Thursday, 1 September 2016

آرٹیکل شہریار رشید


Model United Nations (MUN)

پارٹ ٹو سے مسلسل سمجھا رہے ہیں اور فیس بک گروپ پہ بھی ہدایات پوسٹ کی جاتی رہی ہیں کہ اپنی تحریروں میں پیراگراف کا خاص خیال رکھیں۔ لیکن تعجب ہے کہ آپ یہ سب کچھ سمجھنے اور کرنے قاصر ہیں۔ نہ پیرا گراف کا خیلا نہ فل اسٹاپ کا۔ 

 SS یہ یونائیٹڈ نیشن نہیں ، نیشنز ہے۔ 

آرٹیکل 


شہریار رشید رول نمبر۔147 BS-Part III
حیدرآباد میں (ایم یو این) ماڈل یونائیٹڈ نیشنز
حیدرآباد میں مختلف قسم کے پروگرام اور میوزیکل کانسرٹ کا دور خوب عروج پر ہے اور اب حیدرآباد میں (ایم یو این )ماڈل یونائیٹڈ نیشن جیسے پروگرام بھی آرگنائز ہونا شروع ہوگئے ہیں ایم یو این ایک تعلیمی پروگرام ہے اور اس کو کوئی بھی تعلیمی ادراہ آرگنائز کر سکتا ہے مگر اب یہ پروگرام بغیر کسی تعلیمی ادارے کے بھی آرگنائز کیا جار ہے ہے ایم یو این یونائیٹڈ نیشن آرگنائزیشن کا ہی ایک روپ ہے اسی لئے اس کا نام ایم یو این رکھا گیا ہے اس پروگرام میں مختلف شعبوں اور تعلمی اداروں سے تعلق رکھنے والے طلبہ بطور ڈیلیگٹس حصہ لیتے ہیں ڈیلیگیٹ بننے کیلئے طلبہ کو رجسٹریشن فیس ادا کرنی لازمی ہوتی ہے ہر ایم یو این کی مختلف ہوتی ہے اکثر یہ پروگرام دودن، تین دن اور کبھی کبھی چار دن پر بھی مشتمل ہوتا ہے ایم یو این سے طلبہ کو جمہوریت انٹرنیشنل ریلیشن اور یونائیٹڈ نیشن کے بارے میں معلومات حاصل ہوتی ہے اور طلبہ کو اپنے اندر موجود صلاحیتوں کو اُجاگر کرنے کا موقع ملتا ہے ایم یو این طلبہ کو تحقیق کرنا ، عوام کے سامنے آواز بلند کرنا اور لیڈر شپ کرنا سکھاتا ہے اس پروگرام میں مختلف کمیٹیاں بنائی جاتی ہیں اور ہر کمیٹی میں طلبہ بطور ڈیلیگیٹس مختلف ممالک کی طرف سے رول پلے کرتے ہیں اور اور کمیٹی میں ایک ایک ایجنڈا پر بات کی جاتی ہے طلبہ جو کہ بطور ڈیلیگیٹس اس پروگرام میں حصہ لیتے ہیں ان کی ٹریننگ بھی کروائی جاتی ہے اور بتایا جاتا ہے کہ ایم یو این کیا ہے اور اس میں کس طرح رول پلے کرنا ہے ایم یو این کوئی بھی اسکول کالج اور یونیورسٹی آگنائز کرسکتی ہے مگر حیدرآباد میں کچھ لوگوں نے بنا کسی تعلیمی ادارے کے بھی یہ پروگرام آرگنائز کرنا شروع کر دیا ہے جس میں (حیدرآباد ایم یو این) اور (نیرون کوٹ ایم یو این )شامل ہے یہ وہ ایم یو این ہے جو کہ بغیر کسی تعلیمی ادارے کے آرگنائز کیے گئے ہیں اس پروگرام کو کوئی ایک بندہ آرگنائز نہیں کرسکتا اسکے لئے ایک مکمل ٹیم تیار کی جاتی ہے ایم یو این اول تو طلبہ کی نالج کو بڑھانے کیلئے کئے جاتے ہیں مگر حیدرآباد میں کچھ آرگنائز نے اسے انٹرٹینمینٹ اور کمائی کا ذریعہ بنا لیا ہے عموماََ ایم یو این تین دن پر مشتمل ہوتا ہے پہلے دن اوپننگ سیئرمنی ،دوسرے دن کمیٹی سیشن تیسرے دن اوارڈ سیئرمنی اور کلوزنگ سیئرمنی کی جاتی ہے مگر حیدرآباد میں ایم یو این کے ساتھ ساتھ میوزیکل کانسرٹ اور ڈی جے پارٹی بھی آرگنائز کی جاتی ہے بہت کم طلبہ بطور ڈیلیگٹس اس پروگرام میں حصہ لیتے ہیں مگر میوزیکل کانسرٹ میں طلبہ کی بڑی تعداد آتی ہے جو کہ صرف اور صرف انٹرٹنمینٹ کیلئے اس پروگرام میں موجود ہوتی ہے اس پروگرام کا مقصد طلبہ کو نالج فراہم کرنا ہے ناکہ ڈی جے پارٹی کے تحت انٹرٹنمینٹ فراہم کرنا ہے حیدرآباد میں ایم یو این کو صرف کمائی کا ذریعہ بنا لیا گیا ہے جیسے ڈیلیگیٹس بننے کیلئے رجسٹریشن فیس ادا کرنی پڑتی ہے ٹھیک اسی طرح ایم یو این میں ہونے والے میوزیکل کانسرٹ کے ٹکٹ بھی الگ سے فروخت ہوتے ہیں اب تک حیدرآباد کا سب سے بہترین ایم یو این (حیدرآباد ایم یو این ) کے نام سے ہوا ہے جو کہ تین سال سے لگاتار بہترین ایم یو این آرگنائز کر رہا ہے مگر یہ لوگ اس پروگرام کو کمائی کیلئے آرگنائز کرتے ہیں نہ کہ معلومات فراہم کرنے کیلئے اسی ایم یو این کی نقل پر نہرون کوٹ ایم یو این آرگنائز ہوا مگر کامیاب نہ ہوسکا اور لوگوں کے ساتھ فراڈ کیا گیا صاف دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح ایک تعلیمی پروگرام کو انٹرٹینمنٹ کا روپ دیا جا رہا ہے اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے اب سندھ یونیورسٹی پہلی بار ایک ایم یو این آرگنائز کر رہی ہے جس کا نام (سندھ یونیورسٹی ایم یو این )ہے اس پروگرام میں پورے پاکستان سے طلبہ بطور ڈیلیگٹس حصہ لینے آرہے ہیں اور اس پروگرام کی تیاری کا ذمہ سندھ یونیورسٹی کے شعبہ (اسٹگیز)کو دیا گیا ہے اور تیاری زور و شور سے جاری ہے امید کرتے ہیں کہ یہ اب تک کا سب سے بہترین ایم یو این ہوگا حیدرآباد میں اس طرح کے پروگرامس طلبہ کو جمہوری تعلیم دینے میں کام آتے ہیں مگر یہاں اسے کمائی کا ذریعہ بنا لیا گیا ہے جو کہ غلط ہے اور ایم یو این کو اس کے اصل مقصد کیلئے ہی آرگنائز کرنا چاہیے جو کہ طلبہ کو جمہوری تعلیم سے آگاہ کرنا ہے نہ کہ میوزیکل کانسرٹ کر کہ ان کو انٹرٹین کرنا ہے ۔

Practical work was carried out under supervision of Sir Sohail Sangi, at Media & Communication Department, University of Sindh

فیچر شہریار رشید

Feature is always reporting based. U did not observe paragraph. DO not use english words  
SS
فیچر 

شہریار رشید رول نمبر۔147 BS-Part III

چاندنی موبائل مارکیٹ حیدرآباد

چاندنی موبائل مارکیٹ حیدرآباد کی پہلی اور سب سے بڑی موبائل مارکیٹ ہیاس جگہ پر پہلے چاندنی سینما ہوا کرتا تھا۔ 
شروعات میں یہاں صرف کمپیوٹرز کا سامان ملا کرتا تھا لیکن اب ہر قسم کے موبائل فون اور موبائل گیجٹس اور دوسرے الیکٹرونک آئٹم بھی باآسانی دستیاب ہیں 1280 دوکانوں پر مشتمل یہ مارکیٹ دو حصو ں میں تقسیم ہے ایک حصہ جو کہ ایس آرٹی سی ماکیٹ اور دوسرا حصہ چاندنی پلازہ مارکیٹ کہلاتا ہے SRTCایس آرٹی مارکیٹ اس وجہ سے کہلاتی ہے کہ پہلے اس جگہ پر سرکاری ٹرانسپورٹ کمپنی سندھ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کا بس اسٹینڈ تھا۔ مارکیٹ میں موبائل فون اور موبائل گیجٹس کی قیمت مناسب ہے جبکہ چاندنی پلازہ مارکیٹ میں موبائل فون اور گیجٹس کی قیمت زیادہ ہے اس وقت موبائل مارکیٹ کا کام عروج پر ہے دور جدید

کیساتھ جہاں نئی نئی ٹیکنالوجی جنم لے رہے ہیں وہیں موبائل مارکیٹ کا کام بھی بڑھتا جا رہا ہے۔

موبائل مارکیٹ کے بڑھتے کاروبار کیساتھ کالابازاری بھی بڑھتی جار ہی ہے مارکیٹ میں نئے اور استعمال دونوں ہی موبائل دستیاب ہیں تمام موبائل فون اور گیجٹس کراچی سے لائے جاتے ہیں جسکی وجہ سے دوکاندار اپنے آنے جانے کے اخراجات موبائل فون کی قیمت سے نکالتے ہیں اور کالا بازاری کرتے ہیں نئے ڈبہ پیکٹ موبائل فونز میں کالابازاری اتنی نہیں جتنی استعمال شدہ فونز میں کیجاتی ہے استعمال شدہ موبائل فونز میں اکثر کوئی نہ کوئی خرابی موجود ہوتی ہے مگر پھر بھی دوکاندار کسٹمر کو وہی خرابی والا موبائل فون فروخت کرتے ہیں اور جب کسٹمر کو وہ خرابی نظر آتی ہے تو دوکاندار اس کی ذمہ دار لینے سے مکر جاتا ہے وہ سارا الزام کسٹمر پر ڈال دیتا ہے دوکاندار اپنی چیزوں کو سونا سمجھ کر فروخت کرتے ہیں اور بکنے آئے ہوئے موبائل فونز مٹی کے بھاؤ خرید کر آگے سونے کے بھاؤ بیچا کرتے ہیں۔


گذشتہ چار سال سے موبائل کی چوری بہت عام ہوگئی ہے یہ چوری ہونے والے موبائل فونز اسی مارکیٹ میں بیچے جانے لگے ہیں اسطرح کے چوری والے موبائل فون کے ساتھ ڈبہ موجود نہیں ہوتا ہے اور دوکاندار کو یہ موبائل فون بہت کم قیمت میں مل جاتے ہیں اول تو اسطرح کے موبائل فونز دوکاندار کو خریدنے ہی نہیں چاہیے مگر پھر بھی لالچ میں آکر یہ موبائل فونز خرید لیتے ہیں اور آگے انہی موبائل فونز کو مہنگی قیمت میں فروخت کیے جانے لگا ہے اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے حیدرآباد پولیس حرکت میں آئی اورسٹیزن اینڈ پولیس لیزان کمیٹی کے ذریعے موبائل فون کو ٹریک کرنا شروع کیااس عمل سے کئی دوکاندار اور ان دوکانوں کے کسٹمر زکو حراست میں لیا گیا کسٹمر کی غلطی نہ ہونے کی وجہ سے سارا الزام دوکاندار پر آتا ہے کہ جو لوگ اس قسم کے چوری والے موبائل بیچنے آتے ہیں اُنکے شناختی کارڈ کی کاپی کیوں طلب نہیں کی؟ اس کی سزا کے طور پر ان دوکانوں کو ایک مدت کیلئے سیل کیا گیا اور جرمانہ بھی لاگو کیا گیا۔ اب حالات اس سے
بھی بدتر ہے۔ 
اب مارکیٹ میں کِٹ موبائل سیٹ دستیاب ہے جو کہ بیرونی ممالک سے اسکریپ ہوکر یہاں آتے ہیں اور ریفرنشڈ ہو کر مارکیٹ میں فروخت ہوتے ہیں ان موبائل کی کوئی گارنٹی نہیں دی جاتی نہ ہی ان کا ڈبہ موجود ہوتا ہے اس طرح کے کِٹ موبائل فونز فروخت کرنا قانوناََ جرم ہے کیونکہ یہ موبائل رجسٹرڈ نہیں ہوتے اور بوم بلاسٹ جیسے حادثہ ان ہی موبائل فونز کی مدد سے کیے جاتے ہیں مگر پھر بھی اس طرح کے موبائل مارکیٹ میں بڑی تعداد سے فروخت ہو رہے ہیں کیونکہ یہ موبائل قیمت میں سستے اور مضبوط ہوتے ہیں۔ لیکن چوری ہونے کی صورت میں ان موبائل کو ٹریک بھی نہیں کیا جاسکتا۔
موبائل مارکیٹ میں کئی موبائل کمپنی کے آؤٹ لیٹ بھی موجود ہیں مگر بہت کم لوگ ان آؤٹلیٹ کا رخ کرتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ڈبہ پیک موبائل کی اسمگلنگ بھی بہت عام ہے ڈبہ پیک موبائل فونز اسمگل ہو کر مارکیٹ میں آتے ہیں اور آؤٹلیٹ کی قیمت سے کم قیمت میں فروخت کیے جاتے ہیں جس کی وجہ سے کمپنی آؤٹلیٹ کو نقصان اُٹھانا پڑتا ہے یہی نہیں بات صرف موبائل فونز تک ہی محدود نہیں موبائل گیجٹس جیسے کہ ہینڈ فری چارجر وغیرہ میں بھی کالا بازاری کی جاتی ہے یہ سب سامان اوریجنل نہیں ہوتا مگر کچھ دوکاندار اس سامان کو اوریجنل کا نام دے کر مہنگی قیمت میں فروخت کرتے ہیں اس کالا بازاری کو دیکھ کر حیدرآباد پولیس حرکت میں آتی ہے اور آہستہ آہستہ اس کالا بازار ی کو ختم کیا جا رہا ہے گذشتہ سالوں سے موبائل مارکیٹ کی کالا بازاری میں کافی کمی آئی ہے ۔


















Practical work was carried out under supervision of Sir Sohail Sangi, at Media & Communication Department, University of Sindh

Wednesday, 31 August 2016

Cyber-crime Bill and freedom of expression by rajesh kumar article

Cyber-crime Bill and freedom of expression
Article
Rajesh Kumar oad
Roll no:78


The prevention of Electronic Crimes Bill (PECB) or Cybercrime bill 2015 has been passed by senate on 12th August 2016, after long controversy. The bill has been adopted and became law after signatured by president. To be noted that Prevention bill for Electronic Crime was tabled by Ministry of I.T before National Assembly in 2015 and passed on14th April.
In the modern world where world has been becoming global village and people are connected through internet to the whole world, while in the Pakistan where technology is not developed as much, where there is need of awareness and social literacy but here people are always restricted to say and from getting information. like some time ago ban on YouTube by the government but  people still found ‘other’  ways to use it as it has wealth of information on any topic. From students to professionals find it easir way to learn from it. And in this cyberspace world there are some people who find a way  as government and cyber-space security agencies cannot restrict the people from getting to whatever information is available on the internet.
Once again to suppress the freedom through complicated and vague cyber-crime bill has been passed by government. Intellectuals and different organizations considering this cybercrime bill as ‘Draconian’ which suppress the freedom of expression and limits the reach of information to ordinary users of internet. internet i.e. on social media where people express their ideas, opinion freely about everyone now must be careful and can come under any law as other forms of media already restricted such as print or electronic media. People also considering it against democratic rights as there are no clarification in the many sections in prescribed cyber crime bill.
Some features of the bill up to three years’ imprisonment, Rs 1million fine or both for unauthorized access to critical infrastructure access or data. Up to seven years’ prison 10 million fine or both for an offence relating to terrorism, any person convicted of a crime relating to terrorism. Up to six months’ imprisonment, Rs50 thousand or both producing, supplying or importing a device for use in an offence. three years’ imprisonment, Rs 5 million or both for obtaining, selling or using another person’s identity information without authorization and many other punishments on doing crime.
After 55 amendments, these are some features of bill considered to restrict people from doing crime, is this what really Pakistan needed to control cyber crime? Such strict laws? This countries lawmakers seriously need a break, as they are turning democratic country into autocratic one.
  digital rights activists in pakistan are much concerned about this bill.
 On the basis of crime, there are different punishment suggested. How this bill is considered as better for the society to stop crime in which there is imprisonment for a child of 10 years! Like this, definitely it will create panic  among the public or institutes that they won’t be able talk openly against state or its institutes. which we can say is useful for the state to use this bill politically or to achieve political interests which is against the basic human rights actually. We know that many people exploit the freedom or due to lack of media literacy say many things about the institutions concerned with establishment or state that they shouldn’t do, but definitely public have to talk or discuss, if there are flaws or bad governance in the state as the criticism is backbone for the democratic societies to reform and improve their situation.
it is the responsibility of state to protect the rights of every citizen and secure freedom as constitution of Pakistan guarntees freedom of speech to its every citizen. If this ‘draconian’ law, misused will bring unwanted consequences for Pakistani society and will also increase the knowledge gap among the people as the internet and social media are good information sources of the people.

 That is why, not only few political parties, human rights organizations, people concerned with civil society but people using internet especially social media users are opposing and fearing that it would target them, because it is seemed as against freedom of speech.

Tuesday, 30 August 2016

مصباح۔ار۔رودا, پروفائل,


مصباح۔ار۔رودا
2k14/Mc/52 (BS=3)
ٖپروفائل ڈاکٹر لیاقت راجپوت
ڈاکٹر لیاقت راجپوت (محنت کے دم پر اپنا لوہا منوایا)
ویسے تو سب ہی لوگ تعلیم حاصل کرتے ہیں لیکن کچھ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جوتعلیم حاصل کرنے کو اپنا شوق بنا لیتے ہیں ڈاکٹر لیاقت راجپوت بھی ان ہی میں سے ایک ہیں۔ڈاکٹر لیاقت راجپوت ۳ جنوری ۱۹۵۳ کو ٹنڈوالہیارمیں پیدا ہوئے۔والد کا نام عبدالرزاق تھا .بچپن سے ہی تعلیم کے شوقین تھے ابتدائی تعلیم دارالعلوم پرائمری اسکول ٹنڈوالہیار سے حاصل کی۔اعلی تعلیم کے لئے میونسپل ہائی اسکول میں داخلہ لیا اور پورے شہر میں پہلی پوزیشن حاصل کی ۔ پہلی پوزیشن حاصل کرنے پر حکومت کی طرف سے ایک سال کی اسکالرشپ دی گئی۔

گھر والے آپ کی زندگی کا ایک واقعہ بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ والدہ نے کسی ضروری کام کی وجہ سے اسکول جانے سے منع کیا تو رونے لگے اور اسکول جانے کی ضد کرنے لگے اور اپنی ضد منوا کر رہے ۔تعلیم حاصل کرنے کے شوق اور ڈاکٹر بننے کی لگن نے آپ کو گھر بیٹھنے نہیں دیا اور اپنا شہر چھوڑ کر حیدرآباد کا رخ کیا ۔حیدرآباد میں آتے ہی لیاقت میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کی ڈگری مکمل کی اور جرنل پریکٹس کے ڈاکٹر بنے۔مزید تعلیم حاصل کرنے کے لئے ملک سے باہر جانا چائتے تھے لیکن گھریلوں مصروفیات کی وجہ سے نہ جا سکے ۔ڈاکٹر لیاقت راجپوت کے گھر والوں کے مطابق آپ اخلاق کے اعلی درجے پرہیں .والدین کی ہمیشہ خدمات کی ساتھ ہی ساتھ اپنے بہن249 بھائیوں سے بھی ہمیشہ نرمی سے پیش آئے۔ بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے ہونے کے باوجود بھی سب کی عزت کی اور ہمیشہ ان کا خیال رکھا۔آپ ایک خدار انسان ہیں ہمیشہ اپنی مدد آپ کے تحت کام کیا. خاندانی زبان اردوہے. لیکن آپ کوانگلش249سندھی249 249مارواڑی غرض مقامی تمام زبانوں پر عبور حاصل ہے. ۱۹۶۸ ؁ میں شادی ہوئی . آپ نے اپنی شادی شدہ زندگی اور پڑھائی کی زمیداریوں کو ساتھ ساتھ پورا کیا۔ آپ کی ۳ بیٹیاں اور ۱یک بیٹا ہے۔ٖآپ نے بیوی کے انتقال کے بعد بچوں کی اکیلے ہی دیکھ بھال کی بیٹیوں کو اچھی تعلیم دی اور بیٹے کو ڈاکٹر بنایا۔ آپ صبروہمت کے پیکر ہیں۔ آپ نے ڈاکٹر کی پڑھائی مکمل کرنے کے بعد لیاقت میڈیکل کالج میں طلبہ کو پڑھانا شروع کیا اس کے بعد ۱۷ گریڈ کی گورنمنٹ نوکری ملی اور آہستہ آہستہ مختلف مراحلات سے گزرتے ہوئے ترقی کی اور آخر کار اپنی محنت سے ۲۰ گریڈ تک پہنچے اور پولیس سرجن حیدرآباد میں اپنی خدمات انجام دے کر گورنمنٹ نوکری سے ریٹائرمینٹ لے لی ۔ 

۱۹۸۰ میں اپنے والد عبدالرزاق کے نام سے اپنی ایک کلینک کھولی جس میںآج بھی اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔روز تقریبا ۰۵ سے ۰۰۱ تک مریضوں کو دیکھتے ہیں. مریضوں کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر لیاقت راجپوت کے علاج میں شفاء ہے ،آپ میں مریضوں کو حوصلہ دینے کی صلاحیت موجود ہے آپ کے اخلاق سے اور آپ کے علاج سے مریضوں کو جلد فائدہ ہوتا ہے۔ ڈاکٹر لیاقت راجپوت نماز کے پابند ہیں نماز کے اوقات میں کلینک کھولنے سے گریز کرتے ہیں ۔. ڈاکٹر لیاقت راجپوت کو ۴۱ فروری ۲۰۱۰ کو حیدرآباد میں مینجمینٹ آف ٹیوبرکلوسزکے سارٹیفیکیٹ سے بھی نوازا گیا۔

ڈاکٹر لیاقت راجپوت حیدرآباد کی ایک بہت مشہور اور باوقار شخصیت ہیں.لوگ دور دور سے آپ کے پاس علاج کے لئے آتے ہیں. آپ کا علاج بہت فائدہ مند ہے. ڈاکٹر لیاقت راجپوت کو ان کی اعلی کارکردگی پر مختلف قسم کے اعزازات بھی ملے ہیں . آپ کو حج کی سعادت بھی نصیب ہوئی آپ ایک محنت کش انسان ہیں جو لوگوں کے کام آنے کے لیے اپنی ہر ممکن کوششوں میں مصروف رہتے ہیں . لوگ ڈاکٹر لیاقت راجپوت میں موجودصلاحیتوں سے واقف ہیں اور آپ پر پورا یقین بھی کرتے ہیں. آپ کیپاس مسائل لے کر آتے ہیں تا کہ آپ ان کا کوئی حل نکال سکیں . آپ حیدرآباد کے علاوہ بھی دوسرے شہروں میں بھی اپنی خدمات انجام دیتے ہیں اور اس سے قبل بھی بہت بار دے چکے ہیں . آپ نے اپنی پوری زندگی فلاح وبہبود کے کاموں کے لیے وقف کر رکھی ہے. 

. ڈاکٹر لیاقت راجپوت میں بہت سی خداداد صلاحیتیں موجود ہیں . آپ دائرے میں رہ کر سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے مالامال ہیں . آپ کو ایک سلجھا ہوا شخص کہنا غلط نہ ہوگا.

Practical work was carried out under supervision of Sir Sohail Sangi, at Media & Communication Department, University of Sindh

Thursday, 25 August 2016

سجاد علی, آرٹیکل, corrected


سجاد علی
کلاس 5206B.S iii
رول نمبر: 5 2k14/MC/163
Piece: Article
کوٹری میں فلٹر پلانٹ نکارہ
پانی زندگی کی علامت ہے اور یہی وجہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں اس کی قدر کو تسلیم کیا جاتا ہے اور ان کا تو یہ بھی کہنا ہے کی آئندا جنگیں بھی پانی پر ہو نگی پانی انسانی جسم کے لئے بنیادی ضرورت ہے اسی وجہ سے انسانی جسم کا دو فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہے ایک ادمی کے جسم میں 50 سے 55 لیٹر تک پانی موجود ہوتا ہے 

اور اگر بات کی جائے حکومت سندھ کی تو جو کام ان سے نہیں ہو تا وہ اسے جھوٹے وعدوں کے رنگ میں ڈھال کر اپنی سُستی اور ناہلی کا مظاہرا ایک اور نئے وعدہ کی راہ دیکھا کرتی ہے ،گزشتہ 8 سال سے کوٹری کا فلٹر پلانٹ بھی اپنی لاچاری کی داستان کی مثال اپنے آپ خود ہے ۔اس فلٹر پلانٹ کی منظوری سابق وزیر اعلی سندھ سید قائم علی شاھ نے کوٹری کے شہریوں کو تحفہ میں دی تھی لکن اب فلٹر پلانٹ مشینری
کا استعمال نہ ہونے کی وجہ سے یہ فلٹر پلانٹ اپنی بربادی کا منظر اپنی انکھوں سے دیکھ رہا ہے جس پر اُس وقت کے ڈپٹی کمشنر سید نظیر شاھ نے 2009 میں سخت اکشن لے کر ورک اینڈ سروس کے ڈائریکٹرکو سخت اہقامات جاری کیے کہ فورن اس کی رپورٹ پیش کی جائے لکن اس کے چند دن بعد ہی ڈسی جامشورو کا تبادلہ ہو گیا اور یہ فلٹر پلانٹ غفلت کی بھیٹ چڑھ گیا، اور کوٹری کی عوم گندا پانی پی کر موت کو دعوت دینیپر مجبور ہو گئی جس سے کئی بیماریا پھیلنے لگی،مزید داکٹرز کاکہنا ہے کہ کو منہ کوٹری کی آبادی تقریبن تین لاکھ ہے جس میں ہر تبکے کی لوگ ریہائش پزیر ہیں تو جن لوگو کی امدانی اچھی ہے ان کا گزار بسر مینرل واٹر سے ہو جاتا ہے لکن جو میڈل کلاس کے لوگ اور لویر کلا س کے لوگ اس رحمت سے محروم ہیں جن کی واجہ سے اُنہیں زحمت کا سامنا ہے۔ اسی وجہ سے جگہ جگہ فلٹر پلانٹ کی مشینری لگائی گئی ہے تاکہ صاف پینے کے پانی کو یقینی بنایا جا سکے ۔گندے پانی ہونے کی کئی وجوہات ہیں جن میں بارش کا پانی ،ڈینیج سسٹم،ماحول کی الودگی،کوڑہ کرکٹ،واٹر لائنگ سسٹم،ان مسائل کی اصل وجوہات ہیں۔لکن حکومت ہمیشہ خاموشی کی طرح کا مظاہرا کر کے اپنے ہاتھ اُپر اُٹھا تی آئی ہے۔ گندا پانی پینے سے لاکھو بیماریاں جنم لیتی ہیں جن میں اندرونی بیماریاں اور بیرونی شامل ہے۔جن کے موضی مرض انسانی جسم میں اس طرح سے اپنے گھر بناتے ہیں جس کے بعد انسان کو اس دنیاں سے اپناگھر چھوڑنا پڑتا ہے ، اور نہلے پر دہلہ یہ ہے کہ سرکاری اسپتال میں سہولیات نہ ہونے کی واجہ سے لوگ پرئیویٹ اسپتال کا رخ کرنے پر مجبور ہے گندا پانی پینے سے ہزاروں بچوں کی زندگیاں داؤ پر لگی ہوئی ہیں مقامی ڈاکڑرز کے متابق کوٹری روزانہ 50 سے60 بچے گندے پانی پینے کی وجہ سے بیمار ہو رہے ہیں،بچوں میں ڈائریا پیٹ کے دیگر امر اض اور جلد ی بیماریاں پھیل رہی ہیں شہریوں کا کہنا ہے کہ ہم مجبور ہیں گندا پانی پینے پر کیونکہ کے منرل واٹٹر خریدنے کی ان کی سقت نہیں ہے ۔اس پر کئی بار شہریعں کی جانب سے احتجاج کیا جا چکا ہے لکن حکومت کے کانوں میں جوں تک نہیں رینگتی۔اور اس غفلت کا زمہ دار کسی حد تک حاضر ڈسی جامشوروں بھی ہے جو اس وقت تک اس فلٹر پلانٹ پر حکومت کی تواجہ لانے میں ناکام رہے ہیں ۔حکومت کو چایئے کہ اس پر فوری اکشن لے کر اس مشینری کو فوری استعمال کرنے کے احکامات جاری کرے تاکہ کوٹری کی عوام کو صاف پانی پینے سے فائدا اُٹھا سکے ۔

رافع خان, فیچر corrected

corrected  Fetaure is always reporting based
فیچر    رافع خان
خواتین میں حجاب کا بڑھتا ہوا رجحان
گزشتہ چند عرصے سے خواتین میں حجاب کا رجحان عام دکھائی دے رہا ہے۔بڑھتی ہوئی تعداد میں لڑکیاں اسے ضرورت اور فیشن سمجھہ رہی ہیں ۔ پہلے جہاں خواتین برقعے میں اپنے آپ کو محفوظ سمجھتی تھیں اب وہاں آج کل برقعے سے زیادہ حجاب کو ترجیح دی جارہی ہے اور اس کا رجحان تیزی سے پروان چڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔ حجاب اور عبائیہ کو اب صرف شادی شداہ یا گھریلو خواتین ہی نہیں بلکہ نوجوان لڑکیاں بھی بطور فیشن پہن رہی ہیں۔ حجاب کو عورت کا فطری حسن بھی کہا جا سکتا ہے۔

مارکیٹ میں ہر روز نت نئے انداز کے حجاب متعارف کرائے جا رہے ہیں جو کہ جدید ڈیزائن کے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے یہ حجاب عورتوں اور لڑکیوں کی توجہ کا مرکز بنے دکھائی دیتے ہیں۔آج کل بہت سے اسکول،کالج اور یونیورسٹی کی لڑکیوں نے حجاب کو اپنایا ہوا ہے۔ اکثر اسکول کالج اور یونیورسٹی کی لڑکیاں حجاب ،اسکارف میں نظر آتی ہیں۔حجاب کا بڑا فائدہ یہ ہے کہ وہ دوپٹے کی ضرورت پوری کر دیتا ہے۔
حجاب اور عبائیہ کا ایک دوسرے سے تعلق یہ ہے کہ پہلے عبائیہ کا فیشن خواتین ،لڑکیوں میں مقبول ہوا پہر حجاب کی اہمیت بڑھی مگر اب حجاب کو پردے کے ساتھ ساتھ فیشن کا بھی حصہ بنا لیا ہے۔جہاں زماے کے دوسرے شعبہ ہاے زندگی میں تبدیلی ظاہر ہو رہی ہے ایسے ہی حجاب اوڑھنے کے ڈھنگ میں بھی تبدیلی دکھائی دے رہی ہے، پہلے خواتین فینسی گوٹے کناری والی چیزوں سے اپنے آپ کو ڈھک لیا کرتی تھیں مگر آج کل خواتین نے حجاب کو اپنایا ہوا ہے۔

ہر خطے اور علاقے کے لحاظ سے حجاب اوڑھنے کا طریقہ الگ الگ ہے مگر ان کا مقصد صرف ایک ہی ہے اور وہ ہے پردہ۔جامعہ سندہ کی طلبہ کا یہ کہنا ہے کہ حجاب کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ روز روز طرح طرح کے کپڑوں کی جھنجٹ سے چہٹکارا مل گیا، اور یے حجاب،عبائیہ یا اسکارف کو بطور فیشن استعمال کر رہی ہیں۔ روبی نامی خاتون کا یہ کہنا ہے کہ بازار جانا ہو یا کہیں اور وہ ڈیزائنر ڈریسز سے زیادہ حجاب کو ترجیح دیتی ہیں۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ حجاب کو اپنانے سے ان کا خاصہ وقت بچ جاتا ہے جس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ کپڑے استری کیے بغیر اپنا وقت بچاسکتی ہیں اور حجاب سے اپنے آپ کو ڈھک کر باآسانی کہیں بھی جا سکتی ہیں۔

خواتین نے فیشن کے طور پر اور اپنی آسانی کے لیے بھی حجاب کو اپنایا ہو ہے۔خواتیں کی کثیر تعداد بازاروں میں حجاب پہنے دکھائی دیتی ہیں جس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ حجاب کے ہوتے ہوے کسی لڑکی یا خاتون کو مہنگے یا عمدہ جوڑے کی ضرورت نہیں ہوتی اسی لیے حجاب کا بڑھتا ہوا رجحان دکھائی دیتا ہے۔
ناہد نامی خاتون کے مطابق بجلی نہ ہونے کی صورت میں حجاب ان کا باخوبی ساتھ دیتا ہے اکثر کسی ایمرجنسی صورتحال میں جب بجلی موجود نہیں ہوتی اور ان کے عمدہ اور خاص جوڑے استری نہیں ہوئے ہوتے تو یہ عبایۂ اور اسکارف کو اپنا لباس بنا لیتی ہیں۔ جامعہ سندھ کے شعبہ میڈیا اینڈ کمیونیکیشن کی طلبہ سائرہ ناصر کے مطابق اس کے دو پہلو ہیں ایک یہ کہ شرعی پردہ جو اسلام میں ہے اور دوسرا حُسن کو بچانے کے لیے پردہ، زیادہ تر آج کل حُسن کو بچانے کے لیے پردہ عروج پر ہے جس کے لیے نت نئے انداز والے برقعے بازار میں متعارف کرائے جا رہے ہیں۔

اسلام کے نقطہ نظر سے پردہ اور حجاب عورت کو تقدس ہی نہیں بلکہ تحفظ بھی فراہم کرتا ہے
 لیکن آج کل اتنے چست برقعے پہنے جاتے ہیں کہ اندازہ لگانا مشکل ہو جاتا ہے کہ یہ خود کو بری نگاہوں سے بچانے کے لیے پہنے ہیں یا لوگوں سے تعریفیں سنے کرنے کے لیے۔

حیدرآباد کے مختلف مقامات پر حجاب ، برقعے، اسکارف اور عبایۂ کی خریدوفروغت کی جاتی ہے۔لطیف آباد نمبر آٹھ میں کڑہائی والے برقعے اور نئے نئے ڈیزائن کے برقعوں کے درمیان ریس چل رہی ہے جن کی قیمت تقریبا دو ہزار تک ہے ۔ حیدرآباد کا مشہور ریشم بازار کی بتاشا گلی میں خاص طور پر فرمایئشی برقعے تیار کیے جاتے ہیں۔چاندنی بازار میں جویریہ عبایۂ ایک ایسی واحد دکان ہے جس میں صرف اور صرف عبایۂ،برقعے اور اسکارف فروغت کیے جاتے ہیں۔ اس دکان کے مینیجر کے مطابق انکی دکان میں مختلف قسم اور مختلف ڈیزائن کے برقعے اور عبایۂ حجاب کے لیے دستیاب ہیں جن کی قیمت آٹھ سو سے لے کر آٹھ ہزار تک ہے۔

حجاب نہ صرف مسلمان خواتین بطور پردہ استمعال کرتی ہیں بلکہ ہر مزہب، ہر رنگ و نسل کی خواتین اسے فیشن کے طور پر ترجیح دے رہی ہیں۔بعض خواتین حجاب اپنے رنگ کو دھوپ اور آلودگی سے بچانے کے لیے بھی استعمال کر رہی ہیں۔
نام:محمد رافع خان
کلاس: بی ایس پارٹ ۳
رول نمبر:2k14/Mc/140


Practical work was carried out under supervision of Sir Sohail Sangi, at Media & Communication Department, University of Sindh

رکشہ ٹرانسپورٹ کے مسائل - سائرہ ناصر آرٹیکل

Proof and spelling mistakes. Where? in pakistan? Karachi, Hyd? etc  Number of rikshaw, ? being replaced by chung chee
Saira Nasir
رکشہ ٹرانسپورٹ کے مسائل


نام : سائرہ ناصر
رول نمبر : BS III 2K14/MC/84
کٹیگری : آرٹیکل


اکثر ہم اپنے اردگرد بہت سی ایسی چیزوں کو دیکھتے ہیں جو وiسے تو لا یعنی دکھائی دیتی ہیں ۔ لیکن اپنے اندر بہت سے حقیقتیں پہناں کیے ہوتی ہیں ۔ ہمارے معاشرے میں ہر طرح کے لوگ رہتے ہیں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کو اللہ کی ذات بہت نوازتی ہے دولت، شہرت اور عزت عطا کرتی ہے ۔ ذاتی املاک آنے جانے اور سفر کرنے کیلیے زاتی سواریاں بھی ان کے پاس ہوتی ہیں ایسے لوگوں کو صاحب ثروت یا صاحب حیثیت لوگ کہا جاتا ہے ۔ اس کے بعد اک اور طبقہ جو پبلک ٹرانسپورٹ اور دیگر ذرائع ستعمال کرتا ہے ۔ اس کی وجہ طاہر ہے ذاتی سواری کا نا ہونا ہے س لیے لوگ یہ ذرائع استعمال کرتے ہیں ۔ ملک کی بیشتر آبادی متوسط طبقے پر مشتمل ہے ۔ اسلیے ٹرانسپورٹ کا استعمال ذیادہ ہے ۔س ٹرانسپورٹ میں مختلف سواریاں جن میں بسیں، تنگے اور رکشہ ۔ رکشہ کا کردار بھی ہمارے معاشرے میں بہت اہم نظر آتاہے چونکہ یہ ایک نجی سوری ہے ۔ جس کو لوگ اپنی مرضی کی جگہوں پر لے جانے کیلیے استعمال کرتے ہیں رکشہ تقریباً ہر جگہ ہی دستیاب ہوتا ہے ۔ایسے لوگ جن کو کہیں جلدی پہنچنا ہوتا ہے ۔ اور ان کے پاس ذاتی سواری نہ ہو تو وہ اس سے استفادہ کرتے ہیں ۔

ہر گلی ، کوچے ، راستے پر باآسانی سے ملنے والی سواری رکشہ ، جو کہ آسانی سے چار سے پانچ افراد کے ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کیلیے باکفایت ہے ۔ ابتدائی زمانے میں رکشہ مشینی قوت سے نہیں بلکہ انسانی قوت سے چلنے والی سائیکل تھی جو کہ مغربی ممالک سے پزیرائی حاصل کرتے ہوئے مشرق میں آئی ۔ اور پاکستانی گورنمنٹ نے اسے قانونی اجازت 1960 میں دی ۔ مگر انسانی قوت سے چلنے والے اس رکشے میں ڈرائیور کے لیے پریشانی تھی بوڑھے ، کمزورڈرائیور کے لیے اس سواری کو کھینچنا مشکل ہوتا تھا ۔ اور پھر ہوا یوں کہ جلد ہی مشینی رکشے ہر جگہ غالب آگئے ۔ پاکستان میں چلنے والے رکشے جاپانی کمپنی ڈائی ہاٹسومیڈگیٹ کے تھے ۔ پھر بعد میں پاکستان میں بھی رکشے بننے لگے اور شہر لاہور سب سے بڑا پروڈیوسر بنا ۔

رکشہ جہاں ایک مفید سواری ہے وہیں اس کے چند مسائل بھی ہی وہ یہ ہیں کہ اپنی بلند اور کرخت آواز کے سبب ناپسند کیا جاتا ہے اور ماہرین ماحولیات کے مطابق ماحولیاتی آلودگی کا باعث بھی بنتا ہے ۔کیونکہ اس سے نکلنے والا دھواں بہت خطرناک ہے ۔ پھر 2015 میں پاکستان میں سی -این -جی CNG یعنی گیس سے چلنے والے رکشے متعارف کروائے گئے ۔جو نا صرف ماحول کیلیے اچھے تھے بلکہ جگہ کی مناسبت سے بھی اچھے تھے ۔ سائز میں بڑے تھے اور کم خرچ بھی کیونکہ گیس سستی ہے ۔ حیرت اور مزے کی بات تو یہ ہے کہ جس جگہ اس کے جانے سے لوگوں کو تکلیف ہو سکتی ہے وہیں اس کی موجودگی سب سے زیادہ ہوتی ہے اور وہ جگہ ہے ہسپتال ۔ ہسپتالوں کے باہر ان کی کثیر تعداد موجود ہوتی ہے ۔ 

ایسی سواری جس کا استعمال دن با دن ضرورت بنتی جا رہی ہو ۔ اسکی فراہمی میں آسانیاں پیدا کی جاتی ہیں ۔ لیکن پاکستان میں الٹی گنگا بہتی ہے ۔ یہاں سدھراؤ کی بجائے معاملات کو تشویشناک بنایا جاتا ہے ۔ غیراخلاقی زندگی جینا تو مانو یہاں کی بیشتر آبادی کا مشغلہ ہے ۔ اب بھتہ مافیا کی ہی بات کر لیجئے ۔ حلال کی کمائی پر ایک کالا دھبا ہے ۔ اب یہ کہنے میں بھی کیسا مضا ئقہ کہ جیسے حکمران ویسی ہی عوام ۔ جنگل راج زندہ باد ہے ۔ اندھیری نگری چوپٹ راج ہے ۔ ہر طاقتور اپنے سے نیچے والے کو دبا کے اپنا الّو سیدھا کرتا ہے ۔ ر کشہ ٹرانسپورٹ ہر ایک کی پہنچ کے مطابق قابل متحمل ہے ۔ اس کی سب سے بڑی خاصیت یہ بھی ہے کہہر جگہ باآسانی مل جاتا ہے ۔ رکشہ اسٹینڈز جگہ جگہ لوگوں کی آسانی کیلیے بنے ہوئے ہیں ۔ لیکن وہاں بھی رکشہ لگانے کا بھتا دینا پڑتا ہے رکشہ ڈرائیورز کو ۔ خاص کر حیدرآباد میں ریشم گلی اور صدر کے علاقے میں ۔

حیدرآباد شہر میں ٹریفک حادثات کی وجہ ڈرائیوروں کی لاپرواہی اور تیز رفتاری ہے ۔ جانے کب ہونگے کم ، اس دنیا کے غم انسانی جان پاکستان میں جتنی بے مول ہے اس کو بیان کرنا گویا سمندر کو کوزے میں بند کرنے کے مترادف ہے ۔ ایسی لا تعداد مثالیں روز حیدرآباد کی سڑکوں پر دیکھنے کو ملتی ہیں جب رکشہ ڈرائیورز دیگر گاڑیوں کو اوور ٹیک کرنے کے ساتھ غلط یو ٹرن اور قانون کی خلاف ورزی کرتے نظر آتے ہیں ۔ او ر نتیجہ میں قیمتی جانیں لقمہ اجل بن جاتی ہیں ۔ اسکی اہم وجہ بنا لائسنس کے گاڑے چلانا ہے ۔ نو فٹنس کے رکشہ ہیں ۔ اگر رکشہْ ڈرائیور کو پکڑ بھی لیا جائے تو وہ پولیس والے کو چائے پانی کی بخشش دے کرفرار ہو جاتا ہے ۔ بغیر رجسٹرڈ رکشے بھی چل رہے ہیں۔ مختصر یہ کہ پیٹ کی آگ بجھانے کیلیے ہر ایک اپنے قانون پرعمل درآمد کرتے ہوئے روزی کمانے پر مجبور ہے ۔ اب یہ حکومت کا فرض بنتا ہے کہ رکشے جیسے سواری کی پرسان حالت پر توجہ دے اور اور بہتر پالیسیز متعارف کروائے جو ہر ایک کے حق میں بہتر ثابت
ہو ۔

Practical work was carried out under supervision of Sir Sohail Sangi, at Media & Communication Department, University of Sindh