Tuesday, 29 November 2016

سونے اور چاندی سے بننے والی چیزوں میں ملاوٹ

Photos 
Graphs 
 Many composing mistakes in Mizna portion 
Conclusion is not proper



سونے اور چاندی سے بننے والی چیزوں میں ملاوٹ


فہرست


    ٭    سونے میں ملاوٹ (صرافہ بازار، شاہی بازار حیدرآباد)۔
        تحریر:۔    شہریار رشید     رول نمبر147    بی ایس پارٹ تھری

    ٭    2003 سے لیکر2016 سونے کی مہنگائی کی وجہ سے عوام کا آرٹیفشل جیولری کی طرف بڑھتا رجحان۔
        تحریر:۔    فرحانہ ناغڑ         رول نمبر24    بی ایس پارٹ تھری

    ٭    مصنوعی زیورات پر سونے کے پانی کا بڑھتا ہوا رحجان۔
        تحریر:۔    مذنہ رئیس الدین    رول نمبر156    بی ایس پارٹ تھری

   ٭ حیدرآباد اور کراچی کے سونے میں فرق۔
     تحریر:۔ شعبیہ قاضی  رول نمبر ۵۶۱  بی ایس پارٹ تھری
 
 عالمی طور پر سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاﺅ  
   
سمرا شیخ 

----------------------------------------------------------------- 


 عرفات جیولرز صرافہ بازار شاہی بازار حیدرآباد
    شہریار رشید
رول نمبر:    147   
کلاس:    بی ایس پارٹ (تھری)
حوالہ:
سورس:    راﺅ سجاد (دوکاندار)
    محسن لودھی (سونارورکر)   
سونے میں ملاوٹ (صرافہ بازار ، شاہی بازار حیدرآباد)
٭    سونے کے بڑھتے ہوئے دام جو کہ آسمان سے باتیں کر رہے ہیں ایسے میں سونا خریدنا ایک بڑی مشکل بن چکا ہے مگر پھر بھی لوگ اپنی بہن ،بیٹی کو جہیز میں سونا دیتے ہیں اور حیدرآباد کہ سوناروں کی چور بازاری ہے کہ ختم ہونے کا نام نہیں لیتی،    بقول دوکاندار سجاد راﺅ کے اُن کا کہنا تھا کہ حیدرآباد کی سب سے بڑی سونے کی مارکیٹ جسے شاہی بازار اور صرافہ بازار بھی کہاجاتا ہے جہاں کھولے عام ملاوٹ والا سونا بیچا جا رہا ہے اور کوئی ان کو روکنے والا نہیں ۔مہنگائی سے پریشان عوام سونے کے مہنگے ہونے کے باوجود بھی سونا خریدتی ہے مگر یہ بے ایمان سونار ملاوٹ شدہ سونا عوام کے متھے ماررہے ہیں کچھ دکانداروں کا عالم تو کچھ یوں ہے کہ وہ اکیس کریٹ ملاوٹ شدہ سونے کو چوبیس کریٹ بنا کر انتہائی بے فکر ہو کر فروخت کر رہے ہیں یہ سونارسونا فروخت کرتے ہوئے نہایت صفائی سے یہ بولتے ہیں کہ ہمارے جیسا سونا آپکو پورے بازار میں نہیں ملے گا اور گاہک کو سونے کے بارے میں غلط معلومات دے کر ، اپنی باتوں میں اُلجھا کر ملاوٹ والا اکیس کریٹ سونا چوبیس کریٹ بنا کر فروخت کرتے ہیں اور سونا خریدنے والے حضرات ان سوناروں کی عالیشان دوکانیں دیکھ کر ان کی باتوں کوسچ مان کرسونا خرید لیتے ہیں ۔

٭    سونا بنانے والے سنار محسن لودھی کا کہنا تھا کہ سونے میں ملاوٹ بہت طریقوں سے کی جاتی ہے ، بہت سے سونار سونے میں چاندی ملاتے ہیں چاندی سونے سے تیرانوے فیصد سستی ہوتی ہے اور با آسانی سونے میں مل کر سونے کی شکل اختیار کر لیتی ہے چاندی کی ملاوٹ نہایت صفائی کے ساتھ کی جاتی ہے جس کو پکڑنا عام آدمی کےلئے نا ممکن ہے کسی بھی سونے کے زیورات میں اوپری سطح پر تو سونا ہوتا ہے مگر اندورانی سطح ، چاندی سے بنائی جاتی ہے اور اس پر صرف سونے کا پانی چڑھا ہوتا ہے جو کہ حو با حو سونا ہی لگتا ہے اسطرح کے ملاوٹ شدہ سونے کے زیورات کا اندازہ تب ہوتا ہے جب انہیں واپس سوناروں کے پاس بیچنے کےلئے لایا جاتا ہے فروخت کرتے وقت سونار سونا خریدارکو چیک نہیں کرواتے البتہ وہی زیورات سونار خریدتے وقت طرح طرح کے طریقوں سے سونے کو جانچتے ہیں چونکہ یہ سونا ملاوٹ شدہ ہوتا ہے اس لئے سونار ایسے سونے کی آدھی قیمت لگاتے ہیں اور جب انہیں کہا جاتا ہے کہ یہ سونا آپ سے لیا گیا ہے پھر ملاوٹ کیسے ہو سکتی ہے تو وہ اس بات کو ماننے سے صاف انکار کر دیتے ہیں اور اسکے ساتھ ساتھ یہ سونار زیوار خریدتے وقت زیورات میں بننے والی مزدوری کے پیسے بھی کاٹ لیتے ہیں۔

٭    حیدرآباد صرافہ بازار میں صرف دس فیصد ہی دوکاندار ایسے ہیں جو کہ اکیس ،بائیس اور چوبیس کریٹ بغیر ملاوٹ والا سونا بیچ رہے ہیں کیونکہ بائیس اور چوبیس کریٹ سونا دبئی سے منگوایا جاتا ہے جو کہ ملاوٹ شدہ نہیں ہوتا جبکہ نو ّے فیصد دوکاندار بارہ،آٹھارہ اور ساڑھے اُننس کریٹ سونے کو اکیس کریٹ بنا کر بازار میں فروخت کر رہے ہیں اُن دوکانداروں میں سے بیشتر دوکاندار ساڑھے اُننس کریٹ سونا ہی استعمال کرتے ہیں اور گاہک کو اکیس کریٹ کے دام میں فروخت کرتے ہیں ۔
اریڈیئم(سونے کا بُرادہ):۔
اِریڈیئم جسے سونے کا بُرادہ بھی کہا جاتا ہے ۔یہ ایک ایسا دھاتو ہے جو کہ سونے میں ملایا جاتا ہے سونے کے وزن کو بڑھانے کےلئے یہ بُرادہ سونے کو پگلاتے وقت ملایا جاتا ہے اور اس ملاوٹ کو پکڑنا بلکل نا ممکن ہے ،اریڈیم یعنی سونے کا بُرادہ ملاوٹ کرنا غیر قانونی ہے اسکے باوجود صرافہ بازار میں اس دھاتو کو سونے میں ملایا جا رہا ہے اور کسی کو کانوں کان خبر تک نہیں ،اس بُرادے کی ملاوٹ پکڑنے کا صرف ایک ہی طریقہ کا وہ طریقہ سونے کو پگلانا ہے سونے کے پگلتے وقت اریڈیئم سونے سے الگ ہو جاتا ہے ۔اریڈیئم انسانی جلد کےلئے نہایت نقصان دہ چیز ہے اس کے باعث جلدی کینسر ہونے کا خطرہ رہتا ہے اسکے باوجود سونار اپنے کاروبار کو چار چاند لگانے کی لالچ میں اس دھاتو کو سونے میں ملا رہے ہیں اس ملاوٹ کو روکنا لازمی ہے اور اس طرح کے دھاتو کا ستعمال غیر قانونی اور جُرم ہے ۔


----------------------------------------------------------------- 

   فرحانہ ناغڑ
رول نمبر:    24   
کلاس:    بی ایس پارٹ (تھری)
حوالہ:    شاپ زیور کلیکشن اور ناصر جیولرز(لطیف آباد۔حیدرآباد)
سورس:    عاصم اینڈ ناصر (شاپ کیپر)

2003 سے لیکر2016 تک سونے کی مہنگائی کی وجہ سے عوام کا آرٹیفشل جیولری کی طرف بڑھتا رجحان
    گولڈ مارکیٹ میں آئے دن سونے کی قیمتوں میں فرق آتا رہتا ہے۔مگر آج کل سونے کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔پرانے سالوں میں مڈل کلاس طبقہ شادی میں سونا چڑھاتے تھے جو آسانی سے مناسب قیمت میں دستیاب ہوجاتا تھا۔دلہن کے لئے مڈل کلاس گھرانوں میںسونا چڑھانا مشکل کام نہیں ہوتا تھا مڈل کلاس بھی شادی کی تقریب میں سونے کا استعمال باآسانی کرتا تھا۔۳۰۰۲ سے لے کر ۶۰۰۲ تک سونا مناسب قیمتوں میں فروخت کیاجانا تھامگر ان سالوں کے بعد سونے کی قیمتوں میں حد درجہ اضافہ شروع ہوگیا جو ایک مڈل کلاس طبقے کے لیے خریدنا مشکل ثابت ہوگیا۔۰۱۰۲تک سونے کی قیمتوں میں میں اضافہ تو ہوا مگر ایک متوسط طبقہ مشکل سے ہی سہی مگر خصوصاََ شادی بیاہ میں سونا چڑھانے کے قابل تھا مگر موجودہ دور نے ان قیمتوں میں فرق لا کر سونا خریدنا مشکل بنا دیا ہے۔
۱۱۰۲ میں تیزی سے بڑھتی ہوئی سونے کی قیمتیں:
    نومبر ۱۱۰۲ سے اپریل ۶۱۰۲ کے درمیان سونے کی قیمتیں ۰۰۰۰۴۱ سے ۰۰۰۰۶۱ فی اونس کے درمیان رہی پھر اپریل ۲۱۰۲ سے ستمبر ۶۱۰۲ تک سونے کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ شروع ہوگیاستمبر ۲۱۰۲ سے فروری ۳۱۰۲ کے درمیان سونے کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوا یہاں تک کہ قیمتیں ۰۰۰۰۸۱ فی اونس تک پہنچ گئی اس کے بعد سونے کی قیمتوں میں کمی آنی شروع ہوئی اور فروری ۳۱۰۲ سے جولائی ۳۱۰۲ کے درمیان قیمتوں میں بہت تیزی سے کمی آئی یہاں تک کہ سونے کی قیمت ۰۰۰۶۱ فی اونس تک پہنچ گئی ۔جولائی ۳۱۰۲ کے بعد سے قیمتوں میں اتار چڑھاو آتا رہا کبھی اضافہ اور کبھی کمی ہوتی رہی ۔اگست ۵۱۰۲میںسونے کی قیمت میںبہت تیزی سے کمی آنی شروع ہوئی جو کہ جنوری ۶۱۰۲ تک جاری رہی یہاں تک کہ قیمتیں ۰۰۰۰۱ ۱ روپے فی اونس پر جا پہنچی ۔اس کے بعد قیمتوں میں پھر اضافہ شروع ہوا اور جنوری ۶۱۰۲ کے بعد قیمتوں میں باتدریج اضافہ ہوتا رہا اور یہ اتار چڑھاو ابھی تک جاری ہے۔نومبر ۶۱۰۲ میں سونے کی موجودہ قیمتیں ۰۰۰۵۲۱ فی اونس تک برقرار ہیں اور انہی اتار چڑھاو کو مدنظر رکھتے ہوئے عوام شادی بیاہ کی تقریب میںآرٹیفشل جیولری کی طرف مائل ہوتی ہوئی نظر آرہی ہے۔
آرٹیفشل جیولری کی طرف بڑھتا رجحان:
    سونے کی مہنگائی اور اتار چڑھاو کی وجہ سے لوگوں نے آرٹیفشل جیولری کی طرف رخ کر لیا ہے۔زیادہ تر لوگ اپنی تقریبات میں آرٹیفشل جیولری کا انتیخاب کرتے ہیں۔سونا بڑھنے کی وجہ ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے پاکستانی روپے کے حساب سے سونا مہنگا پڑھ رہا ہے۔جیولر کے مطابق سونے کی قیمتیں دن بہ دن بڑھنے کے سبب لوگ آرٹیفشل جیولری لی طرف مائل ہو رہے ہیں۔جیولر کا کہنا ہے کہ گزشتہ سالوں سے سونے کی خریدوفروخت میں کمی آئی ہوئی ہے جس کا سبب مہنگائی ہے اور لوگوں کی توجہ کا مرکز آرٹیفشل جیولری بن رہی ہے جس نے سونے کی خریدوفروخت کو متاثر کیا جس کا سبب ایک تو بڑھتی ہوئی مہنگائی ہے اور لوگوں کی توجہ کا مرکز آرٹیفشل جیولری بن رہی ہے جس نے سونے کی خریدوفروخت کو متا ثر کر رکھا ہے۔کچھ اور دوسری باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے لوگ آرٹیفشل جیولری کو شادی بیاہ میں استعمال کرنے لگ گئے ہیںجن میں سے ایک مہنگائی تو ہے مگر اس کے علاوہ وارداتوں کا ڈر بھی لوگوں میں پھیلا ہوا ہے۔لوگوں نے آرٹیفشل جیولری کو اپنی شادی بیاہ کی تقریب میں استعمال کرنے کا رجحان ان کے دیدہ زیب ڈیزائن اور میچنگ کے لئے بھی کر رکھا ہے۔شادی کے جوڑے کے حساب سے آجکل میچنگ اارٹیفشل جیولری نے لوگوں کی توجہ اپنی جانب کھینچ رکھی ہے۔اور موجودہ دور میں جس میں سونا فی تولہ ۰۵۳۶۴ کا مل رہا ہے اور ایسے مہنگائی کے دور میں متوسط طبقے کے لئے آرٹیفشل جیولری ایک اچھا سستا ااور آسانی سے دستیاب ہونے والا حل ہے۔



    مصنوعی زیورات پر سونے کے پانی کا بڑھتا ہوا رحجان۔
There are many composing mistakes, which rendered this piece unreadable.مذنہ رئیس الدین
رول نمبر:    156
کلاس :    بی ایس پارٹ (تھری)
    موسم کی طرح فےشن مےں بھی وقت کے ساتھ بدلاﺅ آتا رہتا ہے سندھ کے دوسرے بڑے شہر حےدرآباد مےں بھی ہر قسم کا فےشن اختےار کےا جاتا ہے اور اپنے وقت کے حساب سے ختم ہو جاتا ہے زےورات بھی فےشن کا اہم ترےن حصہ ہےں ۔ خواتےن کا سنگھار زےورات کا بغےر نا مکمل رہتا ہے ۔
زےورات الگ الگ اور مختلف قسم کی دھاتوں پلےٹےنےم، سونا ، چاندی، کانسی، تانبے ، ٹائٹےنےم ، ٹنگٹن ، (بے رنگ فولاد ) اور رہو ڈےم (فولاد ) سے مختلف اشکال مےں تےار کئے جاتے ہےں
دھاتوں کی ان مختلف اقسام مےں سے سونا اےک اہم اور مہنگی دھات ہے۔ جو تولہ کے حساب سے فروخت کی جاتی ہے اور کےڑے کے حساب سے جانچی جاتی ہے رپورٹ کے مطابق حےدرآباد مےں خائص سونا جوکہ (24کےرٹ کا ہوتا ہے)55700فی تولہ کے حساب سے فروخت کےا جارہا ہے۔جب کہ اس سے کم کےرٹ (21k)کے حساب سے فروخت کےا جارہا ہے سرافہ بازار کے سنہار عبدالمجےد کے مطابق سونا مختلف اقسام کے رنگوں مےں بنتا ہے
آرٹےفےشل زےورات پر سونے کا پانی
زےور خواتےن کے بناﺅ سنگھار کی تکمےل کرتا ہے اس لئے ہر عورت مختلف قسم کے زےورات پہنی ہے مگر بات کی جائے سونے کی تو خواتےن ہو ےا مرد حضرات ان کی اول ترجےح سونا ہے اور تا حال سونا ہی ہے ےہ ہر کلاس کے لوگوں مےں اہمےت کا حامل ہوتا ہے اور خواہ کم ےا زےادہ مقدار مےں پاےا جاتا ہے باقی حےدرآباد شہر کی زےادہ تر دکانوں میں 22کےرٹ کا سونا 24کےرٹ کا بتا کر فروخت کےا جارہا ہے۔
سونے کی بڑھتی ہوئی قےمتوں کی وجہ سے لوگوں مےں سونا پہننے کا رجحان کم ہوگےا ہے جس مےں بور (نچلے طبقے) کے لوگ تو ےہ رواج کم ہی کر چکے ہےں جب کہ مڈل کلاس مےں ےہ رجحان ابھی کافی حد تک پاےا گےا ہے سونے کی بڑھتی ہوئی قےمتوں کی وجہ سے اب زےورات پر صرف سونے کا پانی چڑھا کر بھی بےچا جانے لگا ہے
مختلف قسم کی دھاتوں پر سونے کا پانی چڑھا کر بھی بےچا جانے لگا ہے معمولی اور مصنوعی قسم کی دھاتوں پر زےورات پر سونے کا پانی چڑھا دےا جاتا ہے
سرافہ بازار کے اےک سنہار عدنان قرےشی کے مطابق سونے کا پانی دو مختلف قسم کے تےزابوں کو ملا کر سائےلڈ نام کے کےمےکل مےں حل کر کے بناےا جاتا ہے اور پھر اس مصنوعی زےور کو سونے جےسا کلر دےنے کے لئے اےک تار مےں باندھ کر بگھو کرارتھ دیتے ہیںاور اس کے ساتھ ایک اور ارتھ کے تار کوتانبے میں باندھ کر بگھو کر سونے کا کلر بناےا جاتا ہے اور پھرمصنوعی (آرٹےفےشل زےورات)مےں سونے جےسی چمک پےدا کرنے کے لئے ان پر © ©لےکر اور اسٹےل پالش کی جاتی ہے جومصنوعی زےورات مےں بلکل سونے جےسی ہے چمک پےدا کردےتی ہے۔
رےشم گلی کے اےک سنہار عمران کے مطابق سونے کا پانی زےورات پر ان کے وزن کے حساب سے چڑھاتے ہےں اور اس ہی حساب سے پےسے بھی لگتے ہےں اےک مےڈےم سےٹ (ہار ، بندے اور انگوھٹی ) پر اگر سونے کا پانی چھڑواےا جائے تو وہ تقرےباََ250سے300روپے تک کا ہوتا ہے۔جانچ پڑتال کے بعد رپورٹ کے مطابق سونے کا پانی غرےب لوگ زےورات پر چڑھا کر استعمال کرتے ہےں جبکہ ہائی کلاس طبقہ سونے کا پانی اپنے برتنوں پر چڑھا کر استعمال مےں لاتے ہےں۔ غےر ملکی رےاستوں مےں جہاں ابھی تک بادشاہت قائم ہے وہاں تانبے کے برتنوں پرسونے کا پانی چڑھا کر استعمال کئے جاتے ہےں جبکہ موجودہ دور مےں بہار ممالک مےں (جس مےں دبئی وغےرہ شامل ہےں ےا بھی سونے کا پانی چڑہائے ہوئے برتن اور دوسری اشےاءبھی فروخت کی جانے لگی ہےں )۔

----------------------------------------------------------------------
Is students name correctly spelled? 

حیدر آباد اور کراچی کے سونے اور چاندی کا فرق:
ٰؒؑ نام:شعبیہ قاضی
رول نمبر:۵۶۱
کلاس:بی ایس پارٹ ۳

دور کوئی بھی ہو زیورات قوانین کی ذینت ہمیشہ سے رہے ہیں ۔ زیورات صرف وجو د زن کی خوبصورتی گواہی ہیں بڑھائے بلکہ انکا سرمایہ حیات بھی ہیں خواں زیورات سونے کا ہو یا چاندنی کا ہو قوانین کی وجہ کا ہمیشہ ہی مرکز بنے رہتے ہیں ۔
کراچی صرافہ مارکیتوں میں زیورات کے شکل میں سونا خالص نہیں ملتا سونا کیرٹ سے پیمایا جاتا ہے جتنے زیادہ کیرٹ بڑھتے جاتے ہیں سونا خالص ہوتا جاتا ہے ۔24کیرٹ کا سونا سب سے زیادہ /خالص ہوتا ہے شہر کراچی کی صرافہ مارکیتوں میں زیورات کی شکل میں سونا بہت ناقص مہیہ کیاجاتاہے 18کیرٹ 19کیرٹ کے سونے سے زیورات بنائے جاتے ہیں جوکہ کچھ ہی عرصے میں ماند پڑجاتے ہیں خواہ خواتین انہیں زہت تن کریں یا نہ کریں ۔18,19کیرٹ کا سونا رکھے رکھے بھی اپنی چمک کھودیتا ہے شہر کراچی میں خالص سونا ڈھونڈنا آٹے میں نمک کے برابر ہے ۔جسے کہ کراچی کے علاقے صدر میں بیس سال پرانی ایک سنار کی دکان ہے جہاں پر12,22کیرٹ کا سونا بھی زیورات کی شکل میں باآسانی دستیاب ہوجاتا ہے ۔ایک پانی سونے کی دکانے میں جہاں 21,22کیرٹ کے سونے کے زیورات مل جاتے ہیں ۔
سونا کبھی بھی 24کیرٹ کے زیورات میں استعمال نہیں کیا جاتا کیونکہ وہ اس قدر خالص ہوتا ہے کہ اس کہ زیورات میں بن پائے۔
24کیرٹ کا سونا نہایت نرم وملائم ہوتا ہے اس ہی وجہ سے یہ زیورات بنانے میں استعمال نہیں ہوتا ۔اگر ہوتو وہ زیورات سے جائیں ۔نرم ہونے کی وجہ سے وہ اپنا ڈیزائن قائم نہیں رکھ پاتے ۔اس سے 24کیرٹ کا سونا کی شکل میں ہوتا ہے ۔ان سونے میں زیادہ خریداری سونے کے نظر آرہی ہے اور خریداری محفوظ سرمایہ کاری کیلئے کی جاتی ہے عالمی مارکیٹ میں ڈاکر کے اصافے سے فی اونس سونے کی قیمت1321ڈالر ہوگئی تاہم مقامی مارکیٹ میں سونے کی فی تولہ قیمت200روپے کمی سے 53300روپے رہی ہے ۔سندھ صراف ایسوسی ایشن کے مطابق مقامی صرافہمارکیٹوں میں10گرام سونے 685روپے ہوگئے۔حیدرآباد کی صرافہ مارکیٹوں میں سونا 21,22کیرٹ زیور کی شکل میں با آسانی دستیاب ہے شہر حیدرآباد کا سونا کراچی کے مقابلے بہت اچھا سونا سونا ہے حیدرآباد کے سونے میں ملاوت کم ہوتی ہے اور حیدرآباد کا سونا خراب بھی نہیں ہوتا حیدرآباد میں مختلف علاقوں میں سونے کی دکانے ہیں ۔جو لوگ اسلی سونے چاندنی کا کاروبار کراہے ہیں انکو اچھے اور خالص سونے کی پہچان اسکو ہاتھ میں لیتے ہی ہوجاتی ہے ہمارے چاند نرے میں زیورات کو وجود زن کی زینت بنانے کے ساتھ ساتھ سرمایہ حیات کے طو رپر بھی خریدا جاتا ہے ۔
سونے میں سب سے زیادہ خالص سونا 24کیرٹ کا ہوتا ہے جسکا زیور نہیں بن سکتا اسلیئے اس میں ملاوت کی جاتی ہے ملاوت میں کئی دوسری دھاتوں کا استعمال کیا جاتا ہے جیسے کے چاندنی پیتل سونے میں ان دھانوں کی ملاوت سے لے کر اسکو ہو روئے کرنے کے عمل تک کئی اور چیزیں بھی استعمال کی جاتی ہیں سونے کو صاف کرنے میں تیزاب بھی استعمال کیا جاتا ہے ۔سونا کیونکہ صرف خوبصورتی میں بار چاند لگانے کیلئے ہی ہیں ۔بھی خریدتے ہیں تاکہ وقت پر کا م آسکے حالات کی ناسازگی میں اس بیچ کر مدد ہوجائے ۔

اختتامConclusion/:۔
حیدرآباد کے صرافہ بازار، ریشم بازار اور دوسری سونے کی دکانوں میں کی گئی تحقیقات اور جانچ پڑتال کے بعد یہ سامنے آیا ہے کہ جس طرح وقت کے ساتھ ساتھ سونا مہنگا ہوتا جا رہا ہے اس ہی کے ساتھ ساتھ لوگوں میں بھی سونا پہننے کے بجائے مصنوعی زیورات پہننے کا رحجان بڑھتا جا رہا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی پتہ چلا کہ حیدرآباد شہر میں دوسرے شہروں کی نسب ابھی بھی چند دکانوں میں اچھا اور خالص سونا موجود ہے اور امیر ہو یا غریب آج بھی یہاں کے لوگ سرمایہ حیات کے طور پر سونے کو محفوظ کرتے ہیں ۔

Practical work was carried out under supervision of Sir Sohail Sangi, at Media & Communication Department, University of Sindh


سنڌ يونيورسٽي ۽ فيشن!



This is MA previous group

Akash Hamirani: 10
Jamshed Wighyo: 31
Sehar Jakhrani: 53
Maiza Sidiqui: 33

سنڌ يونيورسٽي ۽ فيشن!
تفصيلي جائزو:              آڪاش هميراڻي
2K16/MMC/10
سنڌ جي فن، فڪر، علم، ادب، شعور ۽ سياسي سگهه جي  آبياري ڪندڙ مادر علمي سنڌ يونيورسٽي ڄامشورو، جنهن  سنڌ جي هزارين علم جي اُڃايل سرويچن جي علمي اُڃ اجهائيندي رهي آهي، هر سال هزارين شاگرد پنهنجا حسين خواب کڻي ڄامشوري جي  مڌ مست هوائن  ۾ هيرجي مادر علمي کي پنهنجو ٻيو  گهر سمجهن ٿا. سنڌ يونيورسٽي سموري سنڌ ۾ فڪري  شعوري طور تي وڏا نانءُ پيدا ڪيا آهن، سنڌ يونيورسٽي، سنڌ جي اهڙي peak point آهي. جتي فلسفي، سياست، سماجيات، ادب، شاعري، سائنس، ٽيڪنالاجي، صحافت، لسانيات ۽  معاشيات توڙي انيڪ شعبن ۾  شاگرد پنهنجن پنهنجن شعبن ۾ مهارت حاصل ڪندا آهن.
            سنڌ يونيورسٽي ۾ ڪُل 52 شعبا آهن، جنهن ۾ سائنس، آرٽس، سوشل سائنسز ۽ انفارميشن ٽيڪنالاجيز جون فيڪلٽيون شامل آهن،  سنڌ يونيورسٽي ۾ تعليم حاصل ڪندڙ شاگردن جو تعداد مجموعي طور تي اٽڪل 20 هزار کان مٿي آهي.  جنهن ۾ بيچلرس، ماسٽرس ۽ ايم فل جون ڊگريون شامل آهن.
            دُنيا جي ٻين يونيورسٽين وانگر سنڌ يونيورسٽي ۾ پڻ فيشن پنهنجي عروج تي پهتل آهي، سنڌ يونيورسٽي ۾ پڙهندڙ مڙني شعبن جا شاگرد توڙي شاگردياڻيون فيشن جي مارڪيٽ جو حصو آهن. تحقيقي رپورٽنگ جي جائزي بعد اهو معلوم ٿئي ٿو ته سنڌ يونيورسٽي ۾ فيشن جي رُجحان ۾ وڌارو ٿي رهيو آهي.  فيشن ڏانهن مائل ٿيڻ جو وڏو سبب اهو معلوم ٿيو آهي ته  ڪمرشل ايڊ جي ماسٽر مائينڊ استادن جي اشتهاربازيءَ جو ڪمال آهي.
            انٽرنيٽ توڙي سوشل ميڊيا جون سموريون سائيٽس فيشن جي اهڙي رجحان ۾ سڀني کان اڳتي آهن. اڄ جتي اينڊروائيڊ موبائل فيشن جي جاءِ ورتي آهي، اُتي  ساڳئي موبائل وسيلي گهڻو استعمال ڪيو ويندڙ سوشل برائوزنگ(فيسبڪ، او ايل ايڪس وغيره)پڻ فيشن ڏانهن مائل ڪرڻ جا مؤثر هٿيار آهن.
اڪثريت ڇوڪرا فيشن مان مُراد ڊريسنگ وٺندا آهن، جڏهن ته ڇوڪريون رنگين ڊريسنگ سان گڏ ميڪ اپ توڙي ٻيو ڪاسميٽڪ جو سامان فيشن جي ذمري ۾ آڻين ٿيون. سنڌ يونيورسٽي اندر فيشن جي دُنيا ۾  ڇوڪريون، ڇوڪرن کان اڳتي ڏسجن ٿيون، جڏهن ته ڇوڪرن جو فيشن ڏانهن متوجهه ٿيڻ جو سبب فلم انڊسٽري پڻ ٻڌايو وڃي ٿو، يونيورسٽي جي شعبن جي مخصوص نفسيات پڻ مطابقت رکندڙ فيشن ڏانهن مائل ڪري ٿي.
سنڌ يونيورسٽي سادگي پسند شاگردن جو وڏو انگ تعليم حاصل  ڪري ٿو. هوءِ ٻاهرين يعني  Imported فيشن بدران علائقائي لباس کي پسند ڪري ٿو. اُن جو مثال سنڌ جي ٻهراڙيءِ وارن علائقن سان تعلق رکندڙ شاگردن ۾ پسي سگهجي ٿو.
سنڌ يونيورسٽي ۾ پڙهندڙ فيشني شاگرد پنهنجين لاڳاپيل سمورين شين کي فيشني بڻائڻ جي ڪوشش ڪندا آهن. ڇوڪرا اڪثر ڪري ٿيلها Begs پنهنجي آئيڊيل(فلمي هيرو، ڪرڪيٽر، سياستدان يا فريڊم فائيٽر) جي تصويرن سان سجائيندا آهن. موٽر سائيڪلن توڙي سندن گاڏين تي هيروز، يا فلمي ٽڪرن جون پٽيون پڻ ڏسڻ لاءِ ملنديون آهن. جڳ مشهور هندستاني فلم PK مان متاثر ٿيندڙ شاگرد، پنهنجي موٽر سائيڪل جي بيڪ سائيڊ تي “سنڌي پي_ڪي ” جي پٽي لڳائي پنهنجي ذوق جو اظهار ڪندا آهن.
 فيشن جي هن رنگ برنگي دور ۾ سنڌ يونيورسٽي جا شاگرد توڙي شاگردياڻيون فيشن سان لاڳاپيل هر شي کي حاصل ڪرڻ جا جتن ڪندا/ ڪنديون آهن. هو ءَ مهانگن بيوٽي پارلرز، ڪلاٿ مارڪيٽس، هيئر سيلونز، ڪاسميٽڪ سينٽرز توڙي بوٽ هائوسز تان خريداري ڪري پنهنجي شخصيت جي چمڪ دمڪ وڌائڻ جي ڪوشش ڪندا آهن. قومي توڙي صوبائي سطح تي قومي ۽ ثقافتي ڏهاڙن، عيدن توڙي ڏياري جي موقعن تي شاگردن کي فيشن ۾ ڏسڻ وٽان هوندو آهي. هيٺ سنڌ يونيورسٽي ۾ فيشن جي سموري تحقيقي رپورٽ موجب گڏ ڪيل ڄاڻ پيش ڪيون ٿا.



سنڌ يونيورسٽي ۾ ڇوڪرين جا فيش:                       سحر جکراڻي
2K16/MMC/53
فيشن ڊزائنز خاص طرح جي طرز زندگي يا خاص طرح جي لباس کي فيشن ۾ اهڙي طريقي سان جدت آڻيندا/آڻينديون آهن، جو عام ماڻهو ان کي ڏسي دنگ رهجي وڃي ٿو، فيشن ڊيزائينر ان ڳالهه جا ماهر هوندا آهن تـه ڪيئن فيشن کي علاقائي ءِ موسمي ضرورت مطابق رکيو وڃي؟ مختلف طرح جي برانڊز ۽ ڪمپنيون اشتهار ۽ جديد مواملات جي ذريعي کي استمعال ڪندي دنيا جي ڪنڊ ڪڙڇ ۾ اشتهاري مهم هلائيندا آهن ۽ انهي نئين طور جي ملبوسات ۽ فيشن جي پراڊڪٽ کي مارڪيٽ ۾ اهميت وڌرائيندا آهن، اڄڪلهه انٽرنيٽ جي دور ۾ آن لائين خريد و فروخت بيحد آساني پيدا ڪري ڇڏي آهي، گوگل توڙي ٻين ڪمرشل سائيٽس جي ذريعي شاگردياڻيون انهي رجحان طرف مائل ٿينديون آهن، انهي شين ۾ گهڻو ڪري ڇوڪريون ميڪ اپ ۽  ٻيون شيون شامل آهن، انهي سلسي فيشن جي ماهرن جون چوڻ آهي تـ فيشن ماسٽرز جي مهارت سبب ڇوڪرين جو وڏو انگ انهي سحر ۾ وٺجي وڃي ٿو، سنڌيونيورسٽي ۾ ڇوڪرين جو وڏو انگ جينز پائي ٿو،  هو جينز سان گڏ اسڪرٽ پڻ پائين ٿيون، ڇوڪريون يونيورسٽي جي اندر سينگار جو بئگون پڻ گڏ آڻين ٿيون، جتي مختلف ميڪ اپ توڙي خوبصورتي جا مختلف ٽولز پڻ هوندا آهن، جنهن سان هو ڪلاسن بعد يا ڪلاس ڪان اڳ ۾ پاڻ کي ٺاهينديون آهن، ڇوڪرين ۾ فيشن سان گڏ رنگ پڻ تبديل ٿندو آهي. هو پسنديده رنگ کي وڌيڪ ترجيح ڏينديون آهن، نيون ايندڙ شاگردياڻيون سينيئر شاگردياڻين کان فيشن نقل ڪنديون آهن، اڪثر شاگردياڻيون صبح جي روشني کان بچڻ جي لاءِ حجاب ڪنديون آهن مگر اهو مذهبي اصولن سبب پڻ ڪيو ويندو آهي، سنڌ يونيورسٽي جون اڪثر ڇوڪريون رنگين ڪپڙا پائڻ سان گڏ هر فيشن ڪنديون آهن ۽ جوتن ۾ اڪثر ڪري ڇوڪريون فل شوز پائينديون آهن، تمام وڏو انگ فيشني سينڊل پڻ پائنيدو آهن، جنهن ۾ پينسل هيل توڙي پيا قسم شامل آهن، اڪثر ڇوڪرين جو چوڻ آهي تـ فيشن جي وسيلي پاڻ کي بدلائڻ بيوقوفي آهي، دنيا ۾ ڪرڻ لاءِ ڪم گهڻا پيا آهن، جيترو خرچ ڇوڪريون فيشن تي ڪنديون آهن، اوترو اگر خرچ فلاح بهبود لاءَ خرچ ڪيو وڃي تـ بهتر ٿي سگهي ٿو، هتي هر ماڻهو فيشن ڪرڻ چاهي ٿو پر ڇوڪريون تمام گهڻو اڳتي آهن، ڇوڪريون فيشن بعد گهڻو فخر محسوس ڪنديون آهن، ڪي ڇوڪريون اڪثر ڪري برقعو پڻ پائنديون آهن، مگر برقعي واري جبي جي سوڙهو هڻڻ سبب هجاب کي حجاب جي ضرورت پوندي آهي.
يونيورسٽي ۾ شاگردياڻين جو وڏو تعداد سادگي وارو مزاج پڻ رکي ٿو، اهي فهميدانـ مزاج کي اولين ترجيح ڏينديون آهن، اڪثر ڪري ڇوڪريون سوشل ميڊيا جي استمعال ڪنديون آهن، جنهن سبب هو مختلف فيشن مان متاثر ٿي استمعال ڪن ٿيون، جنهن سان فيشن ۾ واڌارو ٿيندو آهي .
دنيا جتي فيشن جي دنيا ڇوڪرن توڙي ٻارن کي متاثر ڪيو آهي، اتي ڇوڪرين کي انهي سمنڊ ۾ لوڙهي ڇڏيو آهي، وقت پنهنجي حالت کي تبديل ڪيو آهي، هتي فيشني ڇوڪرن کي گڏ کڻي هلڻ توڙي فيشن ڪرڻ مجبوري نـه پر ڇوڪرين جو ذاتي شوق هوندو آهي .

شاگردن جو ٻهراڙِي پاس آئوٽ تائين جو سفر:        مائزا صديقي
2K16/MMC/33
رواج ۽ مقبول طور زندگي فيشن چورائيندي آهي، جديد دور جا نوجوان  مڪمل طور تي فيشن جي سرگرمين تي وڌيڪ زور ڏيندا آهن، يونيورسٽي ۾ ايندڙ شاگرد توڙي شاگردياڻيون سنڌ جي مختلف ضلعن مان ايندا آهن، جيڪي يونيورسٽي ۾ پنهني مقصد جي ساڀيان لاءِ محنت سان گڏوگڏ فيشن کي پڻ ترجيح ڏيندا آهن، ٻهراڙي کان ايندڙ شاگرد يونيورسٽي ۾ پاڻ کي اوپرا سمجهن ٿا، هو جلدي ءِ آساني سان پاڻ کي تبديل ڪري ناهي سگهندا، سيميسٽر جي شروع ٿيندي ئي ٻهراڙي جو شاگرد پڙهائي جي طرف هجي ٿو اهڙي طريقي سان پهڙاڙي سان تعلق رکندڙ ڇوڪرا توڙي ڇوڪريون انهي فيشن  جي سفر ۾ پاس آئوٽ ڪري وڃن ٿ ، هي هڪ مڃيل حقيقت آهي تـ ٻهراڙي جون ريتون رسمون، رواج  ۽ فيشن شهر جي فيشن کان گهڻو مختلف آهي شهرن جي فيشن ۾ مارڪيٽنگ  ذريعي جدت ٿيندي رهندي آهي پر ٻهراڙي جون ريتون رسمون رواج  ءِ فيشن شهر جي فيشن کان گهڻو مختلف آهي،  ٻهراڙي جي اندر  ثقافتي ءِ اتان جون ڊريسون توڙي فيشن پڻ علاقائي طور جو هوندو آهي،  ٻهراڙي جي شاگرد جي سنڌ يونيورسٽي ۾ اچڻ کانپوءِ نئون ماحول ملندو آهي، جتي هتي هو آساني سان هيراڪ نـ بڻجندو آهي، ليڪن وقت درڪار هوندو آهي، سنڌيونيورسٽي ۾ اچڻ کان پوءِ آهستي آهستي شاگرد پنهنجي فيشن ۾ تبديلي آڻيندو آهي، هوءِ پهرين فوڪس ڊريسنگ ءِ وارن جي اسٽائيل تي ڪندو آهي، ٻهراڙي جو شاگرد يونيورسٽي جي هاسٽل ۾ رهندو هجي يا وري حيدرآباد يا ڄامشوري ۾ رهندو هجي اهو شاگرد يا شاگردياڻيون پنهنجي گهر کان پري هجڻ ڪري يونيورسٽي يا رهندڙ جگهن تي اوپرائي محسوس ٿيڻ سبب فيشن تي ڌيان گهٽ هوندو آهي، ٻهراڙي جي شاگرد توڙي شاگردياڻين جي سنڌ يونيورسٽي ۾ اچڻ کانپوءِ ڇوڪرا توڙي ڇوڪريون جديد ڪپڙا پائڻ ۾ شرم محسوس ڪندا /ڪنديون آهن، آهستي آهستي هو پاڻ کي جديد فيشن جي طرف مائل ٿيندا ڪندا/ڪنديون آهن، يونيورسٽي ۾ اڪثر ڏٺو ويندو آهي ته جتي شاگرد توڙي شاگردياڻيون مختلف قسم جي فيشن ۾ ملبوس هوندا آهن، جنهن ۾ لباس هوندو آهي، زيورات هجي يا ميڪ اپ يا هينڊبينر هجي سڀ جديد دور جا فيشن آهن، هي شاگرد  فيشن اپنائڻ  سان تعلق رکندڙ شاگر ڏانهن قائل ٿئي ٿو تـه ان کي گهڻي مشڪلات جو منهن ڏيڻو پئجي ٿو، انهن کي شروعات ۾ فيشن گهٽ سمجهه ۾ ايندو آهي تـ ڪهڙي فيشن کي اپنائجي؟ ڇو تـه انهن کي فيشن جي باري ۾ معلومات تمام گهٽ هوندي آهي، هو جڏهن فيشن طرف مائل ٿيڻ شروع ٿيندو آهي تـ فيشن بابت ڄاڻ حاصل ڪرڻ لاءِ يا دوستن جو سهارو وٺندو آهي يا وري سوشل ميديا تي وڃي فيشن متعلق  خبرون چارون وٺڻ شروع ڪندو آهي، اهڙي طرح هو پنهنجي روين، اٿڻ ويهڻ توڙي ملڻ جلڻ ۾ پڻ فرق آڻيندو آهي، سنڌيونيورسٽي ۾ ڏٺو وڃي تـ ٻهراڙي جي علائقن مان ايندڙ ڇوڪريون پاڻ کي فيشن ڏانهن مائل ڪرڻ جي ڪوششو ڪنڊيون رهنديون آهن، مثال طور هو مختلف برانڊ جي ڪپڙن ۾ پڻ ڏٺو ويندو آهي جيڪي، مختلف نين رنگين لباس پڻ پائيديون آهن ءِ ميڪ اپ کي پڻ ترجيح ڏينديون رهيون آهن.
بيچلرز ڊگري جي چئن سالن ءِ ماسٽر ڊگري جي ٻن سالن جي سفر ۾ ٻهراڙي سان تعلق رکندڙ ڇوڪرا توڙي ڇوڪريون فيشن ۾ اچڻ کانپوءِ پاڻ کي خوش قسمت محسوس ڪندا آهن، ايئن ئي هو چئن توڙي ٻن سالن جون سفر ساڳئي فيشن کي ترجيع بنائي پوري ڪندا/ڪنديون آهن.
شاگردن جو فيشن ڏانهن مائل ٿيڻ ۽ فيشن تي ٿيندڙ خرچ!
  آڪاش هميراڻي
2K16/MMC/10
            جيئن جيئن فيشن جي دُنيا ۾ نيون نيون ڊزائينون متعارف ٿي رهيون آهن، تيئن ئي فيشن جي مارڪيٽ ۾ فيشني شين جا اگهه پڻ آسمان سان ڳالهيون ڪرڻ لڳا آهن. فيشن جي دنيا ۾ پراڻي پراڊڪٽ پنهنجي اهيمت ۽ افاديت وڃائي رهي آهي. فيشن جي دنيا ۾ ايڊورٽائيزنگ جي ڌُوم بعد شاگردن جو وڏو تعداد فيشن طرف مائل ٿي رهيو آهي. مختلف ڪميونٽيز ۽ ضلعن مان ايندڙ شاگرد به جديد طرز فيشن اپنائڻ جي ڪوشش ڪري رهيا آهن. اهڙيءِ ريت فيشن تي ڳاٽي ٽوڙ خرچ به برداشت ڪرڻ جو   جتن ڪري رهيا آهن. تحقيقي رپورٽنگ جي سلسلي ۾ شاگردن کان مليل ڄاڻ موجب دُنيا ۾ روز بروز  فيشن جا جديد طريقا ۽ ڊزائينون اچي رهيون آهن. شاگردن جي ويچارن موجب “ڇو نه اسين به انهي وهڪري ۾ شامل ٿي دُنيا ۾ پنهنجي موجودگيءَ جو احساس ڏياريون؟هنن جو خرچ بابت اهو خيال سامهون آيو ته خرچ وسيلن جي آهر ڪندا آهيون، ايئن به ناهي ته شاگرد گهر ٻاري ڏياري ڪندا آهن.هوُءَ وقت ۽ حالتن جي نزاڪت کي سمجهندي پوءِ ئي اهڙو فيصلو ڪندا آهن.”
رياست جو چوٿون ٿنڀ سمجهي ويندڙ ميڊيا (اليڪٽرانڪ، پرنٽ، سوشل ۽  ڪمرشل ميڊيا) جي ذريعي فيشن جي متعلق هر روز اپڊيٽس سان اسان جو نوجوان شاگرد لاڳاپيل رهي ٿو. جنهن وسيلي هو  ڪيترين ئي برانڊز جي ايڊورٽائيزنگ کان متاثر ٿي انهي طرف مائل ٿئي ٿو. اهڙا شاگرد سوشل ميڊيا توڙي مختلف ڪمرشل سائيٽز تي وڃي سرچ پڻ ڪندا رهن ٿا، جنهن سان هنن کي روزاني جي بنياد تي مارڪيٽ ۾ ايندڙ نين فيشن ايبل شين بابت ڄاڻ ملندي رهي ٿي. اهڙيءَ ريت ميڊيا وسيلي سنڌ يونيورسٽي جو شاگرد فيشن ڏانهن مائل ٿيندو رهي ٿو.
            سنڌ يونيورسٽِي ۾ هڪ وڏو ٽولو اهڙو به آهي، جيڪو پڙهائي لاءِ والدين پاران ملندڙ خرچ، پڙهائي بدران فيشن تي استعمال ڪري ٿو. اهڙن شاگردن ۾ اڪثريت انهن شاگردن جي هوندي آهي، جيڪو شهري علائقن سان واسطو رکندو آهي. انهن ۾ به ڇوڪرين جي ڀيٽ ۾ ڇوڪرن جو تعداد وڌيڪ آهي. اهڙن ڇوڪرن ۾ ٻاروتڻ کان بلوغت تائين پرورش اڪثر برگر گهراڻن ۾ ٿيندي آهي. جيڪو يونيورسٽِي ۾ پڙهائي بهاني ڄامشوري يا حيدرآباد ۾ رهندو آهي، جتي هو پڙهائي لاءِ ملندڙ پئسن جو گهڻو تعداد فيشن تي خرچ ڪندو آهي.
            فيشن ايبل ڇوڪرا ۽ ڇوڪريون توڙي سادگي پسند شاگرد پنهنجي الڳ الڳ اهميت ۽ حيثيت رکن ٿا. فيشن جو پڙهائي تي هاڪاري توڙي ناڪاري اثر ٿئي ٿو. هڪ طرف اهڙا شاگرد پڻ موجود آهن جيڪي فيشن کي وقت جي تقاضا سان گڏو گڏ پاڻ کي پروفيشن سان هم آهنگ ڪرڻ جو دڳ سڏين ٿا. اُهي ٽاءِ، ٿري پيس سوٽ، سُٺا بوٽ يا سينڊل، نوان چشما/ گلاس ۽ سن ڪيپ کي فيشن سمجهن ٿا.  اُهي فيشن وسيلي تعليم کي وڌيڪ اؤسر جو ذريعو سمجهن ٿا.انهن جو خيال آهي ته اهڙي فيشن سان اسان جي تعليمي صلاحيتون ۽ قابليتون نکري نروار ٿين ٿيون ۽ سماج اسان کي سُٺو شاگرد  سمجهي ٿو. ٻي طرف اهڙا به شاگرد موجود آهن جيڪي پڙهائي طرف تمام گهٽ پر فيشن طرف وڌيڪ لاڙو رکن ٿا. انهن شاگردن جي انگ ۾ ڇوڪرين جو تعداد ڇوڪرن کان وڌيڪ آهي. سادگي پسند ۽ فيشني دُنيا کان ڪوهين ڏور رهندڙ شاگرد بجاءِ فيشن ۽ ٻي طرف ڌيان ڏيڻ جي پنهنجي تعليم، ڪيريئر، تعمير ۽ پڙهائي طرف توجهه ڏي ٿو. هڪ سوال جي جواب ۾ هنن چيو ته “فيشن جو پڙهائي سان ڪو به سروڪار ڪونهي.”
            فيشن سڌي يا اڻ سڌي طرح  شاگردن جي شخصيت ۽ ڪردار تي اثر انداز ٿئي ٿو. اها ٻي ڳالهه آهي جو ڪهڙي قسم جو فيشن شاگردن پاران اپنايو وڃي ٿو. عام طور تي فلم انڊسٽري جي عروج بعد شاگردن جو وڏو تعداد فلمي فيشن کي وڌيڪ ترجيح ڏي ٿو.فلمي هيرو ڪٽ فيشن هنن جي لهجي توڙي سڀاءُ جو حصو ٿي وڃي ٿو.  سنڌ يونيورسٽي جي شعبن جي  نفسيات پڻ پنهنجي مخصوص جوهر موجب فيشن جي آڌار تي شخصيت تي اثر انداز ٿئي ٿي. تحقيق موجب آرٽ اينڊ ڊزائين جي شعبي جا شاگرد توڙي شاگردياڻيون آرٽسٽڪ قسم جو لباس پائيندا/ پائينديون آهن. سندس لباس  ۾ آرٽسٽڪ قسم جون ڊزائينون پڻ شامل هونديون آهن. شاگرد سياست سان تعلق رکندڙ اڪثر شاگرد چي گويرا جون شرٽون ۽ baggy jeans پائيندا آهن. هي لڏو هن کي فيشن سمجهي پنهنجي شخصيت کي ظاهر ڪرڻ لڳي ٿو.
            عام طور تي اهو چيو ويندو آهي ته فيشن پئسي جو زيان آهي، مگر اها ڳالهه به حقيقت آهي ته جديد دؤر مطابق هي اڻٽر حقيقت آهي اڪثر فيشن ڪندڙ شاگرد توڙي شاگردياڻيون اهو چون ٿيون ته  پئسو ضرور خرچ ٿئي ٿو پر اڄڪلهه جي دور ۾ ماڻهو فيشن کان سواءِ اڌورو آهي. سندن خيال موجب، هر شيءِ ۾ پئسا ضرور گهُربل آهن، پر شخصيت کي چار چنڊ پڻ لڳن ٿا.
            جديد دؤرجي تقاضائن موجب جتي دُنيا هڪ ننڍڙي ڳوٺ (گلوبلائيزيشن) ۾ تبديل ٿيندي پئي وڃي، اُتي  فيشن، ڊزائيننگ ۽ اسٽائلش رنگن، روپن ۽ نمونن جا جديد انداز ڪرادر ۽ شخصيت  ۾ پڻ نکار آڻين ٿا.


 
فيشن جو وڌندڙ رجحان ۽ سادگيءَ پسند شاگرد:   آڪاش هميراڻي
2K16/MMC/10
            اڄڪلهه جي تيزي سان تبديل ٿيندڙ دؤر ۾جتي مختلف شين جا معيار ۽ ماپا تبديل ٿيا آهن، اُتي فيشن ۾ پڻ نيون تبديليون آيون آهن. سادگي پسند شاگرد اڄ به اُن سادگي ۾ گذاري ٿو، جتي هوءَ پاڻ کي صحيح محسوس ڪري ٿو. فيشن جو رجحان سنڌ يونيورسٽي ۾ پڻ اثر انداز ٿيو آهي.هتي پڙهندڙ شاگرد مختلف ثقافتي لباسن کي پڻ جدت واري لاڙي  ۾ آڻي پائين ٿا. جيئن ڏٺو ويندو آهي ته ٿري پيس سُوٽ جي مٿان ڪي ڇوڪرا، سنڌي ٽوپي پائيندا آهن، يا پٽڪو ٻڌندا آهن. فيشن جي وڌندڙ رُجحان ۾ ڇوڪرن   جو  سمورو فوڪس ڊريسنگ تي هوندو آهي. ٻهراڙي جي ڀيٽ ۾  شهري ڇوڪرا وڌيڪ فيشن ڪندا آهن. ٻهراڙي جا شاگرد شهر جي شاگردن کان مختلف انهيءَ ڪري به آهن جو اُهي ڳوٺاڻي مزاج ۽ ڪلچر کي گڏ کڻي هلن ٿا. شهري ڇوڪرن کي سنڌ يونيورسٽي ۾ نت نون اندازن ۽  ڪيترن ئي جديد فيشني روپن ۾ پسي سگهجي ٿو.  فلمي دُنيا جي جديد هيرو ٽائيپ وارن جو اسٽائيل، لباس پڻ هوبهو ساڳيو اپنائيندڙ شهري شاگرد لهجي ۽ ڳالهائڻ جي انداز کي پڻ تبديل ڪري ڇڏيو آهي. يونيورسٽي ۾ فيشن جي وڌندڙ لاڙن ۽ نمونن کي ڏسي ڇوڪرن جديد فيشن اپنائڻ شروع ڪيا آهن. تحقيقي رپورٽنگ جي سلسلي ۾ آرٽ اينڊ ڊزائين شعبي جي آخري سال جي شاگرد  سنگتراش صحرائي جو چوڻ هو ته “ٻهراڙيءِ جو شاگرد توڙي شهري ورڪر ڪلاس سان تعلق رکندڙ شاگرد فيشن جي لحاظ کان هڪڙي complex ۾ رهي ٿو. هوءَ هنن شين کي ترجيح نٿو ڏئي بلڪه ڪنهن حد تائين بُرو پڻ سمجهي ٿو. جڏهن ته شهري توڙي ٻهراڙيءَ جي مٿئين طبقي سان تعلق رکندڙ شاگرد يونيورسٽي ۾ ايندي ئي جديد طرز فيشن ۽ اسٽائلش ڊزائيننگ جي سحر ۾ وٺجي وڃي ٿو.جيڪڏهن ڏٺو وڃي ته اڪثر ڪري اينڊروائيڊ Android تي فيشن جون جديد latest update  وٺندڙ  اهي شاگرد  حيدرآباد جي مهانگن هيئر سيلون ۽ مهانگن ڪاسميٽڪ جي دُڪانن جهڙوڪ ؛ رائل ڪاسميٽڪ، الخلق بيوٽي سينٽر، توڙي وڏن ڪلاٿ سينٽرن عليان سِلڪ سينٽر، ڪيپري ڪلاٿ سينٽر توڙي مختلف ڪپڙي جي دُڪانن تان مهانگا وڳا پڻ خريد ڪري ٿو. اهو ئي سبب جو اهي شاگرد سدائين هڪڙي قسم جي فيشن ۾ جڪڙيل نٿو رهي. هو هر موسم آهر فيشن ۾ تبديلي آڻي ٿو. جڏهن ته عام شاگرد جي مالي پوزيشن ايتري مضبوط نه هوندي آهي، جو  اهي موسم پٽاندڙ نت نئون ۽ اپڊيٽيڊ فيشن ڪري.
            ساڳئي شعبي جي شاگردياڻي کان به تحقيقي رپورٽنگ جي سلسلي ۾ پُڇيل سوال جي جواب ۾ هُن چيو ته “شهر توڙي ٻهراڙيءِ جون ڇوڪريون فيشن ۾ ڇوڪرن کان ڪافي اڳتي آهن.اها ٻي ڳالهه آهي جو ٻنهيءِ جو ڪيترو مذهبي بئڪ گرائونڊ آهي. جڏهن ته اُن سلسلي ۾ ٻنهي کي برقعو پائڻو پوندو آهي، ايئن به ضرور  آهي ٻهراڙي جي شاگردياڻي يونيورسٽي ۾ اچڻ کان پوءِ ساڳئي سڀاءُ ۽ فيشن کي ترجيح ڏيندي آهي.” سادگيءِ  پسند شاگردياڻي مهانگن سپر مال، بيوٽي پارلر توڙي ڪاسميٽڪ سينٽرن کان پري آهي، هوءِ سادگي ۾ پنهنجو پاڻ کي فِٽ محسوس ڪري ٿي. رهي ڳالهه ته  Eliot class گهراڻي سان تعلق رکندڙ شاگردياڻي جي، سو فيشن ۾ سڀني کان اڳتي آهي.  امير گهراڻن جون شاگردياڻيون  يورپ جي فيشن، ڊريسنگ، ڊزائيننگ ۽ جديد طرز جي اسٽائيل کي وڌيڪ ترجيح ڏين ٿيون. امير طبقي جي شاگردياڻي زيورات کي گهٽ ترجيح ڏي ٿي، پر Casio, Vivienne  ۽ Westwood توڙي limit ladies جهڙين مهانگين واچون پائڻ سندن ترجيح آهي.
            سنڌ يونيورسٽي ۾ ثقافتي ڏهاڙو هجي يا عيد، ڪلرس ڊي هُجي يا بسنت فيسٽيول، آجياڻي تقريبون يا وري الوداعي تقريبون، عام شاگرد اڃان تائين  فيشن جي زد ۾ ناهي آيو. هنن سمورن ڏهاڙن کي اهي سادگيءِ سان ملهائيندا آهن.  اهڙي سلسي ۾ سنڌي شعبي جي ٽئين سال جي شاگرد سنتوش ڪمار  جو چوڻ هو ته “ مجموعي طور تي سادگيءِ پسند شاگرد سلوار قميص پائيندو آهي، سادگيءِ جو تعلق لباس سان ناهي هوندو، پر اهي اڄ به اُن لباس کي ولگر قسم جو پهراڻ سمجهي ٿو.” سادگي پسند شاگرد پنهنجي مزاج  ۽ روين ۾ ماٺيڻو ۽ نوڙت ڪندڙ هوندو آهي، هن جي سڄي ترجيح فيشن بدران پنهنجي مقصد طرف هوندي آهي.
            سنڌ يونيورسٽي جي سينٽرل لائبرري جي سنڌي سيڪشن ۾ ڪم ڪندڙ ملازم انور علي جو چوڻ هو ته “ فيشن ايبل شاگردن توڙي شاگردياڻين جو  تعداد ايترو ججهو ناهي،  بلڪه هاڻي تيزيءِ سان اُسري رهيو آهي. ڇوڪريون، ڇوڪرن جي ڀيٽ ۾ وڌيڪ وقت ۽  پئسو فيشن تي صرف ڪنديون آهن. ٻئي طرف عام شاگرد سادگي پسند مزاج رکي ٿو، هو اڃان تائين جديد فيشن جو مڪمل حصو نه بڻجي سگهيو آهي، ائين به ناهي ته ڪو عام شاگرد صفا سادو پسند رهندو پيو اچي، پر هُن جي نفسيات حالتن ۽ وقت پٽاندڙ فيشن ڏانهن مائل پڻ ٿيندي آهي. هڪ سوال جي جواب ۾ هُن چيو ته “هڪڙي ڳالهه فيشن ايبل توڙي سادگيءِ پسند شاگردن ۾ ساڳئي آهي، اُها آهي اينڊورائيڊ موبائل فون. فيشن ايبل شاگرد موبائل جو بيجا استعمال ڪندو آهي، جڏهن ته سادگي پسند شاگرد لاڀائتو استعمال ڪندو آهي. سادگي پسند شاگرد  لائبرري ۾ ڪتابن کي ترجيح ڏيندا ۽ فيشن ايبل شاگرد موبائل فون، واءِ فاءِ ۽ ڊجيٽلائيزيشن جي جڪڙ ۾ پنهنجو وقت گُذاريندا آهن.” 
            هونئن ته عام طور تي اهو ڏٺو ويو آهي ته سنڌ يونيورسٽي ۾ سادگي پسند شاگرد ، فيشني شاگردن کان الڳ ٿلڳ ۽ پرڀرو آهي، جنهن جا سبب طبقاتي ۽ سماجي تضاد به ٿي سگهن ٿا. فيشن پسند شاگرد به  هر روز نون فيشنن کي هٿي وٺرائي رهيا آهن، اُها هن دور جي تقاضا آهي. پر  اهڙي صورتحال اڳتي هلي سادگيءِ پسند شاگردن ۾ احساسِ محرومي کي جنم ڏيئي سگهي ٿي ۽ تاريخي، تهذيبي ۽ ثقافتي طور تي نقصانڪار پڻ ٿي سگهي ٿي.






سنڌ يونيورسٽي ۾ ڇوڪرن جا فيشن:                                               جمشيد علي
2K16/MMC/31
دنيا ۾ رهندڙ ماڻهو پنهجي زندگي روزمره جي طريقن سان گذاريندا آهن، انهن ۾ هڪ فيشن آهي، جيڪو هن دنيا ۾ تيزي سان وڌي رهيو آهي، اڪثر شاگرد نئين طرح جا ڪپڙا پائن ٿا، وارن جا نيا فيشن ڪن ٿا، جيڪو ڪجهه ماڻهن کي پسند اچي ٿو۽ هو ان کي استعمال ڪن ٿا، ڪجهه وري الڳ طرح جا جوتا پائي پاڻ کي سنوارين ٿا.
هن ئي طريقي سان  سنڌ يونيورسٽي ۾ پڙهندڙ شاگرد پڙهائي سان گڏو گڏ فيشن جو به انهن ۾ رجحان آهي، سنڌ  يونيورسٽي ۾ هزارن جي تعداد ۾ شاگرد پڙهندا آهن ۽ هنن سڀني  جو الڳ الڳ فيشن آهي، سنڌ يونيورسٽي ۾ ڪجهه شاگردن کي سنڌ يونيورسٽي جي ماحول کي ڏسي ان مان  فيشن کي استعمال ڪندو آهي، تـه مون جا دوست ڪهڙي طريقي سان ڪپڙا پاتل آهن ان جي ڳالهائڻ جو انداز ڪهڙو آهي اهي سڀ هو پنهنجي دوستن مان سکندو آهي، سنڌ يونيورسٽي ۾  شاگردن جو هڪڙو  فيشن ناهي پوءَ به سنڌ يونيورسٽي جا شاگردن ۾ سنڌي ادب جو اثر گهڻو ڏٺو ويو آهي، جيئن تـه شاگرد پنهنجي  ادب کي پاڻ سان گڏو گڏ اڳتي کڻي هلندا اچن ٿا، سنڌي سماج  ۾ (شلوار خميس) پائيندا آهن پر اتي ئي ڪجهه شاگرد آهن جيڪي شلوار خميس نه ٿا پائن ٿا پر انهن جو چوڻ آهي تـ اسان پاڻ کي کي پينٽ شرٽ ۾  سٺو محسوس ڪندا آهيون.
سنڌ يونيورسٽي ۾ هر سال ڪلچر ڏيهاڙو ملهايو ويندو آهي، سنڌ يونيورسٽي جي شاگردن جو چوڻ آهي تـه اسان سنڌي ڪلچر واري ڏينهن اسان سنڌ جو ڪلچر اپنائندا آهيون، جيئن ڪلچر جي ڏهاڙي  اسان کي سنڌي لباس وڳو پائندا آهيون ۽ مٿي تي سنڌي ٽوپي ۽ ڪلهن تي سنڌ جي شان آجرڪ اوڍيندا آهيون  ۽ هن ڏينهن تي صرف سنڌي نـ بلڪ هر شاگرد جنهن جو جيڪو ڪلچر، جنهن جي جيڪا ثقافت آهي، جن ۾ ڪو پنجاپي، پشتو، بلوچي ۽ ٻيا سب جيڪي آهن، هو سڀ ڪلچر جي ڏينهن پنهنجو پنهنجو فيشن ڪري ڪلچر جي ڏينهن سڀني سان ملي ڪري ڪلچر جو ڏهاڙو ملهائينداآهن.
سنڌ يونيورسٽي جو ڊپارٽمينٽ، جيڪو (اسلامي ڪلچر) جي نالي سان آهي، اتان جا شاگرد اسلام مذهب جي باري ۾ پڙهندا آهن تـه انهن جو فيشن اسلامي ثقافت کي اجاگر ڪندو  آهي ڇو تـه هو شاگرد  شلوار خميس پائنداآهن ۽ هن سان گڏ هو مٿي تي اسلامي ٽوپي پائندا آهن ۽ ڪجه شاگرد وري اهڙا آهن جيڪي مٿي تي ٽوپي جي جاءِ  تي پٽڪو پائندا آهن، انهن جو لباس سادگي وارو هوندو  آهي.
اڃ جتي تقريبا پوري دنيا ۾ ٽيليويزن جو دور آهي، سنڌ يونيورسٽي جي ڪجهه شاگردن جو چوڻ هو ته اسان جو فيشن فلمن  يا ڊرامن مان ۽ سوشل ميڊيا مان حاصل ٿيل آهي، اسان ٽيليويزن ۾ ڪجهه  ڏسون ٿا ته ان مان اسان کي جيڪو ڪجهه پسند ايندو آهي، اسان اهو فيشن ڪندا آهيون.سنڌ يونيورسٽي ۾ ڪجه شاگرد اهڙا به آهن جيڪي فلمون ڏسن ٿا پر انهن جو چوڻ آهي تـ اسان فلمون ڏسون ٿا پر اسان انهن مان ڪنهن طريقي جو ڪو فيشن پاڻ تي استعمال ناهي ڪيو، ڇو تـه اسان کي سادگي  پسند آهي.

حیدرٓاباد کے سرکاری ہسپتالوں میں نا مناسب انتظامات


     nvestigation Report          

           حیدرٓاباد کے سرکاری ہسپتالوں میں نا مناسب انتظامات                       
   نام : محمد عمیر
   رول نمبر: 42       حیدرآباد کا دماغی ہسپتال
  کلاس:ایم اے(previous) 
    حیدرآبادکے دماغی امراض کے ہسپتال کو پاگل کھانے کے نا م سے بھی جانا جاتا ہے جس کی بنیاد1865 ء میں سر کاوسجی جہانگیر نے رکھی حیدرآباد کایہ ہسپتال اپنے طرز کا پورے ایشیاءمیں سب سے بڑا ہسپتال مانا جاتا رہا ہے یہاں پاکستان بھر سے خطرناک پاگل رکھے جاتے ہیں اور اس ہسپتال میں صرف ان مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے جو صر ف نفسیا تی مریض ہوں اس ہسپتال کے ہر مریض کی کہانی اپنی ہے اورہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ سے لے کر جھاڑوں دینے والے تک سب اپنی اپنی شہنشاہی سے کام کر رہے ہیں جبکہ کوئی پو چھنے والا نہیں ۔
 ہسپتال کے سینئر ڈاکٹر دریا خان کے مطابق پاکستان میں 5% دماغی معذوری % 30 ڈپریشن اور 50 لاکھ سے زائد لوگ مختلف نشوں میں مبتلا ہیں اور یہ تعداد بڑھ رہی ہے۔
  عام طور پر نفسیا ت کے حوالے سے schizrophrenia نام کی بیماری کے کیس زیادہ پائے جار ہے ہیں اس بیماری کے لوگ اچانک غصے کا اظہار کرتے ہیں اور ایک وقت میں مختلف باتےں کرنے لگتے ہیں اور یہ بیماری زیادہ تر 14 سے 16سال کی عمر میں آتی ہے مگر یہ بیماری زیادہ تر کچھ سالوں کے بعد ظاہر ہوتی ہے۔
 اس دماغی ہسپتال میںمختلف وارڈ ز ہیں جو کہ مریض کی موجودہ حالت کی مناسبت سے ویسے ہی وارڈ میں رکھا جاتا ہے جن میں) (5 A وارڈ میں سب سے خطرناک پاگلو ں کو رکھا جاتا ہے جو قتل بھی کر سکتے ہیں اور (11 A) وارڈ جو کہ نسبتاََکم پاگلوں کا وارڈ سمجھا جاتا ہے۔
 وارڈز میں داخل مر یضو ں کی تعداد 300 سے زائد ہوتی ہے مردوں کے مقابلے میں یہاں عورتوں کی بہت کم تعداد ہے بچو ں کا کوئی وارڈ موجود نہیں ہسپتال کے ڈاکٹر وں کا کہنا ہے کہ ہم بچوں کا بہتر علاج ان کے ماں باپ کی زیرے نگرانی کرانا بہتر سمجھتے ہیں کیوں کہ انھیں گھر پر آسانی سے کنڑول کیا جاسکتا ہے ۔
  اس ہسپتال میں روزانہ 4 سے6 مریضوں کو داخل کیا جا تا ہے جن میں( کوٹری)سے لائے جانے والوں کی تعداد سب سے زیادہ
 ہے جوکہ کسی نہ کسی نشے میں مبتلا ہوتے ہیں ۔
  گھریلومسائل غربت اور زیادہ تر نشہ کرنے سے دماغی امراض کی وجہ بنتے ہیں اس کے علاوہ بہت سوں کو ان کا کسی سے کیا عشق یہاں تک لے آتا ہے ۔
 ایمرجنسی میں لائے جانے والے مریضوں کو نفساتی بیماری کے علاوہ خون ٹیسٹ فری میں کئے جاتے ہیں اگر کوئی دوسری بیماری جیسے ( ایڈس) وغیرہ کی بیماری سامنے آتی ہے تو مریض کو داخل نہیں کیا جاتا جس کے لیے تین دن کا وقت لگ جاتا ہے اور مریض کے ساتھ آئے لوگوں کو سردی ہو یا گرمی کھلے آسمان تلے بیٹھنابڑتا اس حوالے سے انتظامیا ں کی آنکھے بند ہیں ۔
  ڈاکٹرز مریض کی دماغی حالت جاننے کے لیے Brif Psychiatric Rating Scale" " کی مدد لیتے ہیں ۔
Brif Psychiatric Rating Scale   
Hostility        
Suspiciousness     
Hallucinatory behavior  
Motor Retardation    
Uncooperativeness   
Unusual Thought Content 
  اس طرح کے تقریباََ 20 پوائینٹ ہوتے ہیں اور ان میں بھی کچھ پوائینٹ ہوتے ہیں جن کے زریعے مریض کی دماغی حالت کا اندازہ لگایاجاتا ہے مگر ڈاکٹرز پورے پوائینٹ پوچھنے کی بھی زحمت نہیں کرتے۔  
  ادویات فری میں دی جاتی ہیں مگر جو دوا ختم ہو جاتی ہے ڈاکٹر کو پہلے سے ہی بتا دیا جاتا ہے تاکہ وہ نہ لکھے جبکہ کہا یہ جاتا ہے کہ سب ادویات موجود اور فری میں ملتی ہیں ۔
  اس ہسپتال کے اندر" © ©پاکستان پیرامیڈیکل ایسوسی ایشن حیدرآباد" او ر "امن فاونڈیشن "کے نام سےNGOs بھی کام کررہے ہیں ۔
یونین کا مطالبہ ہے کہ چھوٹے ملازمین جو کہ وارڈ ز میں خطرناک پاگلوں کو سنبھالتے ہیں اور مریض کسی بھی وقت حملہ کرسکتا ہے ان کے لیے فری ہیلتھ الاوَنسں دیا جائے جو کہ نہیں ملتا ۔
  دوسری طرف ملازمین کو ملنے والا سلانہ 800بھی گزشتہ دو سالوں سے آفیسرز کی اپنی جیبوں میں جارہا ہے کوئی پوچھنے والا نہیں

  اور NGOs کو اس گورنمنٹ ہسپتال میں لا کر بیٹھا دیا گیا ہے جو کہ اس ادارے اور آفیسرزکی ناکامیوں کامنہ بولتا ثبوت ہے جس کے لیے ایک بڑا احاطہ عطا کیا گیا ہے جس میں صرف 20 مریض جوکہ ٹھیک ہونے کے قریب ہوتے ہیں ان کو سنبھالا جاتا ہے
جبکہ جگہ کی کمی کی وجہ سے سر کاوسجی جہانگیر کی طرف سے بنا ئی گئی یادگار عمارت کوبھی مٹا دیا گیا ہے ۔


یونین اسٹاف کو دی جانے والی آفس کی چھت اور دیواریں بو ڑ ھیں ہو چکی ہیں کسی بھی وقت گرنے کا امکان موجود ہے ۔
حکومت پاکستان کی طرف سے کہا گیا ہے کہ فی وارڈ "Attendant" پانچ مریضوں کوسنبھالے مگر یہاں 35 مریضوں کو ایک "Attendant" سنبھال رہا ہے
 ہسپتال میں بجلی غائب ہونے پر بھی جنریٹر کو بند رکھا جاتا ہے اور پیٹرول کی بچت کر کے آفیسر ز آپنی جیبیں گرما رہے ہیں ۔

 ہسپتال میں پینے کے پانی کا بھی بڑامسلئہ دیکھنے میں آیا وارڈزکے Attendant" ©" پانی پینے کے لیے OPD آتے ہیں وارڈز میں صاف پانی کا انتظام موجود نہیں اور ڈاکٹر حضرات اپنے لیے پانی گھروں سے ساتھ لاتے ہیں۔
ہرسال لاکھوں روپے ہسپتال کی مینٹینس کے لیے مختص کیے جاتے ہیں مگر ایک سال سے موجودہ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ جناب ©ناصر جلبانی کی بھی کارکردگی صفر رہی ہسپتال کے اندر کی مین سڑک جس کو 1980 ءمیں اُس وقت کے سپرنٹنڈنٹ قازی حیدر علی نے بنوایا تھا اس کے بعد کسی کو خیال نہ آیا اور انھی کے دور میںہی سب سے زیادہ وارڈ ز بنائے گئے۔
وارڈز کے واش رومز کے دروازے ٹوٹے ہوئے ہیں اور ان میںلگی پانی کی ٹونٹیاں بھی تقریباََ خراب ہیں جس کی وجہ سے سارا پانی ضائع ہو جاتا ہے انتظامیہ بے خبر ہے۔
  پرانی وارڈزکا خستہ حال اور وارڈزمیں صفائی نا ہونے کے برابر ہے جبکہ ڈاکٹرزسے لے کر صفائی کرنے والے تک ہر کوئی اپنی مرضی سے آتا جاتاہے۔
  ا س ہسپتال کا مریض کے لیے ایک مہانہ بورڈ بیٹھتا ہے جو کہ مریض کو ٹھیک یا ٹھیک نا کرراردینے کا جائزہ لیتا ہے۔
 20 سال سے دماغی مریض عقیل جو کہ لطیف آباد نمبر "10"کا رہاشی ہے جس کے تین بیٹے اور چار بھائی ہیں پیسے کی بھی کوئی کمی نہیں
 ہسپتال کا بورڈ عقیل کو دو سا ل پہلے ٹھیک کرار دے چکا تھا مگر عقیل کے گھر والے اسے رکھنے کو تیار نہیں حقیقت یہ ہے کہ عقیل کی دماغی حالت صرف 40% ٹھیک ہے اور وہ گھر میں اُلٹی سیدھی حرکتیں کرنا شروع ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے عقیل دوبارہ ہسپتال کا مہمان بننے پر مجبور ہے اور عقیل جیسے نا جانے اورکتنے۔
 ڈاکٹرزکے مطابق ہمارے ہاں جو ایک بار پاگل ہو جاتا ہے اسے ہمارا معا شرہ ہمیشہ کے لیے پاگل سمجھتا ہے جب کہ مریض کے ٹھیک ہو جانے پر بھی لوگوں کا پاگل پاگل بو لنا انھیں دو بارہ مریض بنا دیتا ہے ہمیں ان کے معطلق اچھی سوج رکھنے کی ضرورت ہے ۔


   نام: احسن شکیل          سول ہسپتال حیدرآباد
  رول نمبر:7 کلاس:ایماے(پریویئس)     
سول ہسپتال حیدرآبادسندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد میں ٹاور مارکیٹ کے قریب واقع ہے۔سول ہسپتال لیاقت یونیورسٹی ہسپتال حیدرآباد کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔اس ہسپتال کی بنیاد 1881ءمیں رکھی گئی اُس وقت سول ہسپتال © © © بمبئی فیکلٹی آف میڈیسن سے منسلک تھا اور آج سول ہسپتال لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنس سے منسلک ہے۔
   سول ہسپتال میں کہیں مریض کی آہو پکار دل کو ہلا دیتی ہے تو کہیں ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل عملہ ادم تحفظ کا شکار ہے لیکن ان تمام مسائل کو حل کرنے والے کہاں ہیںیہ کسی کو معلوم نہیں ،،
   سول ہسپتال حیدرآباد میں صحت کی ادویات اور سہولیات کے فقدان کی کمی کے باعث لواحقین کی آہو پکار روز کا معمول بن چکی ہے۔لیکن اسکے باوجود انتظامیہ مسائل حل کرنے کو تیار نہیں ،
   ڈاکٹرز ،عملہ اور مریضوں کی سکیورٹی کے لئے بھاری اخراجات کے باوجود آئے دن کسی ڈاکٹر یاعملے پر تشدد کے خلاف ہڑتال ہوتی ہے جو کہ مریضوں کے لئے پریشانی کا باعث بنتی ہے۔سول ہسپتال کی دن بہ دن خراب ہوتی صورت حال محکمہ صحت کے لئے ایک سوالیہ نشان ہے۔
   سول ہسپتال کی لیبارٹری کی 30%مشینریز ناکارہ پڑی ہیں اور جو70%مشینیں کام کر رہی ہیں انکے غریب مریضوں سے پیسے وصول کیئے جاتے ہیں۔سول ہسپتال میں 1450بیڈ موجود ہیں ،جن میں سے 300بیڈکی حالت انتہائی خستہ اور نازک ہے۔اسی طرح ہر شعبے میں فرنیچر کی کمی اورکھڑکی دروازوں کی ٹوٹ پھوٹ کا سامنا ہے۔
   سول ہسپتال کے Obs&Gynaeوارڈکی گندی اور میلی بیڈ شیٹ، جرنل وارڈ سے آتی ہوئی بدبو، جرنل سرجری وارڈ کے و اشروم میں پڑی ہوئی گندگی اور نیوکلئیروارڈ کے سامنے سیوریج کی لیکیج سے پھیلتی ہوئی بیماریاں انتظامیہ کی نا اہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔انتظامیہ کی نا اہلی کی ایک اور مثال 8اکتوبر2016بروزہفتہ کو سول ہسپتال میں پیدائش کے بعد اغواءکیاجانے والا بچہ ہے اور اس جیسے ناجانے کتنے ہی بچے صرف ہسپتال انتظامیہ کی نا اہلی کی وجہ سے محفوظ نہ رہسکے۔
  اس ہسپتال کے چار مین دروازے ہیںلیکن کسی بھی دروازے پر کسی بھی قسم کی کوئی چیکنگ نہیں کی جاتی جو کہ کسی بڑے حادثے کا باعث بن سکتا ہے۔تمام دروازوں پر صرف چار سے پانچ سیکیورٹی گارڈنظر آتے ہیں۔
  اسی کے ساتھ ساتھ بات کرتے ہیں سول اور پرائیویٹ ہسپتال میں موازنے کی، پرائیویٹ ہسپتالوں میں مریضوں کے ساتھ نرم لحجہاور وہیں دوسری طرف سول ہسپتال میں ڈاکٹرز اور عملے کا غریب مریضوں کے ساتھ غیر سنجیدہ لہجہ نظر آتا ہے جسکی ایک وجہ تو پرائیوٹ ہسپتالوں میں وصول کی جانے والی موٹی رقم ہے اور دوسری اہم وجہ یہ بھی ہے کہ سول ہسپتال میں روزانہ ہر شعبے میں تقریباََ پندرہ سو سے دو

ہزار مریض آتے ہیں لیکن ڈاکٹرز اور عملے کی تعداد میں کمی کی وجہ سے غیر سنجیدہ رویہ دیکھنے میں آتا ہے۔

  شعبے حادثات میں دن کے اوقات میں بہت اچھے انتظامات کے ساتھ ساتھ مریضوں کا اچھا چیک اپ اور اچھا ٹریٹمنٹ کیا جاتا ہے لیکن وہیں رات کے اوقات میں ڈاکٹرز اور عملے کی شدید کمی دیکھنے کو ملتی ہے جسکی وجہ سے قیمتی جانیں زاےہ ہوتی ہیں۔
  اب کچھ بات کرتے ہیں دیوان مُشتاق (آئی سی یو وارڈ)کی،جہاں اکثر اوقات آکسیجن نا ہونے کے باعث مریضوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔عملے کے مطابق وارڈ میں آکسیجن سلینڈر کی بھی کمی ہے۔مریضوں کا کہنا ہے کہ آئی سی یو وارڈمیں بیڈز کی قلت ہونے کے باوجود ہسپتال کے ملازمین بیڈز پر سوئے ریہتے ہیں،ڈاکٹرز عملہ اور ای سی جی عملہ موبائل پر باتیں کرتے رہتے ہیں ،رات کے اوقات میں کسی سینئر ڈاکٹرکی رہنمائی پانا بھی کسی موجزے سے کم نہیں ۔
  سول ہسپتال حیدرآباد کے نامناسب انتظامات کی وجہ انتظامیہ کی شدید نا اہلی کے ساتھ ساتھ حکومت کی غفلت بھی ہے۔ حکومت کے محکمہ صحت سے مودبانہ التماس ہے کہ سول ہسپتال حیدرآباد کے تفتیشی دورے کروائے جائیں تاکہ سول ہسپتال کے بجٹ کا صیح استعمال ممکن ہو سکے اور علاج و ابتدائی سہولیات کو بہتر سے بہتر بنایا جا سکے۔

Investigative report on Rani Bagh.





Investigative report on Rani Bagh.

Group Members
-Rebecca Ursani.
-Fatima Mustafa.
-Ayoob Rajper.
-Imam Ali Bhalai.
-Faryal Abbasi.

Introduction.

Rani Bagh was initially established as a botanical garden only by Agro-horticultural society in 1861
and later animals were moved in. Rani Bagh has two main entrances, first one is on the eastern side called Thandi Sadak and the other one is on the right side beside Eid Gah of the Shaikh Ayaz road simply known as Poonam Pump road. People can enter and exit from both gates of the garden. The gate pass is of 20 rupees and the whole amount of gate passes go into the garden's caretake’s account. There are trees there in thousands of numbers which enhance the beauty of the park. The beauty of this Garden has not been taken good care of. The basic reason behind the distortion of green lawns of Rani Bagh is failure of management. Management has been failed to look after it properly. The rehabilitation program has been initiated and according to the administrator it will be done in 8 or 9 months. Government funded around 150 million to the development of Rani Bagh, but yet no development is occurred. There was the time when Rani Bagh was occupied with the greenery and fruit trees were there including the Oranges and Bananas. The reason on which the administration has to be attentive is that Rani Bagh is the only old Park of the Hyderabad and the distortion of it is the reason behind the bad remarks of the visitors. The park is situated on around 44 acres which can be very fascinating if it would be in better position. Therefore, the serious note is needed by the high officials of Hyderabad and serious actions must be imposed on the management of Rani Bagh which can enforce the staff to work efficiently. The only place of entertainment for people of Hyderabad is Fun land in Rani Bagh. It is the place where local people spend their weekends with their families, enjoy rides and food. There are total thirty seven shops in Fun land. These shops contain household things, toys for kids, clothes, bangles for girls, cosmetics and many more. There are total eleven rides in Fun land and none of them are originally from Pakistan. They wither belong to Germany, China etc. There is a separate food area where Channa Chhat, Sandwiches, Biryani, Gol-Gappay, Ice-cream etc. are available for curing people’s hunger. According to Assistant Manager Mohammad Nawaz who is working in Rani Bagh since 30 years, the Government intends to shut down Rani Bagh without giving any solid reason. Rani Bagh is divided into three portions and each portion have assigned different amount of budget for regulating the portion in a stable way. These portions are named: park, the second one is zoo farm and third one is Fun Land. Administration gives the advertisement for ACF also to get contractor, but when you go there you will be amazed after observing in the zoo that there is zoo without its king (lion) and neither will you find any elephant but no one is to ask from the administration.



Rebecca Ursani
BS-III
Roll number: 2K14/MC/81

                                            Park.

Rani Bagh was initially established as a botanical garden only by Agro-horticultural society in 1861. There are trees there in thousands of numbers which enhance the beauty of the park.
As entering the park, the view of the entire park was not much appealing from the entrance. There are two fountains one after the other which were not working and it seemed like that they were not in use since ages because of the unclean water with trash dumped in it. The other long fountains in front of Abbas Bhai Park were also in the same condition; not working and dirty. There was no cleanliness in some areas of park, open trash was dumped just few steps from the washroom. The grass in the park is not well maintained and not clean and the grass was uneven as well and there are huge patches of mud in the garden. Despite of having dustbins on the corners, the trash was seen dispersed in the park on grass. There is no proper seating arrangement for public; the available benches are mostly broken. The rides also like swings and slides are rusted and are not in very good condition for children to take fun from. Swings are missing, just the poles are available. The lighting in park was comparatively dim with how it actually should be bright. There were many light bulbs yet there is so much dark in park in night time. Out of all the light bulbs, some of them were either fused or some of the bulbs are in fact stolen by the shopkeepers, sometimes they get caught and sometimes they are lucky enough to escape. There are also seen young players playing sports like football in the parks.
15280990_619662231567465_1696153780_n.jpg
The basic reason behind the distortion of green lawns of Rani Bagh is failure of management. Management has been failed to look after it properly. The administration of Hyderabad took serious notes on the development of natural ambience of the park, in 2011 DC Hyderabad Ahmed Bux Narejo wanted to start projects to bring the Park and lawns in to a favorable natural green condition. The projects failed to improve the parks because of the corruption factors in local government and also the administration claims that because the Bagh is technically situated downward of Wadhuwah, which affects in the growth of park. The biggest failure of management of Rani Bagh in the regard of Lawn is that the new pipelines of fountains were not being installed and the old pipelines are leaked and due to this fountains cannot be functional. The rehabilitation program has been initiated and according to the administrator it will be done in 8 or 9 months. Government funded around 150 million to the development of Rani Bagh, but yet no development is occurred.
15310391_619662234900798_786745125_n.jpg
The failure behind this is the unrighteous usage of aids and not merit distribution of funds on the various portions of Rani Bagh. The benches of the lawn are in the worst conditions. The reason behind this is that no one is willing to work on the project of Rani Bagh plus the staff employed for the purpose to look after the lawn is not working efficiently. The de watering machines are outdated also which cause the improper sewage system of the park. There was the time when Rani Bagh was occupied with the greenery and fruit trees were there including the Oranges and Bananas. The reason on which the administration has to be attentive is that Rani Bagh is the only old Park of the Hyderabad and the distortion of it is the reason behind the bad remarks of the visitors. The administration claimed that it is directed to work on rehabilitation of park but the time stated by management is a lot than necessary to make the work done. It shows the complete laziness of Deputy Commissioner, local government and the management of Rani Bagh. The park is situated on around 44 acres which can be very fascinating if it would be in better position. Therefore, the serious note is needed by the high officials of Hyderabad and serious actions must be imposed on the management of Rani Bagh which can enforce the staff to work efficiently.







Fatima Mustafa
BS-III
Roll number: 2K14/MC/27

                                      




                                         Fun land.
15301150_619662258234129_1934862590_n.jpg
The only place of entertainment for people of Hyderabad is Fun land in Rani Bagh. It is the place where local people spend their weekends with their families, enjoy rides and food. There are total thirty seven shops in Fun land. These shops contain
household things, toys for kids, clothes, bangles for girls, cosmetics and many more. All shops are made up of Iron. Shopkeepers pay 4000 rupees rent every month to Government for the area reserved by shops although their earning is not more than enough. They pay the electricity bill around 3000 to 4000 because of the constant usage of refrigerator to keep the eatables and beverages cold. Although the source of earning is not same every day, they earn more on weekends; sometimes 2000 rupees every Sunday than in normal working days. The area of shops is 150 and 20square foot. The things sold in shops vary from 5 to 6 rupees from the original price so that the shopkeepers can manage their budget of electricity, rent and all the bills. Moreover, they also give 3000 rupees to sweepers for cleaning the area.15240191_619662264900795_743545762_n.jpg
According to the shopkeepers, mostly the rush happens on weekends only where things from the shops are stolen by little children so the shopkeepers are bound to hide their stuff where no one can reach easily and the things be saved from stealing as well. On walking some distance from the entrance of Fun land, there sits an aged man named Saif ul Rehman commonly known as Shah Baba reads the hands of people who visit him and tell them about their future destiny. He does not charge for this and does not rely on this business for living but people come and pay him with their own will.

There are total eleven rides in Fun land and none of them are originally from Pakistan. They whether belong to Germany, China etc. The Tele Compact (TC), Crazy bus, Dodging cars and the train rides cost 20 rupees ticket while Flying carpet (FC), Ali Baba bus, Aero plane ride and Octopus rides cost ticket of rupees 25. 15281825_619662254900796_560084197_n.jpg

There is a separate food area where Channa Chhat, Sandwiches, Biryani, Gol-Gappay, Ice-cream etc. are available for curing people’s hunger. There is another separate play area for children where small cars, dream catcher, table tennis, boxing and other games are available on token and one token costs just rupees 10. There is also a photo studio which costs 50 rupees per snap. 
Most of the public complained about the insecurities of rides. Due to no seat belts in rides it makes everyone think twice before letting their children enjoy the ride. Another drawback is that there is no facility of alarm in case of emergency.

According to Assistant Manager Mohammad Nawaz who is working in Rani Bagh since 30 years, the Government intends to shut down Rani Bagh without giving any solid reason. He further said that this is the only source of income for people working in Rani Bagh since many years. If they close Fun land than those poor people will have to suffer through financial crisis. This is also loss for people of Hyderabad because this is the only place for entertainment in Hyderabad where middle-class people come with their family, enjoy rides and food. Mohammad Nawaz further requested that the Government should first consider public’s interest before closing Fun land, Rani Bagh.



Ayoob Rajper
BS-III
Roll number: 2K14/MC/130

                                       Budget.
15271655_619725468227808_701617294_o.jpg
Rani Bagh is a very first visiting and enjoyment place established for the local citizens of Hyderabad. It is located on the opposite side of Shahbaz building, which is very famous office of revenue department. Rani Bagh has two main entrances, first one is on the eastern side called Thandi Sadak and the other one is on the right side beside Eid Gah of Shaikh Ayaz road simply known as Poonam pump road. People can enter and exit from both the gates of garden. But now in the present time the condition of garden is too poor in some perspective. People are facing difficulties to come and enter in garden, the gate pass is of 20 rupees and the whole amount of gate passes go into the garden's care taker’s account.15226491_619725471561141_1080002229_n.jpg
 In the garden there are lot of tubby shops which are opened by the municipal committee and leased to the local investors but those tubby shops are totally illegal even no one knows how and to whom they are paying the rent of those shops, even there is no name of single audit team who can ask and investigate about the amount of rent and lease etc. Rani Bagh is divided in three portions and each portion has different amount of budget assigned for regulating the portion in a stable way. These portions are named as the park, the second one is zoo farm and the third one is Fun Land. All three portions of garden are leasable and every year in the month of July the municipal committee of Taluqa Hyderabad announces the legal advertisement of all three portions of garden. The record of last year of lease shows the facts and figures about contractors who got the permit of lease of their selected portion. The permits of lease are always given to the some selected persons who are in a close relation with local Member of Provisional Assembly (MPA). A man who has a job there told that ‘if you have plan to visit Rani Bagh then I am telling you that please go and see the condition of it’. The second portion of garden is zoo which is the only zoo in Hyderabad city. As mentioned above that it is also given by authorities on lease but the interesting fact is that zoo's lease is also divided in two parts. When you enter zoo, you must buy another gate pass which is only for zoo visitors, without ticket, the care taker will not let you enter the zoo and the second lease in a zoo is about Animal Care Fund (ACF). Administration gives the advertisement for ACF also to get contractor, but when you go there you will be amazed after observing in the zoo that there is zoo without its king (lion) and neither will you find any elephant but no one is to ask from the administration. All the lease permits have been completed in the month of June but administration did not call for new permits openly or by the advertisement. On the other hand whole system of the garden is under control of the municipal committee, Hyderabad. Some sources said "the parking was given on lease in 17 lac rupees to Porho (old) Vikesh. The main entrance gate contract was sold to Ameer Hussain Chandio for the sake of 20 million and 2 lac rupees only and the contract of zoo's was sold to Mr. Ramzan Chandio in 33 lacs only but all people together have blundered the garden time by time even they sold the trees of garden but no one had asked about it.


Conclusion.

With all the faults and defects, Chief Municipal Officer (CMO) Zahoor assures that the Government has been working to re-stable the condition of Rani Bagh so that people come and enjoy without any complaints. Apart from that the complaint that Mr. Mohammad Nawaz, Assistant Manager of Fun land has put forward that the Government has constantly been threatening them to close the Fun land, he urges the Government not to go for this act because it will not be proven as a good outcome for all the people working here and earning with all their hard efforts and because this is the only place for entertainment for people of Hyderabad. If the Government closes this source of joy then the public is going to be really disappointed from Hyderabad.