرے صبح اٹھتے ہی بنا کر رکھ دیتے ہیں۔پودوں سے بہت لگاؤ ہے اور خود اپنے پودوں کی دیکھ بھال بھی کرتے ہیں ،کہتے ہیں پودے بہت خاموش ہوتے ہیں چاہے انہے توڑ لو یہ کچھ نہیں کہتے بس خاموش رہتے ہیں اور اپنے اوپر ظلم ہونے دیتے ہیں پودوں کے ساتھ یہ سلوک مجھ سے دیکھا نہیں جاتا۔حالات وواقعات نے زبیر احمد کو بہت حساس طبیعت کا مالک بنادیاہے پر شاعری پسند کرتے ہیں ۔قدآور شخصیت رنگ بھورا پر جسم غربت کی وجہ سے ڈھانچے کی مانند ہے مگر حوصلے بلندوباری ہیں ۔ زندگی میں اتنی محنت کے باوجود بھی اپنی غربت نہ مٹاسکے اور کسماپرثی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں پر یقین قامل اتنا ہیں کہ کوئی نہ امیدی نہیں ۔زبیر احمد کی یہ زندگی ہر شخص کے لیے مکمل نمونہ اور بہترین مشعل راہ ہے۔انکی زندگی سے ہمیں یہ سیکھنے کو ملتا ہے کہ چاہے معزوری انسان کا مقدر بن جائے پر اگر ثابت قدم رہ کر محنت کی جائے اور زندگی تمام مشکلات کا ڈٹ کر مقابلہ کیاجائے تو بعزت اور خوشحال زندگی گزارنا آسان ہو جاتا ہے۔۔

Monday, 22 August 2016

محمد وقاص عامر, فیچر

 Feature is always reporting based and writing in interesting manner. Basic purpose of feature is to entertain. Where it is located? when it was established? whats its condition now? 
For profile, interview and feature foto is must
نام: محمد وقاص عامر
کلاس: بی -ایس پارٹ تھری
رول نمبر:66
فیچر

گورمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی حیدرآباد

شہر حیدرآباد میں واقع گورمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی پچھلی کئی دہایوں سے حیدرآباد اور گردونواح کے طلبۂ کو اعلی تعلیم میں ٹیکنالوجی کی فیلڈ سے آراستہ کر رہا ہے۔اس ادارے کو بنانے کا خاص و اوّلین وجہ حیدرآباد میں یونیورسٹی کا نہ ہونا ہے اور اگردیکھا جائے تو حیدرآباد میں دیگر ٹیکنالوجی اداروں کے برعکس گورمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی ہر ٹیکنالوجی کی فیلڈ میں مہارت رکھتا ہے ۔دنیا میں آج جب لوگ ٹیکنالوجی کی دوڑ میں بہت آگے نکل چکے ہیں وہیں ملک پاکستان میں بھی اس ٹیکنالوجی کی فیلد کو مدنظر رکھتے ہوئے ہر فیلڈ میں کم وقت میں ڈپلوماز کروائے جا رہے ہیں ۔شہر حیدرآباد جو کہ یونیورسٹی سے تو محروم ہے لیکن وہیں یہ گورمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی ہر سال ہزاروں طلبۂ کو ٹیکنالوجی کی تعلیم سے آراستہ کر رہا ہے ۔نعیم نامی طالب علم سے بات کرتے ہوئے معلہم ہوا کہ یہاں ہر فیلڈ میں تھیوری کہ ساتھ ساتھ پریکٹیکل ورک بھی کروایا جاتاہے جو طلبۂ کے لیے فائدے مند ثابت ہوتا ہے اور آگے کے لیے بہت مفید بھی ہے اور اساتذہ بھی ہمیشہ سرہاتے ہیں تعلیم کے حوالے سے کالج کا ماحول نہایت خوشگوار ہے ۔

گورمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی حیدرآباد میں 12 سے زائد فیلڈز میں تین سالہ ڈپلوماز کر وائے جاتے ہیں جس میں زیادہ ترطلبۂ سول ، الیکٹریکل اور مکینکل کی فیلڈز میں رجسٹرڈ ہیں اور بی- ٹیک (اونرز) کی ڈگری ٹیکنالوجی کی فیلڈ میں دی جاتی ہے ساتھ ہی چار ماہ کے شارٹ کورسز میں طلبۂ کے لیے میٹرک کے فوراً بعد ایئر کنڈیشنرریپیئرنگ، ایل - ای -ڈی ٹیلی ویزن ریپیئرنگ ، موبائل فون ر یپیئرنگ اور ریفریجریشن ریپیئرنگ میں سر ٹیفکیٹ دیے جاتے ہیں۔ اس وقت لگ بھگ گورمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی میں سے زائد طلبۂ رجسٹرڈ ہیں جو مختلف شعبات سے تعلق رکھتے ہیں اوریہا ں سے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ یہ کالج میرٹ پروگرام کے علاوہ ہر فیلڈ میں سیلف پروگرام بھی کرواتا ہے ۔ اس کے علاوہ کالج میں چار سال کے بی- ٹیک پروگرام بھی کروائے جاتے ہیں جو سول ، الیکٹریکل اور مکینکل کی فیلڈز میں ہوتے ہیں اور اسی ساتھ اونرزپروگرام بھی کروایا جاتا ہے۔ ہر سال کئی سو طلبۂ یہاں سے تعلیم مکمل کرتے ہیں اوراس تعلیم کی مدد سے اپنی زندگی میں آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔جہاں دور جدید میں ٹیکنالوجی کی کافی اہمیت ہے وہیں یہ گورمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی حیدرآبادپچھلی کئی دہائیوں سے شہر حیدرآباد میں طلبۂ کو ٹیکنالوجی کی فیلڈ سے آراستہ کرنے کا واحد ذریعہ ہے اور نہایت کم فیس کے عیوض طلبۂ کو مختلف ٹیکنالوجیز میں ایک مختصر عرصے میں دپلوماز فراہم کر رہا ہے۔

جس طرح گورمنٹ اداروں میں شروعات سے ہی ایک مسئلہ قابل غور رہا ہے جس پر نہ تو کبھی تسلّی بخش کام ہوا ہے اور نہ کبھی آنے والے دور میں ممکن ہوتا نظر آرہا ہے ۔ ایسا ہی ایک مسئلہ گورمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی حیدرآبادکو بھی درپیش ہے جو اپنی اہمیت رکھنے کے باوجود عدم توجہ کے باعث اس کالج کی بلڈنگ خستہ حالی اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ گورمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی جو سالانہ ہزاروں بچوں کو تیکنالوجی کی تعلیم سے آراستہ کرتا ہے اس کا حال یہ ہے کہ اگر ان کلاسز کی بات کی جائے جہاں طلبۂ کو ٹیکنالوجی کی فیلڈ سے آگاہ کیا جاتا ہے تو ان کلاسز میں اندر اور باہر جانے کا راستہ تو ہے پر دروازہ موجود نہیں طلبۂ کے بیٹھنے کے لیے ٹوٹی پھوٹی ہی سہی کرسیاں تو ہیں پر ہوا کے لیے پنکھے میسر نہیں اور کالج کے آحاتے کی بات کی جائے تو آحاتے میں ہی گھانس اس مانند میں اگی ہوئی ہے جیسے کسی کھیت کا منظر پیش کر رہی ہو۔اس گورمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی میں صبح کے ساتھ ساتھ شام میں بھی کلاسز ہوتی ہیں جس کے لیے لازمی سی بات ہے کہ بجلی کا ہونا ضروری ہے پر شام میں ہونے والی ان کلاسز میں بچے اندھیرے میں پڑھنے پر مجبور ہیں اور اگر کالج کے اسپورٹس شعبے کی بات کی جائے تو اسکا حال بھی کچھ مختلف نہیں ۔ کالج میں کھیلوں کے حوالے سے جو بنیادی سہولیات ہونی چاہیے ہیں وہ کم نہیں بلکہ نہ ہونے کہ برابر ہے چاہے کرکٹ ہو ، فٹبال ہو یا ہاکی کالج میں کسی کھیل کے لیے سہولیات موجود نہیں جس کی وجہ سے کھیلوں کے شوکین وہ طلبۂ جو مستقبل میں اپنے کھیل کے شوق سے ملک کا نام بھی روشن کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں وہ کا فی پریشان ہیں۔

کالج جہاں اس بدحالی کا شکار ہے وہیں حالحی 2015 میں گورمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی میں ایدمنسٹریڑوڈپارٹمنٹ کے لیے نئی عمارت تعمیرکی گئی ہے جس کا افتتاح 12 جون کو وی سی اسٹیوٹا محترم شاہد عبدل سلام صاحب نے کیا ۔ اس نئی تعمیر ہوئی عمارت سے کالج کی ماندھ پڑی خوبصورتی کسی حد تک لوٹ آ ئی ہے ۔اپنے پیٹ سے ہزاروں طلبۂ کو ٹیکنالوجی کی فیلڈ سے آراستہ کر چکا یہ کالج حیدرآباد میں ٹیکنالوجی کی تعلیم کی سنگ بنیاد رکھنے والاکالج ہے جو آج انتظامیہ او ر حکومت کی عدم توجہ کی وجہ سے بدحالی کا شکاراور بے بسی کی تصویر بنا ہوا ہے۔حکومت کو چاہیے کہ مؤثر ایکشن لے اور حیدرآباد کے اس واحد گورمنٹ ٹیکنالوجی کالج کو مزید نقصان سے بچائے تاکہ حیدرآباد اور گردونواح کے ہزاروں طلبۂ جو اس کالج سے وابستہ ہیں وہ کامیابی اور مکمل سہولیات کے ساتھ تعلیم حاصل کر سکیں اور ملک و قوم کا نام روشن کریں ۔۔