Showing posts with label فیچر. Show all posts
Showing posts with label فیچر. Show all posts

Monday, 3 October 2016

حیدرآباد کی ماربل مارکیٹ محمد راحیل , فیچر

Hyderabad Marbal Market

نام :محمد راحیل
رول نمبر:68
بی۔ایس پارٹ:3
اسائنمنٹ: فیچر
حیدرآباد کی ماربل مارکیٹ
دور جدید میں جہاں لوگوں کا رجحان نت نئے ڈیزائن کے گھر بنوانے کی طرف بڑھتا جا رہا ئے تو وہیں ان گھروں کی خوبصورتی کو بڑھانے میں قدرتی پتھر وں کا استعما ل کی ضرورت بن چکا ہے اور ان پتھروں کو مارکیٹوں میں ماربل کا نا م دے کر فروخت کیا جارہا ہے ماربل کا استعمال دنیا کے کئی ممالک میں ہوتا ہے اور اب پاکستان میں بھی ماربل کے استعما ل میں کا فی حد تک اضافہ ہوا ہے مہنگائی دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے مگر لوگ ہیں کہ اپنے شوق کو پورا کر نے کے لئے مہنگائی کو با لا ئے تا ک رکھتے ہو ئے اپنے گھروں کو بہترین سے بہترین بنا نے کے لئے خوب پیسہ خرچ کر تے ہیں کیوں کہ اپنا گھر بنا نا ہر انسان کا خواب ہو تا ہے اور جب لوگ اپنے اس خواب کو مکمل کر نے کے لئے نکلتے ہیں تو بے ججحک پیسہ خرچ کر تے ہیں اور اپنے خواب کو ایک سنہری روپ میں دھال کر ہی دم لیتے ہیں ۔ 

پاکستان دنیا کا وہ ملک ہے جہاں قدرتی وسائل کی کوئی کمی نہیں اللہ تعالی نے پاکستان کو بے حد قدرتی وسائل سے نوازہ ہے ا ور ا ن نعمتوں کا ذکر بہت وسیع ہے ان میں سے ایک نعمت پتھر بھی ہے اس ہی بنیاد پر پاکستان کی ماربل منڈی دنیا کی چھٹی بڑی منڈی ہے پاکستان کا چھٹا بڑا شہر جو کہ اپنے اندر کئی خصوصیات و خوبیاں اپنے اندر سمیٹا ہوا ہے تو اس شہر کی ایک خاص خوبی یہ بھی ہے کہ شہر حیدرآبا د کی ما ربل مار کیٹ صوبہ سندھ کی دوسری بڑی مار کیٹ ہے اگر حیدرآباد کا ذکر ہو اوراس ما رکیٹ کی بات نہ کی جا ئے تو اس شہر کے ساتھ کھلم کھلا نا انصافی ہو گی ٹھنڈی ہواؤں کے اس شہر کے بلکل بیچو بیچ واقع ما ربل ما ر کیٹ پورے شہر بلکل سندھ کے کئی علا قوں میں مشہور ہے اور تقریبا تیس(۰۳)سال سے مکی شاہ روڈ پر واقع ہے اور اس ہی ما رکیٹ سے سندھ کے کئی شہروں میں مار بل کی سپلا ئی کی جا تی ہے جب بھی کبھی حیدرآبا د ہو یا اس کے مضافا تی علاقے یا پھر اس صوبہ کے دوسرے شہر کے لوگوں کو اپنے گھروں ،مساجدوں ،مزاروں یا دیگر جگہوں پر استعما ل کر نے کے لئے ما ر بل کی ضرورت ہو تی ہو تو وہ اس ہی شہر کی ما ربل ما ر کیٹ کا رخ کر تے ہیں کیوں کہ یہ ما ر کیٹ سندھ کی دوسری بڑی ما ربل ما رکیٹ ہے تو یہاں اعلی معیار کا پتھر انتہا ئی منا سب قیمت میں مل جا تا ہے جو پتھر اس ما ر کیٹ میں فروخت ہوتاہے وہ ملک کے دیگر علاقوں اور دنیا کے کئی شہروں سے یہاں لایا جا تا ہے مگر چا ئنا ، انڈیا ، پشاور ، زیا رت ، مردان سے جو پتھر آتا ہے ان کو یہاں کی ما ر کیٹ میں ذیا دہ توجہ دی جا تی ہے اور اس ما ر کیٹ کے چھو ٹے طبقے کے دکا ندار کراچی کی منگو پیر کی ما رکیٹ سے ما ل لا تے ہیں پھر یہاں سے فروخت کیا جا تا ہے اس ما ر کیٹ میں بیگ وقت چو نسٹ(۴۶) قسم کے ما ربل دستیا ب ہو تے ہیں (وائٹ ما لا گو ری ،پشاور اور زیارت وائٹ) ما ربل اس ما رکیٹ کی شا ن ہیں ارو یہ اس ما ر کیٹ کا مہنگا پتھر ہے سب سے ذیا دہ فروخت ہو نے والے پتھرون میں ٹروینہ ،ٹپی ،بو ٹا سینہ ہیں کیوں کہ یہ ما ربل ہی پتھر دیگر پتھراں کی با نسبت سستے ہیں تو یہ با آ سا نی ہر وقت ما رکیٹ میں مل جا تا ہے ان پتھراں کے دا م کم ہیں اس لئے لو گ بھی انہیں ذیا دہ تر جیح دیتے ہیں ۔ اس ما ر کیٹ میں تقریبا با ئیس (۲۲)قسم کے امپورٹڈ پتھر بھی فروخت کیئے جا تے ہیں ان پتھروں میں بلیک گلیکسی ،بلیک پرل، کشمیری وا ئٹ ،امپیر یل وا ئٹ ،رو سی پنک اور بھی دیگر اقسا م کے پتھر یہاں فروخت ہو تے ہیں ان پتھروں کی قیمت چھ (۰۰۶) روپے سے لے کر اٹھا رہ سو (۰۰۸۱)اسکوائر فٹ تک ہے تو ان پتھروں کی ما نگ بہت کم ہیں مکی شا ہ ما ر بل ما ر کیٹ میں تقریبا ایک سو بیس (۰۲۱)ہیں اور ان دکا نوں پر سا تھ سو (۰۰۷)کے قریب مزدور کا م کر تے ہیں اور اس ما ر کیٹ کے وسیلے سے اپنے اور اپنے خاندان کے لئے حلال رزق کما کر اپنے گھروں کا چولہ جلاتے ہیں اس ما ر کیٹ میں کا م کر نے والے کا ریگر کی ما ہا نہ آمدنی پندرہ ہزار (۰۰۰۵۱)ہے اور ہیلپر کی آمدنی دس ہزار (۰۰۰۰۱)ما ہا نہ ہے ارو تقریبا دو سو (۰۰۲) مزدور لو ڈنگ ان لو ڈنگ کا کا م بھی سر انجام دے رہے ہیں اور ان کی آمد نی پا نچ (۰۰۵)سے سا تھ (۰۰۷) روپے روزانہ ہے اس ما ر کیٹ میں سو (۰۰۱) سو زو کیاں بھی چل رہی ہیں ما ر بل ما ر کیٹ کی ایسو سی ایشن (آل پا کستان ما ر بل ایسو سی ایشن حیدرآبا د)ما رکیٹ کے دکا نداروں کی پریشا نیوں کے حل کے لئے کا م کر تی ہے پھر بھی اس ما ر کیٹ میں مسا ئل کے انبا ر ہیں دکا نوں کے در میان سے گزرنے والی سڑک پر کئی کئی فٹ پا نی کھڑا رہتا ہے جس کی وجہ سے جس کی وجہ سے دکا نداروں کے ساتھ ساتھ آنے والے خریداروں کو شدید مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑتا ہے دکا ندار لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے سے بہت پریشا ن ہیں دن میں کئی کئی گھنٹیما ر کیٹ میں لا ئٹ نہیں ہو تی حالا ں کہ صنعتی علاقوں میں واپڈا مسلسل چو بیس(۴۲) گھنٹے بجلی کی فراہمی کرتا ہے مگر ما ر بل ما ر کیٹ منی انڈسٹر یل ایر یا ہو نے کے با و جود اس علا قے میں دس (۰۱) سے با رہ(۲۱) گھنٹے لا ئٹ نہیں ہو تی جس سے اس ما ر کیٹ کے تا جروں کے کا روبا ر کو سخت نقصان کر نا پڑھ رہا ہے ما ر بل کی کٹائی سے جو کچرہ نکلتا ہے اس کو ضائع کر نے کے لئے انتظا میہ کی جا نب سے کو ئی مدد نہیں کی جا تی اور سارہ کچرہ مار کیٹ کے ساتھ والے گراؤنڈ میں جا تا ہے جس سے گراؤنڈ میں بچوں کے کھیل کو د کی سر گر میاں شدید متا ثر ہو رہی ہیں دکا نوں کی پو ری جگہ نہ ملنے کی وجہ سے دکا ندار ما ل با ہر نکا لنے پر مجبو ر ہیں جسکی وجہ سے اینٹی انکروچمنٹ کی جانب سے بھی ان د کا نداروں کو اکثر تنگ کیا جا تا ہے۔۔

Practical work was carried out under supervision of Sir Sohail Sangi, at Media & Communication Department, University of Sindh

Thursday, 1 September 2016

فیچر شہریار رشید

Feature is always reporting based. U did not observe paragraph. DO not use english words  
SS
فیچر 

شہریار رشید رول نمبر۔147 BS-Part III

چاندنی موبائل مارکیٹ حیدرآباد

چاندنی موبائل مارکیٹ حیدرآباد کی پہلی اور سب سے بڑی موبائل مارکیٹ ہیاس جگہ پر پہلے چاندنی سینما ہوا کرتا تھا۔ 
شروعات میں یہاں صرف کمپیوٹرز کا سامان ملا کرتا تھا لیکن اب ہر قسم کے موبائل فون اور موبائل گیجٹس اور دوسرے الیکٹرونک آئٹم بھی باآسانی دستیاب ہیں 1280 دوکانوں پر مشتمل یہ مارکیٹ دو حصو ں میں تقسیم ہے ایک حصہ جو کہ ایس آرٹی سی ماکیٹ اور دوسرا حصہ چاندنی پلازہ مارکیٹ کہلاتا ہے SRTCایس آرٹی مارکیٹ اس وجہ سے کہلاتی ہے کہ پہلے اس جگہ پر سرکاری ٹرانسپورٹ کمپنی سندھ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کا بس اسٹینڈ تھا۔ مارکیٹ میں موبائل فون اور موبائل گیجٹس کی قیمت مناسب ہے جبکہ چاندنی پلازہ مارکیٹ میں موبائل فون اور گیجٹس کی قیمت زیادہ ہے اس وقت موبائل مارکیٹ کا کام عروج پر ہے دور جدید

کیساتھ جہاں نئی نئی ٹیکنالوجی جنم لے رہے ہیں وہیں موبائل مارکیٹ کا کام بھی بڑھتا جا رہا ہے۔

موبائل مارکیٹ کے بڑھتے کاروبار کیساتھ کالابازاری بھی بڑھتی جار ہی ہے مارکیٹ میں نئے اور استعمال دونوں ہی موبائل دستیاب ہیں تمام موبائل فون اور گیجٹس کراچی سے لائے جاتے ہیں جسکی وجہ سے دوکاندار اپنے آنے جانے کے اخراجات موبائل فون کی قیمت سے نکالتے ہیں اور کالا بازاری کرتے ہیں نئے ڈبہ پیکٹ موبائل فونز میں کالابازاری اتنی نہیں جتنی استعمال شدہ فونز میں کیجاتی ہے استعمال شدہ موبائل فونز میں اکثر کوئی نہ کوئی خرابی موجود ہوتی ہے مگر پھر بھی دوکاندار کسٹمر کو وہی خرابی والا موبائل فون فروخت کرتے ہیں اور جب کسٹمر کو وہ خرابی نظر آتی ہے تو دوکاندار اس کی ذمہ دار لینے سے مکر جاتا ہے وہ سارا الزام کسٹمر پر ڈال دیتا ہے دوکاندار اپنی چیزوں کو سونا سمجھ کر فروخت کرتے ہیں اور بکنے آئے ہوئے موبائل فونز مٹی کے بھاؤ خرید کر آگے سونے کے بھاؤ بیچا کرتے ہیں۔


گذشتہ چار سال سے موبائل کی چوری بہت عام ہوگئی ہے یہ چوری ہونے والے موبائل فونز اسی مارکیٹ میں بیچے جانے لگے ہیں اسطرح کے چوری والے موبائل فون کے ساتھ ڈبہ موجود نہیں ہوتا ہے اور دوکاندار کو یہ موبائل فون بہت کم قیمت میں مل جاتے ہیں اول تو اسطرح کے موبائل فونز دوکاندار کو خریدنے ہی نہیں چاہیے مگر پھر بھی لالچ میں آکر یہ موبائل فونز خرید لیتے ہیں اور آگے انہی موبائل فونز کو مہنگی قیمت میں فروخت کیے جانے لگا ہے اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے حیدرآباد پولیس حرکت میں آئی اورسٹیزن اینڈ پولیس لیزان کمیٹی کے ذریعے موبائل فون کو ٹریک کرنا شروع کیااس عمل سے کئی دوکاندار اور ان دوکانوں کے کسٹمر زکو حراست میں لیا گیا کسٹمر کی غلطی نہ ہونے کی وجہ سے سارا الزام دوکاندار پر آتا ہے کہ جو لوگ اس قسم کے چوری والے موبائل بیچنے آتے ہیں اُنکے شناختی کارڈ کی کاپی کیوں طلب نہیں کی؟ اس کی سزا کے طور پر ان دوکانوں کو ایک مدت کیلئے سیل کیا گیا اور جرمانہ بھی لاگو کیا گیا۔ اب حالات اس سے
بھی بدتر ہے۔ 
اب مارکیٹ میں کِٹ موبائل سیٹ دستیاب ہے جو کہ بیرونی ممالک سے اسکریپ ہوکر یہاں آتے ہیں اور ریفرنشڈ ہو کر مارکیٹ میں فروخت ہوتے ہیں ان موبائل کی کوئی گارنٹی نہیں دی جاتی نہ ہی ان کا ڈبہ موجود ہوتا ہے اس طرح کے کِٹ موبائل فونز فروخت کرنا قانوناََ جرم ہے کیونکہ یہ موبائل رجسٹرڈ نہیں ہوتے اور بوم بلاسٹ جیسے حادثہ ان ہی موبائل فونز کی مدد سے کیے جاتے ہیں مگر پھر بھی اس طرح کے موبائل مارکیٹ میں بڑی تعداد سے فروخت ہو رہے ہیں کیونکہ یہ موبائل قیمت میں سستے اور مضبوط ہوتے ہیں۔ لیکن چوری ہونے کی صورت میں ان موبائل کو ٹریک بھی نہیں کیا جاسکتا۔
موبائل مارکیٹ میں کئی موبائل کمپنی کے آؤٹ لیٹ بھی موجود ہیں مگر بہت کم لوگ ان آؤٹلیٹ کا رخ کرتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ڈبہ پیک موبائل کی اسمگلنگ بھی بہت عام ہے ڈبہ پیک موبائل فونز اسمگل ہو کر مارکیٹ میں آتے ہیں اور آؤٹلیٹ کی قیمت سے کم قیمت میں فروخت کیے جاتے ہیں جس کی وجہ سے کمپنی آؤٹلیٹ کو نقصان اُٹھانا پڑتا ہے یہی نہیں بات صرف موبائل فونز تک ہی محدود نہیں موبائل گیجٹس جیسے کہ ہینڈ فری چارجر وغیرہ میں بھی کالا بازاری کی جاتی ہے یہ سب سامان اوریجنل نہیں ہوتا مگر کچھ دوکاندار اس سامان کو اوریجنل کا نام دے کر مہنگی قیمت میں فروخت کرتے ہیں اس کالا بازاری کو دیکھ کر حیدرآباد پولیس حرکت میں آتی ہے اور آہستہ آہستہ اس کالا بازار ی کو ختم کیا جا رہا ہے گذشتہ سالوں سے موبائل مارکیٹ کی کالا بازاری میں کافی کمی آئی ہے ۔


















Practical work was carried out under supervision of Sir Sohail Sangi, at Media & Communication Department, University of Sindh

Thursday, 25 August 2016

رافع خان, فیچر corrected

corrected  Fetaure is always reporting based
فیچر    رافع خان
خواتین میں حجاب کا بڑھتا ہوا رجحان
گزشتہ چند عرصے سے خواتین میں حجاب کا رجحان عام دکھائی دے رہا ہے۔بڑھتی ہوئی تعداد میں لڑکیاں اسے ضرورت اور فیشن سمجھہ رہی ہیں ۔ پہلے جہاں خواتین برقعے میں اپنے آپ کو محفوظ سمجھتی تھیں اب وہاں آج کل برقعے سے زیادہ حجاب کو ترجیح دی جارہی ہے اور اس کا رجحان تیزی سے پروان چڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔ حجاب اور عبائیہ کو اب صرف شادی شداہ یا گھریلو خواتین ہی نہیں بلکہ نوجوان لڑکیاں بھی بطور فیشن پہن رہی ہیں۔ حجاب کو عورت کا فطری حسن بھی کہا جا سکتا ہے۔

مارکیٹ میں ہر روز نت نئے انداز کے حجاب متعارف کرائے جا رہے ہیں جو کہ جدید ڈیزائن کے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے یہ حجاب عورتوں اور لڑکیوں کی توجہ کا مرکز بنے دکھائی دیتے ہیں۔آج کل بہت سے اسکول،کالج اور یونیورسٹی کی لڑکیوں نے حجاب کو اپنایا ہوا ہے۔ اکثر اسکول کالج اور یونیورسٹی کی لڑکیاں حجاب ،اسکارف میں نظر آتی ہیں۔حجاب کا بڑا فائدہ یہ ہے کہ وہ دوپٹے کی ضرورت پوری کر دیتا ہے۔
حجاب اور عبائیہ کا ایک دوسرے سے تعلق یہ ہے کہ پہلے عبائیہ کا فیشن خواتین ،لڑکیوں میں مقبول ہوا پہر حجاب کی اہمیت بڑھی مگر اب حجاب کو پردے کے ساتھ ساتھ فیشن کا بھی حصہ بنا لیا ہے۔جہاں زماے کے دوسرے شعبہ ہاے زندگی میں تبدیلی ظاہر ہو رہی ہے ایسے ہی حجاب اوڑھنے کے ڈھنگ میں بھی تبدیلی دکھائی دے رہی ہے، پہلے خواتین فینسی گوٹے کناری والی چیزوں سے اپنے آپ کو ڈھک لیا کرتی تھیں مگر آج کل خواتین نے حجاب کو اپنایا ہوا ہے۔

ہر خطے اور علاقے کے لحاظ سے حجاب اوڑھنے کا طریقہ الگ الگ ہے مگر ان کا مقصد صرف ایک ہی ہے اور وہ ہے پردہ۔جامعہ سندہ کی طلبہ کا یہ کہنا ہے کہ حجاب کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ روز روز طرح طرح کے کپڑوں کی جھنجٹ سے چہٹکارا مل گیا، اور یے حجاب،عبائیہ یا اسکارف کو بطور فیشن استعمال کر رہی ہیں۔ روبی نامی خاتون کا یہ کہنا ہے کہ بازار جانا ہو یا کہیں اور وہ ڈیزائنر ڈریسز سے زیادہ حجاب کو ترجیح دیتی ہیں۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ حجاب کو اپنانے سے ان کا خاصہ وقت بچ جاتا ہے جس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ کپڑے استری کیے بغیر اپنا وقت بچاسکتی ہیں اور حجاب سے اپنے آپ کو ڈھک کر باآسانی کہیں بھی جا سکتی ہیں۔

خواتین نے فیشن کے طور پر اور اپنی آسانی کے لیے بھی حجاب کو اپنایا ہو ہے۔خواتیں کی کثیر تعداد بازاروں میں حجاب پہنے دکھائی دیتی ہیں جس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ حجاب کے ہوتے ہوے کسی لڑکی یا خاتون کو مہنگے یا عمدہ جوڑے کی ضرورت نہیں ہوتی اسی لیے حجاب کا بڑھتا ہوا رجحان دکھائی دیتا ہے۔
ناہد نامی خاتون کے مطابق بجلی نہ ہونے کی صورت میں حجاب ان کا باخوبی ساتھ دیتا ہے اکثر کسی ایمرجنسی صورتحال میں جب بجلی موجود نہیں ہوتی اور ان کے عمدہ اور خاص جوڑے استری نہیں ہوئے ہوتے تو یہ عبایۂ اور اسکارف کو اپنا لباس بنا لیتی ہیں۔ جامعہ سندھ کے شعبہ میڈیا اینڈ کمیونیکیشن کی طلبہ سائرہ ناصر کے مطابق اس کے دو پہلو ہیں ایک یہ کہ شرعی پردہ جو اسلام میں ہے اور دوسرا حُسن کو بچانے کے لیے پردہ، زیادہ تر آج کل حُسن کو بچانے کے لیے پردہ عروج پر ہے جس کے لیے نت نئے انداز والے برقعے بازار میں متعارف کرائے جا رہے ہیں۔

اسلام کے نقطہ نظر سے پردہ اور حجاب عورت کو تقدس ہی نہیں بلکہ تحفظ بھی فراہم کرتا ہے
 لیکن آج کل اتنے چست برقعے پہنے جاتے ہیں کہ اندازہ لگانا مشکل ہو جاتا ہے کہ یہ خود کو بری نگاہوں سے بچانے کے لیے پہنے ہیں یا لوگوں سے تعریفیں سنے کرنے کے لیے۔

حیدرآباد کے مختلف مقامات پر حجاب ، برقعے، اسکارف اور عبایۂ کی خریدوفروغت کی جاتی ہے۔لطیف آباد نمبر آٹھ میں کڑہائی والے برقعے اور نئے نئے ڈیزائن کے برقعوں کے درمیان ریس چل رہی ہے جن کی قیمت تقریبا دو ہزار تک ہے ۔ حیدرآباد کا مشہور ریشم بازار کی بتاشا گلی میں خاص طور پر فرمایئشی برقعے تیار کیے جاتے ہیں۔چاندنی بازار میں جویریہ عبایۂ ایک ایسی واحد دکان ہے جس میں صرف اور صرف عبایۂ،برقعے اور اسکارف فروغت کیے جاتے ہیں۔ اس دکان کے مینیجر کے مطابق انکی دکان میں مختلف قسم اور مختلف ڈیزائن کے برقعے اور عبایۂ حجاب کے لیے دستیاب ہیں جن کی قیمت آٹھ سو سے لے کر آٹھ ہزار تک ہے۔

حجاب نہ صرف مسلمان خواتین بطور پردہ استمعال کرتی ہیں بلکہ ہر مزہب، ہر رنگ و نسل کی خواتین اسے فیشن کے طور پر ترجیح دے رہی ہیں۔بعض خواتین حجاب اپنے رنگ کو دھوپ اور آلودگی سے بچانے کے لیے بھی استعمال کر رہی ہیں۔
نام:محمد رافع خان
کلاس: بی ایس پارٹ ۳
رول نمبر:2k14/Mc/140


Practical work was carried out under supervision of Sir Sohail Sangi, at Media & Communication Department, University of Sindh

سجاد علی,فیچر corrected

Corrected
منگھو پیر
سجاد علی
ؓB.S III
رول نمبر Mc/2k14/163:
فیچر



سندھ جو کے اعظیم سوفی بزرگ اور اولیاوں کی واجہ سے کافی شہرت اور مقبولیت کی حامل ہے ۔جن میں شاھ عبدللطیف بھٹائی ، لال شہباز قلندر ،عبدللہ شاھ غازی ،سچل سرمست،سخی عبدوھاب شاھ ،شاھ نورانی،اور کراچی کے مشہور بزرگ بھی شامل ہیں لکن اگر بات کی جا ئے قدرتی کرامت کے ہوالے سے تو منگھو پیر سب کی زبانوں کی زینت بن جاتے ہیں ،

منگھو پیر جو کے قدرتی کرامتی چشمے اور مگرمچھوں کی وجہ سے زیادہ مقبولیت رکھتے ہیں اس کرامات کے حوالے سے لوگوں کا عقیدہ تو اپنی جگہ لکن سائینس بھی زائرین کے عقیدہ کی روقاوٹ بن رہی ہے ۔یہاں کے زائرین کا ماننا ہے کہ منگھو پیرکے عقب میں واقعہ قدرتی چشمہ ہے جس میں سے کراماتی پانی بہتا رہتا ہے۔ ایسے منگھو پیر میں�آٹھ چشمہ موجود ہیں۔ اور اس میں کچھ ٹھنڈے پانی کے اور کچھ گرم پانی کے چشمے ہیں عبدلمالک رند(خدمت گار )کا کہنا ہے کہ اس میں ایک گرم پانی کا چشمہ ہے جسے ماماآباد چشمہ کہا جاتا ہے ۔جس کا درجہ حرارت تقریباْ اُبلتے پانی جیسا ہے لکن اس پانی کے دو مگے ڈالنے کہ بعد اس پانی کی تعسیر سے ٹھنڈ لگنے لگتی ہے ۔حنیف کھوسہ ( زائرین ) کا کہنا تھا کہ اس پانی کی تعسیر حقیقت میں نہانے کے بعد ٹھنڈی ہوجاتی ہے جو کہ کسی معجزہ سے کم نہیں ہے ۔ نہانے سے جلد کی کئی بیماریوں سے نجاعت ملتی ہے اور اس پانی میں نہانے کی قیمت صرف بیس روپے ہے جس میں دس منٹ تک نہا یا جاسکتا ہے ایک دن میں تقریباْسو سے زائد لوگ روزانہ کی تعداد میں آتے ہیں اور بیماری سے نجاعت حاصل کر کے جاتے ہیں ۔لکن دوسری طرف ڈاکٹر نجم جو کے اسکن سپیشلسٹ ہیں ان کا مننا ہے کہ یہ کوئی کرامتی پانی نہیں بلکہ یہ پانی بارش کے برسنے کی وجہ سے ہے۔ منگھو پیر پہاڑی علاقہ میں ہونے کی وجہ سے یہ بارش کا پانی پہاڑوں میں جما ہو جاتا ہے اور اس کے بعد زلزلہ آنے کی وجہ سے پہاڑوں میں دارار پڑنے کی وجہ سے پانی بہنے لگتا ہے ۔مزید ان کا کہنا تھا کہ جہاں تک پانی گرم ہونے کا تعلق ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ان پہاڑوں میں (لیم اسٹون) بھی موجودہے جس کی وجہ سیپانی کا درجہ ہرارت تبدیل ہو جاتا ہے اور رہی بات جلد کی بیماریوں کا ٹھیک ہونا تو ان پہاڑوں میں(سلفر )بھی موجود ہے جو کہ عام طور پر اسکن جیل میں استعمال کیا جاتا ہے جسے لوگ کرامت مان رہے ہیں ۔


منگھو پیر کا اصل نام حضرت بابا سلطان شاھ ہے اور یہ علاقہ منگھو کے نام سے مشہور ہے اس کی وجہ سے انہیں منگھو پیر کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ان کی پیدائش 1162میں ہوئی اور ان کی وفات 1252 میں ہوئی ۔ اس مزار سے منسلک بات جو کے مگرمچھو کے ہوالے سے کافی دلچسپ ہے کہ منگھو پیر کے ایہاتے میں ایک تالاب وقعہ ہے جہاں سو سے زائد مگر مچھ ہیں مزید مگرمچھ کے رکھوالے سجاد علی نے بتایا کے ہم اپنے باپ داداوں سے ہی ان مگرمچھوں کی خدمت میں مشغول ہیں زائرین انہیں دیکھنے آتے ہیں اور نظرانہ کے طور پر کچھ پیسے دی کر جاتے ہیں جسے ہم ان مگرمچھوں کے لئے گوشت خریدتے ہیں بابا منگھو پیر کی مننے والوں کا کہنا ہے کہ یہ مگرمچھ بابا منگھو پیرکی ساتھی بزرگ ہیں۔ چند لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ بابا کی جوئیں ہے ۔جب بابا منگھو پیر کہ سر پر جوئیں پڑی تو انہیں کھوجلی ہونے لگی پھر انہوں نے اپنا پیرزمین پر مارا تویہ چشمہ وجود میں آیااور جوئیں مگرمچھو میں تبدیل ہو گئی لکن ماہرین کا کہنا ہے کئی سو سال پہلے منگھوپیر سے حب( ندی) بہتی تھی جب ندی نے روخ موڑا تو یہ مگرمچھ یہی رہ گئے اور ان کی نسلیں آج تک جاری ہے ۔مزید گل حسن کلمتی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ بزرگ سلطان منگھو ،حضرت فرید گنج شکر اور قلندر شہباز کہ دائراہ احبابوں میں شامل ہے اور مزید لکھتے ہیں کہ جب لال شہباز قلندر حضرت بابا منگھوکے پاس ائے تو انہوں نے مگرمچوں کی سیر کی ،دوسری روایت ہے کہ منگھو بابا نے اس ندی میں پھول پھینکے تو وہ مگر مچ بن گئے حضرت بابامنگھو پیر کا سالانہ عرس نو زوالحج کو عقیدت اور احترام سے منایا جاتا ہے جس میں لوگ ہزاروں کی تعداد میں پورے پاکستان سے شرکت کرتے ہیں۔

Tuesday, 23 August 2016

رميز فیچر

رميز
2k14/mc/79
Feature

ڍير ڌڻي بادشاه

سنڌ اندر انيڪ اهڙا تاريخي ماڳ، جڳهيون ۽ درگاهون موجود آهن جيڪي سنڌ جي هر شهر ۾ پهنجو وجود رکن ٿيون ۽ سنڌ اندر جتي ڪٿي ڪا نه ڪا اهڙي جڳھ ضرور آهي جيڪا شهر جي نالي سان مشهور هوندي آهي يا وري شهر انجي نالي سان مشهور هوندو آهي اهڙي ريت بدين ضلعو انهنن شين ۾ ته گھڻو پٺتي آهي پر درگاهن جي حوالي سان ڏسجي ته بدين اهو واحد ضلعو آهي جتي درگاهن ۽ بزرگن جو سلسلو هن ضلعي سان وابسطه ملي ٿو اهڙي پر منفرد ۽ انوکي درگاھ ڍير ڌڻي بادشاھ آهي جيڪا بدين شهر کان 16 ڪلوميٽر جي فاصلي تي آهي.
پري جا ماڻهو ته کڻي هن درگاھ تي پنهنجون مرادون کڻي ايندا آهن پر هتي جي ڳوٺ جي رهواسين لاءِ هي جڳھ هڪ بهترين ماڳ کان گهٽ ناهي ڇو ته هتي ماڻهو زيارت سان گڏ سير وتفريح به ڪري ويندا آهن ان جو سبب اهو ئي آهي ته اها درگاھ خوبصورتي جو هڪ اعليٰ مثال آهي ڇو جو ان جي مرمت انتهائي سٺي انداز ۾ ٿيل آهي ۽ وڻ ٻوٽا به پوکيل آهن جيڪي هن درگاھ جي نظاري کي خوبصورت بڻائڻ ۾ ڪا به ڪثر نٿا ڇڏين.
هن درگاھ جو تاريخي پسمنظر ڏسجي ته معلوم ٿيندو ته هن درگاھ جو باني ڍير ڌڻي بادشاھ عرف عبدالطيف جيڪي سنڌ جي مشهور نقشبندي سلسلي جي ولي حضرت خوجه محمد زمان جا والد آهن هي درگاھ 300 سال پراڻي آهي اتي جي بزرگن جو چوڻ هو ته ڍير ڌڻي بادشاھ وصيعت ڪئي هئي ته هن جي قبر کي پڪو نه ڪيو وڃي پر صرف هڪ مٽي جي ڍير وانگر رکيو وڃي ۽ ان تي مٽي جو جھوليون وجهجو .
اتي جي ماڻهن جو ايمان آهي ته هن فقير جي تربت تي جھوليون وجھڻ سان اسان جي دل جون مرادون پوريون ٿين ٿيونان جي ڪري اهي ست جھوليون مٽي جون کڻي قبر تي لاهيندا آهن ۽ پوءِ دعا گھرندا آهن جنهن جي ڪري پري پري کان ماڻهو پهنجون مرادون کڻي ايندا آهن ۽ گڏو گڏ اهي ان خوبصورت جڙيل درگاھ کي ڏسي لطف اندوز به ٿيندا آهن .
لواري شريف جا ماڻهو خوشين جي موقعي تي پارڪ يا گهمڻ وارين جڳهن تي نه پر ڍير ڌڻي بادشاھ تي ايندا آهن جتي ٻيا ماڻهو عيدن يا ڏيهاڙن تي پارڪ يا ميوزيم ڏسڻ ويندا آهن اتي لواري جا ماڻهو ڍير ڌڻي ويندا آهن ۽ اهو ئي انهن جو ماڳ آهي سندن چوڻ آهي ته هي درگاھ اسان کي گهمڻ سان گڏ پهنجي زيارت به ڪرائي ٿي ۽ هتي اسان کي گهمڻ سان دلي سڪون ملي ٿو اهو ئي سبب آهي ته اسان عيدن ۽ ڏيهاڙن تي ڍير ڌڻي بادشاھ ايندا آهيون ۽ زيارت سان گڏوگڏ تفريح به ٿي ويندي آهي ان حوالي سان بدين جي اها واحد درگاھ آهي جتي ماڻهو سال جا 12 مهينا ايندو رهي ٿو ۽ صرف زيارت نه پر گهمڻ ۽ تفريح ڪرڻ ۾ به هتي جي ماڻهن ۾ هن درگاھ جو نالو سڀ کان پهرين زبان تي ايندو آهي .
ڍير ڌڻي بادشاھ درگاھ بابت ماڻهن جو چوڻ آهي ته هن درگاھ تيير ڌني نالو ئي مٽي جي ڍير ڪري پيو آهي ڇو جو هڪ ته سندس وصيعت هئي ته قبر مٿان ڍير قائم هجي ۽ ٻيو ماڻهن جي مرادون ست جھوليون وجھي وجھي هڪ وڏو ڍير ڪري ڇڏيو آهي تنهن ڪري ان تي ڍير ڌڻي بادشاھ نالو پئجي ويو آهي ان جو مطلب ته مٽي جي ڍير يا دڙي جو بادشاھ.
ڍير ڌڻي بادشاھ لواري شريف ۾ پهنجي انوکي حيثيت سان قائم آهي جنهن ۾ تاريخ جي گهري جهلڪ ملي ٿي ۽ ان جي دلچسپي غور ڪرڻ تي مجبور ڪري ٿي ۽ ٻيو آهو ته هتي ۽ آس پاس جا ماڻهو هن جڳھ جو چڪر لڳائيندا آهن جيڪا پڻ هڪ خاص ڳالھ آهي ۽ ان سان گڏو گڏ هن درگاھ جا مريد تمام گھڻي توجه ڏيندا آهن ايتري قدر جو هن کي خاص درگاھ بنائڻ ۾ ڪا به ڪثر نه ڇڏي اٿن ڪڏهن ڪڏهن ته هي هن دگاھ جي لاءِ پهنجو ذاتي خرچ به ڪري ڇڏيندا آهن انهن جو چوڻ آهي ته اسان کي پهنجي مرشد سان سچي دل سان پيار آهي ۽ اسان ان جي درگاھ کي چمڪائڻ ۾ نه ڪا ڪثر ڇڏي آهي نه ڇڏينداسين.

هن درگاھ جي هڪ ته خاص ڳالھ اها آهي جو اتي ٻوٽا ۽ وڻ ٽڻ وڏي دل خوش انداز سان لڳل آهن جيڪي هن درگاھ جي سونهن بڻيل آهن ۽ ٻيو وري هن درگاھ جي سامهون سم واھ آهي جيڪا هن درگاھ جي سونهن ٻيڻي ڪري ڇڏيندي آهي زيارت کان پوءِ ماڻهو اڪثر سم به گهمي ايندا آهن . هي جڳھ اڃا به وڌيڪ خوبصورت تڏهن  لڳندي آهي جڏهن بارش جي موسم هوندي آهي ۽ جڏهن هن تي پاڻي پوندو آهي وڻ ٽڻ ٻُٽآ مهڪي پوندا آهن ته پوءِ هن درگاھ جي سونهن ايتري قدر دلڪش ٿي ويندي آهي جو اتي جا رهواسي بارش جي موسم ۾ هن کي ڏٺي بغير رهي نه سگهندا آهن.  

Monday, 22 August 2016

مزنہ رئیس الدین فیچر

plz do as discussed. 
مزنہ رئیس الدین
B.S III
رو ل نمبر: MC/156/2K15

کیٹگری : فیچر
پاکستان میں گدھوں کی کمی نہیں
تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو پتہ چلتاہے کی وقت کے ساتھ ساتھ انسان بھی بدلتا جارہاہے اور ساتھ ہی اسکا ایمان بھی بدلتا جارہاہے۔ یا پھریوں کہا جاسکتا ہے ک اس میں کوئی شک نہیں ک انسان بھی حیوان بنتا جارہاہے۔
ترقی کے اس دور میں پاکستان میںآج بھی ٹرانسپورٹ میں گدھوں کا استعمال کیا جاتاہے۔ فیڈرل گورنمنٹ کی رپورٹ کے مطابق 4.7 ملین گدھے اور گھوڑے پاکستان میں موجود ہیں جن کے ذریعے ذراعت، ریتی، بجری اور دیگر سامان کے لوڈنگ کے کام لیئے جاتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سال 2014 کے مقابلے میں اس سال گدھوں کی آبادی میں اضافہ ہوتاجارہاہے اور شاید یہ ہی وجہ ہے کے انسان کو بھی گدھوں کا گوشت کھلا کر گدھا بنایا جارہا ہے۔
لوگ آج کل انسان کو حیوان کھلارہے ہیں، کبھی برڈفلو والی مرغیاں تو کبھی کھوتا بریانی، جس کی وجہ سے معاشرے میں حیوان والے گدھوں سے زیادہ انسانی گدھوں میں اضافہ ہوتاجارہاہے۔ کھوتا بریانی کا وجود سب سے پہلے پاکستان کے شہر لاہو ر میں وجود میں آیا اور آہستہ آہستہ یہ رواج کراچی سے لیکر حیدرآباد تک پھیل گیا۔
حیدرآباد میں لطیف آباد یونٹ ۱۱ میں اکرم اور منگل نامی مشہور بریانی کے ٹھیلوں پر کھوتابریانی فروخت کی گئی۔ حیدرآباد بلدیہ فوڈ ڈیپارٹمنٹ نے پولیس کی مدد سے چھاپہ مارا تو پتہ چلا کہ مضر صحت گوشت (گدھے کاگوشت) برآمد ہوا۔
اس مضر صحت گوشت کھانے کے باعث لوگوں کے خون میں تبدیلی آجاتی ہے اور انھیں الرجی جیسی بیماریوں کا سامنا کرنا پڑرہاہے۔ خون ٹیسٹ کے بعد پتہ چلتا ہے کل رات بیف نہیں کھوتا بریانی کھائی ہے۔
کبھی یہ بریانی تو کبھی وہ بریانی، جوجگہ جتنی ہو مشہور وہیں پڑتی ہے پولیس کی ریڈ۔
لوگوں نے ایمان تو جیسے بیچ کھایا ہے۔ جبہی گوشت فروختوں نے سوچ لیا ہے اور ان کاکہناہے کہ گدھے سے کمائی گئی کمائی حلال ہے تو پھر گوشت حرام کیوں؟
ؒ اللہ بھی اس قوم کی حالت نہیں بدلتا جو خود بدلنے کی ہمت نہ کرے ۔ اگر ایسے ہی چلتا رہا اور گدھو ں کی آبادی میں اضافہ ہوتاگیا تو وہ دن دور نہیں جب گدھا بریانی مصالحہ بھی وجود میں آجائے گا۔
رپورٹ کے مطابق بازار میں جن دوکانوں کم قیمت میں گوشت فروخت کیاگیا، وہاں مضر صحت گوشت فراہم کیا جارہاتھا۔بزرگوں کا قول ہے ۔ "ہاتھی کے دانت دکھانے کے اور کھانے کے اور"
آج یہی کچھ بازاروں میں گوشت اور مشہور ٹھیلوں پر بریانی کے ساتھ کیا جارہاہے ۔ بتائی بیف بریانی جارہی ہے اور کھلائی کھوتا (گدھا) بریانی جارہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق کچھ دن پہلے کراچی میں بھی گدھے کاگوشت گروخت کیا گیا، گدھے کو ذبح کرنے والے شخص کا موٗقف تھا کہ لوگوں کے پاس دال کھانے کے پیسے نہیں ہیں ہم گدھوں کا گوشت سستے داموں فروخت کرتے ہیں تاکہ لوگوں کو گوشت کھانا نصیب ہو۔ گوشت فروخت نے بتایا ک وہ ایسے گدھوں کا گوشت فروخت کرتا ہے جو زخمی ، کمزور یاکسی کام کے نہ ہوں ۔
اور وہ کسی کو یہ کہہ کر گوشت فروخت نہیں کرتاکے یہ گائے کا ہے بلکہ جو لوگ ہم سے گوشت خریدتے ہیں وہ اچھی طرح جانتے ہیں کے یہ گوشت گدھے کا ہی ہے ۔اور گدھے کا گوشت فروخت کرنے پر ہمیں کوئی شرمندگی نہیں ہے، یہ کام چوری اور کسی کا گلا کاٹنے سے بہتر ہے اور مذہب اسلام اس کی اجازت بھی دیتا ہے۔
گدھے کے گوشت کھانے سے متعلق مذہب اسلام سے تعلق رکھنے والے علماء سے رائے لی گئی تو ان کا کہنا تھا کی اسلام میں گدھے کا گوشت مکمل طور پر حرام قرار دیا گیاہے، البتہ اگر کوئی انسان بھوک سے مر رہا ہو اور کھانے کیلئے کو ئی چیز میسر نہ ہو تو اس صورت میں گدھے کا گوشت کھایا جا سکتاہے۔
محکمکہ لائیو اسٹالک کی رپورٹ کے مطابق گدھے کے گوشت کو جانچنے کا آسان طریقہ ہے جس سے آپ اس گوشت کی خریداری میں احتیاط کر سکتے ہیں۔ پاکستان میں عوام نے گدھوں کے گوشت کے فروخت کی کہانیاں سب نے سن رکھی ہیں لیکن عوام کو یہ معلوم نہیں کہ وہ گوشت بکرے کا خرید رہے ہیں یا مردار دجانور کاگوشت نوش کرنے جارہے ہیں ۔ بکرے اور گائے کے گوشت کے ریشے ذرا سخت ہوتے ہیں ، گوشت کا ایک بڑا ٹکرا پکڑیں، اس کو ہتھیلی پر بالکل سیدھا رکھیں اور اگر نہ گرے تو سمجھ لیں کہ حلال گوشت ہے لیکن اگر گر جائے تو کچھ گڑبڑ ہے کیونکہ گدھے کے گوشت کے ریشے بالکل نرم ہوتے ہیں ۔ گدھے کے
گوشت کا رنگ گہرا جامنی ہوتاہے، ہڈیاں بکرے سے مختلف اور گوشت میں ہلکی سی مٹھاس ہو تی ہے۔



Practical work carried out under supervision of Sir Sohail Sangi

ڪامران, فیچر,

Feature is always reporting based and current.
 Whats its condition now? What about its repair etc? who is  looking after it? Municipalty? district admn or some other deptt?
 Observe paragraphs in writing.
Kamran Rab Odhano
BS Part III 2k14/MC/174

                       
جيڪب آباد جو تاريخي ٽاور
سنڌ جي ھيٺين علائقي ۾ موجود ھن گهنٽا گهر کي تاريخي اهميت حاصل آهي. انگريزن جي دور ۾ ٺهيل ھن عمارت کي تاريخ جا 163 سال گذري چڪا آھن، پوءِ به ھي عمارت ساڳيءَ جڳھ تي موجود آھي ۽ِ ھن جي حيثيت به ھڪ الڳ نموني سان ضروري آھي ڇو ته دنيا ۾ تارِيخي جاين يا ماڳن جو ھئڻ ئي ان لاءِ آھي ته نئين دور جي نسل انھن آثار قديمن کي ڏسي ڪجھ سکي ۽ حاصل ڪري سگھن، جھڙي طرح پوري دنيا ۾ ھزارين اھڙا ماڳ مثال آھن جن کي تاريخ ۾تمام بھترين طريقي سان ورجايو وڃي ٿو ۽ اھڙن حيرت انگيز ماڳن کي ڏسي انساني دماغ دنگ رھجي وڃن ٿا ته ڪنھن وقت کان ھنن جو به ھن تيز ترين ھلندڙ دنيا سان ڪو لاڳاپو اھڙي طرح سان جڙي ويندو جو ھلندڙ
دور انهن کي تاريخن ۾ ورجايو ويندو ته سوين سال پھرين ھت ھي ھوندو ھو ۽ ان وقت ۾شايد ئي اسان موجود نه ھونداسين پر اسان کان پوءِ اسان ڳنڊيل ھر ھڪ شيءِ تاريخن جا ورڪ بڻجي ويندي جھڙي طرح اسان گذريل تاريخن کي ڏسي پڙھون ۽سمجھون ٿا. ھن عمارت جو سنگ بنياد رکندڙ برگيڊيئر جنرل جان جيڪب ھو جنھن جي پيدائش 11 جنوري 1812ع ۾ ولا ونگٽن جي ملڪ سمرسٽ انگلينڊ ۾ ٿي، ھن پنھنجي ابتدائي تعليم پنھجي والد کان پرائي، پوءِ ھن ڪميشن پاس ڪري 1828ع ۾ انگلينڊ کان نڪتا ۽ ٻيھر واپس ڪڏھن به انگلينڊ نه وڃي سگھيو، ھن انڊيا کان ھلي اچي پاڪستان جي سنڌ جي علائقي جي ڳوٺ خان ڳڙھ ۾ پھتا ۽ اتي پنھنجو ٺڪاڻو اڏايائون ۽ ان کان پوءِ ھتي جنرل جان جيڪب جي اچڻ کان پوءِ ئي خان ڳڙھ جو نالو جيڪب آباد پيو ۽ اتي ھنن گھنٽا گھر جو بنياد رکيو ۽ سندن نالو ”وڪٽوريا ٽاور“ رکيائون جيڪو ھنن راڻي وڪٽوريا جي ياد ۾ اڏرايو. ھي ٽاور پوري شھر جي وچ تي اڏيل آھي جنھن کي شھر جي دل ڪري به سڏيو وڃي ٿو. ھن کي ٺاھڻ ۾ سيمينٽ جي جڳھ تي چوني ۽ مٽي جو استعمال ڪيو ويو جنھن جي سبب ھي عمارت تمام مضبوط آھي. ڪيترائي سال گذرڻ باوجود ھي عمارت اڄ به شھر جي وچ ۾ مضبوطي سان اڏيل آھي. ھن وقت ان موجود تاريخي ماڳ جي اھڙي حالت آھي جو ان کي ڪو ماڻھو ڏسڻ به پسند ڪونه ٿو ڪري ڇاڪاڻ ته ھاڻ ان ٽاور جي چؤطرف سبزي مارڪيٽ ۽ فروٽ مارڪيٽ اڏجي وئي آھي ۽ جنهن جي ڪري اُتي سبزي ۽ فروٽ جو تمام گھڻو گند ڪچرو جمع ٿئي ٿو، صبح جي وقت ٻھراڙي جي ماڻھن جي تمام گھڻي رش ٿئي ٿي، ان جاءِ تي پير رکڻ جي جاءِ به ڪونه ٿي ملي، جڏھن صبح جو وقت ٿئي ٿو ته آس پاس جا ٻروچ اچي جمع ٿين ٿا ۽ سڄو ڏينھن اتي انھن جي رش ٿئي ٿي ڇاڪاڻ ته ٽاور جي ڀرسان ھڪ ڍڪيل بازار به ٺھيل آھي جتي اڪثر ڪري بلوچ خريداري ڪندي گهڻو نظر ايندا آهن. ان بازار ۾ انھن جي ضرورت جي ھرشيءِ موجود ھجي ٿي تنھن ڪري ٽاور جي چوڌاري تمام گهڻو ميلو متل رهي ٿو ۽ مٿان وري گڏھ گاڏن جي سواري پوءِ پورو شھر پيو اُٻري ماڻھو ھڪڙا اچن ٿا ته ٻيا وڃن ٿا، سبزي ۽ فروٽ جي گندگي سبب شھر جا رولاڪ جانور به اچن ٿا اتي خراب فروٽ کائڻ لاء جيڪو فالتو ڪري اڇلايو وڃي ٿو.ان ڪري ھاڻ اھو گھنٽا گھر وڪٽوريا ٽاور نه پر گڏھن جي پڙي ۽سبزي منڊي جي شڪل ۾ تبديل ٿي ويئي آھي ان عظيم الشِان پراڻي ۽ قديم ماڳ جي چڱي    طرح سنڀال نه پئي ڪئي وڃي، ٿي سگھي ٿو ته اڳتي ھلي اسان کي ھن تاريخي ماڳ کان ھٿ ڌوئڻو پوي ڇو ته جنهن شيءِ جي مالڪي يا وارثي نه هوندي آهي. اها بيڪار ٿي پوندي آهي پوءِ اها ڊھڻ ۽ ڪِرڻ شروع تي ويندي آھي ۽ ڪافي پراڻين ماڳن جيان اتي ختم ٿي ويندي آھي جئين اُتي ڪجھ به موجود نه ھو.اھڙي طرح سنڌ جي حڪومت کي پنهنجي سنڌ جي مختلف شھرن ۾ اڏيل قديم آثارن ۽ جڳھن جي چڱي طرح خيال رکڻ گھرجي ۽ انھن کي ايندڙ نسلن لاءِ ھڪ مثال طور بچايو وڃي ته جيئن نئين نسل پنھنجي پراڻي ۽ قديم زماني جي ريتن رسمن ۽ رھائش کان چڱي طرح واقف ٿئي. ۽ ڪجھ سبق حاصل ڪري سگهي.



محمد وقاص عامر, فیچر

 Feature is always reporting based and writing in interesting manner. Basic purpose of feature is to entertain. Where it is located? when it was established? whats its condition now? 
For profile, interview and feature foto is must
نام: محمد وقاص عامر
کلاس: بی -ایس پارٹ تھری
رول نمبر:66
فیچر

گورمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی حیدرآباد

شہر حیدرآباد میں واقع گورمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی پچھلی کئی دہایوں سے حیدرآباد اور گردونواح کے طلبۂ کو اعلی تعلیم میں ٹیکنالوجی کی فیلڈ سے آراستہ کر رہا ہے۔اس ادارے کو بنانے کا خاص و اوّلین وجہ حیدرآباد میں یونیورسٹی کا نہ ہونا ہے اور اگردیکھا جائے تو حیدرآباد میں دیگر ٹیکنالوجی اداروں کے برعکس گورمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی ہر ٹیکنالوجی کی فیلڈ میں مہارت رکھتا ہے ۔دنیا میں آج جب لوگ ٹیکنالوجی کی دوڑ میں بہت آگے نکل چکے ہیں وہیں ملک پاکستان میں بھی اس ٹیکنالوجی کی فیلد کو مدنظر رکھتے ہوئے ہر فیلڈ میں کم وقت میں ڈپلوماز کروائے جا رہے ہیں ۔شہر حیدرآباد جو کہ یونیورسٹی سے تو محروم ہے لیکن وہیں یہ گورمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی ہر سال ہزاروں طلبۂ کو ٹیکنالوجی کی تعلیم سے آراستہ کر رہا ہے ۔نعیم نامی طالب علم سے بات کرتے ہوئے معلہم ہوا کہ یہاں ہر فیلڈ میں تھیوری کہ ساتھ ساتھ پریکٹیکل ورک بھی کروایا جاتاہے جو طلبۂ کے لیے فائدے مند ثابت ہوتا ہے اور آگے کے لیے بہت مفید بھی ہے اور اساتذہ بھی ہمیشہ سرہاتے ہیں تعلیم کے حوالے سے کالج کا ماحول نہایت خوشگوار ہے ۔

گورمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی حیدرآباد میں 12 سے زائد فیلڈز میں تین سالہ ڈپلوماز کر وائے جاتے ہیں جس میں زیادہ ترطلبۂ سول ، الیکٹریکل اور مکینکل کی فیلڈز میں رجسٹرڈ ہیں اور بی- ٹیک (اونرز) کی ڈگری ٹیکنالوجی کی فیلڈ میں دی جاتی ہے ساتھ ہی چار ماہ کے شارٹ کورسز میں طلبۂ کے لیے میٹرک کے فوراً بعد ایئر کنڈیشنرریپیئرنگ، ایل - ای -ڈی ٹیلی ویزن ریپیئرنگ ، موبائل فون ر یپیئرنگ اور ریفریجریشن ریپیئرنگ میں سر ٹیفکیٹ دیے جاتے ہیں۔ اس وقت لگ بھگ گورمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی میں سے زائد طلبۂ رجسٹرڈ ہیں جو مختلف شعبات سے تعلق رکھتے ہیں اوریہا ں سے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ یہ کالج میرٹ پروگرام کے علاوہ ہر فیلڈ میں سیلف پروگرام بھی کرواتا ہے ۔ اس کے علاوہ کالج میں چار سال کے بی- ٹیک پروگرام بھی کروائے جاتے ہیں جو سول ، الیکٹریکل اور مکینکل کی فیلڈز میں ہوتے ہیں اور اسی ساتھ اونرزپروگرام بھی کروایا جاتا ہے۔ ہر سال کئی سو طلبۂ یہاں سے تعلیم مکمل کرتے ہیں اوراس تعلیم کی مدد سے اپنی زندگی میں آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔جہاں دور جدید میں ٹیکنالوجی کی کافی اہمیت ہے وہیں یہ گورمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی حیدرآبادپچھلی کئی دہائیوں سے شہر حیدرآباد میں طلبۂ کو ٹیکنالوجی کی فیلڈ سے آراستہ کرنے کا واحد ذریعہ ہے اور نہایت کم فیس کے عیوض طلبۂ کو مختلف ٹیکنالوجیز میں ایک مختصر عرصے میں دپلوماز فراہم کر رہا ہے۔

جس طرح گورمنٹ اداروں میں شروعات سے ہی ایک مسئلہ قابل غور رہا ہے جس پر نہ تو کبھی تسلّی بخش کام ہوا ہے اور نہ کبھی آنے والے دور میں ممکن ہوتا نظر آرہا ہے ۔ ایسا ہی ایک مسئلہ گورمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی حیدرآبادکو بھی درپیش ہے جو اپنی اہمیت رکھنے کے باوجود عدم توجہ کے باعث اس کالج کی بلڈنگ خستہ حالی اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ گورمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی جو سالانہ ہزاروں بچوں کو تیکنالوجی کی تعلیم سے آراستہ کرتا ہے اس کا حال یہ ہے کہ اگر ان کلاسز کی بات کی جائے جہاں طلبۂ کو ٹیکنالوجی کی فیلڈ سے آگاہ کیا جاتا ہے تو ان کلاسز میں اندر اور باہر جانے کا راستہ تو ہے پر دروازہ موجود نہیں طلبۂ کے بیٹھنے کے لیے ٹوٹی پھوٹی ہی سہی کرسیاں تو ہیں پر ہوا کے لیے پنکھے میسر نہیں اور کالج کے آحاتے کی بات کی جائے تو آحاتے میں ہی گھانس اس مانند میں اگی ہوئی ہے جیسے کسی کھیت کا منظر پیش کر رہی ہو۔اس گورمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی میں صبح کے ساتھ ساتھ شام میں بھی کلاسز ہوتی ہیں جس کے لیے لازمی سی بات ہے کہ بجلی کا ہونا ضروری ہے پر شام میں ہونے والی ان کلاسز میں بچے اندھیرے میں پڑھنے پر مجبور ہیں اور اگر کالج کے اسپورٹس شعبے کی بات کی جائے تو اسکا حال بھی کچھ مختلف نہیں ۔ کالج میں کھیلوں کے حوالے سے جو بنیادی سہولیات ہونی چاہیے ہیں وہ کم نہیں بلکہ نہ ہونے کہ برابر ہے چاہے کرکٹ ہو ، فٹبال ہو یا ہاکی کالج میں کسی کھیل کے لیے سہولیات موجود نہیں جس کی وجہ سے کھیلوں کے شوکین وہ طلبۂ جو مستقبل میں اپنے کھیل کے شوق سے ملک کا نام بھی روشن کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں وہ کا فی پریشان ہیں۔

کالج جہاں اس بدحالی کا شکار ہے وہیں حالحی 2015 میں گورمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی میں ایدمنسٹریڑوڈپارٹمنٹ کے لیے نئی عمارت تعمیرکی گئی ہے جس کا افتتاح 12 جون کو وی سی اسٹیوٹا محترم شاہد عبدل سلام صاحب نے کیا ۔ اس نئی تعمیر ہوئی عمارت سے کالج کی ماندھ پڑی خوبصورتی کسی حد تک لوٹ آ ئی ہے ۔اپنے پیٹ سے ہزاروں طلبۂ کو ٹیکنالوجی کی فیلڈ سے آراستہ کر چکا یہ کالج حیدرآباد میں ٹیکنالوجی کی تعلیم کی سنگ بنیاد رکھنے والاکالج ہے جو آج انتظامیہ او ر حکومت کی عدم توجہ کی وجہ سے بدحالی کا شکاراور بے بسی کی تصویر بنا ہوا ہے۔حکومت کو چاہیے کہ مؤثر ایکشن لے اور حیدرآباد کے اس واحد گورمنٹ ٹیکنالوجی کالج کو مزید نقصان سے بچائے تاکہ حیدرآباد اور گردونواح کے ہزاروں طلبۂ جو اس کالج سے وابستہ ہیں وہ کامیابی اور مکمل سہولیات کے ساتھ تعلیم حاصل کر سکیں اور ملک و قوم کا نام روشن کریں ۔۔

Sunday, 21 August 2016

نويد احمد فیچر

Spelling mistakes
 Foto is required
نويد احمد
2k14/mc160
feature
ڪوٽڙي ۾ 1800ع وارا گھر اڄ جي گهرن کان وڌيڪ خوبصورت ۽ مضبوت
تاريخ جي دري ۾ هڪ نظر ڦرائي ڏسون ته سنڌ جي تاريخ اسان کي قديم نظر ايندي ۽ تاريخ ۾ پهرين پني تي سنڌ جو نالو ڏسڻ ۾ ايندو ان جي ڪري جو اسان جي هي عزيم ڌرتي پراڻي ، قديمي ۽ تاريخي حيٿيت رکي ٿي چو ته ان ۾ ڪافي اهڙيون شيون موجود آهن جيڪي سوهڻي سنڌ کي تاريخ جي پنن ۾ سنهري الفاظن ۾ لکراين ٿيون . موهن جو دڙو جيڪو دنيائي سطح تي ڪافي پراڻي تهذيب جو مالڪ آهي اتي جي گهرن  ۽ نظام جي ڳالهين ۽ تريقن حيرت ۾ وجھي ڇڏيو آهي ته اهي ڪهڙي زماني جا ماڻهو هئا جو اهڙن پڪن گھهرن ۾ موجود بهترين ۽ صاف نظام ۾ پنهنجي زندگي بسر ڪري ويا . اهڙي طرح سنڌ جي دل ڄامشوري جي شهر ڪوٽڙي جي ڳالھ ڪجي ته اتي به اسان کي گهڻيون پراڻيون نه پر سهڻيون ۽ بهتر شيون ڏسڻ لاءِ ملنديون جئين ڪوٽڙي شهر جا 1800 صدي وارا گهر ڪوٽڙي شهر ۾ زينت بڻيل آهن.
ڪوٽڙي شهر ۾ اهي گهر پهنجي رونق ايتري قدر برقرار رکيو ويٺا آهن جو اسان کي انهن گھرن جي شڪل ۽ وري جهڙي مهارت انهن گهرن مان ظاهر ٿئي ٿي سا موهي وجهي ٿي ايترا پراڻا گھر هئڻ باوجود به اهي گهر پهنجي مظبوتي ۽ خوبصورت نظارو قائم رکي وٺا آهن اها ڳالھ دراصل انوکي پن جو احساس ڏياري ٿي  ته 1800ع واري دور کان جيڪي به گهر ٺهندا آيا ۽ ڊهندا آيا پر ڪوٽڙي شهر ۾ اهي گهر اڃا به قائم آهن ان جون سبب اهو ئي آهي ته اهي گهر انگريزن جي دور ۾ ٺآهيا ويا ۽ انهن جي مرمت ۾ اهڙي ڌاتو استعمال ڪئي وئي جنهن انهن گهرن کي شاندار بڻائي ڇڏيو آهي .
ڪوٽرڙي شهر جي ماڻهن جو چوڻ آهي ته اهي گهر ته ان زماني جا آهن پر انهن جي ڪا ريگري تي انگريزن تمام گهڻي محنت ڪرائي ڇو ته هنن گهرن جو نقشو انهن پاڻ ٺاهيو پر انهن نقشي تي عمل گهڻا زور ڀرائي ڪرايو ۽ وري نقشي جي ڳالھ ڪجي ته اهڙي انداز سان ٺهيل آهي جو گهرن جا ڪمرا هوا داررهن ٿا ۽ سياري ۾ گرم ته اونهاري ۾ مٽ جي پاڻي جيان ٿڌا پوءِ ڀلي بجلي به نه هجي ڪمري ۾ موجود ماڻهو کي ذري جي به گرمي محسوس نه ٿيندي ۽ نه وري برسات جي موسمن ۾ پاڻي جو کٽڪو ته ڇت ٽمندي يا پاڻي بيهندو مطلب ته اهڙو نقشو واقعي انهن گهرن کي بين گهرن کان منفرد بڻائي ٿو. اتي جي رهواسين جي مطابق اهي گهر ڪافي راضن نقل ڪري ٺاهڻ جي ڪوشش ڪئي پر مڪمل طرح سان ٺاهي نه سگھيا ۽ نه ئي ان نقشي کي اڄ تائين ڪو راضو سمجهي سگهيو آهي ان  جو سبب ان م استعمال ٿيل سامان ٿي سگهي ٿو يا وري اهڙي ٽيڪنيڪ ٿي سگهي ٿي جيڪا هتي جي راضن جي سمجھ کان مٿي آهي

ڪوٽڙي جي انهن گهرن جي زينت اڃا وڌي ويندي آهي جڏهن بارش پوندي آهي ۽ اهي گهر تمام گهڻا خوبصورت ڏسڻ ۾ ايندا آهن ۽ اتي جي رهواسي انهن گهرن کي برسات جي موسمن ۾ ڏسندا آهن اهي گهر برسات جو پاڻي پوڻ لڳڻ سبب ٽهڪي پوندا آهن مطلب ته انهن جو هڪ ته رنگ عاليشان ۽ نقشو بهترين ڏسڻ ۾ ايندو آهي  جنهن ڪري اهي گهر ڪوٽڙي شهر جي سونهن ٿي ويندا آهن

فیچر, نعمان,

Feature is always reporting based. means  personal obervation, some quotes, comments from related .
 Foto is also required
. people.  also mention whatz its condition presently
 فيوچر  not فيچرIt is 
فيوچر: ميان نصير محمد ڪلهوڙو جو قبرستان
NOMAN MEER JAMALI
2K14/MC/75
Class: B.S Part III

ڪلهوڙا دور جو هڪ تاريخي يادگار جنهن کي ميان نصير محمد ڪلهوڙي جو قبرستان سڏيو وڃي           ٿو.حقيقت ۾ هن قبرستان ۾ موجود هڪ هڪ قبر، سنڌ ۾ ڪلهوڙا دور جي تاريخ جو هڪ هڪ ورق آهي ۽ اهو هڪ هڪ ورق اُن دورجو داستان آهي. هڪ حقيقي داستان.هي تاريخي قبرستان، ضلعي دادوءَ جي تعلقي خيرپور ناٿن شاهه کان چاليهاروکن ڪلو ميٽرن جي پنڌ تي اولهه پاسي ڪاڇي جي هڪ ڳوٺ، جنهن جو نالو پڻ ”ڳوٺ ميان نصير محمد ڪلهوڙو“ آهي ۾ موجود         آهي.لڳ ڀڳ ٻن چورس ڪلو ميٽرن جي ايراضيءَ تي پکڙيل هي عظيم الشان قبرستان کير ٿرپهاڙن جي اوڀارين هنڌ تي موجود آهي. مڪلي جي قبرستان کانپوءِ ٺٽي ضلعي ۾ موجود سونڊا جو قبرستان ۽ روهڙي ڀرسان ”قادر بخش جا قُبا“ نالي قبرستان، سنڌ جا ٻه وڏا قبرستان آهن پر دعويٰ سا چئي سگهجي ٿو ته هي قبرستان مڪلي کانپوءِ سنڌ جو ٻيو نمبر وڏو قبرستان آهي، ايئن چوڻ ۾ ڪو وڌاءُ نه ٿيندو ته هي قبرستان ”ڪاڇي جي مڪلي“     آهي. هي هيڏو سارو وشال قبرستان ڪاڇي جي ٺوٺ ڌرتيءَ تي پکڙيل آهي، تنهن ڪري اچرج وٺيو وڃي ته آخر هي خاموش شهرڪيئن آباد ٿيو    هوندو. هڪ محتاط اندازي مطابق هن قبرستان ۾ پنج لک قبرون موجود آهن. ڪلهوڙن جي شروعاتي دور جا سپهه سالار، امير، وزير، ميان وال تحريڪ سان لاڳاپيل هزارين ڪارڪن، سرڪاري عهديدار ۽ عام ماڻهو هن خشڪ ڌرتي جي هنج ۾ آرامي         آهن .شاهي خاندان ۾ سپهه سالارن جون قبرون وڏن ۽ ننڍن گنبذن اندر موجود آهن. اڪثر وڏا گنبذ ۽ انهن جون ديوارون ڊهي چڪيون آهن جڏهن ته ننڍا گنبذ ڪنهن حد تائين محفوظ   آهن. انهن گنبذن جي بنيادن ۾ سم ۽ ڪلر ۽ سيڪ کان بچاءُ خاطر کير ٿر جي پهاڙن تان آندل پٿر ڪتب آندو ويو آهي ۽ باقي اڏاوت مقامي طور تي تيار ٿيل پڪين سرن سان ڪئي وئي آهي، ديوارن ۽ گنبذن تي چُوني جو زبردست ليپ ڏنو ويو آهي، پر اڪثر گنبذن ۽ ديوارن تان ان ليپ جون ڇاپون لهي ويون آهن، گنبذن ۾ اڌ فوٽي چئورسيون پڪيون سرون استعمال ٿيل آهن، انهن کي ڏسي چئي سگهجي ٿو ته ڪلهوڙن جي شروعاتي دور ۾ ماهر ڪاريگر موجود هئا. جن جي هٿن جو ڪمال ۽ مهارت جو ثبوت ههڙا شاندار مقبرا  آهن .مقبرن جي اڏاوت جو ڪم جيتوڻيڪ مقامي رازن پاران ڪيو ويو آهي، پر ان جو انداز مغلن جي اڏاوتي فن تان ورتو ويو آهي، مقبرن جي ڪُنڊن تي ننڍن ڊگهن مُنارن جو ڪم مغليه طرز جو ڏس ڏئي ٿو.جيئن ته ڪلهوڙن جا مغلن سان گهرا تعلقا هئا ۽ ڪلهوڙن جي دور ۾ مغلن جو سنڌ تي گهڻو اثر رسوخ هيو، تنهن ڪري هتان جو اڏاوتي فن به مغلن جي فن کان گهڻو متاثر هيو، ڪلهوڙا دور جون لڳ ڀڳ سموريون اڏاوتون مغليه نموني جون ئي    آهن .هن قبرستان ۾ ڪجهه گنبذ، سفيد رنگ جا پڻ موجود آهن انهن تي سفيد رنگ بعد ۾ ڪرايو ويو آهي پر اهي مقبرا ڪلهوڙا دور جي آخري ڏينهن سان لاڳاپيل ڪجهه شخصيتن جا  آهن قبرستان ۾ موجود پڪين سرن مان ٺهيل لکين قبرون عام ماڻهن جون آهن، برساتن جي ڪري کير ٿر جي پهاڙن تان وهي ايندڙ پاڻي جي نالن ۽ ٻوڏ، هنن قبرن کي سخت نقصان پهچائيندي پئي رهي آهي، مهينن کان مهينا بيٺل ٻوڏ جي پاڻي هن قبرستان ۾ موجود مقبرن جي اڏاوت ۽ ان جي حُسن کي ڏاڍو ڇيهو پئي رسايو آهي.
هن قبرستان ۾ موجود خاص مقبرو ميان نصير محمد ڪلهوڙي جو آهي، ميان نصير محمد ڪلهوڙو، سنڌ جي تاريخ ۽ خاص ڪري ڪلهوڙا دور جي تاريخ جو هڪ مکيه ڪردار آهي.
ڪلهوڙن جي دعويٰ آهي ته اهي حضور پاڪ صلي الله عليه وسلم جن جي چاچي حضرت عباس رضه جي اولاد مان آهن، سندن وڏو آدم شاهه ڪلهوڙو هيو، جنهن جو مقبرو سکر جي هڪ ٽڪري جو تاج بڻيل آهي، ميان آدم شاهه ڪلهوڙو هڪ مذهبي عالم ۽ انقلابي شخصيت هيو، پاڻ سنڌ کي مغلن کان آجو ڪرائڻ لاءِ ميان وال تحريڪ شروع ڪيائين. ميان وال تحريڪ کي زور وٺندو ڏسي مغلن کيس گرفتار ڪرائي ملتان ۾ مارائي ڇڏيو، پاڻ مرڻ وقت وصيعت ڪئي هئائين ته کيس سکر ۾ ٽڪريءَ تي دفن ڪيو وڃي.
ناليوارو انگيريز تاريخدان ”ٽِي پوسٽنز“ پنهنجي ڪتاب “Personal Observations on sindh” ۾ لکي ٿو       ته :”آدم شاهه جي مريدن جو تعداد تمام گهڻو وڌي ويو، موصوف جي وفات کانپوءِ سندس شهرت ۽ اثر رسوخ جي ڪري سندس پوين کي ڇهن پيڙهين تائين دائمي طاقت ملي وئي ۽ هُو هڪٻئي پٺيان پيري مريدي جي مسند تي وڏي زينت ۽ عزت جا مالڪ بڻيا                                         رهيا“.
آدم شاهه جي شهادت کانپوءِ هيءَ تحريڪ پس منظر ۾ هلي وئي، پر پوءِ به ميان شاهل محمد ڪلهوڙو ۽ ميان الياس محمد ڪلهوڙو، مغلن کان آجپي لاءِ هٿ پير هڻندا رهيا.
ميان الياس محمد جي وفات کانپوءِ ميان وال تحريڪ جون واڳون سندس پٽ ميان نصير محمد ڪلهوڙي جي هٿن ۾ اچي ويون. پاڻ آزادي جي جدوجهد کي وڌيڪ وسيع ڪيائين. اڏ ڏس ۾ ناليوارو اديب ۽ محقق محمد عرس، اظهر سولنگي پنهنجي ڪتاب ”دادو تعلقي جو ماضي ۽ حال“ ۾لکي ٿو    ته:”ميان نصير محمد جي دور ۾ سڄي سنڌ تي مغلن جي حڪمراني هئي، ان ڪري مغلن کي تڙي ڪڍڻ لاءِ ميان وال تحريڪ کي زور وٺايو،ميان نصير محمد پنهنجي ساٿين سان گڏجي هيءَ تحريڪ مسلسل جاري رکي ۽ آخر ڪار ميان غلام شاهه ڪلهوڙي جي دور ۾ ڪاميابي سان همڪنار ٿي ۽ ميان غلام شاهه ڪلهوڙو سنڌ جو مڪمل خودمختيار حڪمران ثابت         ٿيو“.سنڌ جي تاريخ جي مشهور فارسي ڪتاب ”جواهر“ ۾ ڄاڻايل آهي     ته:
ميان نصير محمد بن محمد الياس پنهنجي زماني جو مشهور عابد هيو، عام ماڻهو گهڻي انداز ۾ سندس مريد ٿيا، هن دور انديشي کان ڪم وٺندي ملتان ۽ لاهور طرف هجرت اختيار ڪئي. گهڻي وقت گذرڻ بعد واپس موٽيو ۽ چينهه قوم جي علائقن ۾ پهتو“.
تحفته الڪرام جو بيان آهي    ته:
ميان نصير محمد، پيري، مرشديءَ ۾ پنهنجي وڏن کان به گهڻو وڌي ويو ۽ وٽس ايترا ته گهڻا مريد گڏ ٿي ويا، جو ان وقت جا سڀئي ماڻو مٿس حسد ڪرڻ لڳا.
نتيجي ۾ سبيءَ جي حاڪم، مرزا خان دوکي سان ڪجهه ماڻهو موڪلي کيس پاڻ وٽ گهرايو ۽ پنهنجي چاچي محبت خان سان گڏ اورنگ زيب جي درٻار ۾ دهليءَ روانو ڪيو. ميان نصير محمد اُتي هڪ مدت تائين قيد ۾ رهيو“.

سنڌ ۾ ڪلهوڙا دور حڪومت تي پي ايڇ ڊي ڪندڙ پروفيسر ڊاڪٽر غلام محمد لاکي جو چوڻ آهي ته ميان نصير محمد پنج سال شاهي قيد ڪاٽڻ کانپوءِ سن 1681ع ۾ سنڌ واپس پهتو، ڪلهوڙن جي سنڌ ۾ حڪومت جو اهو ئي آغاز وارو سال آهي.
پروفيسر لاکو، ميان نصير محمد جو پهريون تخت گاهه بکر سرڪار جي آخري ٽڪر پرڳڻي ۾ ”ڳاڙهي“ شهر ٻڌائي      ٿو.
پروفيسر غلام محمدلاکي جي تحقيق مطابق ”ميان نصير محمد جي حڪومت جو دور 1092 هجري مطابق 1681ع کان سندس وفات واري سال 1103 هجري مطابق 1692ع تائين جملي يارهن سال     هيو.
کانئس پوءِ سندس وڏو پٽ ميان دين محمد ڪلهورو سنڌ جو نئون حڪمران مقرر ٿيو، ميان صاحب کي سندس وفات کانپوءِ هن ئي قبرستان ۾ دفنايو ويو پاڻ جيئن ته فقيري طبيعت رکندڙ شخص هيوتنهن ڪري سندس مقبرو به سادي نموني ٺهرايو ويو.
مقبري جو گنبذ به نهايت سادو آهي ۽ ان ۾ ناسي سائو ۽ ڳاڙهو رنگ ڪتب آندو ويو آهي هلڪي سائي ۽ ڳاڙهي رنگ جا ڪُنگرا به نهايت سادي نموني ٺاهيا ويا آهن. مقامي ماڻهن سندس مزار جي دروازي تي پاڪستاني سڪا پڻ باس خاطر لڳايا آهن.
ٻڌايو وڃي ٿو ته هي مقبرو سندس پٽ ميان دين محمد ڪلهوڙي ئي ٺهرايو هيو. ميان نصير محمد ڪلهوڙي جي قبر ڇڄهري اندر هڪ مٿانهين پليٽ فارم تي ٺهيل آهي، قبر جي بنيادن ۾ مقامي پٿر ڪتب آندو ويو آهي، ان تي ٺهيل ڊزائنون ڏسي مڪلي، سونڊا ۽ چوڪنڊيءَ جي قبرستان ۾ موجود قبرن جون ڊزائنون ياد اچيو وڃن.
پٿرن جا ننڍا ٺُلهه، جن تي سائو ۽ ناسي رنگ ڪيو ويو آهي، پڻ وڻندڙ لڳن ٿا، ٻيون ڊزائنون پڻ زبردست           آهن.
ميان نصير محمد ڪلهوڙو اهلِ دل حڪمران هيو، کيس موسيقي سان تمام گهڻو چاهه هيو. سندس پسنديده ساز سُرندو هيو. ڪيترائي سُرندي نواز پهاڙن کان اچي سندس روح، راضي ڪندا هئا. وفات کانپوءِ به سندس مزار تي سُرندي جي وُن….وُن ختم ناهي ٿي.

Friday, 19 August 2016

تاریخی تھانہ سٹی، حیدرآباد

Intro is not interesting
تاریخی تھانہ سٹی، حیدرآباد: 1909 ء میں قیام ہونے والا شہر کا پہلا تھانہ جس کا نام وقت کی گردش کیساتھ بدلتا رہا ۔ 


نام: سائرہ ناصّر 
رول نمبر : 2K14/MC/84 
کٹیگری : فیچر 



جدید ٹیکنالوجی کے دور میں آج ہر شخص اپنی،اپنی فہم و فراست کے مطابق اپنے ریاستی قانون ،سماجی قدروں کا ادراک رکھتا ہے ۔ کیونکہ جب انسان نے اپنی ضرورتوں کو لامحدود کیا تو مسائل بڑھنے لگے ۔کہا جاتا ہے کہ :سزائیں سخت ہوں تو قوانین پر بھی عمل درآمد نہیں ہوتا ۔ اس لئے اسلام نے اصلاحِ معاشرے کے لئے محض سزائیں تجویز نہیں کیں بلکہ ایک مکمل ضابطہ حیات دیا ۔َ 


برِصغیر میں انگریزوں کی آمد کے بعد 1845ء کے دوران سندھ میں نو آبادیاتی آئرش کانسٹیبلری کی طرز پر ایک نظام قائم کیاجس کی 1858 ء میں باضابطہ آر پی سی قائم کی گئی۔سپاہیوں کی شناخت کے لیے لفظ پولیس کو رائج کیا ۔ 1860 ء کے دورا ن ایک پویس کیمپس قائم ہوا ۔ اس وقت صدیوں کا شہر حیدرآباد بمبئی سے ملحق تھا ، یہاں تعینات کئے جانے والے انگریز کمشنر جے ڈی انوریٹی نے محکمۂ پولیس کو ایک منظم ادارے کی حیثیت میں ازسرنو قائم کیا۔چوں کہ اس وقت حیدرآبادمیونسپل کمیٹی فعال تھی ، اس لیے 1872 ء کے دوران پہلی بار اس شہر کی مردم شماری کرائی گئی چنانچہ شہریوں کو قانونی سہولتوں کی فراہمی کے لیے میروں کے مصاحب اور سردار فقیر جونیجو کے نام سے منسوب کرتے ہوئے 1901 ء میں پہلا ’’تھانہ پڑ فقیرو‘‘ قائم کیا گیا چونکہ اس تھانے میں تعینات افسر فوجی یونٹ جیسا ماحول رکھتے تھے ، اس لیے اس تھانے کو ’’ فوجداری تھانہ‘‘ کہا جانے لگاْ ۔ یہ نام لوگوں میں اتنا معروف ہوا کہ حیدرآباد میونسپلٹی نے ریلوے اسٹیشن کو جانے والے راستے کا نام فوجداری روڈ رکھ دیا ، بعد ازاں دیہی علاقوں سے سی آنے والے لوگ حیدرآباد کے قدیم علاقے چھوڈکی گھٹی (چھوٹکی گھٹی ) کی چاڑی کی بنا پر اس تھانے کو ’’چاوڑی تھانہ یا چاڑی تھانہ ‘‘کہہ کر متعارف کرانے لگے ۔ 1906 ء میں جب انگریزوں کے خلاف اشتعال میں اضافہ ہونے لگا تو کسی بھی ناخوشگوار واقع کی روک تھام کے لیے اس تھانی کی پچھلے حصے میں بیرکیں بن اکر اسے سب جیل کا درجہ دے دیا گیا ۔ یہ تھانہ وقت کی غلام گردشوں سے گزرتا رہا ، شہر کی آبادی میں جس تیزی سے اضاٖفہ ہو رہا تھا ، اسی تیزی سے تھانے اور اس کے انتظامی حدود میں بھی تبدیلیاں آرہی تھیں ۔ لوگ تھانے کے سارے نام بھلا کر (تھانہ سٹی ) پکارنے لگے ، اور اب قانون اور سرکاری ریکارڈ میں اس تھانے کا نام ’’تھانہ سٹی ‘‘ ہی ملتا ہے ۔ 
؂؂؂
جودھپور کے پتھر اور سرخ اینٹوں سے بنی یہ تھانہ سٹی کی عمارت اور تزین و آرائش پر اس دور میں 14326 روپے کی لاگت آئی تھی ، یہ محض 19 دن میں تعمیر ہوئی ۔ اس وقت لوگ طویل مسافت بھی پیدل ہی طے کر لیا کرتے تھے ، چنانچہ تھانے اور اس کے عملے کو اس وقت کوئی جدید سہولت حاصل نہیں تھی ۔ کسی ملزم یا مجرم کو گرفتار کرنا یا فوری نوعیت کے امور انجام دینا ہوتے تو اہلکار تانگے کی سہولت حاصل کرتے تھے ۔ گلیوں میں تھانے کے اہلکار پیدل اور گھوڑوں پر سوار ہوکر گشت کرتے تھے ۔ تھانے کے پچھلے حصّے میں ان گھوڑوں کا اصطبل تھا جہاں اہلکار اپنے گھوڑوں کو چمکانے کے لیے کھوپرو کا تیل استعمال کرتے تھے ۔ ؂، جس کا بٹ بھی محکمہ پولیس ادا کرتا تھا ۔یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے ۔ ۔ یہ کمرہ محض ایک کمرے پر مشتمل تھا ، جس سے ملحقہ افسر و عملے کے آرام کے لیے ایک چھوٹا کمرہ تھا ۔ دفتری کاروائی قلم ودوات یا رنگین نیلی پینسل سے کی جاتی تھی ، بجلے نہ ہونے کے باوجود شدید گرمیوں کے دنوں میں بھی ٹھنڈا رہتا تھا ۔ شام ہوتے ہی تھانے کے مرکزی دروازے کے دائیں بائیں جانب لگے دو آہنی پول پر لٹکنے والی لالٹینیں روشن کردی جاتی تھیں ۔ 



پھر ہو ا یوں کہ تھانہ کے احاطے میں تحصیل پولیس آفیس تعمیر کر دیا گیا ، اور اسکا افتتاح 26 اکتوبر 2009 ء کو اس وقت تعینات ایڈشنل ڈی پی او قمر رضاجسکانی نے کیا ۔جب تھانہ سٹی کے قیام کو سو سال مکمل ہوئے تو اس تھانے کو جدید طرز تعمیر کا حامل ماڈل بنانے کے لیے تعینات ڈی پی او اے ڈی خواجہ نے لاکھوں روپے کی لاگت سے تعمیر و مرمت کرائی ، اس عمارت میں ایک برآمدہ ، ای ایچ او کا کمرہ ، ریکارڈ اور محر ر روم ، فارسیلنگ کی چھتیں ، شیشہ لگے المونیم کے دروازے اور کھڑکیاں ، دیواروں پر چکنے ٹائلز ، اور تھانے کی بیرونی دیواروں پر ہالا کی کاشیگری کے حامل ٹائلز نصب کرا دیے گئے ۔ جس کی بنا پر تھانہ باہر سے کسی مزار اور اندر سے کسی غسل خانہ کا منظر پیش کرتا ہے ۔ جب کہ مرکزے دروازے پر نصب نادر قیمتی لالٹین پول اکھاڑ کر پھینک دیے گئے ، حتی کہ مرکزی دروازے پر ایک موٹر سوار پولیس جوان کا مونومینٹ نصب کردیا گیا۔ 


تھانہ سٹی میں 1952 ء سے تمام ریکارڈ تھانے کے ایک کمرے میں موجود تھا ۔ جو 4 اکتوبر 2004 ء تک موجود رہا ۔ ۔ ان دنوں تھانے کے قیام کو سو سال مکمل ہو چکے تھے ۔ تھانے کے ریکارڈ کی حالت اس قدر خراب ہے کہ کپڑوں میں بندھی فائلیں ، اہم دستاویزات ،ریکارڈ دیمک کی خوراک بن رہی ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ انڈیا کے سابق وزیراعظم ایل کے ایڈوانی کا گھر بھی تھانہ سٹی عمارت کے عقبی علاقہ ایڈوانی گھٹی میں واقع تھا ، اور ان کے خلاف اسی تھانے میں ایک مقدمہ بھی درج ہے ۔ جس میں وہ تاحال مفرور ہیں ۔ اس واقعہ کی صداقت تحقیق طلب ہے ۔ برصغیرمیں جب تحریک جدوجہد آزادی نے زور پکڑا تو انگریزوں نے حیدرآباد کے محب وطن (باغیوں) کو اسی تھانے مہں قید کیا گیا ۔ ان پر بے رحمانہ تشدد کیا گیا ۔ ان باغیوں کی صدائیں اور چیخیں تھانے کے در و دیوار کا کلیجہ پھاڑتی ہوئی آسمان کی وسعتوں میں کہیں کھو جاتی تھیں
۔ 



تھانہ سٹی کو 1906 ء کی مارکیٹ پولیس چوکی کو اپ گریڈ کر کے 1928 ء میں تھانے کا درجہ دینے ، اور 1925 ء میں تھانہ کینٹ کے علاوہ قیام پاکستان کے بعد تقریباً36 تھانے وجود میں آنے کے باوجود مرکزی حیثیت حاصل رہی ، لیکن مقامی حکومتوں کے نظام کو مروج کرنے سے قبل تھانہ سٹی کی حدود میں شامل سائٹ، فورٹ، حالی روڈ اور مکی شاہ کی حدود کو بھی خارج کر کے انہیں بھی تھانے کا درجہ دے دیا ۔ 


یہ تھانہ حیدرآباد کی درخشاں سیاست ، تاریخ و ثقافت کا امین ہے ۔ یہ اس تھانے کا فخر ہے کہ اس تھانے سے متعلق تاریخ اور قانون کے صفحات روشن ہیں ۔ تھانہ سٹی کی طرزِتعمیر گو کہ حیدرآباد کی عام عمارتوں کی طرح ہی ہے ، مگر کسی طور بھی اس عمارت کی اہمیت اور حیثیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ، کیونکہ اس عمارت سے حیدرآباد کی تاریٖ کے صفحات جڑے ہوئے ہیں ۔ اس لیے اس کے کھوئے ہوئے حسن کو بحال کیا جائیگا ۔ یہ امر میرے لیے باعثِ مسر ت ہے کہ تھانہ سٹی نے اپنے قیام کے 115 سال مکمل کر لیے ہیں ۔ 



حیدرآباد کے اس معروف تھانے میں عام لوگوں کے علاوہ تاجر بھی اپنے مسائل کے بہتر حل کے لیے رجوع کرتے ہیں ۔ حیدرآباد کے تاجر سلامالدین نے بتایا کہ ’’تاجروں نے ہمیشہ پولیس کے ساتھ تعاون کیا ہے ۔ پولیس نفری کم ہونے کے باوجود محکمہ پولیس نے عوام کے دل موہ لیے ہیں ۔ پولیس پر عوام کا اعتماد بڑھ رہا ہے ۔ یہ امر باعثِ طمانیت ہے ۔ تھانہ سٹی حیدرآباد کا اعزاز ہے ، مگر یہ تھانہ اب بھی سرکاری توجہ کا طلبگار ہے


Practical work was carried out under supervision of Sir Sohail Sangi, at Media & Communication Department, University of Sindh ۔ 

Wednesday, 17 August 2016

سرکاری ہسپتالوں سے زیادہ نجی کلینکوں میں رش



محمد بلال حسین صدیقی 

فیچر
بی ایس پارٹ iii
رول نمبر:57



سرکاری ہسپتالوں سے زیادہ نجی کلینکوں میں رش


کہنے کو تو شہر حیدرآباد میں سرکاری ہسپتال موجود ہیں مگر اس شہر حیدرآباد میں ایک نئی شکل ابھر کر سامنے آئی ہے لوگ جیسے نجی کلینک کے نام سے جانتے ہیں۔ یوں تو لوگ جہاں پہلے سرکاری ہسپتالوں علاج کر وا کر صحت یاب ہوتے تھے اب وہی ہر ایک ڈاکٹر کی ایک الگ نجی کلینک موجود ہے سرکاری ہسپتالوں کے ڈاکٹرز اب ہسپتالوں میں مریضوں کو وہ توجہ نہیں دیتے جن کے وہ حق دار ہوتے ہیں اور مریضوں کو اپنی کلینک پر آنے کی دعوت دیتے ہیں اور یوں مفت میں ہی ان کی کلینک کو شہرت بھی مل جاتی ہے۔


جہاں سرکاری ہسپتالوں میں پہلے خاصا رش دیکھائی دیتا تھااب وہی نجی کلینکوں میں دیکھائی دیتا ہے اکثر اوقات تو مریضوں کو بنا معائنہ کروائے واپس لوٹنا پڑتا ہے اس وقت شہر حیدرآباد کی کلینکوں کی تعداد لگ بھگ ہزارہے جو ایک اندازہ ہے اگر ان کی گنتی کی جائے چھوٹی بڑی کلینکوں کو ملا کر ہزار سے زائد ہی ہونگی حیدرآباد کی ڈاکٹرز لائن میں ہی تقریباً پچاس سے زائد سرکاری و نجی ڈاکٹرز کی نجی کلینک موجود ہیں 



ان کلینکوں میں ہر طرح کی مریضوں کے لئے سہولت موجود ہے دیکھاجائے تو ہرکلینک اپنے اندر ایک چھوٹا سا ہسپتال سموئے ہوئے ہے جیسا کہ اس ملک میں ہر ایک چیز کو کاروباری حیثیت حاصل ہے ویسے ہی ان کلینکوں کے ذریعے علاج کو بھی کاروبارکی شکل دے دی گئی ہے اب فوری و باقائدہ علاج ایک خاص طبقے کے لئے مختص ہو کر رہ گیا ہے حیدرآباد شہر میں کچھ کلینک تو ایسی بھی موجود ہیں۔ جہاں 30سے50روپے میں معائنہ کے ساتھ ساتھ ادویات تک مفت دی جاتی ہیں اب ان ڈاکٹرز نے MBBSکہاں سے کی یہ سمجھ سے بلاتر ہے ایسے ہی ایک ڈاکٹر سے بات کر نی چاہی تو ان کے مطابق وہ کسی ڈاکٹر کے ہاں کمپوڈر تھے اور پھر بعد میں کچھ چھوٹے ڈپلوماز کئے ۔


ان کلینکوں کے بر عکس کچھ میاناز اور کولیفائیڈ ڈاکٹرز کی کلینکیں بھی موجود ہیں جن کی فیس سے مریض کا مرض اور بڑھ جاتا ہے صرف مریض کی منہ دیکھائی کے 1000سے1500یا اس سے بھی زائد ہوتی ہیں اور ادویات باہر کسی میڈیکل اسٹور سے لینی پڑتی ہیں ان کلینکوں میں رش کا عالم یہ ہوتا ہے کہ اگر چلے جاؤ تومعلوم یوں ہوتا ہے کہ یہاں مفت علاج ہوتا ہو اکثر و بیشتر لوگ کالز کر کہ اپنا نمبر پہلے کروا لیتے ہیں اور پہلے آنے والے افرادوں سے پہلے علاج یا معائنہ کروا کر نکل بھی جاتے ہیں۔ 


کچھ ڈاکٹرز تو ہفتے میں بس دو دن ہی اپنی کلینکوں میں موجود ہوتے ہیں ان ڈاکٹرز سے ملنے یا معائنہ کروانے کی ریس کی دوڑ دیکھنے کے قابل ہو تی ہے کبھی کبھی تو مریضوں کو ایک ایک مہینے طویل انتظار کرنا پڑتا ہے سمجھ نہیں آتا کہ مریض بیچارہ علاج کے لئے اتنا سبر کیسے کرے گااتنے طویل عرصے کے دوران مریض کا حال اور برا ہوجاتا ہے اور ڈاکٹرز کی فیس بھی ڈبل۔


حال تو اب کچھ یوں ہو چکا ہے کہ ایک ڈاکٹر دو گھنٹے کے دورانیہ میں سو سے دو سومریضوں کا معائنہ کر لیتے ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر آرام سے ایک لاکھ روپیہ کما لیتے ہیں اکثر اوقات تو اس سے زیادہ بھی ہو جاتا ہے ۔ڈاکٹرز مریضوں کو ہسپتالوں میں وہ توجہ نہیں دیتے جو مریضوں کو کلینکوں میں ملتی ہے یہی وجہ ہے کہ اب کلینکوں مین روزانہ کی بنیاد پر رش دیکھنے کو ملتا ہے۔ 


کبھی کبھی تو انتظار اتنا طویل ہو تا ہے کہ مریض کا مرض تک بدل جاتا ہے جی ہاں! یہ بات بلکل درست ہے انتظار میں بیٹھے ایک مریض سے معلوم کیا تواس نے بتایا کہ میں یہاں ٹانگ کے مرض میں آیا تھا مگر اب کمر کے درد کی دوا لے کر جا رہا ہوں ان کلینکوں کی ڈور میں اب ہر ڈاکٹر حصہ لے رہا ہے اور ہر ایک ڈاکٹر یہ کلینک کھولنے میں لگا ہو ا ہے اور اکثر ڈاکٹرز تو ایک کے بجائے دن میں دو سے تین کلینک یا نجی ہسپتالوں میں وقت گزارتے ہیں ڈاکٹرز کے لئے سرکاری نوکری کے ساتھ ساتھ یہ کلینک کا پیشہ سر فہرست ہے۔

Practical work was carried out under supervision of Sir Sohail Sangi, at Media & Communication Department, University of Sindh